بنیادی مسائل کے جوابات

بنیادی مسائل کے جوابات(قسط۱۰۷)

(مرتبہ:ظہیر احمد خان۔انچارج شعبہ ریکارڈ دفتر پی ایس لندن)

٭… اگر اور بھی دنیا ہیں تو دوسری دنیاؤں کےلیے کون سا مذہب ہوگا، کیا ایک سے زائد محمدﷺہوں گے اور قرآن کریم کے مختلف Versions ہوں گے؟ ایسی صورت میں تو پھر قرآن کریم میں لکھا ہونا تھا کہ اللہ تعالیٰ قرآن کے ہر Version کی حفاظت کرے گا۔ اس اعتراض کا کیا جواب ہو سکتا ہے؟

٭…کیا وہ اپنی اہلیہ کے ساتھ گھر پر جمعہ پڑھ سکتے ہیں۔ اگر پڑھ سکتے ہیں تو اذان کون دے گا اور کون اقامت کہے گا؟

٭…کافر، منافق اور فاسق میں کیا فرق ہے؟ قرآن کریم میں ایک جگہ کہا گیا ہے کہ کافر ہی منافق ہیں اور ایک جگہ کہا گیا ہے کہ منافق ہی فاسق ہیں۔ ان میں فرق واضح نہیں ہو رہا۔

٭…عورتوں کے مصنوعی بال لگوانے کی ممانعت کے بارہ میں راہنمائی۔

سوال: جرمنی سے ایک دوست نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں لکھا کہ اگر اور بھی دنیا ہیں تو دوسری دنیاؤں کےلیے کون سا مذہب ہوگا، کیا ایک سے زائد محمدﷺہوں گے اور قرآن کریم کے مختلف Versions ہوں گے؟ ایسی صورت میں تو پھر قرآن کریم میں لکھا ہونا تھا کہ اللہ تعالیٰ قرآن کے ہر Version کی حفاظت کرے گا۔ اس اعتراض کا کیا جواب ہو سکتا ہے؟حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مورخہ ۲؍دسمبر۲۰۲۳ء میں اس سوال کے بارے میں درجذیل راہنمائی عطا فرمائی۔ حضور انور نے فرمایا:

جواب: اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔ اَللّٰہُ الَّذِیۡ خَلَقَ سَبۡعَ سَمٰوٰتٍ وَّمِنَ الۡاَرۡضِ مِثۡلَہُنَّ ؕ یَتَنَزَّلُ الۡاَمۡرُ بَیۡنَہُنَّ لِتَعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ ۬ۙ وَّاَنَّ اللّٰہَ قَدۡ اَحَاطَ بِکُلِّ شَیۡءٍ عِلۡمًا۔(الطلاق:۱۳)یعنی اللہ وہی ہے جس نے سات آسمان پیدا کیے ہیں اور زمینیں بھی آسمانوں کے عدد کے مطابق (پیدا کی ہیں) ان (آسمانوں اور ان زمینوں) کے درمیان اس کا حکم نازل ہوتا رہتا ہے تا کہ تم جان لو کہ اللہ ہر ایک چیز پر قادرہے۔ اور اسی طرح اللہ ہر چیز کا علم سے احاطہ کیے ہوئے ہے۔

