خطبہ جمعہ

خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 16؍جنوری 2026ء

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس قدر خدا میں گم اور محو ہو گئے تھے کہ آپ کی زندگی کے تمام انفاس اور آپ کی موت محض خدا کے لئے ہو گئی تھی اور آپ کے وجود میں نفس اور مخلوق اور اسباب کا کچھ حصہ باقی نہیں رہا تھا اور آپ کی روح خدا کے آستانہ پر ایسے اخلاص سے گری تھی کہ اس میں غیر کی ایک ذرّہ آمیزش نہیں رہی تھی۔ (حضرت مسیح موعود علیہ السلام) اس میں غیر کی ایک ذرّہ آمیزش نہیں رہی تھی۔ (حضرت مسیح موعودؑ)

جوانی اور دعویٰ نبوت سے پہلے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم میں محبت الٰہی کا جوش ایسا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے بیتاب ہو کر غار میں جا کر محبوب الٰہی سے راز و نیاز میں مصروف ہو جاتے تھے

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ سے ایسا تعلق تھا کہ خدا تعالیٰ کا ذکر آتے ہی آپؐ کے اندر ایک جوش پیدا ہو جاتا تھا۔ آپؐ کو خدا تعالیٰ سے ایسی محبت تھی کہ تندرستی اور بیماری میں خدا تعالیٰ کا ذکر ہی آپؐ کی غذا تھا اور یہی بات آپؐ اپنی امت اور اپنے لوگوں میں پیدا کرنا چاہتے تھے کہ ان کو بھی اس چیز کی عادت پڑے

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام عمر کوشش یہی تھی کہ جس جس طرح سے ہو سکے لوگوں کی زبان پر خدا کا نام جاری کیا جائے

اب ہمیں دیکھنا چاہیے ،ہم اپنا جائزہ لیں کہ کیا ہمیں بھی اللہ تعالیٰ کا خیال دل میں ہر وقت رہتا ہے جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت سے چاہتے تھے؟ کیا ہمارے دل میں اتنا درد ہے یا ہم صرف اپنے دنیاوی مقاصد کے لیے ہی نمازوں کی طرف اور اللہ تعالیٰ کے ذکر کی طر ف توجہ کرتے ہیں اور عام حالات میں بھول جاتے ہیں ؟

اکثر اعمال میں آپؐ نے خدا تعالیٰ کے ذکر کی طرف لوگوں کو متوجہ کیا ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ آپؐ نہ صرف خود ہی ذکر الٰہی میں مشغول رہتے تھے بلکہ دوسروں سے بھی چاہتے تھے کہ وہ بھی یاد الٰہی میں مشغول رہیں جو کہ آپؐ کے کمال محبت پر دالّ ہے۔ اس پر دلیل ہے

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہوا کرتے تھے تو اتنی دیر تک کھڑے رہتےکہ آپؐ کے قدم یا پنڈلیاں سوج جاتیں۔ لوگ جب آپؐ کو کہتے کہ آپؐ ایسا کیوں کرتے ہیں تو آپؐ جواب دیتے کہ کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں ۔اللہ اللہ !کیا عشق ہے ، کیا محبت ہے ،کیا پیار ہے۔ خدا تعالیٰ کی یاد میں کھڑے ہوتے ہیں اور اپنے تن بدن کا ہوش نہیں رہتا

’’قُرَّةُ عَیْنِیْ فِی الصَّلٰوةِ کہ نماز میں میری آنکھوں کی ٹھنڈک رکھی گئی ہے۔ یہ بھی خاص امتیاز ہےجو اسلام کو
دیگر مذاہب کے مقابلہ میں حاصل ہے… رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں مجھے ایسی عبادت عطا ہوئی ہے کہ اسی میں لذّت ہے اور ایسی لذّت ہے جس کا کوئی مذہب مقابلہ نہیں کر سکتا۔ ‘‘(حضرت مصلح موعودؓ)

ہمارے قلمی اور تبلیغی جہاد میں بھی اسی وقت برکت پڑے گی جب ہم اپنی عبادت کے معیار اور اللہ تعالیٰ کی محبت کو بھی بڑھائیں گے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ اس جہاد میں حصہ لیں تو پھر اللہ تعالیٰ کی محبت اور دعاؤں کی طر ف بھی ہمیں توجہ دینی ہو گی۔ اپنی عبادتوں کی طرف بھی ہمیں توجہ دینی ہو گی اور اگر ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ پر چلتے ہوئے یہ کریں گے تو تب ہی ہمارے کاموں میں برکت بھی پڑے گی

آج بنگلہ دیش کی جماعت کا جلسہ بھی ہورہا ہے ۔وہاں مخالفت بھی کافی ہوتی ہے ۔ان کے لیے بھی دعا کریں۔
اللہ تعالیٰ ان سب کو اپنی حفاظت میں رکھے اور ان کا جلسہ بھی بخیروخوبی اختتام پذیر ہو

آنحضرتﷺ کی محبت الٰہی کا دلنشیں اور دلآویز پیرایہ میں ذکر

خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 16؍جنوری 2026ء بمطابق 16؍صلح 1405 ہجری شمسی بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد، ٹلفورڈ(سرے)،یوکے

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِيْکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔

أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ۔ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ﴿۱﴾

اَلۡحَمۡدُلِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ۙ﴿۲﴾ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ۙ﴿۳﴾ مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ ؕ﴿۴﴾إِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَ إِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ ؕ﴿۵﴾

اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ ۙ﴿۶﴾ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ أَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ ۬ۙ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا الضَّآلِّیۡنَ﴿۷﴾

مَیں نے گذشتہ ایک خطبہ میں

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے حوالے سے آپؐ کی محبت الٰہی کے پہلو

کا ذکر کیا تھا۔ اس بارے میں ہی آج مزید کچھ بیان کروں گا۔

جوانی اور دعویٰ نبوت سے پہلے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم میں محبت الٰہی کا جوش ایسا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے بیتاب ہو کر غار میں جا کر محبوب الٰہی سے رازو نیاز میں مصروف ہو جاتے تھے۔

اسی محبت کا ذکر کرتے ہوئے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام بیان فرماتے ہیں کہ ’’میں دیکھتا ہوں کہ گرمیوں کو بھی روحانی ترقی کے ساتھ خاص مناسبت ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھو کہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے مکہ جیسے شہر میں پید اکیا اور پھر آپ ان گرمیوں میں تنہا غار حرا میں جا کر اللہ تعالیٰ کی عبادت کیا کرتے تھے وہ کیسا عجیب زمانہ ہوگا۔ آپ ہی ایک پانی کا مشکیزہ اٹھا کر لے جاتے ہوں گے۔

اصل بات یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کے ساتھ اُنس اور ذوق پیدا ہو جاتا ہے تو پھر دنیا اور اہل دنیا سے ایک نفرت اور کراہت پیدا ہو جاتی ہے۔ بالطبع تنہائی اور خلوت پسند آتی ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بھی یہی حالت تھی۔ اللہ تعالیٰ کی محبت میں آپ اس قدر فنا ہو چکے تھے کہ آپ اس تنہائی میں ہی پوری لذت اور ذوق پاتے تھے۔

ایسی جگہ میں جہاں کوئی آرام کا اور راحت کا سامان نہ تھا اورجہاں جاتے ہوئے بھی ڈرلگتا ہو آپ وہاں کئی کئی راتیں تنہا گذار تے تھے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ آپ کیسے بہادر اور شجاع تھے۔ جب خدا تعالیٰ سے تعلق شدید ہو تو پھر شجاعت بھی آجاتی ہے اس لیے مومن کبھی بزدل نہیں ہوتا۔ اہل دنیا بزدل ہوتے ہیں ۔ ان میں حقیقی شجاعت نہیں ہوتی۔

