امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ اراکینِ مجلس انصار الله فرانس کے ایک وفد کی ملاقات
اگر اللہ تعالیٰ کی خاطر کام کرنا ہے، تو اللہ سے تعلق پیدا کریں اور اپنی جو آپ کی صلاحیتیں ہیں، ان کو اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر استعمال کرنے کی کوشش کریں بجائےاس کے کہ اپنے ذاتی مفادات ہوں تبھی آپ لوگ خلافت اور خلیفۂ وقت کے مددگار بن سکتے ہیں
مورخہ ٢۵؍ جنوری ۲۰۲۶ء ، بروزاتوار، امام جماعت احمدیہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ اراکینِ مجلس انصار الله فرانس کے اکتیس(۳۱) رکنی وفد کو بالمشافہ شرفِ ملاقات حاصل ہوا۔ یہ ملاقات اسلام آباد (ٹِلفورڈ) میں واقع ایم ٹی اے سٹوڈیوز میں منعقد ہوئی۔ مذکورہ وفد نے خصوصی طور پر اس ملاقات میں شرکت کی غرض سے فرانس سے برطانیہ کا سفر اختیار کیا۔
جب حضورِ انور مجلس میں رونق افروز ہوئے تو آپ نےتمام شاملینِ مجلس کو السلام علیکم کا تحفہ عنایت فرمایا۔
سب سے پہلے حضورِ انور نے صدر مجلس انصاراللہ فرانس سے مخاطب ہوتے ہوئے وفد میں شامل ایک رکن کے بارے میں دریافت فرمایا، جنہیں اچانک ہسپتال میں داخل کروایا گیا تھا۔ صدر صاحب نے حضورِ انور کی خدمتِ اقدس میں ان کی صحت کی موجودہ صورتحال کے بارے میں تازہ رپورٹ پیش کی۔

بعد ازاں تمام شرکائے مجلس کو حضورِ انور کی خدمتِ اقدس میں فرداً فرداً اپنا تعارف پیش کرنے کا موقع ملا۔
مزید برآں دورانِ ملاقات شاملینِ مجلس کو حضور انور کی خدمت میں متفرق سوالات پیش کرنے نیز ان کے جوابات کی روشنی میں حضورانور کی زبانِ مبارک سے نہایت پُرمعارف، بصیرت افروز اور قیمتی نصائح پر مشتمل راہنمائی حاصل کرنے کی سعادت بھی نصیب ہوئی۔
ایک شریکِ مجلس نے عرض کیا کہ پیارے حضور! ہم مشاہدہ کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے خلیفہ کے وقت میں غیرمعمولی برکت عطا فرمائی ہے۔ اگرچہ وقت کی مقدار بھی بہت زیادہ ہے تاہم یہ ایک حقیقت ہے کہ اسی وقت میں حاصل ہونے والے عظیم الشان نتائج مافوق الفطرت محسوس ہوتے ہیں۔ حضور! ہمارے استفادے کے لیے راہنمائی فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ ساتھ ایسی بابرکت اور مؤثر کارکردگی حاصل کرنے کا کیا طریق یا نسخہ ہے؟
اس پر حضورِانور نے دریافت فرمایا کہ کیا آپ خُطبات سنتے ہیں؟اثبات میں جواب سماعت فرمانے پر حضورِ انور نے اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر کام کرنے کے لیے اللہ سے مضبوط تعلق قائم کرنے اور اپنی صلاحیتوں کو ذاتی مفادات کے بجائے اس کی رضا کے لیے وقف کرنے کی اہمیت کی جانب توجہ دلاتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اگر اللہ تعالیٰ کی خاطر کام کرنا ہے، تو اللہ سے تعلق پیدا کریں اور اپنی جو آپ کی صلاحیتیں ہیں، ان کو اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر استعمال کرنے کی کوشش کریں بجائےاس کے کہ اپنے ذاتی مفادات ہوں تبھی آپ لوگ خلافت اور خلیفۂ وقت کے مددگار بن سکتے ہیں۔ جب آپ مددگار بنیں گے اور نیک نیتی سے کام کریں گے اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کی کوشش کریں گے تو اللہ تعالیٰ آپ کو زیادہ سے زیادہ کام کرنے کی توفیق دے گا اور آپ لوگ اس سے فائدہ اُٹھانے کی کوشش کریں گے۔