اس قرآنی آیت سے یہ بات تو واضح ہے کہ خدا تعالیٰ نے اپنی وسیع و عریض کائنات میں ہر جگہ اس کی ضرورت کے عین مطابق احکامات نازل فرمائے ہیں جن کے تابع کائنات کا نظام رواں دواں ہے۔ اس زمین پر اللہ تعالیٰ نے چونکہ انسان کی بھی تخلیق فرمائی، جس کی اصلاح اور راہنمائی کے لیے اس نے انبیاء کا سلسلہ بھی اس دنیا میں جاری فرمایا۔ پس ہمارا ایمان ہے کہ شریعت کے اس نظام کے مکلّف وہی انسان ہیں، جن تک ان شریعتوں کا پیغام پہنچا ہے۔ اگر اس زمین کے علاوہ کوئی اور بھی ایسی زمینیں ہیں جہاں اس زمین کے انسانوں کی طرح کے انسان آباد ہیں تو جب تک انہیں ہماری شریعتوں کا پیغام نہیں پہنچتا وہ اس کے مکلّف نہیں ہیں۔ اور اگر اللہ تعالیٰ نے انہیں کوئی اور شریعت عطا فرمائی ہے تو یقیناً وہ اس کے مکلّف ہوں گے۔ان کو ملنے والی شریعتیں کیسی ہیں یا ان کی طرف مبعوث ہونے والے انبیاء کون ہیں؟ اس کا علم صرف اللہ تعالیٰ ہی کی ذات کوہے۔ البتہ جب ان زمینوں کے انسانوں کے ساتھ ہمارا رابطہ ہو جائےگا اور ہم انہیں خدا تعالیٰ کی اس شریعت کا پیغام پہنچا دیں گے تو پھر وہ بھی اس کے مکلّف ہوں گے اور یہ تعلیم اور یہ رسول ان کے لیے بھی قابل عمل اور قابل تقلید ہوں گے۔

ابھی تک تو ایلین صرف کہانیوں میں ہی ہیں اور اس زمین کا انسان ہی ان کی کھوج کر رہا ہے۔ ان کی طرف سے تو ہمارے ساتھ ابھی تک کوئی رابطہ ثابت نہیں ہے۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک انگریز پروفیسر ریگ صاحب کے سوال کہ ’’ یہ امر میری سمجھ میں نہیں آتا اور کہ یہ زمین جس سے ہمارا تعلق ہے اس کے سوا اور ہزاروں کروڑوں سلسلے خدا نے پیدا کیے ہیں تو خدا کی قدرت اور انعامات کو کیوں اس زمین تک محدود کیا جاتا ہے۔‘‘

جواب۔ ہمارا یہ عقیدہ نہیں ہے۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ اس آسمان اور زمین کے سوا اور کوئی سلسلہ ہی نہیں۔ بلکہ ہمارا خدا کہتا ہے کہ وہ ربُّ العالمین ہے یعنی کہ وہ کل جہانوں کا ربّ ہے اور کہ جہاں جہاں کوئی آبادی ہے وہاں وہاں ہی اس نے رسول بھیجے ہیں۔ عدم علم سے عدم شئ لازم نہیں آتی۔ جس خدا نے اس ایک چھوٹی سی زمین کے واسطے اتنا وسیع سامان پیدا کیا اس نے کیوں دوسری تمام آبادیوں کے واسطے سامان پیدا نہ کیے ہوں گے؟ وہ سب کا یکساں ربّ ہے اور سب کی ضرورتوں سے واقف۔(ملفوظات جلد دہم صفحہ ۳۰۹، مطبوعہ یوکے ۲۰۲۲ء)

سوال: مصر سے ایک دوست نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں کسی شخص کا یہ سوال بھجوایا کہ ان کے قریب کوئی اور احمدی نہیں رہتا۔ تو کیا وہ اپنی اہلیہ کے ساتھ گھر پر جمعہ پڑھ سکتے ہیں۔ اگر پڑھ سکتے ہیں تو اذان کون دے گا اور کون اقامت کہے گا؟حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مورخہ ۴؍دسمبر ۲۰۲۳ء میں اس سوال کا درج ذیل جواب عطا فرمایا۔ حضورانور نے فرمایا:

جواب: جیسا کہ آپ نے بیان کیا ہے کہ ان کے قریب اور کوئی احمدی نہیں رہتا، اس لیے یہ تو ویسے بھی ایک مجبوری کی صورت ہے جس میں دونوں میاں بیوی مل کر نماز جمعہ ادا کر سکتے ہیں۔لیکن اس صورت میں جیسا کہ احادیث میں آتا ہے خاوند بطور امام اگلی صف میں کھڑا ہو گا اور بیوی پچھلی صف میں کھڑی ہو گی۔ (سنن نسائی کتاب الامامۃ باب مَوْقِفُ الْإِمَامِ إِذَا كَانَ مَعَهُ صَبِيٌّ وَامْرَأَةٌ)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت اقدس میں اسی قسم کا ایک مسئلہ پیش ہوا کہ دو احمدی کسی گاؤں میں ہوں تو وہ بھی جمعہ پڑ ھ لیا کریں یا نہ؟

