خطبہ جمعہ بطرز سوال و جواب

خطبہ جمعہ بطرز سوال و جواب

(خطبہ جمعہ فرمودہ ۲۷؍ستمبر۲۰۲۴ء بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد، ٹلفورڈ(سرے) یوکے)

سوال نمبر۱: حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے خطبہ کے عنوان کی بابت کیابیان فرمایا؟

جواب:فرمایا: جیسا کہ میں نے گذشتہ خطبہ میں بھی ذکر کیا تھا کہ حضرت مصلح موعود ؓ نے بھی ان حالات کا ذکر فرمایا ہے جوجنگِ احزاب میں پیش آئے۔

سوال نمبر۲:حضورانورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نےجنگ احزاب میں بنوقریظہ کی بدعہدی کی بابت حضرت مصلح موعودؓ کاکیاموقف بیان فرمایا؟

جواب: فرمایا: آپؓ فرماتے ہیں کہ ’’چونکہ مدینہ کا ایک کافی حصہ خندق سے محفوظ تھا اور دوسری طرف کچھ پہاڑی ٹیلے ، کچھ پختہ مکانات اور کچھ باغات وغیرہ تھےاس لیے فوج یکدم حملہ نہیں کر سکتی تھی۔ پس انہوں نے مشورہ کر کے یہ تجویز کی‘‘ یعنی کافروں نے ’’کہ کسی طرح یہود کا تیسرا قبیلہ جو ابھی مدینہ میں باقی تھا اور جس کا نام بنو قریظہ تھا اپنے ساتھ ملا لیا جائے اور اس ذریعہ سے مدینہ تک پہنچنے کا راستہ کھولا جائے۔ چنانچہ مشورہ کے بعد حُیَی ابن اخطَب جو جلاو طن کردہ بنو نضیر کا سردار تھا اور جس کی ریشہ دوانیوں کی وجہ سے سارا عرب اکٹھا ہو کر مدینہ پر حملہ آور ہوا تھا اسے کفار کی فوج کے کمانڈر ابوسفیان نے ا س بات پر مقرر کیا کہ جس طرح بھی ہو بنوقریظہ کو اپنے ساتھ شامل کرو۔ چنانچہ حیی ابن اخطب یہودیوں کے قلعوں کی طرف گیا اور اس نے بنوقریظہ کے سرداروں سے ملنا چاہا۔ پہلے تو انہوں نے ملنے سے انکار کیا لیکن جب اس نے ان کو سمجھایا کہ اِس وقت سارا عرب مسلمانوں کو تباہ کرنے کے لیے آیا ہے اور یہ بستی سارے عرب کا مقابلہ کسی صورت میں نہیں کر سکتی اِس وقت جو لشکر مسلمانوں کے مقابل پر کھڑا ہے اس کو لشکر نہیں کہنا چاہئے بلکہ ایک ٹھاٹھیں مارنے والا سمندر کہنا چاہئے تو اِن باتوں سے اس نے بنو قریظہ کو آخر غداری اور معاہدہ شکنی پر آمادہ کر دیا اور یہ فیصلہ ہوا کہ کفار کا لشکر سامنے کی طرف سے خندق پار کرنے کی کوشش کرے اور جب وہ خندق پار ہونے میں کامیاب ہو جائیں تو بنوقریظہ مدینہ کی دوسری طرف سے مدینہ کے اس حصہ پر حملہ کردیں گے جہاں عورتیں اور بچے ہیں جو بنو قریظہ پر اعتبار کر کے بغیر حفاظت کے چھوڑ دیئے گئے تھے اور اس طرح مسلمانوں کی مقابلہ کی طاقت بالکل کچلی جائے گی‘‘ وہاں سے حملہ کیا جائے۔ ’’اور ایک ہی دم میں مسلمان مرد، عورتیں اور بچے سب مار دئیے جائیں گے۔ یہ یقینی بات ہے کہ اگر اِس تدبیر میں تھوڑی بہت کامیابی بھی کفار کو ہو جاتی تو مسلمانوں کے لیے کوئی جگہ حفاظت کی باقی نہیں رہتی تھی۔بنو قریظہ مسلمانوں کے حلیف تھے اور اگر وہ کھلی جنگ میں شامل نہ بھی ہوتے تب بھی مسلمان یہ امید کرتے تھے کہ ان کی طرف سے ہو کر مدینہ پر کوئی حملہ نہیں کر سکے گا۔ اسی وجہ سے ان کی طرف کا حصہ بالکل غیر محفوظ چھوڑ دیا گیا تھا۔بنو قریظہ اور کفار نے بھی اس صورت حال کا جائزہ لیتے ہوئے یہ فیصلہ کردیا تھا کہ جب بنو قریظہ کفار کے ساتھ مل گئے تو وہ کھلے بندوں کفار کی مدد نہ کریں تا ایسا نہ ہو کہ مسلمان مدینہ کی اس طرف کی حفاظت کا بھی کوئی سامان کر لیں۔‘‘ بڑی ہوشیاری دکھائی انہوں نے۔ ’’جو بنو قریظہ کے علاقہ کے ساتھ ملتی تھی۔‘‘ یعنی ادھر سے حملہ نہ ہو جائے۔ یہ خیال نہ آ جائے مسلمانوں کو۔ ’’یہ تدبیر نہایت ہی خطرناک تھی۔ مسلمانوں کو غافل رکھتے ہوئے کسی ایسے وقت میں بنو قریظہ کا دشمن کے ساتھ جا ملنا جبکہ اسلامی فوج پر کفار کی فوج کا زبردست دھاوا ہو رہا ہو مدینہ کی اس طرف کی حفاظت کو جس طرف بنو قریظہ کے قلعے واقعہ تھے بالکل ناممکن بنا دیتا تھا۔‘‘

