حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز

شرائطِ بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں

کسی کو تکلیف نہ پہنچاؤ

چوتھی شرط میں یہ بیان ہے کہ نہ ہاتھ سے نہ زبان سے نہ کسی بھی طرح سے کسی کو تکلیف نہیں دینی۔ اس شرط کو مزید کھولتا ہوں۔یہ جو حدیث میں نے پڑھی ہے اس میں سے اس کو سامنے رکھیں فرمایا ’’ حسد نہ کرو‘‘ اب حسد ایک ایسی چیز ہے جو آخر کار بڑھتے بڑھتے دشمنی تک چلی جاتی ہے اس حسد کی وجہ سے ہر وقت دل میں جس سے حسد ہو اس کو نقصان پہنچانے کا خیال رہتا ہے۔پھر حسد ایک ایسی چیز ہے، ایک ایسی بیماری ہے جس سے دوسرے کو تو جو نقصان پہنچتا ہے وہ تو ہے ہی، حسد کرنے والا خود بھی اس آگ میں جلتا رہتا ہے اور چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں جو حسد پیدا کر رہی ہوتی ہیں کہ فلاں کا کاروبار کیوں اچھا ہے۔ فلاں کے پاس پیسہ میرے سے زیادہ ہے۔فلاں کا گھر میرے سے اچھا ہے۔ فلاں کے بچے زیادہ لائق ہیں۔ عورتوں کا یہ حال ہوتا ہے کہ فلاں کے پاس زیور اچھا ہے تو حسد شروع ہوگیا پھر اور تو اور دین کے معاملے میں جہاں نیکی کو دیکھ کر رشک آنا چاہئے۔خود بھی کوشش ہونی چاہئے کہ ہم بھی آگے بڑھ کر دین کے خادم بنیں۔ اس کے بجائے خدمت کرنے والوں کی ٹانگیں کھینچنے کی کوشش کرتے ہیں کہ کسی طرح شکایات لگاکر اسکو بھی دین کی خدمت سے محروم کردیا جائے۔

پھر اس حدیث میں آیا ہے کہ جھگڑنا نہیں۔ چھوٹی چھوٹی باتیں ہوتی ہیں اور لڑائی جھگڑے شروع ہو جاتے ہیں مثلاً چھوٹی سی بات ہے کسی ڈیوٹی والے نے کسی بچے کو جلسہ کے دوران اُسکی مسلسل شرارتوں کی وجہ سے ذرا سختی سے روک دیا یا تنبیہ کی کہ اب اگر تم نے ایسا کیا تو میں سختی کروں گا سزا دوں گا تو قریب بیٹھے ہوئے ماں یا باپ فوراً بازو چڑھا لیتے ہیں اور یہ تجربہ میں آئی ہیں باتیں اور اس ڈیوٹی والے بیچارے کی ایسی مٹی پلید کرتے ہیں کہ اللہ کی پناہ۔ اب تمہاری اس حرکت سے جہاں تم نے عہد بیعت کو توڑا اپنے اخلاق خراب کئے وہاں اپنی نئی نسل کے دل سے بھی نظام کا احترام ختم کردیا اور اس کے دماغ سے بھی صحیح اور غلط کی پہچان ختم کردی۔

پھر فرمایادشمنیاں مت رکھو۔ اب چھوٹی چھوٹی باتوں پر دشمنیاں شروع ہوجاتی ہیں دل کینوں اور نفرتوں سے بھر جاتے ہیں۔تاک میں ہوتے ہیں کہ کبھی مجھے موقعہ ملے اور میں اپنی دشمنی کا بدلہ لوں حالانکہ حکم تو یہ ہے کہ کسی سے دشمنی نہ رکھو، بغض نہ رکھو۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ ایک صحابی نے آنحضرت ﷺ سے عرض کی ایسی مختصر بات بتائیں۔ نصیحت کریں جو میں بھول نہ جائوں آپ ؐ نے فرمایا غصے سے اجتناب کرو۔ پھر آنحضرتؐ نے دوبارہ فرمایا ’’ غصے سے اجتناب کرو‘‘۔ تو جب غصے سے اجتناب کرنے کو ہر وقت ذہن میں رکھیں گے تو بغض اور کینے خود بخود ختم ہوتے چلے جائیں گے پھر ایک عادت کسی کو نقصان پہنچانے کی تکلیف پہنچانے کی یہ ہوتی ہے کہ کسی طرح خراب کرنے کیلئے کسی کے کئے ہوئے سودے پر سودا کرے۔ اس حدیث میں اس سے بھی منع فرمایا ہے۔ زیادہ قیمت دیکرصرف اس غرض سے کہ دوسرے کا سودا خراب ہوچیز لینے کی کوشش کرتے ہیں حالانکہ کوئی ذاتی فائدہ اس سے نہیں ہو رہا، یہاں بھی بتادوں کہ کسی کے رشتے کیلئے بھیجے ہوئے پیغام پر پیغام بھی اس زمرے میں آتا ہے او ریہ بھی منع ہے اس لئے احمدیوں کو اس سے اجتناب کرنا چاہئے۔

