نماز: شکریہ و ’معذرت‘اپنے گناہوں کی معافی اور اللہ تعالیٰ کے احسانات پر شکرگزاری
نماز سے بڑھ کر اور کوئی وظیفہ نہیں ہےکیونکہ اس میں حمد الٰہی ہے، استغفار ہےاور درود شریف۔تمام وظائف اور اَورَاد کا مجموعہ یہی نماز ہےاور اس سے ہر ایک قسم کے غم وہم دور ہوتے ہیں اور مشکلات حل ہوتے ہیں(حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام)
دوستو ! کسی بھی اچھے کام کےمسلسل نہ کرنے کی اکثر دو ہی وجوہات ہوتی ہیں۔ ایک یہ کہ اس کام کی اہمیت کا اندازہ نہ ہو اور دوسرا یہ کہ اس کام کے کرنے میں سستی ہو جس وجہ سے ہم وہ کام یا بالکل ہی نہیں کرتے یا کبھی کبھی کرتے ہیں۔
اسی وجہ سے اکثر لوگ یہ سوالات کرتے ہیں کہ ہم نماز کیوں پڑھیں؟ یا خدا کو ہماری نمازوں کی کیا ضرورت ہے؟یا ہمیں نماز سے کیا فائدہ حاصل ہوگا؟
خدا کو ہماری نمازوں کی کیا ضرورت ہے؟
ساتھیو! مغربی ممالک میں دو الفاظ بہت کثرت سے بولے جاتے ہیں۔ خاکسار جب کینیڈا آیا تو معلوم ہوا کہ کینیڈا کے لوگ Thank You اور Sorry کا بکثرت استعمال کرتے ہیں اور یہ کینیڈینز کی پہچان ہے۔ یہ الفاظ کئی زبانوں میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والے جملوں میں شامل ہوتے ہیں۔ اور تہذیب کے اولین اظہار میں سے ایک ہیں جو بچے سیکھتے اور استعمال کرتے ہیں۔
خاکسار نے ان دونوں کلمات کے متعلق تھوڑی تحقیق کی اور پڑھا تو ان دونوں الفاظ ’’شکریہ اور معذرت‘‘ کے جسمانی اور نفسیاتی فوائد قدیم اور جدید سائنس نے ثابت کیے ہیں۔
ہم جب کسی کو شکریہ کہتے ہیں تو اس پر کوئی احسان نہیں کر رہے ہوتے بلکہ اس کے احسان یا انعام پر اپنی طرف سے شکرانے کے جذبات کا اظہار کر رہے ہوتے ہیں۔ اور جس قدر احسانات زیادہ ہوتے ہیں اسی قدر ہماری شکریہ کرنے کی تکرار بڑھتی جاتی ہے(یہ اس بات کا جواب ہےکہ دن میں پانچ وقت نماز ادا کرنےکی کیا حکمت اور ضرورت ہے)۔ اسی طرح اگر ہم سے کوئی غلط کام ہوا ہے یا کسی کی حقوق تلفی ہوئی ہےتو معافی مانگنا اور اپنے کیے پر نادم اور شرمندہ ہونا مغربی تہذیب میں بہت اچھا سمجھا جاتا ہے اور اس کی بہت قدر کی جاتی ہے۔
نماز دراصل Thank You and Sorry ہے: نماز دراصل خدا کے حضور اس کے انعامات پر شکریہ ادا کرنے کا نام ہے اور اسی طرح جب ہم سے خدا کےکسی حکم کی حکم عدولی ہو تو نماز کے ذریعہ اپنی ان خطاؤں پر نادم اور شرمندہ ہونے اور اپنے گناہوں کی معافی مانگنے گویا کہ خدا تعالیٰ کو Sorry کہنےکا نام ہے۔ خدا تعالیٰ کو ہماری نماز سے کوئی فائدہ نہیں ملتا اورہم نماز پڑھ کر خدا پر کوئی احسان نہیں کر رہے ہوتے بلکہ دراصل ہماری نمازیں خدا کے حضور ہماری طرف سے اپنے گناہوں کی معافی اورخدا کے احسانات پرشکرگزاری کا ذریعہ ہوتی ہیں۔
اس حوالے سے جب قرآن مجید اور احادیث کا مطالعہ کیاجائے تو متعدد آیات و احادیث اور خود نماز کے الفاظ اور اس کے بعد کی تسبیحات سے اس امر کے تائیدی ثبوت نظر آتے ہیں۔