اس بات کو سن کر خدا تعالیٰ سے جس قدر تعلقات شدید ہوتے ہیں اور ایسے لوگ تنہائی اور خلوت کو پسند کرتے ہیں بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ پھر ان نبیوں اور رسولوں کے بیوی بچے کیوں ہوتے ہیں ؟ ’’اگر اتنا ہی پسند کرتے ہیں خلوت کو تو بیوی بچے کیوں رکھتے ہیں ۔شادیاں کیوں کرتے ہیں؟ ‘‘وہ بازاروں میں چلتے پھرتے ہیں اور کھاتے پیتے ہیں ۔’’ قرآن شریف میں بھی اس کا ذکر آیا ہے۔ ‘‘مگر افسوس ہے کہ ایسا اعتراض کرنے والے نہیں سوچتے کہ ان لوگوں کی تو ایسی مثال ہے جیسے ایک شخص تو کسی کے دروازے پر بھیک مانگنے جاوے اور ایک اس کا دوست ہو اور وہ محض اس سے ملنے ہی کے لیے گیا ہو۔ اب اگر وہ دوست اپنے دوست کے سامنے پلاؤ وغیرہ لا کر رکھ دیتا ہے تو اس میں اس کا کیا قصور ہے؟’’دو شخص جا رہے ہیں ایک بھیک مانگنے گیا ہے۔ ایک دوست کے طور پر گیاہے۔ اب اگر کوئی گھر والا دوست کی خاطر مدارت کرتا ہے تو اس میں اس کا کیا قصور ہے۔ یعنی اس دوست کو جو اپنے دوست سے ملنے گیا ہے اس کا تو کوئی قصور نہیں ۔‘‘ اس دوست کو تو اس کے کھانے میں لذّت آتی ہے اور وہ گدا جو ہے’’ جو فقیر ہے مانگنے والا‘‘ اس کو خشک روٹی کا ٹکڑا دے دیا جاتا ہے۔ اگر زیادہ ٹھہرے تو پھر دھکے دے کر باہر کیا جاتا ہے۔ ’’دو سلوک ہیں۔مانگنے والے سے اَور سلوک ہے۔ دوست سے اَور سلوک ہے ‘‘حالانکہ یہ معاملہ دوست سے نہیں ہوتا ’’کہ اس کو دھکے دیے جائیں ‘‘بلکہ اس کے زیادہ قیام اور اس کے کھانے پینے سے خود اسے ایک لذّت آتی ہے‘‘ گھر والے کو اَور ایک فقیر مانگنے والے سے اَور سلوک ہوتا ہے۔ دوست سے اَور سلوک ہے۔ دوست کی آؤ بھگت کی جاتی ہے۔ خاطر مدارات کی جاتی ہے۔ فقیر کو کچھ دے کر ٹالا جاتا ہے۔

آپؑ نے فرمایا کہ’’یہی حال ان نبیوں اور ماموروں کا ہوتا ہے۔ ان کے سامنے جو کچھ آتا ہے وہ ان کی نفسانی خواہشوں کا نتیجہ نہیں ہوتا۔ وہ تو ساری لذّت اور راحت اللہ تعالیٰ ہی کے ذکر اور شغل میں پاتے ہیں اور فی الحقیقت تنہائی ہی کو پسند کرتے ہیں جہاں وہ اپنے محبوب سے اپنے دل کی آرزوئیں اور تمنائیں پیش کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اس حالت میں کوئی ان کو دیکھ نہ لے۔ علاوہ بریں یہ تعلقات ان کی تکمیل کے لیے ہوتے ہیں ‘‘۔

(ملفوظات جلد7صفحہ407-408،ایڈیشن1984ء)

یعنی ان کے جو اللہ تعالیٰ سے محبت کے رشتے ہیں ان کا ایک اعلیٰ ترین معیار حاصل کرنے کے لیے ہوتے ہیں ۔

غار حرا میں عبادت الٰہی کا ذکر

کرتے ہوئے حضرت عائشہؓ نے ایک حدیث میں بڑی تفصیل سے بیان فرمایا ہے جو آپؐ نے ان کو بیان فرمایا تھا۔ حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ پہلے پہل جو وحی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوشروع ہوئی وہ نیند میں سچے خوابوں کا دیکھنا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جو خواب بھی دیکھتے وہ صبح صادق کی طرح واقع ہو جاتی۔ بڑی سچی خوابیں آتی تھیں ۔ فوراً نتیجہ نکلتا تھا۔ اس کے بعد آپؐ کو تنہائی کی طرف رغبت ہوئی اور آپؐ غار حرا میں تنہا رہتے اور اس میں عبادت کرتے۔ یہ عبادت چند گنتی کی راتوں کی تھی جسے آپؐ پیشتر اس کے کہ آپؐ کو اپنے گھر والوں سے ملنے کی خواہش ہوتی پورا کرلیتے اور اس کے لیے آپؐ توشہ ساتھ لے لیتے ۔یعنی کچھ کھانا پینا یا سامان ساتھ لے جاتے۔ پھر کچھ مدت کے بعد حضرت خدیجہؓ کے پاس واپس آتے اور اتنی ہی راتوں کے لیے اَور زیادہ زادِ راہ لے لیتے۔ آخر آپؐ کے پاس حق آ گیا اور اس وقت آپؐ غار حرا میں تھے۔ آپؐ کے پاس فرشتہ آیا اور اس نے کہا پڑھو۔ آپؐ نے کہا مَیں تو ہرگز نہیں پڑھوں گا ۔پڑھنا نہیں جانتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے۔ حضرت عائشہؓ روایت کرتی ہیں کہ اس فرشتے نے مجھے پکڑا اور مجھے اس قدر بھینچا کہ میری طاقت اپنی انتہا کو پہنچ گئی۔ پھر اس نے مجھ کو چھوڑا اور کہنے لگا پڑھو۔ مَیں نے کہا میں نہیں پڑھوں گا۔ جانتا ہی نہیں پڑھنا۔ پھر اس نے مجھے پکڑا اور دوبارہ اس زور سے بھینچا کہ میں بیہوش ہو گیا۔ پھر اس نے مجھے چھوڑ دیا اور کہا پڑھو۔ مَیں نے کہا مَیں نہیں پڑھوں گا۔ پھر اس نے مجھے پکڑا پھر اس نے تیسری دفعہ مجھے زور سے بھینچا پھر اس نے مجھے چھوڑ دیا اور کہنے لگا۔ اِقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ۔ خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ۔ اِقْرَاْ وَرَبُّکَ الْاَکْرَمُ۔(العلق:2-4) یعنی پڑھو اپنے رب کا نام لے کر جس نے انسان کو ایک لوتھڑے سے پیدا کیا۔ پڑھو اور تمہارا ربّ بہت ہی کریمانہ صفات والا ہے۔ ان آیات کو لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غار سے واپس لوٹے۔ جب آپؐ حضرت خدیجہؓ کے پاس گھر آئے تو آپؐ کا دل دھڑک رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خدیجہؓ سے فرمایا :مجھے کپڑا اوڑھا دو ،مجھے کپڑا اوڑھا دو۔ چنانچہ انہوں نے آپؐ کو کپڑا اوڑھا دیا یہاں تک کہ آپؐ سے گھبراہٹ جاتی رہی۔ تب آپؐ نے حضرت خدیجہؓ سے سارا واقعہ بیان کیا اور فرمایا :مجھے تو اپنی جان کا اندیشہ ہو گیا ہے۔ اس پر حضرت خدیجہؓ نے کہا کہ ہرگز نہیں بخدا !اللہ آپؐ کو کبھی رسوا نہیں کرے گا۔ آپؐ صلہ رحمی کرتے ہیں۔ عاجز کا بوجھ اٹھاتے ہیں۔ وہ نیکیاں کرتے ہیں جو معدوم ہو چکی ہیں۔ مہمان نوازی کرتے ہیں اور حق کی مشکلات میں مدد دیتے ہیں۔ہمیشہ سچ کا آپؐ نے ساتھ دیا ہے باوجود مشکلات کے۔ اس کے بعد حضرت خدیجہ ؓآپؐ کو لے گئیں اور اپنے چچا زاد بھائی ورقہ بن نوفل کے پاس لائیں جو کہ اسد بن عبدالعزیٰ کے بیٹے تھے۔ ورقہ وہ شخص تھے جو زمانہ جاہلیت میں عیسائی ہوگئے تھے اور عبرانی لکھنا پڑھنا جانتے تھے۔ انجیل سے جو اللہ تعالیٰ چاہتا وہ عبرانی میں لکھا کرتے تھے۔ وہ بہت بوڑھے اور نابینا ہو چکے تھے۔ حضرت خدیجہ ؓنے ان سے کہا :اے میرے چچا کے بیٹے !اپنے بھتیجے کی بات سنو۔ ورقہ نے آپؐ سے پوچھا :اے میرے بھتیجے !تم کیا دیکھتے ہو ؟اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ دیکھا تھا ان کو بتلایا۔ ورقہ نے آپؐ سے کہا :یہ وہ شریعت لانے والا فرشتہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ؑپر اتارا تھا۔ اے کاش !مَیں اس زمانے میں جوان ہوتا۔ اے کاش !مَیں اس وقت زندہ رہوں جب تیری قوم تجھے نکالے گی۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :کیا وہ مجھے نکالیں گے؟ انہوں نے کہا ہاں ۔ جو پیغام تُو لایا ہے جب کبھی بھی کوئی شخص ایسا پیغام لے کر آیا تو ضرور ہی اس سے دشمنی کی گئی اور اگر میں نے تیرا وہ زمانہ پا لیا تو میں کمر باندھ کر تیری مدد کروں گا۔ اس کے بعد ورقہ جلد فوت ہو گئے اور وحی بھی کچھ عرصہ کے لیے معطل ہوگئی۔ رک گئی۔ اس میں وقفہ پڑ گیا۔

