کلام امام الزمان علیہ الصلاۃ والسلام

دَم میں …تقاضائے محبت کا بھی دخل ہے

ایک شخص نے مسئلہ استفسار کیا کہ تعویذ کا بازووغیرہ مقامات پر باندھنا اور دم وغیرہ کرنا جائز ہے کہ نہیں؟ اس پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام جناب مولاناحکیم نورالدین صاحب کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایاکہ

احادیث میں کہیں اس کا ثبوت ملتا ہے کہ نہیں؟

حکیم صاحب نے عرض کی کہ لکھا ہے کہ خالدبن ولیدجب کبھی جنگوں میں جاتے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے موئے مبارک جو کہ آپ کی پگڑی میں بندھے ہوتے آگے کی طرف لٹکا لیتے۔پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ایک دفعہ آنحضرتؐ نے سرمنڈوایا تو آدھے سر کے کٹے ہوئے بال ایک شخص کو دے دیئے اور آدھے دوسرے حصّہ کے باقی اصحاب کو بانٹ دیئے۔‘‘ (الحکم جلد ۷ نمبر ۲۶ مورخہ ۱۷؍ جولائی ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۰) ) ایک دفعہ صبح کے وقت ساراسرمنڈوایا تھا توآپ نے نصف سرکے بال ایک خاص شخص کودے دیئے اور نصف سرکے بال باقی اصحاب میں بانٹ دیئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جُبّہ مبارک کو دھو دھو کر مریضوں کو بھی پلاتے تھے (الحکم میں ہے:’’ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات جبہ شریف دھو کر مریضوں کو بھی پلایا کرتے تھے۔‘‘ (الحکم جلد ۷ نمبر ۲۶ مورخہ ۱۷؍ جولائی ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۰)) اور مریض اس سے شفایاب ہوتے تھے۔ایک عورت نے ایک دفعہ آپ کا پسینہ بھی جمع کیا یہ تمام اذکار سن کر حضرت اقدس نے فرمایا کہ

پھر اس سے نتیجہ یہ نکلا کہ بہرحال اس میں کچھ بات ضرور ہے جو خالی ازفائدہ نہیں ہے اور تعویذوغیرہ کی اصل بھی اس سے نکلتی ہے۔بال لٹکائے تو کیا اور تعویذباندھا تو کیا میرے الہام میں جو ہے کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔آخر کچھ تو ہے تبھی وہ برکت ڈھونڈیں گے مگر ان تمام باتوں میں تقاضائے محبت کا بھی دخل ہے۔

(ملفوظات جلد ۵ صفحہ ۱۸۹، ۱۹۰۔ ایڈٰشن ۲۰۲۲ء)

حضرت مفتی محمد صادق صاحبؓ بیان کرتے ہیں: ایک دفعہ عاجز راقم لاہور سے قادیان آیا ہوا تھا اور جماعت لاہور کے چند اَوراصحاب بھی ساتھ تھے۔ صوفی احمد دین صاحب مرحوم نے مجھ سے خواہش کی کہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خدمت میں سفارش کرکے صوفی صاحب کے سینہ پر دَم کرادوں۔ چنانچہ حضرت صاحبؑ کوچہ بندی میں سے اندرون خانہ جا رہے تھے جبکہ مَیں نے آگے بڑھ کر صوفی صاحب کو پیش کیا اوران کی درخواست عرض کی۔ حضورؑنے کچھ پڑھ کر صوفی صاحب کے سینے پر دَم کردیا۔ (پھُونک مارا) اورپھر اندر تشریف لے گئے۔

(ذکر حبیب مصنفہ حضرت مفتی محمد صادق صاحبؓ، صفحہ ۱۳۷)

مزید پڑھیں: اپنے فرقہ کا نام احمدی کیوں رکھا ہے؟

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button