حضورِ انور نے ذاتی مفادات سے پیدا ہونے والے جماعتی نقصان اور قوم میں بگاڑ کے ممکنہ خطرات کے حوالے سے بھی متنبّہ فرمایا کہ اور اگر ذاتی مفادات ہوں گے،ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے والے ہوں گے ، اور اس بات میں لگے رہیں گے کہ یہ نہیں ہوا اور وہ نہیں ہوا، تو پھر آپ نہ صرف اپنے آپ کو نقصان پہنچانے والے ہوں گے بلکہdirectlyگو اللہ تعالیٰ اس کے نتائج تو نہیں ایسے پیدا کرے گا، لیکن آپ کی وجہ سے جماعت کو نقصان ہو سکتا ہے۔ آپ کی وجہ سے ایک آدمی بھی اگر بگڑتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ آپ نے ایک غلط کام کیا اور قوم کو بگاڑنے کی کوشش کی ہے۔ اس لیے اگر صحیح فائدہ اُٹھانا ہے تو پھر ہر کام اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کرنے کی کوشش کریں۔
اسی تناظر میں حضورِ انور نے بالعموم خطبات میں بیان فرمودہ نصائح اور بالخصوص آجکل بیان ہونے والی سیرت ِنبویؐ پر غور و فکر کرنے کی ضرورت پر زور دیا کہ اور مَیں خطبات میں کئی دفعہ باتیں بیان کرتا ہوں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت آجکل بیان کر رہا ہوں اور اس سے پہلے بھی بیان کر چکا ہوں تو ان باتوں پر ذرا غور کیا کریں اور دیکھا کریں۔
جواب کے آخر میں حضورِانور نے یاد دلایا کہ آپ انصار ہو گئے ہیں اورآپ کا ایکmatureدماغ ہے۔ اس میں مَیں آپ کو اور کیا بتاؤں، جب آپ کو یہ سب کچھ پتا ہے تو پھر ٹھیک ہے۔ کسی بچے کو تو بتایا جا سکتا ہے لیکن آپ کو کیا بتاؤں۔ آپ تو انصار اللہ میں ہیں۔
ایک شریکِ مجلس نے حضورِانور کی خدمتِ اقدس میں عرض کیا کہ دین کو دنیا پر مقدّم رکھنے کے عہد کی راہ میں بعض اوقات ہماری دنیاوی مجبوریوں، ضرورتوں یا حالات کے بہانے آڑے آ جاتے ہیں، پیارے آقا! راہنمائی فرمائیں کہ ہم اس مشکل سے کیسے چھٹکارا پا سکتے ہیں؟
اس پر حضورِانور نے گذشتہ سوال کے جواب میں عطا فرمائی گئی تلقین کا اعادہ فرمایا کہ وہی پہلے والا جواب ہی ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر کام کرنا ہے اور اگر ہر موقعے پر اللہ کی رضا مقدّم ہے تو آپ دین کو بھی مقدّم رکھیں گے۔
علاوہ ازیں حضورِ انور نے اللہ تعالیٰ کی رضا کو مقدّم رکھنے اور اسباب کو اس کی رضا کے تابع کرنے کی نصیحت کو یاد دلاتے ہوئے فرمایا کہ گاہے بگاہے مَیں یہ باتیں ایک ایک کر کے کرتا رہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی رضا مقدّم رکھو، حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جیسا کہ فرمایا ہے کہ جو اسباب ہیں ،صرف ان پر بھروسہ نہ رکھو، اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کی کوشش کرو اور اسباب کو ان کے تابع رکھو ورنہ تم شرک کرنے کے مرتکب ہو گے اور جو شرک ہے، وہ اللہ تعالیٰ کو سخت ناپسند ہے۔
اسی سلسلے میں حضورِ انور نے دین کو دنیا پر مقدّم رکھنے کے عہد پر عمل کی ضرورت اور اس کے نتائج کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ اب پچھلے دو تین خطبوں میں یہی باتیں بتا رہا ہوں کہ یہ چھوٹے چھوٹے جو بُت بنائے ہوئے ہیں ان کو چھوڑو اور اسباب پر صرف انحصار نہ کرو۔ اللہ تعالیٰ کی رضا مقدّم ہونی چاہیے۔ اگر وہ ہوگی تو آپ کے سارے مسائل بھی حل ہو جائیں گے اور جو دین کو دنیا پر مقدّم رکھنے کا عہد ہے اس کو بھی پورا کرنے والے ہوں گے۔ نہیں تو آپ عہد کرتے ہیں اور اس کے بعد مکر جاتے ہیں، تو اللہ تعالیٰ تو پھر فرماتا ہے کہ مَیں تم سے اگلے جہان میں اس کے متعلق سوال کروں گا۔ تو اگر اللہ کا خوف ہو تو آدمی خوفزدہ ہو کے ویسے ہی عہد کی پابندی کرے۔