(صحیح بخاری مترجم(اردو) جلد 1 صفحہ 5 تا 7 کتاب بدء الوحی باب کیف کان بدء الوحی الی رسول اللہ ﷺ…الخ، حدیث 3، نظارت اشاعت ربوہ)

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام فرماتے ہیں: ’’اصل بات یہ ہے کہ بموجب تعلیم قرآنِ شریف ہمیں یہ امر یوں معلوم ہوتا ہے کہ ایک طرف تو اللہ تعالیٰ قرآنِ شریف میں اپنے کرم، رحم، لطف اور مہربانیوں کی صفات بیان کرتا ہے اور رحمان ہونا ظاہر کرتا ہے اور دوسری طرف فرماتا ہے کہ اَنْ لَّیْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰی۔(النجم:40)‘‘ اورانسان کو وہی ملتا ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے۔ ’’اور وَالَّذِیْنَ جَاھَدُوْا فِیْنَا لَنَھْدِیَنَّھُمْ سُبُلَنَا۔(العنکبوت:70)‘‘ اور وہ لوگ جو ہم سے ملنے کی کوشش کرتے ہیں، مجاہدہ کرتے ہیں، ہم ضرور ان کو اپنے راستوں کی طرف آنے کی توفیق بخشیں گے۔ آپؑ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ یہ’’فرما کر اپنے فیض کو سعی اور مجاہدہ میں منحصر فرماتا ہے۔‘‘یعنی یہ کوشش بھی کرو تبھی فیض ملے گا اور مجاہدہ کرو۔ فرمایا :’’نیز اس میں صحابہ رضی اللہ عنہم کا طرزِ عمل ہمارے واسطے ایک اسوہ حسنہ اور عمدہ نمونہ ہے۔ صحابہ کی زندگی میں غور کر کے دیکھو بھلا انہوں نے محض معمولی نمازوں سے ہی وہ مدارج حاصل کر لیے تھے۔ نہیں بلکہ انہوں نے تو خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے واسطے اپنی جانوں تک کی پروا نہیں کی اور بھیڑ بکریوں کی طرح خدا تعالیٰ کی راہ میں قربان ہو گئے۔ جب جاکر کہیں ان کو یہ رتبہ حاصل ہوا تھا۔‘‘

صحابہؓ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں محبت الٰہی کو حاصل کرنے کی کوشش کی اور اس کے لیے ہر قربانی کے لیے تیار ہو گئے اور قربانیاں دیں بھی۔ پھر ایک رتبہ بھی پایا جس سے اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہو گیا۔

آپؑ فرماتے ہیں :’’اکثر لوگ ہم نے ایسے دیکھے ہیں وہ یہی چاہتے ہیں کہ ایک پھونک مار کر ان کو وہ درجات دلا دیے جاویں اور عرش تک ان کی رسائی ہو جاوے۔‘‘ آپؑ نے فرمایا کہ ’’ہمارے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر کون ہو گا۔ وہ افضل البشر، افضل الرسل والانبیاء تھے۔ جب انہوں نے ہی پھونک سے وہ کام نہیں کیے تو اور کون ہے جو ایسا کر سکے۔ دیکھو آپ نے غارِ حرا میں کیسے کیسے ریاضات کیے۔ خدا جانے کتنی مدت تک تضرعات اور گریہ و زاری کیا کیے۔ تزکیہ کے لیے کیسی کیسی جانفشانیاں اور سخت سے سخت محنتیں کیا کیے۔ جب جا کر کہیں خدا تعالیٰ کی طرف سے فیضان نازل ہوا۔

اصل بات یہی ہے کہ انسان خدا کی راہ میں جب تک اپنے اوپر ایک موت اور حالتِ فنا وارد نہ کر لے تب تک ادھر سے کوئی پروا نہیں کی جاتی۔ البتہ جب خدا دیکھتا ہے کہ انسان نے اپنی طرف سے کمال کوشش کی ہے اور میرے پانے کے واسطے اپنے اوپر موت وارد کر لی ہے تو پھر وہ انسان پر خود ظاہر ہوتا ہے اور اس کو نوازتا اور قدرت نمائی سے بلند کرتا ہے۔‘‘

(ملفوظات جلد10صفحہ205-206،ایڈیشن1984ء)

پھر ایک جگہ آپؑ فرماتے ہیں کہ ’’انبیاء کی طبیعت اسی طرح واقع ہوتی ہے کہ وہ شہرت کی خواہش نہیں کیا کرتے۔ کسی نبی نے کبھی شہرت کی خواہش نہیں کی۔ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی خلوت اور تنہائی کو ہی پسند کرتے تھے۔آپ عبادت کرنے کے لیے لوگوں سے دور تنہائی کی غار میں جو غارِ حرا تھی چلے جاتے تھے۔ یہ غار اس قدر خوفناک تھی کہ کوئی انسان اس میں جانے کی جرأت نہ کر سکتا تھا لیکن آپ نے اس کو اس لیے پسند کیا ہوا تھا کہ وہاں کوئی ڈر کے مارے بھی نہ پہنچے گا۔ آپ بالکل تنہائی چاہتے تھے۔ شہرت کو ہرگز پسند نہیں کرتے تھے۔مگر خدا تعالیٰ کا حکم ہوا۔یٰۤاَیُّہَا الۡمُدَّثِّرُ۔قُمْ فَاَنْذِرْ۔(المدثر:3،2)‘‘کہ اے کمبل اوڑھنے والے کھڑا ہو جا اور لوگوں کو ہوشیار کر۔’’ اس حکم میں ایک جبر معلوم ہوتا ہے اور اسی لیے جبر سے حکم دیا گیا کہ آپ تنہائی کو جو آپ کو بہت پسند تھی اب چھوڑ دیں ۔‘‘

(ملفوظات جلد7صفحہ44،ایڈیشن 1984ء)

پس

جب اللہ تعالیٰ کی محبت انتہا کو پہنچ گئی اور آپؐ کامجاہدہ بھی انتہا کو پہنچ گیا تو آپ کو اللہ تعالیٰ نے اپنی آخری شریعت پھیلانے کے لیے دنیا میں بھیج دیا۔

آپؑ فرماتے ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ سے محبت و عشق تو تھا لیکن ایک مجاہدہ بھی تھا جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے پھر آپؐ کو بےشمار نوازا اور ہر انسان اپنے اپنے مرتبے کے لحاظ سے جب تک سعی نہ کرے، کوشش نہ کرے اللہ تعالیٰ تک پہنچنا مشکل ہوتا ہے۔

اللہ تعالیٰ کی محبت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نمازوں کی یہ کیفیت تھی

کہ مطرف اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا

مَیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپؐ نماز پڑھ رہے تھے۔ آپؐ کے سینے سے ہنڈیا کے ابلنے کی آواز کی طرح آواز آ رہی تھی۔

(سنن النسائی کتاب السھو باب البکاء فی الصلوٰۃ حدیث 1215)

آپؐ اتنی شدت سے رو رہے تھے اور آہ و زاری کر رہے تھے کہ یوں لگ رہاتھا جیسے ہنڈیا میں پانی ابل رہا ہے۔

اسی طرح ایک روایت حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں جو گذشتہ ایک خطبہ میں مَیں ذکر کر چکا ہوں کہ

آپؐ اتنی زیادہ عبادت کرتے تھے اور عبادت کے وقت میں کھڑے ہوتے کہ آپؐ کے پاؤں متورّم ہو جاتے۔ سوج جاتے۔

(صحیح البخاری کتاب التفسیر (تفسیر سورۃ الفتح) باب قولہ لیغفر لک اللّٰہ ما تقدم من ذنبک وما تاخر…حدیث نمبر4837)

حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور عبادتوں کا ذکر کرتے ہوئے ایک جگہ فرماتے ہیں ۔