مولوی محمد احسن صاحب سے خطاب فرمایا تو انہوں نے عرض کیا کہ دو سے جماعت ہو جاتی ہے اس لیے جمعہ بھی ہوجاتا ہے۔ آپؑ نے فرمایا:’’ہاں پڑھ لیا کریں۔ فقہاء نے تین آدمی لکھے ہیں اگر کوئی اکیلا ہو تو وہ اپنی بیوی وغیرہ کو پیچھے کھڑا کر کے تعداد پوری کر سکتا ہے۔ ‘‘(اخبار بدر نمبر ۱۱، جلد۶، مورخہ ۱۴مارچ ۱۹۰۷ء صفحہ ۵)

باقی جہاں تک اذان دینے کا تعلق ہے تو نماز تو اس وقت بھی ہو جاتی تھی جب ابھی اذان شروع ہی نہیں ہوئی تھی۔ پس اگر وہ لوگ جنہوں نے نماز پڑھنی ہے، سب موجود ہوں تو اذان نہ بھی دی جائے تو اس میں کچھ حرج نہیں۔ چنانچہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا گیا کہ کیا جماعت کے لیے اذان ضروری ہے؟ فرمایا:

ہاں اذان ہونی چاہیے۔ لیکن اگر وہ لوگ جنہوں نے جماعت میں شامل ہو نا ہے وہیں موجود ہوں تو اذان نہ کہی جائے تو کچھ حرج نہیں۔لوگوں نے اس کے متعلق مختلف خیالات کا اظہار کیا ہے۔ مگر میں ایک دفعہ حضرت صاحب کے ہمراہ گورداسپور کو جارہا تھا۔راستہ میں نماز کا وقت آیا۔عرض کیا گیا کہ اذان کہی جائے؟فرمایا کہ احباب تو جمع ہیں۔کیا ضرورت ہے۔اس لیے اگر ایسی صورت ہو تو نہ دی جائے۔ ورنہ اذان دینا ضروری ہے کیونکہ اس سے کسی دوسرے کو بھی تحریک نماز ہوتی ہے۔(اخبار الفضل قادیان دارالامان نمبر ۵۶، جلد۹، مورخہ ۱۹ جنوری ۱۹۲۲ء صفحہ ۸)

پس آپ نے جو صورت بیان کی ہے، اس میں اذان دینے کی تو کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اور اقامت بھی عورت نہیں کہے گی خواہ گھر پر ہی نماز ہو رہی ہو کیونکہ حضور ﷺ نے اس کی اجازت نہیں فرمائی۔ (سنن الکبریٰ للبیہقی کتاب الصلاۃ باب لیس علی النساء اذان ولا اقامۃ )

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بارہ میں بھی آتا ہے کہ آپ جب کسی مجبوری کی وجہ سےگھر پر نماز ادا کرتے تھے اور حضرت اماں جانؓ کو نماز میں مجبوراً اپنے ساتھ کھڑا کر لیا کرتے تھے(کیونکہ حضور علیہ السلام کو بعض اوقات کھڑے ہو کر چکر آ جایا کرتا تھا، اس لیے آپ حضرت اماں جانؓ کو نماز میں اپنے ساتھ کھڑا کر لیا کرتے تھے ) (سیرۃ المہدی جلد اول صفحہ۶۳۶ روایت نمبر۶۹۶جدید ایڈیشن) لیکن یہ کہیں نہیں آتا کہ آپ نے حضرت اماں جانؓ کو اقامت کہنے کا ارشاد فرمایا ہو۔ اس لیے اقامت مرد خود ہی کہے گا۔ اور ویسے بھی اقامت کے متعلق تو حدیث میں بھی آتا ہے کہ بوقت ضرورت امام خود بھی کہہ سکتا ہے۔(سنن ترمذی کتاب الصلاۃ بَاب مَا جَاءَ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الدَّابَّةِ فِي الطِّينِ وَالْمَطَرِ)