اسی طرح حضورِ انور نے غلطیوں کی اصلاح اور بہترین جماعت بننے کے ضمن میں خُطباتِ جمعہ ، مختلف مواقع پر فرمودہ تقاریر اور آجکل بیان ہونے والی سیرت ِ نبویؐ سے نمونہ حاصل کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ جب انسان کو پتا ہو کہ میرے میں یہ غلطیاں ہیں، تو ان کو دُور کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ حضورِ انور نے ایک کہاوت کے ذریعے واضح کیا کہ کہتے ہیں کہ سوئے ہوئے کو تو جگایا جا سکتا ہے لیکن جاگتے ہوئے کو کون جگائے، وہ تو مچلا بنا ہوا ہے۔تو اگر آپ نے مچلے بنے رہنا ہے تو پھر اس کا تو کوئی علاج نہیں ہے۔ اور اگر سوئے ہوئے ہیں، تو مَیں ہر جمعہ بتاتا رہتا ہوں، انہی میں سے آپ واقعات نکالیں، سیرت کے واقعات ہیں، اسی طرح سے مختلف موقعوں پر تقاریر ہیں۔ اور سیرت اس لیے بیان ہو رہی ہے تاکہ ہمارے سامنے نمونہ ہو، اُسوۂ حسنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا پیش ہو، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کا عمل ہمارے سامنے نظر آئے اور آپ کی تعلیم نظر آئے۔ تو اس پر اگر ہم عمل کرنے والے ہوں گے تو بہترین جماعت ہوں گے۔
اسی تناظر میں حضورِ انور نے فرانس کی چھوٹی سی جماعت کے لیے دین کو دنیا پر مقدم رکھنے کے عہد کو پُورا کرنے اور ایک انقلاب برپا کرنے کی غرض سے قربانی کی ضرورت پر روشنی ڈالی کہ فرانس کی چھوٹی سی جماعت ہے۔ اگر یہ دین کو دنیا پر مقدّم رکھنے کے عہد کو پُورا کرنے والی ہو تو باوجود ساری دنیاوی معاشرے کی بُرائیوں کے آپ ایک انقلاب لا سکتے ہیں۔ تو یہ تو آپ لوگوں کے لیے ایک چیلنج ہے کہ آپ نے یہ کس طرح کرنا ہے۔ ہاں! اگر دنیا آپ کے سامنے سب کچھ ہے تو پھر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ پھر آپ اپنے اس عہد کو اُلٹا دیں کہ مَیں دنیا کو دین پر مقدّم رکھوں گا اور پھر دین کو دنیا پر مقدّم رکھنے والی بات نہ کریں۔ اس کے لیے تو پھرقربانی کرنی پڑتی ہے۔
حضورِانور نے دین اور قربانی کے باہمی تعلق کے ضمن میں یاد دلایا کہ ابھی پرسوں جو جمعے پر مَیں نے واقعہ سنایا، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اقتباس کہ صحابہؓ نے جو اعزاز پایا تو کوئی مُفت میں پا لیا تھا؟ انہوں نے قربانیاں کی تھیں۔ تو قربانیاں کرنی پڑتی ہیں۔ دنیا کمانے والوں کو قربانیاں کرنی پڑیں گی،تبھی دین میں ترقی کریں گے۔ دین تو ایک قربانی چاہتا ہے، مُفت میں تو اعزاز نہیں ملتا اور نہ ہی سرسری طور پر کام کر کے آپ اپنا مفاد حاصل کر سکتے ہیں۔جواب کے آخر میں حضورِ انور نے اس بات پر زور دیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ خدا تعالیٰ کو حاصل کرنے کے لیے محنت کرنی پڑتی ہے اور نیک نیّتی ہونی چاہیے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ خدا تعالیٰ ٹھگا نہیں جا سکتا۔ آپ بندوں کو ٹھگ لیتے ہیں کہ یہ یا وہ، کوئی داؤ لگا لیا، لیکن اللہ کو نہیں ٹھگا جا سکتا اور اللہ کو داؤ نہیں لگتا۔ اس لیے اس بات کو پھر سوچنا چاہیے، اور آپ تب اپنے عہد کی پابندی کریں گے کہ جب آپ کو یہ ادراک حاصل ہو جائے گا۔