یہ تھوڑا سا حصہ میں گذشتہ سے پہلے ایک خطبہ میں پہلے بھی بیان کر چکا ہوں جہاں مَیں نے سیرت کو بیان کیا تھا لیکن اس کی کچھ مزید تفصیل بھی ہے وہ بھی بیان کرتا ہوں ۔ اس سے آپؐ کے اللہ تعالیٰ سے عشق و محبت کی مزید وضاحت ہو جاتی ہے۔ حضر ت مصلح موعود ؓلکھتے ہیں کہ حضرت عائشہ ؓفرماتی ہیں کہ جب آپؐ مرض الموت میں مبتلا ہوئے تو ضعف کی وجہ سے نماز پڑھانے پر قادر نہ تھے۔ اس لیے آپؐ نے حضرت ابوبکر ؓکونماز پڑھانے کا حکم دیا۔ جب حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نماز پڑھانی شروع کی تو آپؐ نے کچھ آرام محسوس کیا اور نماز کے لیے نکلے۔ حضرت عائشہ ؓفرماتی ہیں کہ حضرت ابوبکر ؓکو نماز پڑھانے کا حکم دینے کے بعد جب آپؐ نے مرض میں خفّت محسوس کی تو آپؐ آدمیوں کے سہارے نماز پڑھنے کے لیے نکلے۔ آپؓ فرماتی ہیں کہ اس وقت میری آنکھوں کے سامنے وہ نظّارہ ہے کہ شدّت درد کی وجہ سے آپؐ کے قدم زمین سے چھوتے جاتے تھے۔ جب آپؐ مسجد پہنچے اور حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارادہ کیا کہ پیچھے ہٹ جائیں تو رسولِ کریمﷺنے ان کے ارادے کو بھانپ لیا اور اشارہ فرمایا کہ اپنی جگہ پر رہو۔ پھر آپؐ کو وہاں لایا گیا اور آپ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس بیٹھ گئے۔ اس کے بعد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھنی شروع کی اور حضرت ابوبکرؓ نے آپؐ کی نماز کے ساتھ ساتھ نماز پڑھنی شروع کی اور باقی لوگ حضرت ابوبکر ؓکی نماز کی اتباع کرنے لگے۔

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپؐ کو کیسی ہی خطرناک بیماری ہو آپؐ خدا تعالیٰ کی یاد کو نہ بھلاتے۔ عام طور پر لوگوں کو دیکھا گیا ہے ذرا تکلیف ہوئی اور سب عبادتیں بھول گئیں ۔ نماز باجماعت اور دوسری شرائط کی ادائیگی میں تو اکثر کوتاہی ہو جاتی ہے لیکن آپؐ کا یہ حال تھا کہ معمولی بیماری تو الگ رہی اس مرض میں جس میں آپؐ فوت ہو گئے اور جس کی شدّت کا یہ حال تھا کہ آپؐ کو بار بار غش آ جاتے تھے اور اٹھنے سے قاصر تھے لیکن جب نماز شروع ہو گئی تو آپؐ برداشت نہ کر سکے کہ خاموش گھر میں بیٹھے رہیں ۔ اسی وقت دو آدمیوں کے کندھے پر سہارا لے کر باوجود اس کمزوری کے کہ قدم لڑکھڑاتے جاتے تھے نماز باجماعت کے لیے مسجد میں تشریف لے آئے۔ بےشک ظاہراً یہ بات معمولی معلوم ہوتی ہے لیکن ذرا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حالت کو دیکھو جس میں آپؐ مبتلا تھے ۔پھر اس ذکر الٰہی کے شوق کو دیکھو کہ جس کے ماتحت آپؐ نماز کے لیے دو آدمیوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر تشریف لائے تو معلوم ہو گا کہ

یہ واقعہ کوئی معمولی واقعہ نہ تھا بلکہ آپؐ کے دل میں ذکر الٰہی کا جو شوق تھا اس کے اظہار کا ایک آئینہ ہے۔ ہر ایک صاحبِ بصیرت سمجھ سکتا ہے کہ ذکرِ الٰہی آپؐ کی غذا تھی اور اس کے بغیر آپؐ اپنی زندگی میں کوئی لطف نہ پاتے تھے۔ اسی کی طرف آپؐ نے اشارہ فرمایا ہے کہ جن چیزوں سے مجھے محبت ہے ان میں سے ایک قُرَّةُ عَیْنِیْ فِی الصَّلٰوةِ۔ یعنی نماز میں میری آنکھیں ٹھنڈی ہو جاتی ہیں ۔

شریعت کے لحاظ سے آپؐ کا باجماعت نماز پڑھنا یا مسجد میں آنا کوئی ضروری امر نہ تھا کیونکہ بیماری میں شریعتِ اسلام کسی کو ان شرائط کے پورا کرنے پر مجبور نہیں کرتی۔ بیماری ہو تو گھر میں نماز پڑھ سکتے ہیں لیکن یہ عشق کی شریعت تھی۔ ایک وہ شریعت کا حکم تھا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت پر جو عمل تھا وہ عشق کی شریعت تھی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اظہار تھا۔ وہ تو شریعت کے احکام تھے لیکن یہ عشق کی شریعت تھی یہ عشق کی باتیں تھیں۔ یہ محبت کے احکام تھے جو اس سے بڑھ کر تھے۔ اس میں عشق اور محبت ٹپک رہی تھی۔

بےشک شریعت آپؐ کو اجازت دیتی تھی کہ آپؐ گھر میں ہی نماز ادا فرماتے لیکن آپؐ کو ذکر الٰہی سے جو محبت تھی وہ مجبور کرتی تھی کہ خواہ کچھ بھی ہو آپؐ ہر ایک تکلیف برداشت کر کے تمام شرائط کے ساتھ ذکر الٰہی کریں اور اپنے پیارے کو یاد کریں ۔

جب اس تکلیف کی حالت میں آپ کو ذکر الٰہی سے یہ وابستگی تھی تو صحت کی حالت میں قیاس کیا جا سکتا ہے۔ آدمی سوچ سکتا ہے کہ آپؐ کس جوش کے ساتھ اپنے پیارے کے ذکر میں مشغول رہتے ہوں گے۔

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ سے ایسا تعلق تھا کہ خدا تعالیٰ کا ذکر آتے ہی آپؐ کے اندر ایک جوش پیدا ہو جاتا تھا۔ آپؐ کو خدا تعالیٰ سے ایسی محبت تھی کہ تندرستی اور بیماری میں خدا تعالیٰ کا ذکر ہی آپؐ کی غذا تھا اور یہی بات آپؐ اپنی امت اور اپنے لوگوں میں پیدا کرنا چاہتے تھے کہ ان کو بھی اس چیز کی عادت پڑے۔

جیسا کہ پہلے خطبہ میں مَیں نے آپؐ کی سیرت کو بیان کیا تھا۔ جو مختصر حدیث بیان کی تھی اس میں کچھ تفصیلیں ایسی ہیں جو بعض دوبارہ بیان کرنے والی ہیں ۔ اس لیے بیان کرتا ہوں ۔

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ بنی عمرو بن عوف میں گئے تاکہ ان میں صلح کروائیں ۔ ان میں کوئی لڑائی جھگڑے کا معاملہ تھا آپؐ صلح کروانے گئے۔ وہاں ان کا کوئی جھگڑا تھا۔ اس دوران نماز کا وقت آگیا اور مسجد نبوی میں مؤذن نے اذان دی اور پھر حضرت ابوبکرؓ کے پاس آیا اور کہا کہ کیا آپؓ لوگوں کو نماز پڑھائیں گے مَیں اقامت کہہ دوں ۔ آپؓ نے جواب دیا کہ ہاں ۔ پھر حضرت ابوبکر ؓنماز کے لیے کھڑے ہوئے۔ اتنے میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف لے آئے۔ لوگ نماز پڑھ رہے تھے۔ آپؐ اس دوران ایک رستے سے گزر کےآگے چلے گئے اور پہلی صف میں جا کر کھڑے ہو گئے۔ جب آپؐ کی آمد کی اطلاع ہوئی تو لوگ تالیاں پیٹنے لگے تا کہ حضرت ابوبکر ؓکومعلوم ہو جائے لیکن حضرت ابوبکر ؓنماز میں کسی دوسری طرف توجہ نہ فرماتے تھے۔ ایک عجیب شغف تھا نماز کی طرف۔ عبادت میں اَور توجہ نہیں ہوتی تھی۔ جب تالیاں پیٹنا طول پکڑ گیا تو پھر حضرت ابوبکر ؓمتوجہ ہوئے اور معلوم کیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ہیں ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپؓ کی طرف اشارہ فرمایا کہ اپنی جگہ ٹھہرے رہو۔ اس پر حضرت ابوبکرؓ نے اپنے ہاتھ اٹھائے اور اس عزّت افزائی پر خدا تعالیٰ کا شکر اور حمد ادا کی ۔پھر آپؓ پیچھے ہٹ گئے اور صف میں مل گئے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے اور نماز پڑھائی۔ سلام پھیرنے کے بعد فرمایا کہ اے ابوبکر !جب مَیں نے حکم دیا تھا پھر تمہیں کون سی چیز مانع تھی نماز پڑھانے میں ؟اس پر حضرت ابوبکرؓ نے جواب دیا کہ جیسا کہ پہلے بھی میں بیان کر چکا ہوں کہ

