آنحضرتﷺ کی عبادت الٰہی کا دلنشین اور ایمان افروز تذکرہ۔ خلاصہ خطبہ جمعہ ۶؍فروری ۲۰۲۶ء
٭… عبادت محبت الٰہی کے بغیر نہیں ہو سکتی اور محبت الٰہی عبادت کےبغیر نہیں ہو سکتی ۔ اگر اللہ تعالیٰ کی محبت نہ ہو تو حقیقی عبادت ہو ہی نہیں سکتی
٭…آپؐ کی وہ دعائیں جو آپؐ نے اپنی امت کے لیے کی ہیں تب ہی ہمیں اپنی لپیٹ میں لیں گی اور ہمارے لیے فائدہ مند ہوں گی جب ہم آپؐ کے اسوہ اور احکامات کو ہمیشہ پیش نظر رکھ کر عمل کی کوشش کریں گے
٭… رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ آزاد اور آپؐ سے بڑھ کر زیادہ حرّکون ہوگا مگر آپؐ کی نسبت آتا ہے کہ آپؐ جب دعا کرتے تھے تو بعض اوقات آپؐ کے سینے سے اس طرح آواز نکل رہی ہوتی تھی جس طرح ہنڈیا ابل رہی ہو
خلاصہ خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ ۶؍فروری ۲۰۲۶ء بمطابق ۶؍تبلیغ ۱۴۰۵؍ہجری شمسی بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد،ٹلفورڈ(سرے)، یوکے
اميرالمومنين حضرت خليفةالمسيح الخامس ايدہ اللہ تعاليٰ بنصرہ العزيز نے مورخہ۶؍فروری ۲۰۲۶ء کو مسجد مبارک، اسلام آباد، ٹلفورڈ، يوکے ميں خطبہ جمعہ ارشاد فرمايا جو مسلم ٹيلي وژن احمديہ کے توسّط سے پوري دنيا ميں نشرکيا گيا۔ جمعہ کي اذان دينےکي سعادت مولانا فیروز عالم صاحب کے حصے ميں آئي۔
تشہد،تعوذ اور سورة الفاتحہ کی تلاوت کے بعد حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ نےفرمایا:
جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں فرمایا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے لیے اسوۂ حسنہ ہیں اورہر معاملے میں اسوۂ حسنہ ہیں۔ گذشتہ خطبات میں اسی ضمن میں آپؐ کی محبت الٰہی کا ذکر ہو رہا تھا۔ محبت الٰہی کے ذکر میں آپؐ کی عبادت کے بھی بہت سے واقعات آگئےکیونکہ دونوں لازم و ملزوم ہیں ۔
عبادت محبت الٰہی کے بغیر نہیں ہو سکتی اور محبت الٰہی عبادت کے بغیر نہیں ہو سکتی ۔ اگر اللہ تعالیٰ کی محبت نہ ہو تو حقیقی عبادت ہو ہی نہیں سکتی۔آج اسی ضمن میں مزید بیان کروں گا۔
اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کے معیار محبت کو قرآن کریم میں اس طرح بیان فرمایا ہے ۔قُلۡ اِنَّ صَلَاتِیۡ وَنُسُکِیۡ وَمَحۡیَایَ وَمَمَاتِیۡ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ۔تُو کہہ دے کہ میری عبادت اور میری قربانیاں اور میرا جینا اور میرا مرنا اللہ ہی کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو یہ اعلان کرنے کا کہہ کر ہمیں بھی ان معیاروں کو حاصل کرنے کی طرف توجہ دلائی ہے ۔
عبادت کے بارے میں قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے آپؐ کے ذریعے سے ہمیں بے شمار احکام بیان فرمائے ہیں ۔ فرمایا :وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُوْنِ ۔اور میں نے جنوں اور انسانوں کو پیدا نہیں کیا مگر اس غرض سے کہ وہ میری عبادت کریں۔
پھر ایک جگہ فرمایا : یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اعۡبُدُوۡا رَبَّکُمُ الَّذِیۡ خَلَقَکُمۡ وَالَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِکُمۡ لَعَلَّکُمۡ تَتَّقُوۡنَ۔اے لوگو! اپنے ربّ کی عبادت کرو جس نے تمہیں پیدا کیا اور ان کو بھی جو تم سے پہلے تھے تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو ۔