خلاصہ خطبہ جمعہ

آنحضرتﷺ کی محبت الٰہی کا ایمان افروز تذکرہ۔ خلاصہ خطبہ جمعہ ۳۰؍جنوری ۲۰۲۶ء

٭… آپؐ کے ہر عمل اور ہر واقعہ سے اس بات کا ظہار ہوتا ہے کہ آپؐ کے دل میں ہروقت محبت الٰہی کا ایک سمندر موجزن تھا

٭… آپﷺ کوئی موقع نہیں جانے دیتے تھے جس میں خدا تعالیٰ کی توحید کا ذکر نہ ہو۔ آپؐ کے ہر لفظ میں اللہ تعالیٰ کی محبت ہوتی تھی۔ جب بھی آپؐ بولتے ہر لفظ سے یہی ظاہر ہوتا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی محبت آپ کے دل میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے

٭… محبت کا یہ عالم تھا کہ ہر موقع پر زبان مبارک ذکر الٰہی سے تر رہتی تھی

٭… رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کوئی خوشی والی بات پیش آتی تو آپؐ فورا ًاللہ کا شکر ادا کرنے کے لیے سجدے میں گر پڑتے

خلاصہ خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ ۳۰؍جنوری ۲۰۲۶ء بمطابق ۳۰؍صلح ۱۴۰۵؍ہجری شمسی بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد،ٹلفورڈ(سرے)، یوکے

اميرالمومنين حضرت خليفةالمسيح الخامس ايدہ اللہ تعاليٰ بنصرہ العزيز نے مورخہ۳۰؍جنوری ۲۰۲۶ء کو مسجد مبارک، اسلام آباد، ٹلفورڈ، يوکے ميں خطبہ جمعہ ارشاد فرمايا جو مسلم ٹيلي وژن احمديہ کے توسّط سے پوري دنيا ميں نشرکيا گيا۔ جمعہ کي اذان دينےکي سعادت صہیب احمد صاحب (مربی سلسلہ)کے حصے ميں آئی۔


تشہد،تعوذ اور سورة الفاتحہ کی تلاوت کے بعد حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ نےفرمایا: حضرت محمد مصطفیٰﷺکی محبت الٰہی کے بے شمار واقعات ہیں بلکہ

آپؐ کے ہر عمل اور ہر واقعہ سے اس بات کا ظہار ہوتا ہے کہ آپؐ کے دل میں ہروقت محبت الٰہی کا ایک سمندر موجزن تھا۔

اس کا

ایک نظارہ غزوۂ اُحد میں نظر آتا ہے جہاں آپؐ کی محبت الٰہی میں تڑپ کا ایک عجیب اور نرالہ انداز ملتا ہے۔