ابن ابی قحافہ کی کیا حیثیت تھی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے کھڑا ہو کر نماز پڑھاتا۔

پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ مَیں نے دیکھا ہے کہ تم لوگوں نے اس قدر تالیاں پیٹی ہیں ۔ نماز میں اگر کوئی حادثہ پیش آئے تو چاہیے کہ سبحان اللہ کہے کیونکہ جب وہ سبحان اللہ کہے گا تو خود ہی اس کی طرف توجہ ہو گی اور تالیاں پیٹنا تو عورتوں کا کام ہے۔

حضر ت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ لکھتے ہیں کہ اس حدیث سے اگرچہ اَور بہت سے سبق ملتے ہیں لیکن اس جگہ مجھے صرف ایک امر کی طرف متوجہ کرنا ہے اور وہ یہ ہے کہ

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام عمر کوشش یہی تھی کہ جس جس طرح سے ہو سکے لوگوں کی زبان پر خدا کا نام جاری کیا جائے۔

خود تو جس طرح آپؐ ذکر میں مشغول رہتے اس کاحال تو بیان ہو چکا ہے مگر اس حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپؐ ہر ایک کی زبان پر یہی الفاظ دیکھنا چاہتے تھے۔

اب ہمیں دیکھنا چاہیے ،ہم اپنا جائزہ لیں کہ کیا ہمیں بھی اللہ تعالیٰ کا خیال دل میں ہر وقت رہتا ہے جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت سے چاہتے تھے؟ کیا ہمارے دل میں اتنا درد ہے یا ہم صرف اپنے دنیاوی مقاصد کے لیے ہی نمازوں کی طرف اور اللہ تعالیٰ کے ذکر کی طر ف توجہ کرتے ہیں اور عام حالات میں بھول جاتے ہیں ؟

پھر آپؓ لکھتے ہیں کہ بہت سے واقعات ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ آپؐ چاہتے تھے کہ خدا تعالیٰ کا ذکر زیادہ کیا جائے۔چنانچہ چھینک پر، کھانا شروع کرتے وقت، پھر ختم ہونے کے بعد، سوتے وقت، جاگتے وقت، نمازوں کے بعد، کوئی بڑا کام کرتے وقت، وضو کرتے وقت غرضیکہ

اکثر اعمال میں آپؐ نے خدا تعالیٰ کے ذکر کی طرف لوگوں کو متوجہ کیا ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ آپؐ نہ صرف خود ہی ذکر الٰہی میں مشغول رہتے تھے بلکہ دوسروں سے بھی چاہتے تھے کہ وہ بھی یاد الٰہی میں مشغول رہیں جو کہ آپؐ کے کمال محبت پر دالّ ہے۔ اس پر دلیل ہے۔

حضرت مصلح موعود ؓنے لکھا ہے کہ میں نے بہت سے آدمیوں کو دیکھا ہے کہ ذرا عبادت کی اور مغرور ہو گئے۔ چند دن کی نمازوں یا عبادتوں کے بعد وہ اپنے آپ کو فرعون بے سامان یا فخر اولیاء سمجھنے لگتے ہیں اور دنیا و مافیہا ان کی نظروں میں حقیر ہو جاتی ہے۔ بڑے سے بڑے آدمی کی حقیقت کچھ نہیں جانتے بلکہ انسان کا تو کیا کہنا، خداتعالیٰ پر بھی اپنا احسان جتاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ جو عبادت ہم نے کی ہے گویا خدا تعالیٰ پر احسان کیا ہے اور وہ ہمارا ممنون ہے نعوذ باللہ کہ ہم نے اس کی عبادت کی ہے ورنہ عبادت نہ کرتے تو وہ کیا کر لیتا۔ جو لوگ اس طرز کے نہیں ہوتے، جو اس حد تک نہیں بھی پہنچتے ان میں سے بھی اکثر ایسے دیکھے گئے ہیں جو اس حد تک نہیں پہنچتے کہ ایسی بات کریں کہ خدا ہمارے لیے کیا کر رہا ہے لیکن جو ایسے نہیں بھی ہوتے ان میں بھی اکثر دیکھا گیا ہے کہ عبادت کر کے کچھ تکبر ضرور آجاتا ہے اور بہت کم ہیں جو عباد ت کے بعد بھی اپنی عاجزانہ حالت پر قائم رہیں۔ یہی نیکوں کا گروہ ہے جو عاجزانہ طور پر قائم رہتے ہیں اپنی عبادت پر۔ یہی نیکوں کا گروہ ہے جو عاجزی سے رہتے ہیں ،ہمیشہ عبادت کر کے بھی چھپاتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کی محبت کو بھی چھپاتے ہیں اور اسے بھی اللہ کا احسان سمجھتے ہیں کہ اس نے ہمیں توفیق دی کہ ہم عبادت کرنے والے ہوں ۔ یہی اصل میں نیک لوگوں کا گروہ ہے۔

لوگ پوچھتے ہیں کہ نیکیاں کیا ہیں ؟ آجکل کے بچے بھی اور نوجوان بھی اکثر سوال کرتے ہیں کہ کس طرح پتہ لگے کہ اللہ تعالیٰ راضی ہوتا ہے؟ اللہ تعالیٰ اسی طرح راضی ہوتا ہے کہ نیکیاں کرو اور صرف خدا تعالیٰ کی رضا کے لیے کرو۔ انسان اپنا جائزہ خود لے سکتا ہے۔ کسی باہر کے آدمی کو جج بنانے کی ضرورت نہیں۔ انسان خود سمجھ سکتا ہے کہ جو نیکیاں وہ کر رہا ہے اگر وہ خدا تعالیٰ کے لیے کر رہا ہے پھر اللہ تعالیٰ کو یقینا ًپسند ہیں ۔

آپؓ نے لکھا ہے کہ پھر سمجھ سکتے ہو کہ نیکوں کے سرداراور نبیوں کے سربرآوردہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا حال ہو گا۔ آپ تو کُل خوبیوں کے جامع اور کُل نیکیوں کے سرچشمہ تھے۔ عبادت کسی تکبر یا بڑائی کے لیے کرنا تو الگ رہا جس قدر خدا تعالیٰ کی بندگی بجا لاتے اتنی ہی اس کی آتش شوق تیزتر ہوتی۔ آپؐ بجائے عبادت پر خدا تعالیٰ کو اپنا ممنون احسان بنانے کے خود شرمندہ احسان ہوتے تھے کہ الٰہی !اس قدر توفیق جو عبادت کی ملتی ہے تو تیرے ہی فضل سے ملتی ہے۔ آپؐ کی عبادت ایک تسلسل کا رنگ رکھتی تھی ۔کچھ حصہ وقت جب عبادت میں گزارتے تو خیال کرتے کہ اللہ تعالیٰ کا بڑا احسان ہے کہ اس نے اس کام کی توفیق بخشی اور اس احسان کا شکر بجا لانا ضروری ہے۔ اسی جذبہ ادائیگی کے شکر سے بے اختیار ہو کر کچھ اَور عبادت کرتے اور پھر اسےبھی خدا تعالیٰ کا ایک احسان سمجھتے کہ شکر بجا لانا بھی ہر ایک کا کام نہیں جب تک خدا تعالیٰ کا احسان نہ ہو۔ یعنی شکر کی توفیق جو ملی ہے یہ بھی اللہ تعالیٰ کے احسان کی وجہ سے ملی ہے۔ پھر اور بھی زیادہ شوق کی جلوہ نمائی ہوتی ہے ۔پھر آپؐ اپنے ربّ کی عبادت میں مشغول ہو جاتے ہیں اور یہ راز و نیاز کا سلسلہ ایسا وسیع ہوتا کہ بارہا عبادت کرتے کرتے آپ کے پاؤں سوج جاتے۔ صحابہ ؓعرض کرتے یا رسول اللہؐ! اس قدر عبادت کی آپؐ کو کیا حاجت ہے آپؐ کے تو گناہ معاف ہو چکے؟ اس کا جواب آپؐ یہی دیتے کہ پھر کیا میں شکر نہ کروں ۔ حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓفرماتے ہیں کہ