پس اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے اور تقویٰ اختیار کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اللہ کی عبادت کی جائے اور عبادت کے معیار کو بلند تر کیا جائے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ احکامات ہمیں دیے تو اس کی انتہا بھی اپنے عمل سے کر کے دکھائی اور پھر ہمیں توجہ دلائی کہ حقیقی اطاعت اور پیروی تو تب ہی پوری ہوگی جب ہم اپنے آپ کو اس معیار پر لانے کی کوشش کریں گے۔آپؐ کی وہ دعائیں جو آپؐ نے اپنی امت کے لیے کی ہیں تب ہی ہمیں اپنی لپیٹ میں لیں گی اور ہمارے لیے فائدہ مند ہوں گی جب ہم آپؐ کے اسوہ اور احکامات کو ہمیشہ پیش نظر رکھ کر عمل کی کوشش کریں گے ۔
کچھ مثالیں پیش کرتا ہوں۔ایک روایت میں آتا ہے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسی چادر پر نماز پڑھی جس میں نقش تھے ۔آپؐ نے اس کے نقشوں کو ایک نظر دیکھا ۔جب آپؐ فارغ ہوئے تو فرمایا :میری یہ چادر ابو جہم کے پاس لے جاؤ اور ان کی سادہ (بغیر نقش والی) چادر (انبجانیہ) لے آؤ، کیونکہ اس (نقش دار چادر) نے ابھی میری نماز میں میری توجہ بٹا دی تھی۔
حضرت جعفر بن محمدؓ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ہم نے حضرت عائشہ ؓسے پوچھا۔آپ کے گھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بستر کیسا ہوتا تھا تو انہوں نے فرمایا چمڑے کا تھا اس میں کھجور کے ریشے بھرے ہوتے تھے ۔حضرت حفصہ ؓسے پوچھا گیا کہ آپ کے گھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بستر کیسا تھا ۔ تو آپؓ نے فرمایا کہ پشم کا تھا اور ہم اس کی دو تہیں لگا دیتی تھی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سوتے تھے۔ ایک رات میں نے سوچا کہ کیوں نہ اس کی چار تہیں لگا دوں تاکہ یہ زیادہ نرم ہو جائے ۔ چنانچہ ہم نے اس کی چار تہیں لگا دیں جب صبح ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے رات میں کیا بچھایا تھا ؟ میں نے عرض کیا وہ آپ کا ہی بستر تھا صرف ہم نے اس کی چار تہیں لگا دی تھیں تاکہ وہ آپؐ کے لیے زیادہ آرام دہ ہو جائے ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے پہلے جیسا ہی کر دو ۔ کیونکہ اس کی زیادہ نرمی میرے لیے رات کی نماز میں روک بن رہی تھی ۔
حضرت معاذ بن جبل ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں سواری پر نبی کریم ﷺ کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا۔ آپؐ نے فرمایا: اے معاذ بن جبل! میں نے کہا میں حاضر ہوں یا رسول اللہ اور یہ میری سعادت ہے۔آپؐ نے فرمایا :کیا تم جانتے ہو کہ اللہ کا بندوں پر کیا حق ہے ؟ میں نے کہا اللہ اور اس کے رسولؐ زیادہ جانتے ہیں۔آپؐ نے فرمایا: اللہ کا بندوں پر یہ حق ہے کہ وہ اس کی عبادت کریں اور کسی کو اس کا شریک نہ بنائیں۔پھر آپؐ کچھ دیر چلے اور فرمایا :اے معاذ بن جبل !میں نے کہا: لبیک یا رسول اللہؐ یہ میری سعادت ہے ۔آپؐ نے فرمایا:کیا تم جانتے ہو کہ بندوں کا اللہ پر کیا حق ہے؟ میں نے کہا اللہ اور اس کا رسولؐ بہتر جانتے ہیں ۔تو آپؐ نے فرمایا یہ کہ وہ بندوں کو عذاب نہ دے ۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام آنحضرت ﷺ کی مدح میں فرماتے ہیں :جس طرح آنحضرتؐ قرآن شریف کی اشاعت کے لیے مامور تھے ایسا ہی سنّت کی اقامت کے لیے بھی مامور تھے۔ پس جیسا کہ قرآن شریف یقینی ہے ایسا ہی سنّت معمولہ متواترہ بھی یقینی ہے۔ یہ دونوں خدمات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ سے بجا لائے اور دونوں کو اپنا فرض سمجھا۔ مثلاً جب نماز کے لیے حکم ہوا تو آنحضرتؐ نے خدا تعالیٰ کے اِس قول کو اپنے فعل سے کھول کر دکھلادیا اور عملی رنگ میں ظاہر کر دیا کہ فجر کی نماز کی یہ رکعات ہیں اور مغرب کی یہ اور باقی نمازوں کے لیے یہ یہ رکعات ہیں۔ ایسا ہی حج کر کے دکھلایا اور پھر اپنے ہاتھ سے ہزار ہا صحابہ ؓکو اِس فعل کا پابند کر کے سلسلہ تعامل بڑے زور سے قائم کر دیا۔