سوال: ربوہ سے ایک خاتون نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں تحریر کیا کہ کافر، منافق اور فاسق میں کیا فرق ہے؟ قرآن کریم میں ایک جگہ کہا گیا ہے کہ کافر ہی منافق ہیں اور ایک جگہ کہا گیا ہے کہ منافق ہی فاسق ہیں۔ ان میں فرق واضح نہیں ہو رہا۔ راہنمائی کی درخواست ہے۔حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مورخہ ۵ دسمبر۲۰۲۳ء میں اس استفسار کا درج ذیل جواب عطا فرمایا۔ حضور انور نے فرمایا:

جواب:۔لغوی طور پرکفر کا مادہ’’ کَفَرَ‘‘ہے اور یہ مادہ کلام عرب میں بنیادی طور پر کسی چیز کو چھپانےاور غائب کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔چنانچہ جب سپاہی اپنی زرہ کسی کپڑے وغیرہ میں چھپائے تو عرب کہتے ہیں کَفَرَ دَرْعَہٗ یعنی اس نے اپنی زرہ کو چھپایا۔ اسی مناسبت سے کاشتکار کو بھی کافر کہا گیا کیونکہ وہ بھی بیج کو زمین کے اندر چھپاتا ہے۔ اس مادہ سے بنے ہوئے اکثر الفاط میں اخفا کا مفہوم پایا جاتا ہے۔

اصطلاح میں کفر کے معنی کسی چیز کو جاننے کے بعد اُس کو نہ ماننے، اُس کو ردّ کرنے اور اُس کا انکار کرنے کے ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔ وَلَمَّا جَآءَہُمۡ کِتٰبٌ مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰہِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَہُمۡ ۙ وَکَانُوۡا مِنۡ قَبۡلُ یَسۡتَفۡتِحُوۡنَ عَلَی الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا ۚۖ فَلَمَّا جَآءَہُمۡ مَّا عَرَفُوۡا کَفَرُوۡا بِہٖ ۫ فَلَعۡنَۃُ اللّٰہِ عَلَی الۡکٰفِرِیۡنَ (البقرۃ:۹۰) یعنی اور جب ان کے پاس اللہ کی طرف سے ایک کتاب آئی جو اس (کتاب کی پیشگوئیوں) کو جو ان کے پاس ہے سچا کرنے والی ہے تو باوجود اس کے کہ پہلے یہ (لوگ اللہ سے) کافروں پر فتح (پانے کی دعا) مانگا کرتے تھے۔ جب ان کے پاس وہ چیز آگئی جس کو انہوں نے پہچان لیا تو اس کا انکار کر دیا۔ پس ایسے کافروں پر اللہ کی لعنت ہے۔

یہاں پر بھی چونکہ سچائی کا انکار کرنے والے حقیقت جان لینے کے بعد اس سچائی پر پردہ ڈال دیتے ہیں اس لیے ان کے لیے کفر کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔

اسی طرح کفر کے ایک معنی کسی معاملہ یا کسی شخص سے برأت کا اظہار کرنےاوربری الذمہ ہونے کا دعوی کرنے کے بھی ہیں۔ جیسا کہ قرآن کریم میں آتا ہے۔وَقَالَ اِنَّمَا اتَّخَذۡتُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ اَوۡثَانًا ۙ مَّوَدَّۃَ بَیۡنِکُمۡ فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا ۚ ثُمَّ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ یَکۡفُرُ بَعۡضُکُمۡ بِبَعۡضٍ وَّیَلۡعَنُ بَعۡضُکُمۡ بَعۡضًا ۫ وَّمَاۡوٰٮکُمُ النَّارُ وَمَا لَکُمۡ مِّنۡ نّٰصِرِیۡنَ۔(العنکبوت:۲۶) یعنی (ابراہیم نے) کہا، تم نے اللہ کے سوا بتوں سے تعلق قائم کر چھوڑا ہے (اور تمہارا یہ فعل) ورلی زندگی میں دوسرے مشرکوں سے محبت بڑھانے کے لیے (ہے) پھر قیامت کے دن تم میں سے بعض بعض کا انکار کریں گے اور تم میں سے بعض بعض پر لعنت ڈالیں گے اور تمہارا ٹھکانا دوزخ ہوگا اور جن کو تم مددگار سمجھتے ہو ان میں سے کوئی تمہاری مدد کو نہ آئے گا۔