حضرت براء ؓبیان کرتے ہیں کے اُحد کے دن ہم نے مشرکوں کا سامنا کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیر اندازوں کا ایک دستہ مقرر فرمایا اور حضرت عبداللہ ؓکو ان کا امیر مقرر فرمایا اور نصیحت فرمائی کہ اگر تم دیکھو کہ ہم ان پر غالب آگئے ہیں تب بھی اپنی جگہ سے نہ ہٹنا۔اور اگر دیکھو کہ وہ ہم پر غالب آگئے ہیں تب بھی ہماری مدد کو نہ آنا۔یعنی فتح اور شکست دونوں صورتوں میں تم نے اپنی جگہ نہیں چھوڑنی۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ جب ہمارا مقابلہ ہوا تو دشمن بھاگ گیا۔یہاں تک کہ میں نے مشرک عورتوں کو دیکھا کہ وہ پہاڑوں کی طرف بھاگ رہی تھیں اور ان کی پازیبیں نظر آرہی تھیں۔مسلمانوں نے کہنا شروع کر دیا کہ مال غنیمت، مال غنیمت۔ حضرت عبداللہؓ نے انہیں روکا اور کہا کہ نبیﷺنے مجھے نصیحت فرمائی تھی کہ تم اپنی جگہ سے نہ ہٹنا۔ لیکن جب مسلمان درّہ چھوڑ کر مال غنیمت کی طرف آئے تو اللہ تعالیٰ نے بھی ان مسلمانوں سے منہ پھیر لیا۔ جنگ پلٹا کھا گئی اور دشمن نے دوبارہ حملہ کر دیا۔ ۷۰؍مسلمان شہید ہو گئے۔راوی کہتے ہیں اس دوران نبی اکرمﷺ اپنے ساتھیوں کے ساتھ پہاڑی کے دامن میں پنا ہ لیے ہوئے تھے کہ ابو سفیان نے ایک اونچے مقام پر چڑھ کر آواز دی کہ کیاتم لوگوں میں محمدؐ ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :اسے جواب نہ دو۔ پھر اس نے کہا :کیا تم لوگوں میں ابن ابی قحافہ ہے؟آپؐ نے فرمایا جواب نہ دو۔ پھر اس نے کہا کہ تم لوگوں میں عمر بن خطاب ہے؟مگر کوئی جواب نہ آیا تو ابو سفیان نے کہا یہ سب لوگ مارے گئے۔اگر زندہ ہوتے تو ضرور جواب دیتے۔حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے آپ پر قابو نہ رکھ سکے اور پکار کر کہا :اے اللہ کے دشمن !تُو نے جھوٹ کہا۔ اللہ نے تیرے مقابلے میں اس کو زندہ رکھا ہے جو تجھے ذلیل کرے گا۔ ابو سفیان نے نعرہ لگایا :ھبل کا بول بالا ہو۔جب اس نے یہ کہا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم بے تاب ہو گئے اور فرمایا تم اس کا جواب دو۔ صحابہؓ نے عرض کیا :ہم کیا جواب دیں ؟آپؐ نے فرمایا کہو اللہ سب سے بلند اور سب سے بزرگ ہے۔ابو سفیان نے کہا :ہمارے لیے عزّیٰ ہے اور تمہارے لیے کوئی عزّیٰ نہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کا جواب دو۔ صحابہؓ نے پوچھا :کیا کہیں؟آپؐ نے فرمایا کہو اللہ ہمارا مددگار ہے اور تمہارا کوئی مددگار نہیں۔

آپﷺ اللہ تعالیٰ کی محبت میں شرک کا شائبہ بھی نہ آنے دیتے تھے۔

حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ جو اللہ چاہے اور آپؐ چاہیں۔آپؐ نے فرمایا:کیا تم نے مجھے اللہ کے برابر ٹھہرا دیا ہے؟ یوں کہو کہ جو خدا تعالیٰ اکیلا چاہے۔ پس شرک کا ہلکا سا پہلو بھی نہیں آنا چاہیے۔ یہ کہہ سکتے ہیں کہ جو اللہ تعالیٰ چاہے اور اللہ کا فضل ہے اور اس میں دعا بھی شامل ہو تو پھر برکت بڑھ جائے گی۔ دعا کی حد تک تو ٹھیک ہے لیکن آپ چاہیں والی بات غلط ہےکیونکہ آنحضرتﷺ نے اس کو سختی سے ناپسند فرمایا۔

پھرآپؐ کو فکر رہتی تھی کہ لوگ قبروں کو پوجنے کی جگہ نہ بنالیں۔لیکن بدقسمتی سے آج اسی کے خلاف عمل ہو رہا ہے۔ مسلمان پیروں فقیروں کی قبروں پر جا کے پوجتے ہیں۔ سجدے کرتے ہیں۔

حضرت عائشہ ؓنے بیان کیا ہے کہ نبیﷺ نے اپنے اُس مرض میں جس میں آپؐ کا وصال ہوا یعنی آخری وقت میں فرمایا: اللہ لعنت کرے یہود اور نصاریٰ پر انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مسجدیں بنا لیا۔ حضرت عائشہ ؓنے کہا :اگر آپؐ نے یہ نہ فرمایا ہوتا تو آپؐ کی قبر کھلی رکھی جاتی۔مگر میں ڈرتی ہوں کہیں وہ مسجد نہ بنا لی جائے۔ اس لیے کھلی جگہ نہیں رکھی گئی۔ آج کل تو وہاں کی حکومت نے اس کے ارد گرد باقاعدہ انتظام کیا ہوا ہے، جنگلے ہیں، دیواریں ہیں تاکہ کسی قسم کا شرک ظاہر نہ ہو۔ یہ کام کم از کم انہوں نے اچھا کیا ہے۔

