بنیادی مسائل کے جوابات(قسط۱۰۸)
٭…قیم کے معنی طاقتور، مضبوط ،درست اور سیدھے کے ہیں۔نیز سیدھاکرنے اور درست کرنے کے معانی بھی اس میں شامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم اور پرانے صحف میں خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل شدہ سچے مذاہب کے لیے دین القیم کا لفظ آیا ہے۔ اس حوالے سے میرا سوال یہ ہے کہ کیا ہم کہہ سکتے ہیں کہ سود کی ممانعت دین القیّم کا حصہ ہے؟
٭…ہمیں اپنے والدین، نسل، علاقہ کو منتخب کرنے کا اختیار نہیں دیا گیا۔ وہ لوگ جو امیر گھرانوں میں پیدا ہوئے انہیں یہ نعمت کیونکر حاصل ہوئی اور وہ لوگ جو غریب گھرانوں میں پیدا ہوئےان کا کیا قصور تھا؟ اسی طرح جو لوگ نیک گھرانوں میں پیدا ہوئے انہیں یہ نعمت کیوں ملی بالمقابل ان لوگوں کے جو بدکار اور آوارہ گھرانوں میں پیدا ہوئے۔ دونوں حالات میں یہ کیسے ممکن ہے کہ انسان افضل حالت میں منتقل ہو؟
٭…ایک دوست نےاپنے کسی عزیز کے آپریشن کے ذریعہ جنس تبدیل کروانے (لڑکے سے لڑکی بننے) کا ذکر کرکے اپنی پریشانیوں کا اظہار کیا اور دریافت کیا کہ کیا یہ لڑکا جو، اب لڑکی بن گیا ہے، اپنی تجنید لجنہ میں کرواسکتی ہے؟
سوال: یوکے سے ایک دوست نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں لکھا کہ قیّم کے معنی طاقتور، مضبوط ،درست اور سیدھے کے ہیں۔نیز سیدھا کرنے اور درست کرنے کے معانی بھی اس میں شامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم اور پرانے صحف میں خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل شدہ سچے مذاہب کے لیے دین القیّم کا لفظ آیا ہے۔ اس حوالہ سے میرا سوال یہ ہے کہ کیا ہم کہہ سکتے ہیں کہ سود کی ممانعت دین القیّم کا حصہ ہے؟ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مورخہ ۵؍دسمبر ۲۰۲۳ء میں اس سوال کے بارہ میں درج ذیل راہنمائی عطا فرمائی۔ حضورانور نے فرمایا:
جواب:آپ اپنے سوال میں بڑے دور کی کوڑی لائے ہیں، جبکہ آپ کا سیدھا سا سوال یہ ہونا چاہیے تھا کہ کیا اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والے سچے مذاہب میں سود کی ممانعت پائی جاتی ہے؟تو اس سوال کا جواب ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والی مذہبی تعلیمات میں سود کی مناہی پائی جاتی ہے۔
چنانچہ قرآن کریم نےایک طرف تو مسلمانوں کو اس برائی سے مکمل طور پر روکا اور اس برائی سے بچنے کے لیے نصیحت فرمائی کہ جو روپیہ تم سودحاصل کرنے کے لیے دیتے ہو،تاکہ وہ لوگوں کے مالوں میں بڑھے تو وہ روپیہ اللہ کے حضور میں نہیں بڑھتا اور جو تم اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے زکوٰۃ کے طور پر دیتے ہو تو یاد رکھو کہ اسی قسم کے لوگ خدا کے ہاں (روپیہ) بڑھا رہے ہیں۔(الروم:۴۰)
حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ قرآن کریم نے سود کی دو قسمیں بیان کی ہیں۔ ایک وہ سودی کاروبار جو غریبوں سے کیا جاتا ہے اس کو بھی منع کیا گیا ہے، لیکن اس آیت سے صاف پتا لگتا ہے کہ اس جگہ اُس سودی کاروبار کا ذکر ہے جو مالداروں سے کیا جاتا ہے تاکہ وہ مالدار اسے تجارت میں لگائیں اور روپیہ دینے والے کا روپیہ بھی بڑھے۔ بعض مسلمان یہ خیال کرتے ہیں کہ مال داروں یا کمپنی والوں کو روپیہ سود پر دینا یا بینک میں سود پر روپیہ لگانا اسلام میں منع نہیں حالانکہ یہ آیت واضح کرتی ہے کہ اس قسم کا سودی کاروبار بھی منع ہے اگر ان کا خیال ٹھیک ہوتا تو یہ آیت کیوں نازل ہوتی اور اس کی کیا غرض تھی۔ قرآن کریم کا نازل کرنے والا عالم الغیب خدا ہے وہ جانتا تھا کہ ایک زمانہ میں مسلمانوں نے سود کو حلال کرنے کی کوشش کرنی ہے پس اس نے آئندہ پیدا ہونے والے شبہات کو بھی اس آیت میں دور کر دیا ہے۔(تفسیر صغیر صفحہ ۵۳۰ حاشیہ نمبر ۱)
مزید فرمایا کہ اس نیت سے احسان نہ کر کہ اس کے بدلہ میں تجھے زیادہ ملے گا۔ (المدثر:۸)پھر سود جیسی برائی کو واضح الفاظ میں ترک کرنے کا حکم دیا اور ترک نہ کرنے پر اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ جنگ کے لیے تیار رہنے کا انذار فرمایا۔ اور ساتھ ہی یہ نصیحت بھی فرمائی کہ اگر کوئی مقروض تنگ حال ہو کر آئے تو آسودگی حاصل ہونے تک اسے مہلت دی جائے اور اگر تم اس شخص کے لیے اپنا رأس المال بھی صدقہ کے طور پر چھوڑ دو تو یہ سب سے اچھا کام ہے۔ (البقرہ:۲۷۹ تا ۲۸۱) اور دوسری طرف یہود کے متعلق فرمایا کہ ان کے سودی کاروبار کرنے کی وجہ سے حالانکہ اس سے ان کو روکا گیا تھا (نیز) لوگوں کے اموال کو ان کے ناحق کھانے کے سبب سے (ان کو یہ سزا ملی) اور ہم نے ان میں سے کافروں کے لیے دردناک عذاب تیار کیا ہے۔(النساء:۱۶۲)
حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں:خروج باب۲۲۔ آیت۲۵ اور احبار باب۲۵۔ آیت۳۷،۳۶ میں یہودیوں سے سود لینا ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ لیکن استثنا باب۲۳۔ آیت۲۰ میں یہود کے علاوہ دوسرے لوگوں سے بنی اسرائیل کو سود لینے کی اجازت دی گئی ہے۔ درحقیقت یہ ایک تحریف ہے جو قرآن کریم کی رو سے یہودیوں نے اپنے تجارتی کاروبار کے لیے بائیبل میں کی ہے۔ ورنہ اللہ تعالیٰ نے انہیں ہر قسم کے سودی کاروبار سے منع کیا ہوا تھا۔ پس جو کچھ بائیبل میں لکھا ہے، وہ یہودی تحریف کا نتیجہ ہے۔(تفسیر صغیر صفحہ ۱۳۶ حاشیہ نمبر ۴)
ہم دیکھتے ہیں کہ اگرچہ بائبل میں بہت حد تک تحریف ہو چکی ہے، لیکن پھر بھی سود کی ممانعت اس میں موجود ہے۔ چنانچہ مذکورہ بالا حوالہ جات کے علاوہ بائبل میں ہے کہ اے خداوند! تیرے خیمہ میں کون رہے گا؟ تیرے کوہِ مقدس پر کون سکونت کرے گا؟…وہ جو اپنا روپیہ سود پر نہیں دیتا اور بے گناہ کے خلاف رشوت نہیں لیتا۔ ایسے کام کرنے والا کبھی جنبش نہ کھائے گا۔(زبور باب ۱۵۔ آیت۱ اور۵)پھر لکھا ہے کہ جو جان گناہ کرتی ہے وہی مرے گی۔ لیکن جو انسان صادق ہے اور اس کے کام عدالت و انصاف کے مطابق ہیں۔ جس نے بتوں کی قربانی سے نہیں کھایا…سود پر لین دین نہیں کیا۔ بدکرداری سے دستبردار ہوا اور لوگوں میں سچا انصاف کیا…وہ یقیناً زندہ رہے گا۔(حزقیل باب۱۸۔ آیات۶،۵ اور۹،۸)