حضرت مصلح موعود ؓ تہجد کے متعلق بیان فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان نوافل کا اتنا خیال تھا کہ باوجود ان کے نفل ہونے کے لوگوں کو فکرسے دیکھتے تھے کہ صحابہؓ میں سے کون یہ نفل پڑھتا ہے ۔شہر کی گلیوں میں، سڑکوں پہ پھرتے تھے تاکہ معلوم کریں کہ لوگوں میں سے کون کون نہیں پڑھتا۔حضور انور نے فرمایا کہ
آجکل اگر کسی سے پوچھ لیا جائے کہ کتنی نمازیں پڑھتے ہیں تو لوگ ناراض ہو جاتے ہیں کہ یہ ہمارا ذاتی معاملہ ہے ۔ لیکن آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم تو خو د تہجد کی نمازکا بھی جائزہ لیا کرتے تھے۔
ایک دفعہ ایک مجلس میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا ذکر آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آدمی تو بہت اچھا ہے بشرط یکہ تہجد پڑھے ۔پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ اس دنیا میں اس میاں اور بیوی پر رحم کرے ۔اگر رات کو میاں کی آنکھ کھلے تو اٹھ کر تہجد پڑھے اور بیوی کو بھی جگائے کہ تُو بھی اٹھ کر تہجد پڑھ اور اگر وہ نہ جاگے تو اس کے منہ پر پانی کا چھینٹا مارے اور جگائے۔اسی طرح اگر بیوی کی آنکھ کھلے تو وہ خود تہجد پڑھے اور میاں کو جگائے اور اگر وہ نہ جا گےتو اس کے منہ پر پانی کا چھینٹا مارے۔
آپؐ کا ہر فعل عبادت تھا کیونکہ خدا کے حکم کے ماتحت تھا ۔
چنانچہ اس کی ایک مثال ہے کہ ایک شخص نے عصر کی نماز کا وقت دریافت کیا۔ اول وقت پر نماز پڑھنا مستحسن ہے مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنی دیر کی کہ وقت نہایت تنگ ہو گیا۔ نماز میں یہ دیر کرنا بھی عبادت تھا ۔کیوں ؟اس لیے کہ آپ یہ سبق دے رہے تھے کہ اگر انسان کسی وجہ سے کسی وقت اول وقت میں نماز نہ پڑھ سکے تو اگر آخری وقت میں بھی پڑھ لے تو بھی اس کی نماز ہو جائے گی ۔
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کی کیفیت کیا ہوتی تھی ۔اس بارے میں حضرت مصلح موعودؓ نے ایک جگہ بڑی تفصیل سے لکھا ہے ۔فرماتے ہیں کہ بہت ہیں جو دعا کرتے ہیں مگر ان کی آنکھیں ،ان کا دل ،ان کا دماغ ،ان کا سینہ دعا کا مؤیّد نہیں ہوتا ۔دعا کر رہے ہوتے ہیں لیکن آنکھیں کہیں اَور ہوتی ہیں ، ان کا دل کہیں اَور ہوتا ہے ،دماغ کہیں اَور ہو پھر سینے میں خدا تعالیٰ کے لیے وہ محبت نہیں ہوتی جو ہونی چاہیے ۔ پس وہ دعا تو پھر ایک ظاہری دعا ہی ہوتی ہے ۔ جب ان کا سینہ جوش سے ابل نہیں رہا ہوتا تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان کی دعا اسی طرح ہوا میں اڑ جاتی ہے جس طرح گرد اڑتی ہے ۔
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ آزاد اور آپؐ سے بڑھ کر زیادہ حرّ کون ہوگا مگر آپؐ کی نسبت آتا ہے کہ آپؐ جب دعا کرتے تھے تو بعض اوقات آپؐ کے سینے سے اس طرح آواز نکل رہی ہوتی تھی جس طرح ہنڈیا ابل رہی ہو۔