خدا تعالیٰ کی یگانگت کے بیان میں ایک روایت آتی ہے۔ حضرت ابی بن کعبؓ سے روایت ہے کہ مشرکین نے رسول اللہﷺ سے کہا کہ آپؐ اپنے ربّ کا نسب ہمیں بتائیں۔اس پر اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا :قُلۡ ہُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ۔اَللّٰہُ الصَّمَدُ۔ کہ اللہ ایک ہے اللہ بے نیاز ہے۔ وہ واحد و یگانہ ہے جس نے نہ کچھ جنا اور نہ وہ کسی سے جنا گیا۔جو بھی کوئی چیز پیدا ہو گی وہ ضرور مرے گی اور جو بھی کوئی چیز مرتی ہے اس کا وارث ہوتا ہے، اور اللہ عزّوجلّ کی ذات ایسی ہے کہ نہ وہ مرے گی اور نہ ہی اس کا کوئی وارث ہو گا۔راوی کہتے ہیں اس کا کوئی مشابہ نہیں۔ نہ کوئی برابر ہے اور نہ اس جیسا کوئی اورہے۔

آپﷺ کوئی موقع نہیں جانے دیتے تھے جس میں خدا تعالیٰ کی توحید کا ذکر نہ ہو۔ آپؐ کے ہر لفظ میں اللہ تعالیٰ کی محبت ہوتی تھی۔ جب بھی آپؐ بولتے ہر لفظ سے یہی ظاہر ہوتا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی محبت آپ کے دل میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔

حضرت زید بن خالدؓنے بیان کیا کہ رسول اللہﷺ نے ہمیں حدیبیہ میں رات کو ہونے والی بارش کے بعد صبح کی نماز پڑھائی۔ جب آپؐ نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ کیا تم جانتے ہو کہ تمہارے ربّ عزّوجلّ نے کیا فرمایا؟ لوگوں نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کا رسولؐ بہتر جانتے ہیں۔آپؐ نے فرمایا :اللہ فرماتا ہے کہ میرے بندوں میں سے کچھ نے اس حال میں صبح کی کہ وہ مجھ پر ایمان لانے والے تھے اور کچھ انکار کرنے والے تھے۔یعنی لوگوں میں بعض ایسے تھے جنہوں نے رات کی بارش دیکھ کر اس طرح صبح کی کہ اُن میں سے بعض ایمان لانے والے تھے اور بعض انکار کرنے والے تھے جس نے یہ کہا کہ ہم پر اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی رحمت سے بارش ہوئی وہ مجھ پر ایمان لانے والا ہے اور جنہوں نے یہ کہا کہ ستاروں کی وجہ سے بارش ہوئی وہ انکار کرنے والے ہیں۔

حضرت جابر ؓسے روایت ہے کہ نبیﷺ کے پاس ایک شخص آیا اور عرض کیا :یا رسول اللہؐ! جنت اور جہنم کو واجب کرنے والی دو چیزیں کون سی ہیں؟آپؐ نے فرمایا :جو اس حال میں فوت ہوا کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا تو وہ جنت میں داخل ہو گااور جو شخص اس حال میں فوت ہوا کہ وہ اللہ کا شریک بناتا تھا وہ آگ میں داخل ہو گا۔
حضرت محمود بن لبیدؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا :مجھے تم پر سب سے زیادہ جس چیز کا خوف ہے وہ شرکِ اصغر ہے۔صحابہؓ نےعرض کیا: شرک اصغر کیا ہے ؟آپؐ نے فرمایا وہ ریا یعنی دکھاوا ہے۔پس ہمیں اپنا جائزہ لینا چاہیے۔کوئی وسیلہ اگلےجہان میں ہمارے کام نہیں آئے گا۔ اللہ تعالیٰ کا فضل اور رسول اللہﷺ کی اتباع ہی اصل کام آنے والی چیز ہے۔