انجیل میں بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مختلف ایسے اقوال موجود ہیں ، جن سے نہ صرف سود کی حرمت کا استدلال ہوتا ہے بلکہ ان میں تو قرض دینے میں بھی بہت نرمی کی تعلیم دی گئی ہے۔ جیسا کہ ایک جگہ آپؑ فرماتے ہیں: اگر آپ کسی ایسے شخص کو قرضہ دیتے ہیں جس سے واپس ملنے کی امید ہے تو یہ کون سی بڑی بات ہے؟ بُرے لوگ بھی تو بُرے لوگوں کو اس امید پر قرضہ دیتے ہیں کہ ان کی رقم واپس مل جائے گی۔ اس کی بجائے اپنے دشمنوں سے محبت کرتے رہیں، سب کے ساتھ بھلائی کرتے رہیں اور قرضہ دیتے وقت یہ امید نہ رکھیں کہ آپ کو کچھ واپس ملے گا۔ تب آپ کو بڑا اجر ملے گا اور آپ خدا تعالیٰ کے بیٹے ہوں گے کیونکہ وہ ناشکروں اور بُرے لوگوں کے ساتھ مہربانی سے پیش آتا ہے۔رحم دل ہوں جیسے آپ کا آسمانی باپ رحم دل ہے۔( لوقا باب ۶ آیت ۳۴ تا۳۶)
اسی طرح ہندو مذہب اور بدھ مت میں بھی سود کے متعلق نفرت ہی پائی جاتی ہے اور ان کی بعض کتب میں یہ باتیں موجود ہیں کہ اعلیٰ ذات کے برہمن اور کھتری سود کا کاروبار نہیں کر سکتے۔ اور یہ کہ صرف منافق بھکشو ہی سودی کاروبار کرتا ہے۔(Indigenous Banking in India by L. C. Jain ، لندن، ۱۹۲۹ءصفحہ۶،۵ )
پس خلاصہ کلام یہ کہ اللہ تعالیٰ نے جتنے مذاہب اتارے ہیں ان کی تعلیمات میں سود جیسی برائی کی شدید مذمت فرمائی ہے۔لیکن چونکہ پہلے مذاہب ایک وقت کے لیے تھے اس لیے مرور زمانہ کے ساتھ لوگوں نے ان میں تبدیلیاں کر لیں اور اپنی مرضی کی باتیں ان میں شامل کر لیں۔اس لیے وہ دین قیّم نہ رہے لیکن اسلامی شریعت چونکہ قیامت تک کے لیے ہے اور اس کی حفاظت کی ذمہ داری خود خدا تعالیٰ نے لے رکھی ہے اس لیے حقیقی معنوں میں دینِ قیّم اسلام ہی ہے اور اس میں بڑے واضح اور دو ٹوک الفاظ میں سود کی ممانعت فرمائی گئی اور سود کھانے والوں کے بارہ میں فرمایا کہ شیطان انہیں اپنے حملہ سے حواس باختہ کر دیتا ہے اوروہ شیطان کے حملہ کی وجہ سے صحیح طور پر کھڑے ہونے کی طاقت بھی کھو دیتے ہیں۔ اس لیے نہ وہ خود سیدھے راستے پر قائم رہتے ہیں اور نہ ہی کسی دوسرے کو سیدھا راستہ دکھا سکتے ہیں۔
سوال: سینیگال سے ایک دوست نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں یہ استفسار بھجوایا کہ ہمیں اپنے والدین، نسل، علاقہ کو منتخب کرنے کا اختیار نہیں دیا گیا۔ وہ لوگ جو امیر گھرانوں میں پیدا ہوئے انہیں یہ نعمت کیونکر حاصل ہوئی اور وہ لوگ جو غریب گھرانوں میں پیدا ہوئےان کا کیا قصور تھا؟ اسی طرح جو لوگ نیک گھرانوں میں پیدا ہوئے انہیں یہ نعمت کیوں ملی بالمقابل ان لوگوں کے جو بدکار اور آوارہ گھرانوں میں پیدا ہوئے۔ دونوں حالات میں یہ کیسے ممکن ہے کہ انسان افضل حالت میں منتقل ہو؟ حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مورخہ ۱۲ دسمبر ۲۰۲۳ء میں اس سوال کا درج ذیل جواب عطا فرمایا۔ حضورانور نے فرمایا:
جواب: اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے وَلَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَعَلَكُمْ أُمَّةً وَّاحِدَةً وَّلٰكِنْ لِّيَبْلُوَكُمْ فِيْ مَا اٰتَاكُمْ فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَاتِ إِلَى اللّٰهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيْعًا فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ فِيْهِ تَخْتَلِفُوْنَ۔(المائدہ:۴۹)یعنی اگر اللہ چاہتا تو ضرور تمہیں ایک ہی امت بنا دیتا لیکن وہ اس کے ذریعہ جو اس نے تمہیں دیا تمہیں آزمانا چاہتا ہے۔ پس تم نیکیوں میں ایک دوسرے پر سبقت لے جاؤ۔ اللہ ہی کی طرف تم سب کا لَوٹ کر جانا ہے۔ پس وہ تمہیں ان باتوں کی حقیقت سے آگاہ کرے گا جن میں تم اختلاف کیا کرتے تھے۔
اب اگر سب لوگ ایک ہی طرح کے ہوتے تو زندگی کا مقصد ہی ختم ہو جاتا، نہ کوئی امتحان ہوتا اور نہ ہی کسی انعام کا وعدہ باقی رہتا اور روحانی اور جسمانی ترقی بالکل رک جاتی۔ ہم اپنی روز مرہ زندگی میں دیکھتے ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ سب کو ایک ہی جیسا پیدا کر دیتا تو نظام دنیا ہی نہ چل سکتا اور زندگی میں ایک افراتفری ہوتی۔
پس اس سارے نظام کو چلانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے انسانوں اور طبقات میں ایک فرق رکھا ہے۔ تا کہ وہ دیکھے کہ کس نے کن حالات میں کس طرح کے کام کیے ہیں۔ حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں: لَجَعَلَكُمْ أُمَّةً وَّاحِدَةً یعنی تمہیں ایک ہی مذہب پر بنا دیتا۔ مگر یہ جبر ہو جاتا۔ لیکن ہم نے تمہیں ان قویٰ میں جو ہم نے دئیے ہیں۔ لِيَبْلُوَكُمْ انعام دینا چاہا ہے پس تم نیکیاں بڑھ بڑھ کر کرو اور اجر لو۔ اگر اپنے اختیار سے تم نیکی نہ کرو بلکہ فطرتاً ، تو پھر اجر کیسا ہوا۔ (حقائق الفرقان جلد دوم صفحہ ۱۰۶)
اصل بات یہ ہے کہ اس دنیا کی غربت بھی عارضی ہے اور امارت بھی عارضی ہے اور اصل اور دائمی زندگی اخروی زندگی ہی ہے اور اس اخروی زندگی میں دائمی جنتوں کے حصول کے لیے انسان کو اس دنیا کے امتحانات سے گزرنا پڑتا ہے۔ کسی کے لیے مال و دولت امتحان کا باعث ہوتے ہیں۔ اور کسی کے لیے مفلسی اور غربت آزمائش کا باعث بن جاتے ہیں۔
پھر یہ بھی ضروری نہیں کہ ہر نیک انسان کے گھر میں نیک اولاد ہی پیدا ہو اور یہ بھی ضروری نہیں کہ ہر بُرے انسان کے گھر میں بُری اولاد ہی پیدا ہو۔حضرت نوح علیہ السلام کے بیٹے کے بارہ میں قرآن کریم میں ذکر ہے کہ اس کے بُرے اعمال کی بنا اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح کو مخاطب کر کے فرمایا کہ وہ تمہارے اہل میں سے ہر گز نہیں ہے۔ (ھود:۴۷)
اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں یہ بھی فرمایا کہ وہ زندہ کو مردہ سے نکالتا ہے اور مردہ کو زندہ سے نکالنے والا ہے۔(الانعام:۹۶) حضرت خلیفۃ المسیح الاوّلؓ اس آیت کی تشریح میں فرماتے ہیں: گندوں کے گھر میں پاک پیدا کر دیتا ہے۔بڑے بڑے زندوں سے مردے پیدا ہوتے ہیں۔ (حقائق الفرقان جلد دوم صفحہ ۱۶۸)
قرآن کریم میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے واقعہ میں جو فرعون کے ایک ساتھی قارون کا ذکر کیا گیاہے، جسے اللہ تعالیٰ نے اس زندگی میں ایک بڑے خزانہ کی چابیوں کی ذمہ داری سونپی تھی، جس پر وہ اترانے لگا اور اس نے اللہ کے اس احسان کا باعث اپنی علمی قابلیت کو سمجھنا شروع کر دیا۔ اس کی شان و شوکت دیکھ کر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھیوں میں سے بھی بعض نادانوں نے اس جیسی دنیاوی زندگی کی خواہش شروع کر دی۔ لیکن پھر جب قارون پر اللہ تعالیٰ کی پکڑ آئی تو ان لوگوں نے جنہوں نے ایک دن پہلے اس کے مقام کی تمنا کی تھی، قارون کی حالت کو دیکھ کر اس پر افسوس کیا اور اس بات پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا کہ اس نے ان پر احسان کیا اور انہیں قارون جیسی ہلاکت میں مبتلا نہیں کیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ اُخروی زندگی ہم نے ان لوگوں کے لیے مخصوص کی ہے جو زمین میں ناجائز غلبہ اور فساد نہیں چاہتے اور انجام متقیوں کا ہی اچھا ہوتا ہے۔ (سورۃ القصص آیات ۷۷ تا ۸۴)
اس عارضی دنیا کی غربت جہاں اپنے ساتھ کئی قسم کی مشکلات اور امتحان رکھتی ہے، وہاں اس کے ساتھ غریب پر اللہ تعالیٰ کا یہ احسان بھی ہوتا ہے کہ وہ اسے انبیاء کی جماعت میں شامل ہونے کا جلد موقعہ عطا فرماتا ہے۔ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ اس بارہ میں فرماتے ہیں:۔
میں نے دیکھا ہے کہ غریبوں میں تواضع اور انکسار زیادہ پایا جاتا ہے۔ اسی لیے انبیاء کی جماعتوں میں عموماً غریب ہی شامل ہوتے ہیں اس کے یہ معنے نہیں کہ خدا انہیں غریب رکھنا چاہتا ہے۔ بلکہ خدا اُن غریبوں کو اس لیے دین کی خدمت کا موقعہ دیتا ہے کہ ان میں حرص نہیں ہوتی۔ اور شکر کا مادہ ان میں زیادہ ہوتا ہے۔ (تفسیر کبیر جلد ۱۰ صفحہ ۲۹۴، مطبوعہ یوکے ۲۰۲۳ء)
علاوہ ازیں اخروی زندگی کے لیے اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ بھی ہے کہ ایک غریب انسان امیر انسان سے پانچ سو سال پہلے جنت میں جائے گا۔ (سنن ابی داؤد کتاب العلم بَاب فِي الْقَصَصِ)
پس خلاصہ کلام یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا کو جو کہ ایک عارضی ٹھکانہ ہے اور دارالعمل ہے، اسے مختلف امتحانات کی جگہ بنایا ہے تا کہ وہ کھرے اور کھوٹے کی پہچان کروا سکے، اسی لیے ان امتحانات میں وہ اپنے پیاروں کو زیادہ مبتلا کرتا ہے۔ اور اس دنیا میں کیے گئے اعمال کی جزا اور سزا کے لیے اخروی دنیا مقرر کی گئی ہے، جہاں ہر کسی کے کرموں کا حساب کتاب ہو گا اور ان اعمال کے مطابق ثواب اور عذاب کا فیصلہ ہو گا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ جس حالت میں بھی کسی انسان کو رکھے، اسی حالت میں اس شخص کا فرض ہے کہ وہ ایسے اعمال بجا لائے جو خدا تعالیٰ کی رضا اور اس کی خوشنودی کے حصول کا موجب ہوں۔