نمازوں میں رقت طاری ہونا بھی بہت ضروری ہے۔ اس کے لیے بھی انسان کو کوشش کرنی چاہیے۔ اس کے لیے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ایک نسخہ یہ بھی بتایا ہے کہ نماز میںاپنی شکل رونے جیسی بنا لو تو اس ظاہری حالت سے بھی دل پہ اثر پڑتا ہے اور پھر انسان کا بھی رونا نکل جاتا ہے۔
پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر الٰہی بھی سنت ہے ۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سوتے وقت آیت الکرسی ،سورہ اخلاص سورۃ الفلق اور سورۃ الناس جو قرآن کریم کی آخری تین سورتیں ہیں تین دفعہ پڑھ کر ہاتھوں پر پھونکتے اور پھر ہاتھ اپنے جسم پر پھیر لیتے ۔اس طرح پھیرتے کہ سر سے شروع کرتے اور جہاں تک ہاتھ پہنچ سکتا وہاں تک پھیرتے ۔
حضور انور نے فرمایا کہ بعض لوگ لکھتے ہیں کہ کوئی چھوٹی سی دعا بتائیں۔ کوئی ذکر بتائیں جو ہم کرتے رہیں تاکہ ہمارے اندر نیکیاں پیدا ہو جائیں ہمارے گناہ بھی مٹ جائیں ہمارے کام بھی ہو جائیں اور اللہ تعالیٰ کا قرب بھی حاصل ہو جائے تو پہلی بات تو عبادت ہے یعنی نمازیں جو فرض ہیں ۔ اس کے بعد ذکر الٰہی ہے ۔ذکر انسان کو مزید نیکیوں کی طرف توجہ دلاتا ہے۔ اس کے ساتھ دوسرے اخلاق اور اعمال بھی کرنا ضروری ہے۔
حضرت مصلح موعود ؓ بیان فرماتے ہیں کہ جو لوگ دین کے پیشوا ہوتے ہیں انہیں بہت خیال ہوتا ہے کہ ہماری باتیں اور ذکر دوسرے لوگوں سے زیادہ ہوں۔ بعض لوگ جو علماء کہلاتے ہیں سمجھتے ہیں ہماری تعظیم زیادہ ہونی چاہیے اور پھر اس کے لیے خاص طور پر ایسی سنت سے کام لیتے ہیں تا لوگ انہیں نیک سمجھیں ۔ وہ خود کو دنیا کے لیے نمونہ سمجھتے ہیں۔اس لیے بناوٹ سے کام لیتے ہیں۔ وہ یہ سب لوگوں کو دکھانے کے لیے کرتےہیں نہ کہ اللہ کا پیار حاصل کرنے کے لیے۔آنحضرتﷺ باوجود اس کے کہ سب سے زیادہ تقویٰ والے تھے ، ان سب باتوں میں سادہ تھے ۔روایت میں آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں بعض دفعہ نماز میں کھڑا ہوتا ہوں اور ارادہ کرتا ہوں کہ نماز کو لمبا کر وں مگر کسی بچے کے رونے کی آواز سن لیتا ہوں تو اپنی نماز کو اس خوف سے کہ کہیں میں بچے کی ماں کو مشقت میں نہ ڈالوں نماز مختصر کر دیتا ہوں۔
ایک روایت میں آتا ہے کہ آپ ﷺ جوتوں سمیت بھی نماز پڑھ لیا کرتے تھے ۔یعنی جہاں آسانی کی ضرورت ہو اسے اختیار کر لیا کرتے تھے۔ پس اگر جوتی پاک ہو اور کسی ایسی جگہ جہاں نجاست لگنے کا خطرہ ہو جوتی پہن کر بھی نماز پڑھی جا سکتی ہے۔آپؐ نے ایسا کر کے امت محمدیہ پر ایک بہت بڑا احسان کیا کہ انہیں آئندہ کے لیے تکلفات اور بناوٹ سے بچا لیا۔
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم باجماعت نماز کا اس قدر اہتمام فرماتے تھے کہ ایک دفعہ آپؐ کے پاس ایک نابینا آیا اور اس نے عرض کیا یا رسول اللہﷺ!میرا مکان مسجد سے بہت دور ہے اور چونکہ مجھے مسجد پہنچنے میں سخت دقت پیش آتی ہے اس لیے اگر آپؐ اجازت دیں تو بارش کے دنوں میں اپنے گھر میں ہی نماز ادا کر لوں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ٹھیک ہے پڑھ لیا کرو ۔ وہ وہاں سے چلے گئے تو تھوڑی دیر بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہؓ سے فرمایا کہ ذرا اس کو واپس بلا کر لاؤ جب واپس آئے تو آپؐ نے فرمایا کیا تمہارے گھر میں اذان کی آواز پہنچ جاتی ہے؟انہوں نے عرض کیا ہاں یا رسول اللہؐ!اذان کی آواز تو پہنچ جاتی ہے۔آپؐ نے فرمایا اگر اذان کی آواز تمہارے گھر پہنچ جاتی ہے تو پھر مسجد میں آؤ۔
اللہ تعالیٰ ہمیں عبادت کے حق ادا کرنے کی توفیق دے ۔ آپﷺ کے اسوۂ حسنہ کو اختیار کرنے کی توفیق دے ۔
٭…٭…٭