ایک سائل نے عرض کیا کہ آجکل دنیا کے ممالک مختلف دھڑوں میں تقسیم ہو کر ایک دوسرے کے خلاف جنگ کی آگ بھڑکا رہے ہیں۔ اس سلسلے میں راہنمائی کی درخواست کی کہ ان حالات میں ان ممالک میں بسنے والے احمدیوں میں کس طرح فساد اور جنگ سے بچنے کے لیے آگاہی پیدا کرنی چاہیے؟
اس پرحضورِانور نے سوال کے نفسِ مضمون کی روشنی میں ذاتی سطح پر اور اپنے اپنے ماحول میں آگاہی پیدا کرنے کی اہمیت کی یاد دہانی کرواتے ہوئے توجہ دلائی کہ اتنی دفعہ تو مَیں کہہ چکا ہوں کہ کتنی آگاہی پیدا کریں، ہوشیار کر رہا ہوں کہ آپ خود بھی ہوشیار ہوں اور اپنے اپنے ماحول میں لوگوں کو بھی ہوشیار کریں کہ ہم آگ کی طرف جا رہے ہیں۔
حضورِ انور نے گذشتہ بیس سال کے عالمی حالات کے بارے میں اپنی فرمودہ تنبیہات کے موجودہ حالات میں غیر وں کی جانب سے درست تسلیم کیے جانے پر اظہارِ خیال فرمایا کہ پچھلے بیس سال سے مَیں یہی باتیں کر رہا ہوں کہ ہم آگ کی طرف جا رہے ہیں۔ پہلے لوگ کہتے تھے کہ نہیں جا رہے، تم لوگ بڑے انتہا پسند ہو اور تمہاری سوچ بہت زیادہ منفی ہے۔ اب وہی جو مَیں باتیں کرتا تھا، اب خود کہنے لگ گئے ہیں کہ ہاں! تم ٹھیک کہتے تھے کہ ہم آگ کی طرف جا رہے ہیں۔
اسی طرح حضورِانور نے بین الاقوامی دھڑوں کے بننے کے پیچھے کارفرما محرّکات، طاقت کے غلط استعمال اور قیامِ انصاف کی عدم موجودگی کے خطرات کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ دھڑے جو بن رہے ہیں یہ اس لیے بن رہے ہیں کہ انہوں نے UNO اس لیےبنائی تھی کہ ہم ایک ہو کے رہیں گے۔ لیکن اس میں انہوں نے جب امتیاز پیدا کرنا شروع کر دیا اور کچھ ملکوں کو ویٹو پاور دے دی اور ان کو یہ اختیار دے دیا کہ وہ اکثریت کے فیصلے کو ردّکر سکتے ہیں اور ایک آدمی بھی ایسا کر سکتا ہے تو پھر اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ انصاف قائم نہیں رہتا۔اور جب انصاف قائم نہیں رہتا تو آہستہ آہستہ وہ آگ جو سُلگ رہی ہوتی ہے ، وہ ایک وقت میں آ کے پھر بھڑکتی ہے۔ اور جب کوئی سر پھرا صدر آ جائے جس طرح آجکل امریکہ کا آیا ہوا ہے تو پھر مختلف دھڑے ہو جاتے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ مَیں UN کو مانتا نہیں اور میرا اپنا قانون چلے گا۔
علاوہ ازیں حضورِانور نے عالمی بلاکس اور دھڑوں کے بننے اور طاقت کے اثرات کی روشنی میں موجودہ عالمی انتشار کے حوالے سے بیان فرمایا کہ اس لیے اب کینیڈا کے پرائم منسٹر نے کہا کہ دنیا اب بدل رہی ہے اور اب نئے بلاک بن رہے ہیں۔ اب UN والی بات کوئی نہیں رہی۔ اب ہمیں اپنے اپنے بلاک بنانے پڑیں گے۔ سو ہر ایک اپنی بقا کے لیے کوشش کرے گا کہ مَیں کس طرح زندہ رہ سکتا ہوں، وہ گروپ بنائے گا اور جب گروپ بنائے گا، تو دھڑے بنیں گے اور پھر جس کے پاس طاقت ہوگی وہ اپنے مخالف پر فتح حاصل کر لے گا یا اس کو زیر کر لے گا یا اس کو کسی نہ کسی طرح اپنے زیرِ اثر لے آئے گا، چاہے جنگ کی صورت میں ایسا نہ بھی ہو۔ تو اسی طرح آج کل ہو رہا ہے۔
مزید برآں حضورِ انور نے دعا، محنت اور قیامِ امن کی کوشش پر زور دیتے ہوئے بظاہر نظر آنے والی ممکنہ تباہی اور اس کے نتائج سے آگاہ فرمایا کہ اس کے لیے جس طرح ہمیں خود دعا کرنی چاہیے اسی طرح لوگوں کو بھی ہوشیار کرنا چاہیے۔ خود بھی اس طرف توجہ دیں اور زیادہ محنت کریں کہ کس طرح سےہم دنیا میں امن پیدا کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ لیکن بظاہر نظر یہی آ رہا ہے کہ کوئی صورت نہیں ہے اور جب یہ صورت ہوگی اور دنیا میں تباہی آئے گی، تو تبھی پھر دین اور اللہ کی طرف رجحان پیدا ہوگا۔