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہوا کرتے تھے تو اتنی دیر تک کھڑے رہتے۔ پہلے یہ حدیث بیان ہو چکی ہے کہ آپؐ کے قدم یا پنڈلیاں سوج جاتیں۔ لوگ جب آپؐ کو کہتے کہ آپؐ ایسا کیوں کرتے ہیں تو آپؐ جواب دیتے کہ کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں ۔اللہ اللہ !کیا عشق ہے ،کیا محبت ہے ،کیا پیار ہے۔ خدا تعالیٰ کی یاد میں کھڑے ہوتے ہیں اور اپنے تن بدن کا ہوش نہیں رہتا۔

خون کا دوران نیچے کی طرف شروع ہو جاتا ہے اور آپؐ کے پاؤں متورّم ہو جاتے ہیں لیکن محبت اس طرف خیال ہی نہیں جانے دیتی۔ آس پاس کے لوگ دیکھ کر حیران ہو جاتے ہیں کہ یہ کیا کرتے ہیں۔ اردگرد کے لوگ آپؐ کے درد سے تکلیف محسوس کر رہے ہوتے ہیں۔ آپؐ کو اس طرف متوجہ کرتے ہیں کہ آپؐ یہ کیا کرتے ہیں کیوں اپنے آپ کو اس تکلیف میں ڈالتے ہیں اور اس قدر دکھ اٹھاتے ہیں آخر کچھ تو اپنی صحت اور اپنے آرام کا بھی خیال کرنا چاہیے مگر وہ دکھ جو لوگوں کو بے چین کر دیتا ہے اور جس سے دیکھنے والے متاثر ہو جاتے ہیں آپؐ پر کچھ اثر نہیں کرتا۔ عبادات میں کچھ سستی کرنے اور آئندہ اس قدر لمبا عرصہ اپنے ربّ کی یاد میں کھڑا رہنا ترک کرنے کی بجائے آپؐ ان کی اس بات کو ناپسند کرتے ہیں اور انہیں جواب دیتے ہیں کہ کیا میں خدا کا شکر گزار بندہ نہ بنوں ۔ وہ مجھ پر اس قدر احسان کرتا ہے ،اس قدر فضل کرتا ہے ،اس شفقت کے ساتھ مجھ سے پیش آتا ہے تو پھر کیا اس کے اس حسن سلوک کے بدلے میں اس کے نام کا ورد نہ کروں ،اس کی بندگی میں کوتاہی شروع کر دوں ۔

کیا اخلاص سے بھرا اور کیسی شکرگزاری ظاہر کرنے والا یہ جواب ہے اور کس طرح آپؐ کے قلب مطہر کے جذبات کو کھول کر پیش کر دیتا ہے۔ خدا کی یاد اور اس کے ذکر کی یہ تڑپ اَور کسی کے دل میں ہے ؟کیا کوئی اَور اس کا نمونہ پیش کر سکتا ہے؟ کیا کسی اَور قوم کا بزرگ آپؐ کے اس اخلاص کا مقابلہ کر سکتا ہے؟ لیکن دیکھیں جہاں آپؐ یہ خود کرتے تھے وہاں اپنی امت سے بھی توقع رکھتے تھے کہ وہ بھی ایسا ہی کرے۔

پھر حضرت مصلح موعودؓ نے اس تسلسل میں فرمایا کہ آپؐ کس طرح اپنے کاموں میں مشغول رہتے تھے۔ یہ نہیں کہ صرف عبادت کر لی اور باقی کام ختم ہو گئے۔ اور یہی نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت عبادت کے لیے اٹھ کر کھڑے ہو جاتے اور دن بھر سوئے رہتے تھے کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو پھر اس شوق اور تڑپ کا پتہ نہ لگتا جو اس صورت میں ہے کہ دن بھر بھی آپؐ خدا تعالیٰ کے نام کی اشاعت اور اس کی اطاعت و فرمانبرداری کو رواج دینے کی کوشش میں لگے رہتے۔ خود پانچ وقت میں امام ہو کر نماز پڑھاتے تھے۔ دور دور کے جو وفود اور سفراء آتے تھے ان کے ساتھ خود ہی ملاقات کرتے اور ان کے مطالبات کا جواب دیتے۔ جنگوں کی کمان بھی خود ہی کرتے۔ صحابہ ؓکو قرآن شریف کی تعلیم بھی دیتے ۔جج بھی خود تھے۔ تمام دن جس قدر جھگڑے لوگوں میں ہوتے ان کا فیصلہ کرتے۔ اموال کا انتظام، بیت المال کا انتظام، ملک کا انتظام، دینِ اسلام کا اجراء، بیویوں کے حقوق کا ایفاء، پھر گھر کے کام کاج میں شریک ہونا یہ سب کام آپؐ دن کے وقت کرتے اور ان کے بجا لانے کے بعد بجائے اس کے کہ چُور ہو کر بستر پر جا پڑیں اور سورج کے نکلنے تک اس سے سر نہ اٹھائیں بار بار اٹھ کر بیٹھ جاتے اور اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتے، تحمید کرتے اور نصف رات کے گزرنے پر اٹھ کر وضو کرتے اور تن تنہا جب چاروں طرف خاموشی اور سناٹا چھایا ہوا ہوتا اپنے ربّ کے حضور میں نہایت عجز و نیاز سے کھڑے ہو جاتے اور تلاوت قرآن شریف کرتے اور اتنی اتنی دیر تک کھڑے رہتے کہ آپؐ کے پاؤں متورم ہو جاتے حتٰی کہ عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ میں بھی آپؐ کے ساتھ نماز پڑھنے کھڑا ہو گیا تو اس قدر تکلیف ہوئی کہ قریب تھا کہ میں نماز توڑ کر بھاگ جاتا کیونکہ میرے قدم اب زیادہ بوجھ برداشت نہیں کر سکتے تھے اور میری طاقت سے باہر تھا کہ زیادہ دیر کھڑا رہ سکوں ۔ یہ بیان اس شخص کا ہے جو نوجوان اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عمر میں کہیں کم تھا جس سے سمجھ میں آ سکتا ہے کہ آپؐ کی ہمت اور جذبہ محبت ایسا تیز تھا کہ باوجود پیری کے یعنی بڑھاپے کے اور دن بھر کام میں مشغول رہنے کے آپؐ عبادت میں اتنی اتنی دیر کھڑے رہتے کہ جوان اور پھر مضبوط جوان بھی جن کے کام آپؐ کے کاموں کے مقابلے میں پاسنگ بھی نہ تھے آپؐ کے ساتھ کھڑے نہ رہ سکےاور تھک کر رہ جاتے۔ یہ عبادت کیوں تھی کس وجہ سے تھی؟ آپؐ یہ مشقّت برداشت کرتے تھے۔ کس وجہ سے آپؐ یہ مشقّت برداشت کرتے تھے صرف اس لیے کہ آپؐ ایک شکر گزار بندے تھے اور آپ کا دل خدا تعالیٰ کے احسانات کو دیکھ کر ہر وقت اس کا ذکر کرنے کی طرف مائل رہتا تھا۔ (ماخوذ ازسیرۃ النبیﷺ از حضرت مصلح موعودؓجلد 1 صفحہ 131تا140) اللہ تعالیٰ سے ایک محبت تھی آپ کو۔

ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن کی روایت ہے۔ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز رمضان میں کیسی ہوتی تھی؟ اب بھی ایک مہینے تک رمضان آ رہا ہے۔ رمضان میں تو ہم عبادتیں کرتے ہی ہیں ہمیں پہلے بھی کرنی چاہئیں ۔ بہرحال حضرت عائشہؓ نے فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہ رمضان میں اور نہ اس کے سوا اَور کسی مہینہ میں گیارہ رکعتوں سے زیادہ بڑھاتے تھے۔ نماز کیسی ہوتی تھی؟ آپؓ نے فرمایا :آپؐ جو نفل ادا کرتے تھے وہ گیارہ رکعتوں سے زیادہ نہیں ہوتے تھے۔ چار رکعتیں پڑھتے اور تم ان کی خوبصورتی اور لمبائی کے بارے میں نہ پوچھو۔ کتنی خوبصورت اور لمبی نمازیں ہوتی تھیں ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم چار رکعتیں نماز پڑھتے اور تم ان کی خوبصورتی اور لمبائی کے بارے میں نہ پوچھو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تین رکعتیں نماز پڑھتے۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہؐ!آپؐ وتر پڑھنے سے پہلے سو جاتے ہیں یعنی چار رکعتیں پڑھ کے پھر تھوڑا سا آرام کرتے ہیں پھر وتر پڑھتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری آنکھیں سوتی ہیں لیکن میرا دل نہیں سوتا۔ (صحیح البخاری کتاب المناقب باب کان النبی ﷺ تنام عینہ ولا ینام قلبہ، حدیث نمبر3569) وہ تو اللہ تعالیٰ کی محبت میں جاگ رہا ہوتا ہے۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت بیان کرتے ہوئے ایک مقام پرآپؐ کے الٰہی قرب کی نسبت فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ’’ایک اَور مقام میں اس کے الٰہی قرب کی نسبت یوں فرمایا قُلْ اِنَّ صَلَاتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔(الانعام:163)‘‘تُو ان سے کہہ دے کہ میری نماز اور میری قربانی اور میری زندگی اور میری موت اللہ ہی کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے۔’’ یعنی لوگوں کو اطلاع دے دے کہ میری یہ حالت ہے کہ میں اپنے وجود سے بالکل کھویا گیا ہوں ۔ میری تمام عبادتیں خدا کے لیے ہو گئی ہیں۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ہریک انسان جب تک وہ کامل نہیں خدا کے لئے خالص طور پر عبادت نہیں کر سکتا بلکہ کچھ عبادت اس کی خدا کے لئے ہوتی ہے اور کچھ اپنے نفس کے لئے کیونکہ وہ اپنے نفس کی عظمت اور بزرگی چاہتاہے جیسا کہ خدا کی عظمت اور بزرگی کرنی چاہیے اور یہی عبادت کی حقیقت ہے اور ایسا ہی ایک حصہ اس کی عبادت کا مخلوق کے لئے ہوتا ہے کیونکہ جس عظمت اور بزرگی اور قدرت اور تصرف کو خدا سے مخصوص کرنا چاہیے اس عظمت اور قدرت کا حصہ مخلوق کو بھی دیتا ہے۔اس لئے جیسا کہ وہ خدا کی پرستش کرتا ہے نفس اور مخلوق کی بھی پرستش کرتا ہے بلکہ عام طور پر جمیع اسباب سفلیہ کو اپنی پرستش سے حصہ دیتا ہے۔‘‘دنیا کے جو گھٹیا اسباب ہیں ان کو بھی حصہ دیتا ہے’’کیونکہ خدا کے ارادہ اور تقدیر کے مقابل پر ان اسباب کو بھی کارخانہ محواور اثبات میں دخیل سمجھتا ہے۔ پس ایسا انسان خداتعالیٰ کا سچا پرستار نہیں ٹھہر سکتا جو کبھی خدا کی عظمت کا اپنے نفس کو شریک ٹھہراتا ہے اور کبھی مخلوق اور کبھی اسباب کو بلکہ سچا پرستار وہ ہے جو خدا کی تمام عظمتیں اور تمام بزرگیاں اور تمام تصرف خدا کوہی دیتا ہے نہ کسی اَور کو۔ اورجب اس مرتبہ توحید پر انسان کی پرستش پہنچ جائے تب اس وقت وہ حقیقی طور پر خدا کا پرستار کہلا سکتا ہے اور ایسا انسان جیسا کہ زبان سے کہتا ہے کہ خدا واحد لاشریک ہے’’ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ پڑھتا ہے اور‘‘ ایسا ہی وہ اپنے فعل سے یعنی اپنی عبادت سے بھی خدا کی توحید پر گواہی دیتا ہے۔ پس اسی مرتبہ کاملہ کی طرف اشارہ ہے جو آیت مذکورہ بالا میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو فرمایا گیا کہ تُو لوگوں کو کہہ دے کہ میری تمام عبادتیں خدا کے لئے ہیں یعنی نفس کو اور مخلوق کو اور اسباب کو میری عبادت میں سے کوئی حصہ نہیں ۔اور پھر بعد اس کے فرمایا کہ میری قربانی بھی خاص خدا کے لئے ہے اور میرا جینا بھی خدا کے لئے اور میرا مرنا بھی خدا کے لئے۔ یاد رہے کہ نَسِیْکَہ لغت عرب میں قربانی کو کہتے ہیں اور لفظ نُسُک جو آیت میں موجود ہے اس کی جمع ہے اور نیز دوسرے معنی اس کے عبادت کے بھی ہیں ۔ پس اس جگہ ایسا لفظ استعمال کیا گیا جس کے معنے عبادت اور قربانی دونوں پر اطلاق پاتے ہیں ۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ کامل عبادت جس میں نفس اور مخلوق اور اسباب شریک نہیں ہیں درحقیقت ایک قربانی ہے اور کامل قربانی درحقیقت کامل عبادت ہے اور پھر بعد اس کے جو فرمایا کہ میرا جینا بھی خدا کے لئے ہے اور میرا مرنا بھی خدا کے لئے۔ یہ آخری فقرہ قربانی کے لفظ کی تشریح ہے تا کوئی اس وہم میں نہ پڑے کہ قربانی سے مراد بکرے کی قربانی یا گائے کی قربانی یا اونٹ کی قربانی ہے اور تا اس لفظ سے کہ میرا جینا اور میرا مرنا خاص خدا کے لئے ہے صاف طور پر سمجھا جائے کہ اس قربانی سے مراد روح کی قربانی ہے اور قربانی کا لفظ قرب سے لیا گیا ہے اور یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ خدا کا قرب تب حاصل ہوتا ہے کہ جب تمام نفسانی قویٰ اور نفسانی جنبشوں پر موت آ جائے۔ غرض

یہ آیت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قرب تام پر ایک بڑی دلیل ہے۔‘‘ آپؐ کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایک انتہا کا کامل طور پر قرب ہے’’ اور یہ آیت بتلا رہی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس قدر خدا میں گم اور محو ہو گئے تھے کہ آپ کی زندگی کے تمام انفاس اور آپ کی موت محض خدا کے لئے ہو گئی تھی اور آپ کے وجود میں نفس اور مخلوق اور اسباب کا کچھ حصہ باقی نہیں رہا تھا اور آپ کی روح خدا کے آستانہ پر ایسے اخلاص سے گری تھی کہ اس میں غیر کی ایک ذرّہ آمیزش نہیں رہی تھی۔‘‘

(عصمتِ انبیاء علیہم السلام۔ روحانی خزائن جلد18 صفحہ664-666)

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام ایک اَور جگہ فرماتے ہیں:

’’خدا تعالیٰ نے اگر چہ بعض اشیاء جائز تو کر دی ہیں مگر اس سے یہ مطلب نہیں ہے کہ عمر ہی اس میں بسر کی جاوے۔ خدا تعالیٰ تو اپنے بندوں کی صفت میں فرماتا ہے۔ یَبِیْتُوْنَ لِرَبِّھِمْ سُجَّدًاوَّقِیَامًا۔(الفرقان:65)‘‘ اور وہ لوگ جو اپنے ربّ کے لیے راتیں سجدوں میں اور کھڑے ہو کر گزار دیتے ہیں ’’کہ وہ اپنے ربّ کے لیے تمام رات سجدہ اور قیام میں گذارتے ہیں ۔ اب دیکھو رات دن بیویوں میں غرق رہنے والا خدا تعالیٰ کے منشاء کے موافق رات کیسے عبادت میں کاٹ سکتا ہے۔ وہ بیویاں کیا کرتا ہے گویا خدا کے لیے شریک پیدا کرتا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نو بیویاں تھیں اور باوجود ان کے’’ پھر بھی ‘‘آپؐ ساری ساری رات خدا تعالیٰ کی عبادت میں گذارتے تھے۔ ایک رات آپؐ کی باری عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھی۔ کچھ حصہ رات کا گذرگیا تو عائشہ کی آنکھ کھلی۔ دیکھاکہ آپ موجود نہیں ۔ اسے شبہ ہوا کہ شاید آپ کسی اور بیوی کے ہاں ہوں گے۔اس نے اٹھ کر ہر ایک گھر میں تلاش کیا مگر آپ نہ ملے۔ آخر دیکھاکہ آپ قبرستان میں ہیں اور سجدہ میں رو رہے ہیں ۔ اب دیکھو کہ آپ زندہ اور چاہتی بیوی کو چھوڑ کر مردوں کی جگہ قبرستان میں گئے اور روتے رہے تو کیا آپ کی بیویاں حظ نفس یا اتباعِ شہوت کی بناء پر ہوسکتی ہیں ؟‘‘اعتراض کرتے ہیں جو آپ پر اعتراض کرنے والے۔ ’’غرضکہ خوب یاد رکھو کہ خدا تعالیٰ کا اصل منشاء یہ ہے کہ تم پر شہوات غالب نہ آویں اور تقویٰ کی تکمیل کے لیے اگر ضرورت حقہ پیش آوے تو اور بیوی کر لو۔ ‘‘