نمازیں خدا تعالیٰ کے حضور شکر گزاری (Thank You) کرنے کا ذریعہ ہیں: اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے: اِنَّنِی اَنَا اللّٰہُ لَا اِلٰہَ اِلَّا اَنَا فَاعْبُدْنِی ۙ وَاَقِمِ الصَّلٰوۃَ لِذِکْرِیۡ (طٰہٰ: ۱۵) حضرت خلیفۃالمسیح الثانیؓ تفسیر کبیر میں مندرجہ بالا آیت کی تفسیر میں تحریر فرماتے ہیں کہ ’’اَقِمِ الصَّلٰوۃَ لِذِکْرِی میں لِذِکْرِی کے دو معنی ہو سکتے ہیں ایک تو یہ کہ چونکہ میں نے تجھے یاد کیا ہے اس لئے تو میرے شکر کے طور پر نماز پڑھ۔اور دوسرے یہ کہ میرے ذکر کے لئے نماز پڑھ۔یعنی تیری نماز دکھاوے کے لئے نہ ہو بلکہ صرف میرے ذکر کے لئے ہو۔ (تفسیر کبیر جلد ۷ صفحہ ۴۹۴)
أَفَلَا أَكُوْنُ عَبْدًا شَكُورًا: حضرت عائشہؓ یہ روایت کرتی ہیں کہ آپﷺ رات کو اس قدر لمبا قیام فرماتے تھے کہ اس کی و جہ سے آپ کے پاؤں سوج جایا کرتے تھے۔ اس پر مَیں نے پوچھا کہ یا رسول اللہ ؐ!کیا آپ کے متعلق اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ آپؐ کے سارے گناہ بخشے گئے ہیں۔ پہلے بھی اور بعد کے بھی تو اب بھی اتنا لمبا قیام فرماتے ہیں ؟ تو آپؐ نے فرمایا کیا مَیں خدا کا عبد شکور نہ بنوں جس نے مجھ پر اتنا احسان کیا ہے۔ کیا مَیں اس کا شکریہ ادا کرنے کے لئے نہ کھڑا ہوا کروں۔ (بخاری -کتاب التفسیر۔ سورۃ الفتح۔ باب قولہ لیغفرلک اللّٰہ ما تـقدم من ذنبک وما تأخر) (اس حدیث میں حضرت عائشہؓ نے نماز کو گناہ بخشوانے کا ذریعہ قرار دیا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےاس بات کی تردید نہیں کی بلکہ ساتھ ہی آ پؐ نے نماز کو خدا کے حضور شکرگزاری کا ذریعہ بیان فرمایا ہے۔)
حضرت اقدس مسیح موعودؑ کشتی نوح میں تحریر فرماتے ہیں: نماز کیا چیز ہے؟وہ دعا ہے جو تسبیح ، تحمید، تقدیس، اور استغفاراور درود کے ساتھ تضرع سے مانگی جاتی ہے۔(کشتی نوح، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحہ ۶۸, ۶۹)
نماز کے ظاہری الفاظ: چنانچہ نماز کا آغاز بھی اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا اور پھر الحمد للہ ربّ العالمین سے ہوتا ہے۔گویا کہ خداتعالیٰ کی شکرگزاری (Thank You)سے نماز کا آغاز ہوتا ہے۔ اور نماز کے اختتام میں درودشریف اور بخشش کی دعائیں ہیں اور آخری دعا یہ ہےکہ ربنا اغفرلی و لوالدی وللمومنین یوم یقوم الحساب۔گویا کہ آخر میں اللہ تعالیٰ سے اپنی خطاؤں کی معافی(Sorry) مانگی جاتی ہے۔
نمازیں اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی اور معذرت کرنے کا ذریعہ ہیں: انسان کیونکہ غلطیوں کا پتلا ہے دن میں بھی روزانہ کئی غلطیاں ہو جاتی ہیں۔ کئی گناہ سرزد ہو جاتے ہیں۔ اس لیے ہر ایک کی خواہش یہ ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جوموقع دیا ہے اس سے فائدہ اٹھایا جائے اور اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی بخشش طلب کی جائے۔