سوال نمبر۳:حضورانورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نےجنگ احزاب کےدوران دشمن کے حملوں سے بچنے کی خاطر مسلمانوں کےپہرہ دینےکی بابت کیابیان فرمایا؟

جواب: فرمایا: باوجودیہ کہ خندق ایک مضبوط دفاعی دیوار کے طور پر کام تو دے رہی تھی لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں تھا کہ مسلمان پوری طرح محفوظ و مامون تھے۔اوّل تو منافقین اور خاص طور پر بنو قریظہ جیسے جنگجو لوگ مدینہ کے اندر ہی موجود تھے اور معاہدہ ختم کرنے کے بعد وہ ایک خطرناک دشمن کے طور پر سامنے تھے۔ دوسری طرف خندق کے باوجود بعض جگہیں ایسی تھیں کہ وہاں سے دشمن کے حملے کا خطرہ تھااور اس جگہ دشمن کے خندق عبور کر کے اندر آنے کے امکانات تھے۔ اس پریشان کن صورتحال کے پیش نظر جگہ جگہ مسلسل پہرا دیا جا رہا تھا اور اس پہرے میں خود نبی اکرمﷺ بھی بنفسِ نفیس موجود ہوتے۔ آپﷺ خود نگرانی بھی کر رہے ہوتے اور صحابہ کی ڈھارس بھی بندھا رہے ہوتے اور یہ سارا عمل دن کو بھی جاری رہتا اور رات کو بھی جاری رہتا اور مدینے کی یہ راتیں سخت سردی کی راتیں تھیں اور بھوک کی مشکلات اس کے علاوہ تھیں۔حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہﷺ خندق کے شگاف تک پہرہ دینے جاتے۔ جب آپﷺ کو سردی تکلیف دیتی تو میرے پاس تشریف لاتے اور جب آپﷺ کا جسم گرم ہو جاتا تو پھر خندق کے شگاف کی طرف تشریف لے جاتے اور فرماتے مجھے ڈر ہے کہ لوگ اس طرف سے آ سکتے ہیں۔ وہ بیان کرتی ہیں کہ ایک دن حضورﷺ اسی طرح آرام فرما رہے تھے اور اتنا تھکے ہوئے تھے کہ فرمایا کہ کاش کوئی نیک آدمی آج رات اس جگہ کا پہرہ دیتا تو اسی دوران جب آپؐ نے یہ بات فرمائی، آپﷺ نے ہتھیاروں کی آواز سنی۔ رسول اللہﷺ نے پوچھا کون ہے؟ تو سعد بن ابی وقاصؓ نے کہا یا رسول اللہؐ! میں سعد ہوں۔ آپؐ کی حفاظت کے لیے پہرہ دینے آیا ہوں تو آپؐ نے اپنی حفاظت کے بجائے فرمایا آپ فلاں جگہ جاؤ۔ وہاں خندق کا ایک حصہ کمزور ہے وہاں پہرہ دو۔نبی کریمﷺ کے جاں نثار صحابہ کا بھی آپؐ سے عشق و وفا کا عجیب رنگ تھا۔ کس طرح وہ اپنے آپ کو پیش کر رہے ہیں اور دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں کہ نبی کریمﷺ ہیں کہ اپنی ذات پر ان سب کو ترجیح دے رہے تھے۔ ایسے شجاع کہ اپنی جان کا کوئی فکر نہیں، اہلِ مدینہ کا فکر ہے اور اس کے لیے اکثر خود جگہ جگہ موجود ہوتے ہیں اور کبھی بظاہر آرام کرنے کے لیے خیمے میں تشریف لاتے بھی ہیں تو اس کا اکثر حصہ خدا کے حضور سربسجود ہو کے، دعائیں کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔چنانچہ حضرت ام سلمہؓ بیان کرتی ہیں کہ میں رسول اللہﷺ کے ساتھ خندق کے موقع پر موجود تھی اور ہم شدید سردی میں تھے۔ مَیں نے ایک رات دیکھا کہ آپﷺ کھڑے ہوئے اور اپنے خیمہ میں جتنی اللہ تعالیٰ نے چاہا نماز پڑھی یعنی جس حد تک ممکن تھا بہت لمبی نماز پڑھی۔ پھر کچھ دیکھا تو خیمے سے باہر تھوڑی دیر تشریف لے گئے۔ پھر میں نے آپﷺ کویہ فرماتے سنا۔ یہ مشرکین کے شہسوار خندق کو پار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پھر عَبَّاد بِن بِشْرؓ کو آواز دی تو انہوں نے کہا لبیک! میں حاضر ہوں۔ آپﷺ نے پوچھا کیا تمہارے ساتھ کوئی اَور بھی ہے۔ اس نے کہا جی ہاں۔ میرے ساتھ میرے چند ساتھی ہیں اور آپ کے خیمے کے ارد گرد پہرہ دے رہے ہیں۔ آپﷺ نے فرمایا اپنے ساتھیوں کو لے جاؤ اور خندق کا چکر لگاؤ۔ یہ مشرکین کے شہسوار خندق کاچکر لگا رہے ہیں۔ ان کی یہ خواہش ہے کہ تم پر غفلت میں حملہ کریں۔ انہوں فرمایا کہ اَللّٰھُمَّ فَادْفَعْ عَنَّا شَرَّھُمْ، وَانْصُرْنَا عَلَیْھِمْ، وَاغْلِبْھُمْ، فَلَا یَغْلِبُھُمْ اَحَدٌ غَیْرُکَ۔ اے اللہ! ہم سے ان کا شر دور کر دے اور ان کے خلاف ہماری مدد کر اور ان کو مغلوب کر۔ تیرے علاوہ کوئی ان کو مغلوب نہیں کر سکتا۔ عَبَّاد اپنے ساتھیوں کے ساتھ گئے تو ابو سفیان بن حَرْب اپنے ساتھیوں کے ساتھ خندق کی تنگ جگہ کا چکر لگا رہا تھا۔ مسلمانوں کو ان کا پتہ چل گیا تو ان کو پتھر اور تیر مارنے شروع کیے جس وجہ سے وہ اپنی جگہوں پر واپس چلے گئے یعنی دشمن وہاں سے پھر لَوٹ گیا۔ حضرت عَبَّادؓ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہﷺ کی خدمت میں واپس حاضر ہوا۔ میں نے دیکھا کہ آپﷺ نماز پڑھ رہے ہیں تو میں نے آپﷺ کو خبر دی۔ حضرت ام سلمہؓ بیان کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ عَبَّاد بن بِشْر پر رحم کرے۔ وہ تمام صحابہ کرام میں رسول اللہﷺ کے خیمہ کے ساتھ زیادہ رہتے تھے۔ ہمیشہ آپﷺ کا پہرہ دیتے تھے۔