(ملفوظات جلد7 صفحہ66،ایڈیشن 1984ء)

یہ عام نصیحت بھی آپؑ نے جماعت کے افراد کو فرمائی کہ تقویٰ کے پیش نظر اگر بیویاں کرنی ہیں تو کرو لیکن یہ نہیں ہے کہ ذاتی خواہشات اور شہوات کی خاطر شادیاں کی جائیں یا زیادہ بیویاں کی جائیں۔ آجکل اس کی شکایتیں بھی آتی ہیں۔ اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا۔ ضرورت جائز ہونی چاہیے۔ اس لیے اسلام پر یہ اعتراض ہوتا ہے۔ اسلام میں جو ناجائز طور پر شادیاں کرتے ہیں تو انہی کی وجہ سے وہ اعتراض ہوتا ہے کہ اسلام میں شادیوں کی اجازت ہے لیکن مسلمانوں کو بھی اور اعتراض کرنے والوں کو بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اس کے لیے بھی کچھ شرائط ہیں اور ان کو پورا کرنا ضروری ہے۔

ایک روایت میں آتا ہے۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پہلے بھی یہ حدیث خطبہ میں بیان کر چکا ہوں کہ

دنیاوی چیزوں میں سے مجھے بیوی اور خوشبو پسند ہے لیکن سب سے زیادہ جو چیز مجھے پسند ہے اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے وہ نماز ہے۔

(سنن النسائی، کتاب عشرة النساء، باب حب النساءحدیث نمبر3391)

کیونکہ اس کی ایک تفصیلی وضاحت حضرت مصلح موعود کی طرف سے ملی ہے اس لیے مَیں نے یہ دوبارہ رکھا ہے۔ آپؓ نے اس کی وضاحت کی ہے کہ

’’قُرَّةُ عَیْنِیْ فِی الصَّلٰوةِ کہ نماز میں میری آنکھوں کی ٹھنڈک رکھی گئی ہے یہ بھی خاص امتیاز ہے جو اسلام کو دیگر مذاہب کے مقابلہ میں حاصل ہے۔

دنیا میں کوئی قوم نہیں جس میں نماز کی طرح عبادت میں باقاعدگی رکھی گئی ہو۔ پچھلے تمام مذاہب ظاہری حرکات پر زور دیتے رہے یا ان میں عبادت کے اوقات اتنے فاصلہ پر رکھے گئے ہیں کہ روحانیت کمزور ہو جاتی ہے مگر صرف اسلام ہی ایک ایسا مذہب ہے کہ جس کے ماننے والوں کو ایک دن میں پانچ وقت عبادت کے لیے بلایا جاتا ہے اور کوئی مذہب ایسا نہیں ہے۔‘‘ اب یہ لوگوں کو سوچنا چاہیے کہ پانچ وقت نمازیں فرض کی گئی ہیں تو ان کا ادا کرنا بھی ضروری ہے تا کہ روحانیت بھی قائم رہے۔ صرف دنیاداری میں نہ پڑے رہیں ۔ آپؓ نے لکھا کہ’’عیسائی اور ہندو ہفتہ میں ایک بار عبادت کے لیے جاتے ہیں ممکن ہے ان میں سے بعض لوگ رات دن عبادت کرتے ہوں مگر یہ اجتماعی عبادت کا ذکر ہے۔ا یک دن میں کئی بار عبادت کرنے کا حکم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی دیا ہے۔ پھر صلوٰة کے معنی دعا کے بھی ہیں اور اس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا پر زور دیا ہے۔ دوسرے مذاہب کی عبادتوں میں ظاہری باتوں پر زور دیا گیا ہے اور ان کے ذریعہ عبادت میں لذّت پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے مثلاً آریوں اور عیسائیوں میں گانا بجانا ہوتا ہے مگر

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں مجھے ایسی عبادت عطا ہوئی ہے کہ اسی میں لذّت ہے اور ایسی لذّت ہے جس کا کوئی مذہب مقابلہ نہیں کر سکتا۔ ‘‘

(سیرت النبی ﷺ از حضرت مصلح موعودؓ جلد2 صفحہ 263)

پس گانا بجانا نہیں بلکہ خاموشی سے اللہ تعالیٰ کی عبادت، اس کی تحمید و تقدیس بیان کرنا اور اللہ تعالیٰ کی ثناء کرنا اور پھر گریہ و زاری کرنا یہ چیزیں ایسی ہیں اور ایسی عبادت ہے جس کا مزہ ہے اور اس سے پھر اللہ تعالیٰ کی محبت بھی بڑھتی ہے۔

پس

ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ پر چلتے ہوئے نمازوں اور عبادت کے لیےیہ معیار حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے تب ہی ہم حقیقی طور پر مسلمان کہلا سکتے ہیں۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام نے حضرت میر ناصر نواب صاحبؓ  کو ایک خط لکھتے ہوئے فرمایا۔ جس میں آپؑ لکھتے ہیں کہ

’’جو آپ نے اپنے عملی طریق کے لیے دریافت کیا ہے وہ یہی امر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حقیقی اتباع کی طرف رغبت کریں ۔‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حقیقی اتباع کی طرف رغبت کریں۔

’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جن اعمال پر نہایت درجہ اپنی محبت ظاہر فرمائی ہے وہ دو ہیں۔ ایک نماز اور ایک جہاد۔ نماز کی نسبت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ قُرَّةُ عَیْنِیْ فِی الصَّلٰوةِ۔ یعنی میری آنکھ کی ٹھنڈک نماز میں رکھی گئی ہے

اور جہاد کی نسبت فرماتے ہیں کہ میں آرزو رکھتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کی راہ میں قتل کیا جاؤں اور پھر زندہ کیا جاؤں اور پھر قتل کیا جاؤں اور پھر زندہ کیا جاؤں اور پھر قتل کیا جاؤں ۔‘‘ یہ بیان کر کے آپؑ فرماتے ہیں کہ

’’سو اس زمانہ میں جہاد روحانی صورت سے رنگ پکڑ گیا ہے اور اس زمانہ کا جہاد یہی ہے کہ اعلائے کلمہ اسلام میں کوشش کریں۔ مخالفوں کے الزامات کا جواب دیں ۔ دین ِمتینِ اسلام کی خوبیاں دنیا میں پھیلاویں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی دنیا پر ظاہر کریں ۔ یہی جہاد ہے۔ جب تک خدا تعالیٰ کوئی دوسری صورت دنیا میں ظاہر کرے۔‘‘

(مکتوب بنام حضرت میر ناصر نواب صاحب، مکتوبات احمد جلد سوم صفحہ 9، ایڈیشن 2022ء)

پس

ہمارے قلمی اور تبلیغی جہاد میں بھی اسی وقت برکت پڑے گی جب ہم اپنی عبادت کے معیار اور اللہ تعالیٰ کی محبت کو بھی بڑھائیں گے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ اس جہاد میں حصہ لیں تو پھر اللہ تعالیٰ کی محبت اور دعاؤں کی طر ف بھی ہمیں توجہ دینی ہو گی۔ اپنی عبادتوں کی طرف بھی ہمیں توجہ دینی ہوگی اور اگر ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ پر چلتے ہوئے یہ کریں گے تو تب ہی ہمارے کاموں میں برکت بھی پڑے گی۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔

آج بنگلہ دیش کی جماعت کا جلسہ بھی ہورہا ہے ۔وہاں مخالفت بھی کافی ہوتی ہے۔ ان کے لیے بھی دعا کریں۔ اللہ تعالیٰ ان سب کو اپنی حفاظت میں رکھے اور ان کا جلسہ بھی بخیر و خوبی اختتام پذیر ہو۔

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 09؍جنوری 2026ء

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button