پانچ نمازیں پڑھنے والے کی روح پر کوئی میل نہیں رہتی: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مثال دیتے ہوئے فرمایا کہ کیا تم سمجھتے ہو کہ اگر کسی کے دروازے کے پاس سے نہر گزر رہی ہو اور وہ اس میں پانچ بار روزانہ نہائے تو اس کے جسم پر کوئی میل رہ جائے گی؟ صحابہؓ نے عرض کیا یا رسول اللہؐ! یقیناً کوئی میل نہیں رہے گی۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو پھر یہی مثال پانچ نمازوں کی ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کے ذریعہ گناہ معاف کرتا اور کمزوریاں دور کرتا ہے۔ (صحیح البخاری کتاب مواقیت الصلاۃ باب الصلوات الخمس کفارۃ حدیث۵۲۸)
وَالَّذِیْنَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَۃً اَوْ ظَلَمُوْٓا اَنْفُسَہُمْ ذَکَرُوْا اللّٰہَ فَاسْتَغْفَرُوْا لِذُنُوْبِہِمۡ (آل عمران:۱۳۶)حضرت علیؓ بیان کرتے ہیں ، ابوبکرؓ نے مجھے حدیث بیان کی ، اور ابوبکرؓ نے سچ فرمایا ، انہوں نے بیان کیا ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’جب کوئی شخص کسی گناہ کا ارتکاب کرتا ہے ، پھر وضو کر کے نماز پڑھ کر اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہے تو اللہ اسے معاف کر دیتا ہے۔‘‘پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: (وَالَّذِینَ اِذَا فَعَلُوا…فَاستَغْفَرُوْا لِذُنُوْبِہِمۡ) ’’اور وہ لوگ جب کوئی برا کام کر گزرتے ہیں یا اپنی جان پر ظلم کر بیٹھتے ہیں ، تو اللہ کو یاد کرتے ہیں ، پھر اس سے اپنے گناہوں کی مغفرت طلب کرتے ہیں۔‘‘( ترمذی ، ابن ماجہ ، البتہ ابن ماجہ نے آیت ذکر نہیں کی۔ ( مشکوٰۃ المصابیح: ۱۳۲۴)
فَاُنْزِلَتْ عَلَيْهِ:وَاَقِمِ الصَّلٰوۃَ طَرَفَیِ النَّہَارِ وَزُلَفًا مِّنَ الَّیۡلِؕ اِنَّ الۡحَسَنٰتِ یُذۡہِبۡنَ السَّیِّاٰتِؕ ذٰلِکَ ذِکۡرٰی لِلذّٰکِرِیۡنَ۔ (ھود:۱۱۵)
ایک شخص نے کسی غیر عورت کو بوسہ دے دیا اور پھر وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپؐ سے اپنا گناہ بیان کیا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی ’’اور تم نماز کی پابندی کرو دن کے دونوں سروں پر اور رات کے کچھ حصوں میں بیشک نیکیاں مٹا دیتی ہیں بدیوں کو ، یہ ایک نصیحت ہے نصیحت ماننے والوں کے لیے۔‘‘ ان صاحب نے عرض کیا یہ آیت صرف میرے ہی لیے ہے ( کہ نیکیاں بدیوں کو مٹا دیتی ہیں ) ؟ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ میری امت کے ہر انسان کے لیے ہے جو اس پر عمل کرے۔ (صحیح البخاری: ۴۶۸۷)
ہر قدم پر ثواب: آپ ﷺنے فرمایا کہ جس شخص نے گھر سے وضو کیا پھر وہ اللہ تعالیٰ کے گھر یعنی مسجد کی طرف گیا تا کہ وہاں فرض نماز ادا کرے تو مسجد کی طرف جاتے ہوئے جتنے قدم اس نے اٹھائے ان میں سے اگر ایک قدم سے اس کا ایک گناہ معاف ہو گا تو دوسرے قدم سے اس کا ایک درجہ بلند ہوگا۔ یعنی ہر قدم ہی اسے ثواب دینے والا ہے۔ (صحیح مسلم کتاب المساجد و مواضع الصلاۃ باب المشی الیٰ الصلاۃ … حدیث۱۴۰۶)
اسماعیل نے بیان کیا کہ انہیں علاء نے خبر دی ، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کیا میں تمہیں ایسی چیز سے آگاہ نہ کروں جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ گناہ مٹا دیتا ہے اور درجات بلند فرماتا ہے ؟ صحابہؓ نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ؐکیوں نہیں ! آپؐ نے فرمایا: ناگواریوں کے باوجود اچھی طرح وضو کرنا ، مساجد تک زیادہ قدم چلنا ، ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا ، سو یہی رباط ( شیطان کے خلاف جنگ کی چھاؤنی ) ہے۔ (صحیح مسلم: ۵۸۷)