سوال نمبر۴: حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے جنگ احزاب میں حضرت صفیہؓ کی بہادری کی بابت کیابیان فرمایا ؟

جواب: فرمایا: حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ لکھتے ہیں کہ ’’شہر میں مستورات اوربچوں کایہ حال تھا کہ آنحضرتﷺ نے ان کو عموماً شہر کے ایک خاص حصہ میں جوایک گونہ قلعہ کارنگ رکھتا تھا جمع کروادیا۔ مگران کی خاطر خواہ حفاظت کے لیے کافی مسلمان فارغ نہیں کیے جاسکتے تھے اور خصوصاً ایسے اوقات میں جبکہ میدانِ جنگ میں دشمن کے حملوں کا زیادہ زور ہوتا تھا مسلمان خواتین اور بچے قریباً بالکل غیر محفوظ حالت میں رہ جاتے تھے اور ان کی حفاظت کے لیے صرف ایسے مرد رہ جاتے تھے جو کسی وجہ سے میدان جنگ کے قابل نہ ہوں۔ چنانچہ کسی ایسے ہی موقعہ سے فائدہ اٹھا کر یہودیوں نے شہر کے اس حصہ پر حملہ آور ہوجانے کی تجویز کی جس میں مستورات اور بچے جمع تھے اور جاسوسی کی غرض سے انہوں نے اپنا ایک آدمی اپنے آگے آگے اس محلہ میں بھیجا۔ اس وقت اتفاق سے عورتوں کے قریب صرف ایک صحابی حسان بن ثابت شاعر موجود تھے جو دل کی غیر معمولی کمزوری کی وجہ سے میدانِ جنگ میں جانے کے قابل نہیں تھے۔ عورتوں نے جب اس دشمن یہودی کوایسے مشتبہ حالات میں اپنے جائے قیام کے آس پاس چکر لگاتے دیکھا تو صفیہ بنت عبدالمطلب نے جو آنحضرتﷺ کی پھوپھی تھیں، حسان سے کہا کہ یہ شخص معاند یہودی ہے اور یہاں جاسوسی اور شرارت کے لیے چکر لگا رہا ہے۔ اسے قتل کردو تاکہ واپس جاکر وہ کسی فتنہ کاموجب نہ بنے۔ مگر حسان کو اس کی ہمت نہ ہوئی جس پرحضرت صفیہ نے خود آگے نکل کر اس یہودی کامقابلہ کیا اور اسے مار کر گرا دیا اور پھر انہی کی تجویز سے یہ قرار پایا کہ اس یہودی جاسوس کا سر کاٹ کرقلعہ کی اس سمت میں گرا دیا جاوے جہاں یہودی جمع تھےتاکہ یہودیوں کومسلمان عورتوں پرحملہ آور ہونے کی ہمت نہ پڑے اور وہ یہ سمجھیں کہ ان کی حفاظت کے لیے اس جگہ کافی مرد موجود ہیں۔چنانچہ یہ تدبیر کارگر ہوئی اوراس موقعہ پر یہودی لوگ مرعوب ہوکر واپس چلے گئے۔‘‘ حضرت مصلح موعود ؓ نے بھی اس کو بیان فرمایا ہے۔ فرماتے ہیں کہ ’’بنوقریظہ اس بات کی تاک میں تھے کہ کوئی موقع مل جائے تو بغیر مسلمانوں کے شبہات کو ابھارنے کے وہ مدینہ کے اندر گھس کر عورتوں اور بچوں کو قتل کر دیں۔ چنانچہ ایک دن بنو قریظہ نے ایک جاسوس بھیجا تاکہ وہ معلوم کرے کہ عورتیں اور بچے اکیلے ہی ہیں یا کافی تعداد سپاہیوں کی ان کی حفاظت کے لیے مقرر ہے۔ جس خاص احاطہ میں وہ خاص خاص خاندان جن کو دشمن سے زیادہ خطرہ تھا جمع کر دیئے گئے تھے اس کے پاس اس جاسوس نے آکر منڈلانہ اور چاروں طرف دیکھنا شروع کیا کہ مسلمان سپاہی کہیں اِردگرد میں پوشیدہ تو نہیں ہیں۔ وہ ابھی اسی ٹوہ میں تھا کہ رسول اللہﷺ کی پھوپھی حضرت صفیہؓ نے اسے دیکھ لیا۔ اتفاقاً اس وقت صرف ایک ہی مسلمان مرد وہاں موجود تھا اور وہ بھی بیمار تھا۔ حضرت صفیہؓ نے اسے کہا کہ یہ آدمی دیر سے عورتوں کے علاقہ میں پھر رہا ہے اور جانے کا نام نہیں لیتا اور چاروں طرف دیکھتا پھر تاہے۔ پس یہ یقیناً جاسوس ہے تم اس کا مقابلہ کرو ایسا نہ ہو کہ دشمن پورے حالات معلوم کرکے اِدھر حملہ کر دے۔ اس بیمار صحابی نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔ تب حضرت صفیہؓ نے خود ایک بڑا بانس لے کر اس شخص کا مقابلہ کیا اور دوسری عورتوں کی مدد سے اس کو مارنے میں کامیاب ہو گئیں۔ آخر تحقیقات سے معلوم ہوا کہ وہ یہودی تھا اور بنو قریظہ کا جاسوس تھا۔ تب تو مسلمان اَور بھی زیادہ گھبرا گئے اور سمجھے کہ اب مدینہ کی یہ طرف بھی محفوظ نہیں۔ مگر سامنے کی طرف سے دشمن کا اتنا زور تھا کہ اب وہ اس طرف کی حفاظت کا کوئی سامان نہیں کر سکتے تھے لیکن باوجود اس کے رسول اللہﷺ نے عورتوں کی حفاظت کو مقدم سمجھا اور … بارہ سو سپاہیوں میں سے پانچ سو کو عورتوں کی حفاظت کے لیے شہر میں مقرر کر دیا اور خندق کی حفاظت اور اٹھارہ بیس ہزار لشکر کے مقابلہ کے لیے صرف سات سو سپاہی رہ گئے۔‘‘

مزید پڑھیں: آنحضرتﷺ کی محبت الٰہی کا ایمان افروز تذکرہ۔ خلاصہ خطبہ جمعہ ۳۰؍جنوری ۲۰۲۶ء

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button