حضرت مصلح موعود ؓفرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھو کیسی معرفت تھی۔کیسی احتیاط تھی۔ کس طرح خدا تعالیٰ سے خائف رہتے تھے اور باوجود اس کے کہ تمام انسانوں سے زیادہ آپؐ کامل تھے اور ہر قسم کے گناہوں سے پاک تھے۔ مگر باوجود اس تقدیس اور پاکیزگی کے یہ حال تھا کہ ہر وقت اللہ تعالیٰ سے خائف رہتے۔نیکی پر نیکی کرتے۔اعلیٰ سے اعلیٰ اعمال بجا لاتے تھے۔ایک نیکی پر دوسری نیکی کرتے چلے جاتے اور کبھی برائی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ شائبہ بھی نہیں تھا۔ ہر وقت عبادت الٰہیہ میں مشغول رہتے۔ ڈرتے اور بہت ڈرتے تھے۔ اس کے باوجود اپنی طرف سے جس قدر ممکن ہے احتیاط کرتے مگر خدا تعالیٰ کے جلال کو دیکھتے تو بارگاہ صمدیت میں اپنے سب اعمال سے دستبردار ہو جاتے اور استغفار کرتے اور جب موقع ہوتا تو توبہ کرتے۔ حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ خدا کی قسم! میں دن میں ستّر دفعہ سے زیادہ خدا تعالیٰ کے حضور اپنی کمزوریوں سے پردہ پوشی اور معافی کی درخواست کرتا ہوں اور اس کی طرف جھک جاتا ہوں۔لفظ ستّر ہے مگر عربی میں اس سے مراد کثرت ہے۔پس

محبت کا یہ عالم تھا کہ ہر موقع پر زبان مبارک ذکر الٰہی سے تر رہتی تھی۔

حضرت سمرہ بن جندبؓ بیان کرتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا چار باتیں تمام کلاموں سے افضل ہیں۔جس سے بھی تو شروع کرے اس میں تجھے کچھ نقصان نہیں۔ اگر ان سے شروع کرو تو سب سے افضل ہے اور بڑی برکت والی باتیں ہیں۔ وہ کیا ہیں۔ نمبر ایک یہ ہے سبحان اللہ۔نمبر دو الحمدللہ۔نمبر تین لا الٰہ الا اللہ۔نمبر چار اللہ اکبر۔یعنی پاک ہے اللہ۔ پس ان باتوں کا ہر وقت خیال رہے یا کام کرتے ہوئے ان چیزوں کو سامنے رکھیں تو ان میں برکت ہی برکت ہے۔

حضرت عبداللہ بن بسرؓ روایت کرتے ہیں کہ ایک دیہاتی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ اسلام کے قاعد ےاور اعمال خیر میرے لیے بہت زیادہ ہو گئے ہیں۔ مجھے کوئی ایسی چیز بتا دیں کہ میں اس کا اہتمام اور انتظام کر لوں اور اسی کو زیادہ تر کیا کرو ں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

تمہاری زبان مسلسل یاد الٰہی سے تر رہے۔

حضرت جابر ؓسے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا سب سے افضل ذکر لا الٰہ الا اللہ ہے اور سب سے افضل دعا الحمدللہ ہے۔

ایک روایت میں آتا ہے آنحضرتﷺ نے فرمایا :میرے سامنے اللہ تعالیٰ کی طرف سے پیشکش کی گئی کہ وہ میرے لیے وادی بطحا یعنی مکہ کو سونے کا بنا دے۔مَیں نے عرض کی :اے میرے ربّ! بلکہ ایسا ہو کہ میں ایک دن پیٹ بھر کر کھانا کھاؤں اور ایک دن بھوکارہوں۔جب میں بھوکا رہوں گا تو تیرے حضور آہ و زاری کروں گا اور تجھے یاد کروں گا اور جب میں سیر ہو کر کھانا کھاؤں گا تو تیری حمد اور تیرا شکر کروں گا۔

حضرت ابوبکرہؓ سے روایت ہے کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کوئی خوشی والی بات پیش آتی تو آپؐ فورا ًاللہ کا شکر ادا کرنے کے لیے سجدے میں گر پڑتے۔

حضرت مصلح موعودؓفرماتے ہیں: آنحضرتﷺموت سے کسی وقت غافل نہ رہتے اور خشیت الٰہی آپؐ پر اس قدر غالب تھی کہ ہر روز یہ یقین کرکے سو تے کہ شاید آج ہی موت آجاوے اور آج ہی اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہو نا پڑے اور اس لیےآپؐ ایک ایسے مسافر کی طرح رہتے تھے جسے خیال ہو تا ہے کہ ریل اب چلی کہ چلی۔