اسی طرح نماز مکمل ہونے کے بعد بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم خدا کی حمد و ثنا، ذکر ،شکر اور استغفار کیا کرتے اور اپنے صحابہؓ کو بھی اس کی تلقین فرمایا کرتےتھے۔حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا : اے معاذ ! قسم اللہ کی ! مجھے تم سے محبت ہے۔ پھر فرمایا : اے معاذ! میں تمہیں وصیت کرتا ہوں کہ کسی نماز کے بعد یہ دعا ہرگز ترک نہ کرنا : اللّٰهُمَّ أَعِنِّي عَلَى ذِكْرِكَ وَشُكْرِكَ وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ۔ اے اللہ ! اپنا ذکر کرنے ، شکر کرنے اور بہترین انداز میں اپنی عبادت کرنے میں میری مدد فرما۔ (ابو دائود : ۱۵۲۲)
روایت میں آتا ہےکہ رسول اللہ ﷺ جب اپنی نماز سے فارغ ہوتے تو تین دفعہ استغفار کرتے اور اس کے بعد کہتے: اللّٰہُمَّ اَنْتَ السَّلَامُ وَ مِنْكَ السَّلَامُ ، تَبَارَكْتَ یَا ذَاالْجَلَالِ وَالْاِكْرَامِ۔ ترجمہ : اے اللہ ! تُو ہی سلام ہے اور سلامتی تیری ہی طرف سے ہے ، تُو صاحب رفعت و برکت ہے ، اے جلال والے اور عزت بخشنے والے !’’ ولید نے کہا : میں نے اوزاعی سے پوچھا : استغفار کیسے کیا کرتے ؟ انہوں نے کہا : استغفر اللّٰہ، استغفر اللّٰہ کہتے۔ (صحیح مسلم: ۱۳۳۴)
سوال : ہمیں نماز سے کیا فائدہ حاصل ہوگا؟
جواب : جب فائدہ کی بات کی جاتی ہے تواس سے مراد اکثر جسمانی یا مادی اور ظاہری فوائد ہیں جو لوگ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ قرآن اور حدیث کی روشنی میں نمازکے بعض روحانی فوائدکا ذکراوپر ہو چکا ہے۔ Thank You and Sorry ’’شکریہ اور معذرت‘‘ کے جسمانی اور نفسیاتی فوائد قدیم اور جدید سائنس نے ثابت کیے ہیں جن میں سے بعض نمونہ کے طور پر پیش ہیں۔
’’شکریہ‘‘کہنے کے نفسیاتی فوائد: مثبت جذبات کو بڑھاتا ہے۔ منفی جذبات کو کم کرتا ہے۔خود اعتمادی کو مضبوط کرتا ہے۔باہم تعلقات کے جذبات کو بڑھاتا ہے۔دماغی لچک کو بہتر بناتا ہے۔دماغی صحت کو بڑھاتا ہے۔ترقی کی ذہنیت کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔
’’معذرت‘‘کرنے کے نفسیاتی فوائد: جذباتی شفایابی کو فروغ دیتا ہے۔ہمدردی اور تفہیم کو فروغ دیتا ہے۔معافی کی ترغیب دیتا ہے۔احتساب کو مضبوط کرتا ہے۔ذہنی سکون بحال کرتا ہے۔خود آگاہی کو بہتر بناتا ہے۔
’’شکریہ‘‘ اور ’’معذرت‘‘ کہنے کے جسمانی فوائد: ان الفاظ کے جسمانی فوائد بہت دُور رس ہیں۔ باقاعدگی سےشکرگزاری کی مشق کرنا اور حقیقی انداز میں معافی مانگنا آپ کی ذہنی اور جسمانی صحت دونوں پر دیرپا مثبت اثرات مرتب کرسکتا ہے۔ تناؤ کو کم کرتا ہے۔آکسیٹوسن کو بڑھاتا ہے۔(سماجی اور انفرادی)تعلقات کو بہتر بناتا ہے۔مدافعتی فنکشن کو بہتر بناتا ہے۔مثبت رویے اورہمدردی کے کاموں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔غصہ اور مایوسی کو کم کرتا ہے۔ذہن سازی کو فروغ دیتا ہے۔ ان الفاظ کا استعمال دل کی صحت کو بہتر بنا سکتا ہے۔موڈ کوخوشگوار کرتا ہے۔