پھر فرمایا کہ ظلم نہیں کرنا کسی کو حقیر نہیں سمجھنا کسی کو ذلیل نہیں کرنا۔ ظالم کبھی خدا تعالیٰ کے قرب کو حاصل نہیں کرسکتا تویہ کس طرح ہوسکتا ہے کہ ایک طرف تو آپ خدا کی خوشنودی کی خاطر بیعت کرکے زمانہ کے مامور من اللہ کو مان رہے ہوں اور دوسری طرف ظلم سے لوگوں کے حقوق پر قبضہ کر رہے ہوں۔ بھائیوں کو ان کے حق نہ دیں بہنوں کو اُن کی جائیدادوں میں سے حصہ نہ دیں صرف اس لئے کہ بہن کی شادی دوسرے خاندان میں ہوئی ہے ہماری جدی پشتی جائیداد دوسرے خاندانوں میں نہ چلی جائے یہ دیہاتوں میں عام رواج ہے تو بیویوں پر ظلم کرنے والے ہوں اُن کے حقوق کا خیال نہ رکھنے والے ہوں۔ بیویاں خاوند کے حقوق کا خیال نہ رکھنے والی ہوں تو روزمرہ کے معاملات میں بہت سی ایسی باتیں نکل آئیں گی جو ظلم کے زمرے میں آتی ہیں۔ تو بہت سی ایسی باتیں سرزد ہو جاتی ہیں۔ جن سے محسوس ہوتا ہے کہ دوسرے کو حقیر سمجھ رہے ہیںیا دوسرے کو ذلیل سمجھ رہے ہیں تو ایک طرف تو بیعت کا دعویٰ کرنا تمام برائیوں کو چھوڑنے کا عہد کرنا اور دوسرے یہ حرکتیں۔واضح حکم ہے ایک مسلمان پر یہ کسی طرح بھی جائز نہیں کہ وہ دوسرے مسلمان کو حقیر سمجھے اس طرح پر مسلمانوں پر دوسرے مسلمانوں کا خون مال اور عزت حرام ہے تو آپ جو اس زمانہ کے مامور کو مان کر اسلامی تعلیمات پر سب سے زیادہ عمل درآمد کا دعویٰ کرتے ہیں کے بارے میں کس طرح برداشت کیا جاسکتا ہے کہ یہ حرکتیں ہوں اور پھر حضرت اقدس مسیح موعود کی جماعت میں بھی شامل رہیں ان باتوں کو چھوٹی نہ سمجھتے ہوئے آنحضرت ﷺ کے صحابہ کا اس بارے میں کیا عمل تھا۔ اسلام لانے کے بعد اُنہوں نے اپنے اندر کیا تبدیلیاں کیں۔ اس بارے میں احادیث کے مزید نمونے پیش کرتا ہوں۔

حضرت ابو ذرغفاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ اُن کے ایک حوض سے پانی پلایا جاتا تھا تو ایک خاندان کے کچھ لوگ آئے اُن میں سے کسی نے کہا تم میں سے کون ابوذر کے پاس جائے گا اور اُن کے سر کے بال پکڑ کر اُن کا محاسبہ کرے گا ایک شخص نے کہا میں یہ کام کروں گا چنانچہ وہ شخص اُن کے پاس حوض پر گیا اور ابوذر کو تنگ کرناشروع کردیا ابوذر اس وقت کھڑے تھے پھر بیٹھ گئے اُس کے بعد لیٹ گئے اس پر انہوں نے کہا کہ اے ابوذر آپ کیوں بیٹھ گئے اور پھر آپ کیوں لیٹے تھے اس پر انہوںنے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیںمخاطب کرکے فرمایا تھا جب تم میں سے کسی کو غصہ آجائے اور وہ کھڑا ہو تو بیٹھ جائے اگر اس کا غصہ دورہو جائے تو ٹھیک وگرنہ وہ لیٹ جائے۔ (مسند احمد بن حنبل۔ جلد نمبر5۔صفحہ152۔مطبوعہ بیروت)

پھر ایک روایت ہے راوی بیان کرتے ہیں کہ ہم عروہ بن محمد کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اُن کے پاس ایک شخص آیا جس نے اُن کے ساتھ ایسی باتیں کیں کہ ان کو غصہ آگیا راوی کہتے ہیں کہ جب ان کو شدید غصہ آگیا تو وہ کھڑے ہوئے اور وضو کرکے ہمارے پاس لوٹ آئے پھر اُنہوں نے کہا کہ میرے والد نے مجھے میرے دادا عتیہ کے وصیلہ سے جو صحابہ میں سے تھے یہ روایت سنائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ غصہ شیطان کی طرف سے آتا ہے اور شیطان آگ سے پیدا کیا گیا ہے اور آگ کو پانی کے ذریعہ بجھایا جاتا ہے پس جب تم میں سے کسی کو غصہ آئے تو اُسے وضو کرنا چاہئے۔(مسند احمد بن حنبل۔ جلد4۔ صفحہ226۔مطبوعہ بیروت)

حضرت زیاد اپنے چچا عتبہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگا کرتے تھے کہ اے میرے اللہ میں برے اخلاق اوربرے اعمال سے اور بری خواہشات سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ (سنن ترمذی۔کتاب الدعوات۔ باب دعاء امّ سلمۃ۔ حدیث نمبر۳۵۹۱)

(شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں صفحہ ۷۶ تا ۸۰)

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: شرائطِ بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button