جواب کے آخر میں حضورِانور نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئیوں اور الٰہی وعدوں کی تکمیل کے لیے تعلق باللہ میں ترقی کی اہمیت کو اُجاگر کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ پیشگوئیاں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ہیں وہ پوری تو ہونی ہیں۔ پھر جو ہوگا تو اس کے لیے اس سے پہلے کہ ہم بھی دنیا کے بہاؤ میں جا کے اسی طرح اس سے تباہ ہو جائیں تو پھر اللہ تعالیٰ سے زیادہ لو لگاؤ، اللہ تعالیٰ کو یاد کرو اور اس سے مدد مانگو۔ اور پھر آپ دیکھیں گے کہ اللہ تعالیٰ نےکم از کم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو فرمایا ہے
آگ ہے پر آگ سے وہ سب بچائے جائیں گے
جو کہ رکھتے ہیں خدائے ذوالعجائب سے پیار
تو اللہ سے جب پیار پیدا ہوگا، اللہ کی خاطر سب کچھ کر رہے ہوں گے، تو آپ خود بھی بچائے جائیں گے اور دنیا کو بھی کچھ حدّ تک بچا لیں گے۔ نہیں تو اب پھر تباہی ہی ہے اور اس کا کیا انجام ہوگا یہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔
ایک شریک مجلس نے فرانسیسی زبان میں گفتگو کرتے ہوئے حضور انور سے مسئلہ تقدیر کی بابت دریافت کیا کہ آیا انسانی اعمال اس پر اثر انداز ہو سکتے ہیں یا نہیں؟
اس پرحضورِ انور نے بصیرت افروز انداز میں وضاحت فرمائی کہ اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ تو نہیں کیا کہ تمہارے لیے مَیں نے یہ مقرر کر دیا ہے اور تم اس سے آگے نہیں بڑھ سکتے۔ بات یہ ہے کہ انسان اگر نیک عمل کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کا اجر بھی دیتا ہے۔
حضورِانور نے اللہ تعالیٰ کے علم اور انسان کے اعمال کے نتائج میں فرق کو واضح کرتے ہوئے بیان فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے علم میں ہونااَور بات ہے اور اس کا نتیجہ نکالنا ایک اَور بات ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو یہ تو نہیں کہا کہ تم بُرے کام کرو اور تمہیں ضرور سزا ملے گی۔ اللہ تعالیٰ کی یہ تقدیر ضرور ہے کہ جو بُرے کام کرے گا تو اس کو سزا ملتی ہے اور وہ اس کا نقصان اُٹھائے گا، لیکن اللہ تعالیٰ کی یہ تقدیر بالکل نہیں ہے کہ تم ضرور بُرے کام کرو۔
حضورِانور نے انسانی انتخاب اور نیکی کی طرف رجحان کے ذریعے تقدیر کے بدلنے کی تفہیم ایک ایمان افروز واقعے کی صورت میں بیان فرمائی کہ اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے کہ فلاں شخص بُرے کام کرے گا اور اس کو سزا ملے گی، لیکن اللہ تعالیٰ نے ہوشیار بھی کر دیاہے۔ اس لیے واقعہ آتا ہے کہ ایک بندہ جس نے سو(۱۰۰) قتل کیے تھے، وہ بھی جب نیکی کی طرف جانے لگا اور سو(۱۰۰) قتل کرنے کے بعد بھی اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کا اس کو خیال پیدا ہوا تو اللہ تعالیٰ نے اس کو بخش دیا کیونکہ وہ نیکی کی طرف زیادہ چلا گیا تھا اوراللہ تعالیٰ کی بخشش کی طرف جا رہا تھا۔ تو اللہ تعالیٰ کی تقدیر یہ نہیں تھی کہ اس کو اس نے تباہ کرنا اور ضرور ہی جہنّم میں ڈالنا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو یہ علم تھا کہ اس نے یہ گناہ کرنے ہیں لیکن آخر میں اللہ تعالیٰ کی تقدیر نے یہ فیصلہ کیا کہ اس کو معاف کر دوں کیونکہ وہ نیکی کی طرف مائل ہو گیا۔
