خبرنامہ(اہم عالمی خبروں کا خلاصہ)
٭… پشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری (ایف سی) کے ہیڈکوارٹر پر فتنہ الخوارج کا خودکش حملہ سیکیورٹی فورسز نے ناکام بنا دیا۔ صبح آٹھ بج کر دس منٹ پر تین خودکش حملہ آوروں نے حملہ کیا، ایک نے مرکزی گیٹ پر خود کو دھماکے سے اڑا لیا جبکہ دو کو فائرنگ میں ہلاک کر دیا گیا۔ حملے میں ایف سی کے تین اہلکار شہید اور دس افراد زخمی ہوئے۔ دہشتگردوں کا ہدف ایف سی کی پریڈ تھی۔ کلیئرنس آپریشن مکمل، تحقیقات جاری ہیں اور وزیراعظم نے حملے کی شدید مذمت کی۔
٭…فیڈرل کانسٹیبلری ہیڈکوارٹر پشاور میں ہونے والے خودکش دھماکوں کی تفتیش میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔ تفتیشی حکام کے مطابق خودکش بمباروں کے سہولت کاروں کا تعلق افغانستان سے ہے اور حملے کی منصوبہ بندی بھی افغانستان میں کی گئی تھی۔ واقعے کے سلسلے میں اہم گرفتاریاں عمل میں لائی جاچکی ہیں۔ واضح رہے کہ یہ حملہ گذشتہ سال ۲۴؍نومبر کو ہوا تھا، جس میں فیڈرل کانسٹیبلری کے تین جوان شہید، پانچ زخمی جبکہ آٹھ شہری بھی زخمی ہوئے تھے۔ تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کیا جا رہا ہے۔
٭…آسٹریلیا نے افغان سفارتخانہ بند کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ جون ۲۰۲۶ء کے بعد سفارتخانہ اپنی سرگرمیاں ختم کر دے گا۔ آسٹریلوی محکمہ خارجہ کے مطابق طالبان کے مقرر کردہ کسی سفارتکار یا اعزازی قونصل کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ بیان میں کہا گیا کہ طالبان رجیم کی غیر جمہوری، پُرتشدد پالیسیوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے باعث افغانستان عالمی تنہائی کا شکار ہے۔ آسٹریلیا نے طالبان حکومت کو افغان عوام کا جائز نمائندہ ماننے سے انکار کرتے ہوئے اختلافِ رائے پر پابندیوں کی بھی مذمت کی۔
٭…امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران سے متعلق امریکی سیاسی عزائم مشرق وسطیٰ کے اتحادیوں کے ساتھ شیئر نہیں کیے جاتے۔ امریکی ٹی وی کو انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ امریکہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنا اور کسی نتیجے تک پہنچنا چاہتا ہے، تاہم یہ دیکھا جائے گا کہ بات چیت کہاں تک جاتی ہے۔ صدر ٹرمپ کے مطابق ایک بڑا امریکی بحری بیڑا خطے کی جانب بڑھ رہا ہے۔ اس سے قبل انہوں نے کہا تھا کہ ایرانی حکام ڈیل کو نتیجہ خیز بنانا چاہتے ہیں، مگر ڈیڈ لائن سے متعلق صرف وہی جانتے ہیں۔
٭…متحدہ عرب امارات کی غیر تیل تجارت پہلی بار ایک ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے، جس میں ۲۶؍فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا۔ شیخ محمد بن راشدالمکتوم کے مطابق نان آئل تجارت کا حجم ۳.۸؍ٹریلین درہم اور برآمدات ۸۱۳؍ارب درہم تک پہنچ گئیں، جن میں ۴۵؍فیصد اضافہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ۲۰۳۱ءکے معاشی اہداف پانچ سال پہلے ہی ۹۵؍ فیصد حاصل کرلیے گئے ہیں۔ شیخ محمد نے سرمایہ کاری کے سازگار ماحول، عالمی شراکت داریوں میں اضافے اور نجی شعبے کے ساتھ تعاون مزید مضبوط بنانے پر زور دیا۔
٭…یوکرین تنازع پر بات چیت کے لیے امریکی اور روسی حکام کے درمیان ملاقات ہوئی ہے۔ غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق امریکی نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف نے میامی میں روسی نمائندے کِرل دمیتریف سے ملاقات کی، جسے انہوں نے تعمیری قرار دیا۔ ملاقات میں امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ اور صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کُشنر بھی شریک تھے۔ رپورٹ کے مطابق امریکہ کی ثالثی میں روس۔یوکرین مذاکرات کا اگلا دور کل ابوظہبی میں متوقع ہے۔
٭…یوکرین میں تکنیکی خرابی کے باعث ملک بھر میں بجلی کا بڑا بریک ڈاؤن ہوا ہے۔ یوکرینی وزیر توانائی کے مطابق یوکرین، مالدووا اور رومانیہ کے درمیان ٹرانسمیشن لائن میں خرابی کے نتیجے میں دارالحکومت کیف اور دیگر تین علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی۔ روس سے جاری جنگ کے دوران یوکرین کا بجلی نظام پہلے ہی متاثر ہو چکا ہے، جس میں ماسکو کی حالیہ بمباری اور ڈرون حملوں نے کئی بجلی گھر تباہ کر دیے تھے، جس کے نتیجے میں سردیوں میں لاکھوں گھرانوں کو بجلی سے محروم ہونا پڑا تھا۔
٭…ایران کے دو شہروں میں ہونے والے دھماکوں میں پانچ افراد ہلاک اور چودہ زخمی ہوئے ہیں۔ بندر عباس میں رہائشی عمارت میں گیس لیکیج کے باعث دھماکے میں ایک شخص ہلاک اور چودہ زخمی ہوئے۔ اسی طرح شہر اہواز میں ایک چار منزلہ عمارت میں گیس کے دھماکے میں ایک ہی خاندان کے چار افراد جان کی بازی ہار گئے، تاہم ملبے سے تین سالہ بچہ اور ایک خاتون بچا لیے گئے۔ دھماکوں سے عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا اور ایک کار بھی دھماکے کی شدت سے دوسری جانب جا گری۔ اسرائیل نے ان دھماکوں میں ملوث ہونے کی تردید کر دی ہے۔
٭…ایران کے آرمی چیف امیر حاتمی نے امریکہ اور اسرائیل کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کی مسلح افواج ہائی الرٹ ہیں۔ غیرملکی میڈیا کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ اگر دشمن نے کوئی غلطی کی تو نہ صرف خطے بلکہ صیہونی ریاست کی سلامتی بھی خطرے میں پڑ جائے گی۔ امیر حاتمی نے واضح کیا کہ ایران کی جوہری سائنس اور ٹیکنالوجی کو ختم نہیں کیا جاسکتا اور چاہے ایرانی سائنسدان شہید ہی کیوں نہ ہو جائیں، ملک کی جوہری صلاحیت برقرار رہے گی۔
٭…٭…٭