پس اگر ہم اپنی نمازوں کو حقیقی طور پر خدا کی شکرگزاری کرتے ہوئے ادا کریں اور اپنی کمزوریوں پر نظر رکھتے ہوئے اپنے گناہوں کی معافی مانگیں تو اس بار بار کی تکرار سے جہاں ہمارے اندر ایک پاک تبدیلی پیدا ہوگی اور خدا تعالیٰ کا قرب حاصل ہوگا۔وہاں ساتھ ہی ہم ان مندرجہ بالا نفسیاتی اور جسمانی فوائدسے بھی حصہ پانے والے ہوں گے جو نماز کے اندر مخفی ہیں۔ اور اَلَا بِذِکۡرِ اللّٰہِ تَطۡمَئِنُّ الۡقُلُوۡبُ۔ کے مطابق یہ نمازیں اور عبادات ہمارے لیے اطمینان قلب کا باعث بھی بن رہی ہوں گی۔
سوال : ہم نماز کیوں پڑھیں؟
جواب: جب یہ بات واضح ہو گئی کہ نماز میں روحانی اور جسمانی دونوں فوائد ہیں علاوہ ازیں Thank You and Sorry جس پر آج مغربی اقوام کو ناز ہےاوریہ ہماری روزمرہ بول چال میں معمول کا حصہ ہیں۔ اگر ہم واقعی ان اعلیٰ اخلاق کے پاس دار ہیں تو ہمیں بھی اپنی نمازوں کا پابند ہو نا ہوگا۔ اور سب سے بڑھ کر خدا کا شکر گزار بندہ بننا ہوگا۔وہ خدا جو خود فرماتا ہے کہ ’’ اگر تم اللہ کی نعمتیں گنو تو کبھی ان کا شمار نہ کر سکو گے‘‘۔(ابراہیم:۳۵)
ہم غیروں کو تو دن میں سو سے بھی زیادہ بار شکریہ کہتے ہیں یا ذرہ سی لغزش پر معذرت کرتے ہیں تو وہ ذات جس کے قبضہ میں ہماری جان ہے ،جو ہماراربّ اور خالق و مالک ہے ،وہ اس بات کا زیادہ حقدار نہیں کہ ہم اس کی نعمتوں پر نظر رکھتے ہوئے اس کے سامنے اس کے حکم کے مطابق دن میں پانچ مرتبہ حاضر ہوں؟
ہم تو وہ خوش قسمت قوم ہیں جس نے وقت کے مسیح کو پہچانا اور اپنی جانیں اس کے سپرد کر دیں۔ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنے امام کی آواز پر لبیک کہیں اور جو عہد بیعت کیا ہے اسے پورا کریں۔
دس شرائط بیعت میں سے تیسری شرط: یہ کہ بلا ناغہ پنج وقتہ نماز موافق حکم خدا اور رسول کے ادا کرتا رہےگا۔ اور حتّی الوسع نماز تہجد کے پڑھنے اور اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے اور ہر روز اپنے گناہوں کی معافی مانگنے اور استغفار کرنے میں مداومت اختیار کرے گااور دلی محبت سے خدا کے احسانوں کو یاد کرکے اس کی حمد اور تعریف کو اپنا ہر روزہ ورد بنائے گا۔
حضرت اقدس مسیح موعود ؑتحریر فرماتے ہیں: ’’نماز سے بڑھ کر اور کوئی وظیفہ نہیں ہےکیونکہ اس میں حمد الٰہی ہے، استغفار ہےاور درود شریف۔تمام وظائف اور اَورَاد کا مجموعہ یہی نماز ہےاور اس سے ہر ایک قسم کے غم وہم دور ہوتے ہیں اور مشکلات حل ہوتے ہیں۔ (تفسیر حضرت مسیح موعودؑ سورۃ طٰہٰ صفحہ ۲۷۹)
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں پنج وقتہ نماز موافق حکم خدا اور رسول کے ادا کرنے کی توفیق عطاکرے اور ہمیں اس کے روحانی اور جسمانی فوائد اور برکات کا وارث بنائے۔ آمین
(انیق احمد۔ کینیڈا)
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: تقویٰ،کی،اہمیت،و،برکات