علاوہ ازیں حضورِانور نے انسان کے آخری اعمال کی بنیاد پر تقدیر کے بدلنے کی فلاسفی پر اس پیرائے میں بھی روشنی ڈالی کہ آپ کااپنا جو آخری عمل ہے اس سے اپنی تقدیر بدل لیتے ہیں۔ اس لیے یہ کہنا کہ تقدیر یہی ہے اور اس لیے ہم کچھ نہ کریں اور بیٹھے رہیں غلط ہے۔ گناہ کرنا ہے تو ہم نے گناہ کرنا ہی کرنا ہے، ایک گناہ ہو گیا، تو جہنّم میں ہی جانا ہے۔ نہیں! یہ ضروری نہیں ہے، بلکہ اللہ تعالیٰ بخشنے والا ہے اور بخش بھی دیتا ہے اور آپ جو کر رہے ہیں، ذمہ وار تو آپ اس کے خود ہیں، لیکن اگر آپ چاہیں اور احساس پیدا ہو جائے ، انسان کو اللہ تعالیٰ نے دماغ دیا ہے، اس سے سوچیں اور اس سوچ کو استعمال میں لائیں اور دیکھیں کہ ہم کس طرح اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آ سکتے ہیں، کس طرح ہم اس کو راضی کر سکتے ہیں، کس طرح اس سے انعام لے سکتے ہیں اور اِستغفار کی توبہ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے انسان کے لیے رکھی ہے۔
اسی طرح حضورِانور نے تقدیر اور مقصد کے حصول میں محنت کی ضرورت اور اللہ تعالیٰ کے علم و فیصلے میں پائی جانے والی حکمت و وُسعت کو حکیمانہ انداز میں بیان فرمایا کہ یہ کہنا کہ کیونکہ یہ تقدیر میں ہے اور اسی طرح کرنا ہے یا ہمارا کوئی مقصد ہے، جس کو ہم حاصل نہیں کر سکتے۔ اب اللہ تعالیٰ نے ایک مقصد رکھا ہے کہ تم نے ایک چیز حاصل کرنی ہے، تو اس کے لیے تمہیں محنت اور کوشش کرنی پڑے گی اور جو محنت اور کوشش کریں گے تو اللہ تعالیٰ اس کانتیجہ نکالے گا اور اگر نہیں کریں گے تو اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے کہ آپ کوشش نہیں کریں گے اور اس کاانجام پھر یہ ہوگا۔ لیکن اگر آپ کو اس وقت میں احساس پیدا ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ نہیں کہ ضرور تمہیں تباہ کروں گا۔ اللہ تعالیٰ نے خوف دلایا ہوا ہے اورانسان اگر اپنے عمل بدلے تو اللہ تعالیٰ کے فیصلے بدل جاتے ہیں ۔ یہی اللہ تعالیٰ کی تعلیم ہے کہ اگر انسان کی سوچ بہتر ہو جائے تو اللہ تعالیٰ اپنے فیصلے بھی بدل دیتا ہے۔ جواب کے آخر میں حضورِ انور نے اس حقیقت کا اعادہ فرمایا کہ یہ کہہ دینا کہ یہ تقدیر میں لکھا ہے، ہمارے لیے یہ ضرور ہوگا، ضروری نہیں ہے، اللہ تعالیٰ کی تقدیر بدل جاتی ہے۔
ایک سائل نے عرض کیا کہ جماعتی اورذیلی تنظیموں کے شعبہ جات کے لائحہ عمل اور مقاصد یکساں ہیں۔ اس حوالے سے راہنمائی کی درخواست کی کہ کس طرح ہم مکمل ہم آہنگی کے ساتھ ایک دوسرے کی معاونت کرتے ہوئے بہتر انداز میں کام کر سکتے ہیں؟
اس پر حضورِ انور نے لطیف پیرائے میں جماعت اور ذیلی تنظیموں کےنظام کوباہمی تعاون پر قائم ایک مربوط اور متوازن ڈھانچہ قرار دیتے ہوئے قرآنی تعلیم کی روشنی میں باہمی تعاون کی اہمیت پر روشنی ڈالی کہ سوال یہ ہے کہ جماعت اور ذیلی تنظیمیں یہ نظام ِجماعت کے چار پہیے ہیں ۔ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جو ذیلی تنظیمیں بنائی تھیں وہ اس لیے بنائی تھیں کہ وہ جماعت کے ساتھ تعاون کریں گی اور سارے ایک ہو کے چلیں گے اور چاروں پہیے اگر ٹھیک طرح چل رہے ہوں گے تو رفتار تیز ہو جائے گی۔ اگر ایک پہیے پر ایک چیز چل رہی ہوگی، تو اس کو balance کرنا مشکل ہو جاتا ہے، دو پہیوں پر بھی اگر کچھ چل رہا ہو، سکوٹر بچوں کےدو پہیوں والے ہوتے ہیں، تو بعض دفعہ گرنے کا بھی خطرہ ہوتا ہے، چار پہیوں والا جو ہوتا ہے ، تو وہ ٹھیک ہوتا ہے۔ لیکن چار پہیوں میں سے اگر ایک پہیہ پنکچر ہو جائے تو گاڑی وہیں گھومنا شروع ہو جاتی ہے اور وہ آگے نہیں بڑھتی۔ تو اس لیے تعاون کرنا چاہیے، اللہ تعالیٰ نے یہی فرمایا ہے کہ تَعَاوَنُوۡا عَلَی الۡبِرِّ وَالتَّقۡوٰی کہ نیکی اور تقویٰ میں ایک دوسرے سے تعاون کرو۔ اور ہمارا مقصد اگر نیکی اور تقویٰ ہے، تو ہر ایک کو یہrealiseکرنا چاہیے کہ ہم نے تعاون کرنا ہے اور خدا تعالیٰ کی خاطر ہر کام کرنا ہے۔
اسی طرح حضورِ انور نے ذیلی تنظیموں کو اپنی علیحدہ حیثیت جتانے کے بجائے باہمی رحم، اخوّت اور انکسار کے ساتھ باہم ایک ہو کرکام کرنےمیں ہی حقیقی ترقی کا راز پنہاں قرار دیتے ہوئے تلقین فرمائی کہ جب یہ احساس پیدا ہو جائے گا، تو آپ لوگ سب ایک ہو کے کام کریں گے۔ اگر ہر ایک اپنی اپنی چودھراہٹ قائم کرنے کی کوشش کرے گا اور صدر صاحب انصار الله کہیں گے کہ میری اپنی بادشاہت ہے، لجنہ کہے گی کہ میرااپنا زور ہے، خدام الاحمدیہ اپنی چودھراہٹ قائم کرے گی اور جماعت اپنے نظام میں چل رہی ہوگی تو پھر تعاون نہیں ہوگا۔ اس لیے مومنوں کی نشانی جو اللہ تعالیٰ نے بتائی ہے وہ رُحَمَآءُ بَیۡنَھُمۡ کہ آپس میں ان کا رحم اور تعاون کا سلوک ہوتا ہے، تو وہ چیز ہمیں دیکھنی چاہیے، وہ اگر ہوگی تو ہم ترقی کریں گے۔
مزید برآں حضورِ انور نے حقیقی ترقی کے حصول کے لیے عمل کی ضرورت و اہمیت کو اُجاگر فرماتے ہوئے اس بات پر بھی زور دیا کہ اور یہ بات ہر ایک کوپتا ہے، یہ نہیں کہ کسی کو پتا نہیں اور اگر آپ کسی سے بات کر لیں ابھی تو وہ اس پر ایک لیکچر دے گا کہ تعاون کیا چیز ہے؟ لیکن عمل کرنا ہو تو وہاں مشکل پیش آ جاتی ہے۔ اس لیےعمل کرنا ضروری ہے۔ اقبال نے تو کہا تھا
عمل سے زندگی بنتی ہے جنّت بھی جہنّم بھی
یہاں تک تو ٹھیک ہے، اگلا مصرعہ غلط ہے، پہلا مصرعہ ہی بس ٹھیک ہے۔ تو عمل جو ہے وہ ضروری ہے۔ تو اگر عمل ٹھیک ہوں گے تو ترقی ہوگی اور اگر نہیں ہوں گے تو جتنا مرضی زور لگا لیں اور جس نے نہیں سننا تو اس نے نہیں سننا۔ میری باتیں سننے کے بعد بھی کہہ دیتے ہیں کہ اچھا! فیر کی کیا سی، تو پھر تو کچھ فائدہ نہیں۔
ایک شریکِ مجلس نے دریافت کیا کہ نَحۡنُ اَنۡصَارُ اللّٰہ کے نعرے اور عزم کو ہم کس طرح عملی طور پر ثابت کر سکتے ہیں اور مجلس انصار اللہ کے کارکنان اور ذمہ دار کن باتوں کا خیال رکھیں، تو وہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم کم از کم اپنی ذمہ داری کا حق ادا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں؟
اس پر حضورِ انور نے دریافت فرمایا کہ انصار الله کے اجتماع پر دو سال پہلے آپ نے میری تقریر سنی تھی؟ اثبات میں جواب سماعت فرمانے کے بعد حضورِ انور نے نَحۡنُ اَنۡصَارُ اللّٰہ کے نعرے کو محض دعویٰ نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کےلیے عملی عزم سے ثابت کرنے کی ضرورت پر زور دیا کہ اس میں نَحۡنُ اَنۡصَارُ اللّٰہ کے لفظ پر مَیں نے کیا کہا تھا ،اورپہلے بھی مَیں کہہ چکا ہوں کہ اگر اللہ تعالیٰ کا خوف ہے اور اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر آپ کام کر رہے ہیں، تو نَحۡنُ اَنۡصَارُ اللّٰہ بن جائیں گے۔ نہیں تو صرف نعرہ ہے، کھوکھلے دعوے ہیں اور کچھ بھی نہیں ہے۔ پھر دوسرے لوگ جو ہیں، دوسری قومیں جو ہیں ، عرب ہیں، افریقن ہیں،وہ آگےترقی کریں گے اوروہ پھرسبقت لے جائیں گے۔ تو آپ لوگ اپنے آپ کو سمجھتے ہیں کہ ہم کیونکہ پاکستانیorigin کے ہیں، اس لیے ہمارا کوئی حق بن گیا ہے، کوئی حق نہیں۔ نَحۡنُ اَنۡصَارُ اللّٰہ پر عمل کرنے کی کوشش کریں گے اور ثابت کریں گے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر ہر کام کر رہے ہیں اور خلیفۂ وقت کے مددگار اور سلطانِ نصیر بن رہے ہیں تو اللہ تعالیٰ آپ کے کاموں میں برکت ڈال دے گا ۔ نہیں تو پھر ٹھیک ہے کہ جماعت تو ترقی کرے گی لیکن اللہ تعالیٰ آپ کو اُٹھا کے باہر پھینک دے گا ۔
مزید برآں حضورِ انور نے نَحۡنُ اَنۡصَارُاللّٰہ پر غور کرنےاور ذاتی محاسبہ کے ذریعے اسے عملی دینی ذمہ داریوں کی ادائیگی سے مشروط قرار دیتے ہوئے اس کے حقیقی معیار واضح فرمائے کہ اس لیے خدا کا خوف کرتے ہوئے نَحۡنُ اَنۡصَارُ اللّٰہ پر غور کرو اَور عمل کرو، اپنے عمل دیکھو کہ کیا ہیں اور خود اپنا جائزہ لیں ، کسی نے کیا جج کرنا ہے؟ انسان خود اپنے آپ کو assessکرے کہ مَیں نے سارے دن میں اللہ کا کتنا خیال رکھا، اللہ کی عبادت کا کتنا حق ادا کیا ، اللہ کی مخلوق کا حق کتنا ادا کیا، نیکی کی کتنی باتیں کیں، دینی علم بڑھانے کے لیے مَیں نے کیا کوشش کی ، اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانے کےلیے مَیں نے کیا کوشش کی تو نَحۡنُ اَنۡصَارُاللّٰہ بن جائیں گے۔ اور اگر نہ عبادت کی طرف توجہ ہے، نہ تبلیغ کی طرف توجہ ہے، نہ دینی علم بڑھانے کی طرف توجہ ہے، نہ اپنے گھریلو معاشرے میں حُسن ِسلوک کرنے کی طرف توجہ ہے، نہ آپس میں بھائی بھائی کا بھائی چارہ قائم کرنے کی اور اعلیٰ اخلاق بنانے کی طرف توجہ ہے، تو پھر نَحۡنُ اَنۡصَارُ اللّٰہ کیا ہوئے؟ آپ تو پھر کٹے ہوئے گوشت کی طرح ہیں جس کو کاٹ کے باہر پھینک دیا جائے گا۔ اس لیے یہ کوشش کریں۔
ایک اور شریکِ مجلس نے بھی فرانسیسی زبان میں گفتگو کرتے ہوئے حضورِ انور سے سوال کیا کہ ایک انسان آخرت کی بہترین تیاری کس طرح کر سکتا ہے؟
اس پر حضورِ انور نے خوفِ الٰہی کے تحت بنیادی اُموراللہ تعالیٰ کی یاد، اس کی رضا کے حصول کی کوشش، اور حقوق اللہ و حقوق العباد کی ادائیگی کی اہمیت کو اُجاگر کرتے ہوئے بیان کیا کہ الله تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ مجھے یاد رکھو سو یہی انجام ہے ۔ اگر ہمیں اللہ تعالیٰ کا خوف ہے اور اس کی رضا حاصل کرنے کے لیے ہم ہر کام کر رہے ہیں ، تو اللہ تعالیٰ خوش ہو جاتا ہے۔ دو کام اللہ تعالیٰ نے ہمیں بتائے ہیں کہ حقوق اللہ اور حقوق العباد۔ اگر ہم ان دونوں کی ادائیگی کر رہے ہیں تو اللہ تعالیٰ ہمارے سے راضی ہو جاتا ہے۔ جواب کے آخر میں حضورِ انور نے اس بات پر زور دیا کہ یہ ہر ایک کو پتا ہے ، قرآنِ کریم پڑھتے ہیں اور اس میں بار بار ان باتوں کا حکم آیا ہے، اس پر غور کریں، دیکھیں اور کوشش کریں کہ مَیں نے اس پر عمل کرنا ہے۔
ملاقات کے اختتام پر تمام شرکائے مجلس کو اپنے محبوب آقا کے ساتھ گروپ تصویر بنوانے اور آپ کے دستِ مبارک سے قلم بطورِ تبرک حاصل کرنے کی سعادت بھی نصیب ہوئی ۔
٭…٭…٭