پس کافر کے معانی کسی چیز کو چھپانے والے، کسی کا انکار کرنے والے، اسے ردّ کرنے والے، اسے نہ ماننے والے، کسی چیز سے بری الذمہ ہونے والے کے ہیں۔حضرت خلیفۃالمسیح الاول رضی اللہ عنہ لفظ کافر کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں: کافر کا لفظ عرب کے محاورے میں ایسا نہیں تھا جیسا کہ ہمارے ملک میں کسی کو کافر کہنا گویا آگ لگا دینا ہے۔ وہ لوگ چونکہ اہل زبان تھے خوب جانتے تھے کہ کسی کی بات کا نہ ماننے والا اس کا کافر ہوتا ہے اور ہم چونکہ آپ کی بات نہیں مانتے اس واسطے آپ ہمیں اس رنگ میں خطاب کرتے ہیں۔ قرآن شریف میں خود مسلمانوں کی صفت بھی کفر بیان ہوئی ہے جہاں فرمایا ہے يَكْفُرْ بِالطَّاغُوْتِ (البقرۃ:۲۵۷)۔معلوم ہوا کہ کفر مسلمان کی بھی ایک صفت ہے مگر آج کل ہمارے ملک میں غلط سے غلط بلکہ خطرناک سے خطرناک استعمال میں آیا ہے۔ کسی نے کسی کو کافر کہا اور وہ دست و گریبان ہوا۔

اصل میں کافر کا لفظ دل دکھانے کے واسطے نہیں تھا بلکہ یہ تو ایک واقعہ کا اظہار و بیان تھا۔وہ لوگ تو اس لفظ اور خطاب کو خوشی سے قبول کرتے تھے۔

قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُوْنَ کے معنی ہوئے کہ وے اے کافرو! ہوشیار ہو کر اور توجہ سے میری بات کو سن لو۔ لَا أَعْبُدُ مَا تَعْبُدُوْنَ میں ان بتوں کی، ان خیالات کی، ان رسوم و رواج کی اور ان ظنوں کی فرمانبرداری نہیں کرتا جن کی تم کرتے ہو۔

ان لوگوں میں اکثر لوگ تو ایسے ہی تھے جو رسم و رواج، عادات اور بتوں کی اور ظنوں اور وہموں کی پوجا میں غرق تھے۔ ہاں بعض ایسے بھی تھے کہ جو دہریہ تھے مگر زیادہ حصہ ان میں سے اوّل الذکر لوگوں میں سے تھے۔خدا کو بڑا خدا جانتے تھے اور خدا سے انکار نہ کرتے تھے۔ بعض ایسے بھی کافر تھے جو خدا کو بھی مانتے تھے اور بتوں سے بھی الگ تھے۔رسم ورواج میں بھی نہ پڑے تھے۔ آنحضرت ؐکے پاس آنے کو اور آپؐ کی فرمانبرداری کرنے میں اپنی سرداری کی ہتک جانتے تھے اوران کے واسطے ان کا کبر اور بڑائی ہی حجاب اور باعث کفر ہو رہی تھی۔ ( خطبہ جمعہ ارشاد فرمودہ ۱۰ اپریل ۱۹۰۸ء۔خطبات نور صفحہ ۳۲۸)

حضرت خلیفۃالمسیح الثانی رضی اللہ عنہ اصطلاحی کفر کی اقسام بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : کفر دو قسم کا ہوتا ہے ایک وہ جس سے کوئی شخص ملت سے خارج ہو جاتا ہے۔ دوسرا وہ جس سے وہ ملت سے خارج نہیں ہوتا۔ کلمہ طیبہ کا انکار پہلی قسم کا کفر ہے۔ دوسری قسم کا کفر اس سے کم درجے کی بد عقیدگیوں سے پیدا ہوتا ہے۔(تحقیقاتی عدالت میں حضرت امام جماعت احمدیہ کا بیان، انوار العلوم جلد ۲۴ صفحہ ۳۶۳)