سوال: کینیڈا سے ایک دوست نےاپنے کسی عزیز کے آپریشن کے ذریعہ جنس تبدیل کروانے (لڑکے سے لڑکی بننے) کا ذکر کرکے اپنی پریشانیوں کا اظہار کیا اور دریافت کیا کہ کیا یہ لڑکا جو، اب لڑکی بن گیا ہے، اپنی تجنید لجنہ میں کروا سکتی ہے؟ حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مورخہ ۱۳ دسمبر ۲۰۲۳ء میں اس استفسار کا درج ذیل جواب عطا فرمایا۔ حضور انور نے فرمایا:
جواب: اصل بات یہ ہے کہ تخلیق آدم سے لےکر قیامت تک شیطان نے آدم کی اولاد کو بہکانے اور اسے خداتعالیٰ کے راستہ سے برگشتہ کرنے کا جو بیڑااٹھا رکھا ہے، اس کے تحت شیطان مختلف طریقوں سے انسانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
اس آخری زمانہ میں شیطان نے دجالی قوتوں کا روپ دھار کر انسانوں کو گمراہ کرنے کا طریق اختیار کیا ہے اور یہی وہ زمانہ ہے جس سے ہر نبی نے اپنے متبعین کو ڈرایا اور آنحضورﷺ نے اس کے بارہ میں بہت زیادہ انذار فرمایا۔ (صحیح بخاری کتاب الفتن بَاب ذِكْرِ الدَّجَّالِ) اور ان شیطانی اور دجالی طاقتوں کے مقابلہ کے لیے اپنے روحانی فرزند اور غلام صادق مسیح موعود و مہدی معہود کی بعثت کی خوشخبری عطا فرمائی۔ (صحیح بخاری کتاب تفسیر القرآن بَاب قَوْلُهُ وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ)
پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے شیطانی اوردجالی طاقتوں کے مقابلہ کے لیے ہمیں جو دعا اور قلمی جہاد کے ہتھیار عطا فرمائے ہیں اور جو اسلام کی حقیقی تعلیم سے ہمیں آگاہ فرمایاہے، ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے آپ کو ان ہتھیاروں سے لیس کر کے اور ان تعلیمات پر عمل پیرا ہو کر ان شیطانی اور دجالی قوتوں کا مقابلہ کر کے خود کو اور اپنی آئندہ نسل کو ان کے حملوں سے محفوظ کریں۔
آپ کا بھانجا بھی ان دجالی چالوں کے بہکاوے میں آکر چونکہ تبدیلیٔ جنس کے سارے اقدام کر چکا ہے، اس لیے اب ہم سوائے دعا کے اور کیا کر سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اسے ہدایت دے۔
آپ کے بھانجے نے اگر آپریشن کے ذریعہ اپنے جسمانی اعضاء تبدیل کروا لیے ہیں اور اس کا Reproductive سسٹم تبدیل ہو گیا اور اس میں اب مردوں والی کوئی ظاہری علامات نہیں رہیں تو وہ چونکہ لڑکی بن چکی ہے، اس لیے وہ عورتوں کی طرف جا سکتی ہے۔ لیکن اگر اس کے اعضاء لڑکوں والے ہیں تو صرف یہ کہنے سے کہ وہ لڑکی بن گیا ہے، لڑکی نہیں سمجھا جائے گا اور عورتوں کی طرف نہیں جا سکتا۔
مزید پڑھیں: بنیادی مسائل کے جوابات(قسط۱۰۷)