حضرت حذیفہ بن الیمان ؓ فرماتے ہیں :رسول کریم ؐ کی عادت تھی کہ جب آپؐ اپنے بستر پر لیٹتے اپنےرخسا ر کے نیچے اپنا ہا تھ رکھتے اور فر ما تے اے میرےمولا ! میرا مر نا اور جینا تیرے ہی نام پر ہو اور جب سو کر اٹھتے تو فرماتے شکر ہے میرے رب کا جس نے ہمیں زندہ کیا مارنے کے بعد۔ اور ہمیں اسی کی طرف لوٹ کر جا نا ہے۔اس واقعہ سے معلوم ہو تا ہے کہ آپؐ ہر را ت جب بستر پر جا تے تو اپنی طرف سے حساب ختم کر جا تے اور خدا تعالیٰ سے دعا مانگتے کہ اگر میں فوت ہو جاؤں تو تب بھی تیرے ہی نام پر میری زندگی ہو اور جب اٹھتے تو خدا تعالیٰ کے احسان پر حمد کر تے کہ میں تو اپنی طرف سے دنیا سے علیحدہ ہو چکا تھا تیرا ہی فضل ہوا کہ تو نے پھر مجھے زندہ کیا اورمیری عمر میں بر کت دی۔

حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

صبح کی نماز سے لے کر سورج طلوع ہونے تک اللہ کا ذکر کرنے والوں کے ساتھ بیٹھنا مجھے حضرت اسماعیل کی اولاد سے چار غلاموں کو آزاد کرنے سے زیادہ محبوب ہے۔اور عصر کی نماز سے لے کر سورج کے غروب ہونے تک اللہ کا ذکر کرنے والوں کے ساتھ بیٹھنا مجھے چار غلاموں کےآزاد کرنے سے زیادہ محبوب ہے۔

یعنی اللہ تعالیٰ سے محبت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ سے محبت کرنے والوں اور اس کا ذکر کرنے والوں کو حضرت اسماعیل ؑکی اولاد، اپنے رشتہ داروں اپنے قریبیوں پر فوقیت دی۔

حضرت معاذ بن جبل ؓبیان کرتے ہیں کہ آپؐ نے فرمایا :

اللہ کے ذکر سے بڑھ کر کوئی شے اللہ کے عذاب سے نجات دینے والی نہیں ہے۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ایک اور جگہ بیان کرتی ہیں کہ مجھ پر اللہ کی نعمتوں میں سے یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوئے۔میرے گھر میں، میری باری کے دن اور میرے سینے اور میری ہنسلی کے درمیان اور یہ کہ اللہ نےآپؐ کی وفات کے وقت میرے لعاب اور آپؐ کے لعاب کو جمع کیا۔وہ اس طرح کے عبدالرحمان میرے پاس آئے ان کے ہاتھ میں مسواک تھی اور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سہارا دیے ہوئے تھی۔ میں نے دیکھا کہ آپؐ اس کی طرف دیکھ رہے ہیں اور میں جانتی تھی کہ آپؐ مسواک پسند کرتے ہیں۔ مَیں نے عرض کیا کہ کیا مَیں اسے آپؐ کے لیے لوں ؟آپؐ نے سر سے ہاں کا اشارہ فرمایا۔میں نے وہ آپؐ کو دی توآپؐ کو سخت لگی۔میں نے عر ض کی کہ کیا میں اس کو آپؐ کے لیے نرم کروں ؟تو آپؐ نے سر سے ہاں کا اشارہ کیا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پانی کا برتن تھا۔آپ اپنے ہاتھ پانی میں ڈالتے اور ان کو اپنے چہرہ مبارک پر پھیرتے اور فرماتے لا الٰہ الا اللہ کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔بےشک موت کی سختیاں ہوتی ہیں۔پھر آپؐ نے اپنا ہاتھ اٹھایا اور کہنے لگے فی الرفیق اعلیٰ۔ رفیق اعلیٰ کی طرف۔ یہاں تک کہ آپؐ فوت ہو گئے اور آپؐ کا ہاتھ جھک گیا۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں :آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا تعالیٰ نے آخری وقت میں مخیّر کیا۔یعنی اختیار دیا تھا کہ اگر چاہو تو دنیا میں رہو اور اگر چاہو تو میری طرف آجاؤ۔آپؐ نے عرض کیا کہ اے میرے ربّ !میں یہی چاہتا ہوں کہ تیری طرف آؤں اور آخری کلمہ آپ کا جس پر آپؐ کی جانِ مطہر رخصت ہوگئی یہی تھا کہ بالرفیق الاعلیٰ۔یعنی اب میں اس جگہ رہنا نہیں چاہتا میں اپنے خدا کے پاس جانا چاہتا ہوں۔

اللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَبَارِکْ وَسَلِّمْ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَجِیْدٌ۔

٭…٭…٭

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button