فاسق کے معانی نافرمان،گناہگار،حق کے راستہ سے ہٹنے والے کے آتے ہیں۔اسی طرح فاسق اسے بھی کہا گیا ہے جو مسلمان ہونے کے باوجود اللہ کی اطاعت نہ کرے اور کبیرہ گناہ کا مرتکب ہو یا صغیرہ گناہ پر اصرار کرتا ہو۔ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس لفظ کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں: فاسق کے معانی ہیں اللہ تعالیٰ کے حکم کو ردّ کرنے والا اور سیدھے راستہ سے ہٹ جانے والا۔ فاسق کا لفظ اکثر اس شخص کے لیے بولا جاتا ہے جو پہلے تو شریعت کے احکام کی پابندی کرے اور ان احکام کو درست سمجھنے کا اقرار کرے لیکن بعدازاں تمام احکام شریعت کو یا بعض احکام کو ترک کر دے۔

پس فاسق کے معنی ہوئے ۱۔ نافرمان۔۲۔ خدا تعالیٰ کے حکم کو ترک اور ردّ کرنے والا۔ ۳۔ حق کو قبول کر کے پھر اسے ترک کر دینے والا۔(ملخص از تفسیر کبیر جلد اوّل صفحہ ۳۷۴۔ مطبوعہ یوکے ۲۰۲۳ء )

منافق کا لفظ اس شخص کے لیے بولا جاتا ہے جو زبان سے مسلمان ہونے کا دعویٰ کرے اور دل میں اسلام سے انکار کرے۔ حدیث میں منافق کی نشانیاں بتائی گئی ہیں کہ جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو اس کی خلاف ورزی کرے،جب اس کو امین بنایا جائے تو امانت میں خیانت کرے اور جب جھگڑا کرے تو بدزبانی کرے۔(صحیح بخاری کتاب الایمان باب علامة المنافق)

حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ اس بارہ میں فرماتےہیں: اللہ تعالیٰ نے منافقوں کے دو گروہ بیان فرمائے ہیں…ایک منافق تو وہ ہوتے ہیں جو دل سےتو منکر ہوتے ہیں مگر ظاہر یہ کرتے ہیں کہ ہم مومن ہیں۔ اور دوسرے وہ ہیں جو دل سے تو سچا یقین کرتے ہیں اور مانتے ہیں لیکن لوگوں سے ڈر کے مارے ظاہر نہیں کرتے اور عمل کی طاقت نہیں رکھتے۔ وہ لوگوں سے ڈر کر گھبرا جاتے ہیں۔ مال و جان کے خوف کے مارے ایمان ظاہر نہیں کرسکتے۔ (خطبہ جمعہ ارشاد فرمودہ ۲۰ فروری ۱۹۱۴ء بمقام قادیان۔ خطبات محمود جلد چہارم صفحہ ۳۸)

پس کافر کا لفظ لغوی طور پر تو مسلم و غیر مسلم دونوں پر بولا جا سکتا ہے، لیکن اصطلاحی طور پر ایسے شخص کے لیے یہ لفظ آئے گا جو خدا تعالیٰ،آنحضور ﷺ اور خدا تعالیٰ کی طرف سے بھجوائے جانے والے دیگر انبیاء کا انکار کرے۔ پھر ایک کافر بھی فاسق ہو سکتا ہےا ور ایک مسلمان بھی فاسق ہو سکتا ہے۔ اور منافق کا لفظ بھی مسلمان اور کافر دونوں کے لیے بولا جا سکتا ہے۔دراصل یہ تمام لفظ انسان کی مختلف حالتوں کو ظاہر کرتے ہیں۔ جس قسم کی کسی انسان کی حالت ہو گی، اسی کے مطابق اس کے لیے لفظ بھی استعمال ہو گا۔

سوال: تنزانیہ سے ایک خاتون نے مختلف احادیث بیان کر کے ان کی روشنی میں عورتوں کے مصنوعی بال لگوانے کی ممانعت کے بارہ میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے راہنمائی چاہی۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مورخہ ۱۲؍دسمبر ۲۰۲۳ء میں اس مسئلہ کے بارے میں درج ذیل راہنمائی فرمائی۔ حضور انور نے فرمایا:۔

جواب: یہ بات ٹھیک ہے کہ احادیث میں حسن کے حصول کی خاطر عورتوں کے، بالوں کے ساتھ مصنوعی بال لگوانے کی ممانعت آئی ہے۔ (صحیح بخاری کتاب اللباس بَاب الْمُتَفَلِّجَاتِ لِلْحُسْنِ)

ان احادیث کو اگر صحیح مانا جائے تو اس ممانعت کی ایک وجہ یہ ہے کہ حضور ﷺ کے وقت یہود میں فحاشی رائج تھی اور مدینہ میں فحاشی کے اڈے بھی موجود تھے، جن میں ملوث خواتین، مردوں کو اپنی طرف مائل کرنے کے لیے خوبصورتی کے حصول کی خاطر اس قسم کے ہتھکنڈے استعمال کرتی تھیں، اس لیے رسول اللہ ﷺ نے ان کاموں کی شناعت بیان فرما کر مومن عورتوں کو ایسے کاموں سے منع فرما دیا۔ چنانچہ حضرت عائشہؓ اسی قسم کی ایک حدیث میں بیان ممانعت کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتی ہیں کہ الواصلہ (بالوں میں پیوند لگانے والی) سے مراد وه عورت نہیں جو تم مراد لیتے ہو۔ کیونکہ اس میں کوئی حرج کی بات نہیں کہ اگر کسی عورت کے بال بہت کم اور اتنے ہلکے ہوں کہ ان میں سے اس کے سر کی جلد نظر آتی ہو اور وہ اپنے بالوں كے ساتھ سیاه روئی كی میڈھیاں یا چٹیا جوڑ لے۔یاد رکھو ایسی عورت ہر گز واصلہ نہیں ہے۔ اصل میں واصلہ وه ہے جو اپنی جوانی میں فاحشہ ہو اور جب بوڑھی ہوجائے تو دلالی کا کام کرنے کے لیے سر پر چٹیا لگا لے۔ (کیونکہ اس کے بڑھاپے کی وجہ سے) کوئی گاہک اس کے پاس نہیں آتا۔ اور( جوکوئی پرانا گاہک اس کے پاس آتا ہےتو ) وہ دونوں( یہ عورت اور اس کا یہ گاہک)اس بدکاری کی وجہ سے ایک دوسرے سے متعارف ہوتے ہیں۔ (کتاب الضعفاء الکبیر للعقیلی۔ باب الشین۔ حدیث نمبر۷۱۷)

پس اصولی بات یہ ہے کہ جائز حدود میں رہتے ہوئے انسان کااپنی خوبصورتی کے لیے کوئی جائز طریق اختیار کرنا منع نہیں۔ چنانچہ حدیث میں آتا ہے کہ ایک شخص نے سوال کیا کہ خداتعالیٰ نے مجھے خوبصورتی عطا فرمائی ہےاور مجھے بھی خوبصورت رہنا اچھا لگتا ہے اور میں چاہتا ہوں کہ میرے کپڑے اچھے ہوں، میری جوتی اچھی ہو، تو کیا یہ تکبر میں شامل ہے؟ اس پر حضورﷺنے فرمایایہ تکبر نہیں ہے نیز فرمایا إِنَّ اللّٰهَ جَمِيْلٌ يُحِبُّ الْجَمَالَ یعنی اللہ تعالیٰ بہت زیادہ خوبصورت ہے اور خوبصورتی کو پسند کرتا ہے۔ (صحیح مسلم کتاب الایمان باب تَحْرِيمِ الْكِبْرِ وَبَيَانِهِ)اسی طرح احادیث میں آتا ہے کہ بچیوں کی جب شادی ہوتی تھی تو انہیں بھی اس زمانہ کے طریق کے مطابق بناؤ سنگھار کر کے تیار کیا جاتا اور خوبصورت بنایا جاتا تھا۔ (صحیح بخاری كِتَاب الْهِبَةِ وَفَضْلِهَا وَالتَّحْرِيضِ عَلَيْهَا بَاب الِاسْتِعَارَةِ لِلْعَرُوسِ عِنْدَ الْبِنَاءِ) (فتح الباری شرح صحیح بخاری کتاب النکاح بَاب اسْتِعَارَةِ الثِّيَابِ لِلْعَرُوسِ وَغَيْرِهَا)

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: بنیادی مسائل کے جوابات(قسط۱۰۶)

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button