خلفائے احمدیت کے خطوط پر’خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ‘ اور ’ھوالنّاصر‘لکھنے کا تاریخی پس منظر
’ھوالنّاصر‘ میں اس لئے لکھتا ہوں کہ… ’خواجہ محمد ناصر صاحب کو خدا تعالیٰ نے ا لہاماً بتایا کہ جو شخص اپنی کسی تحریر کی پیشانی پر ’ھوالنّاصر‘ لکھے گا، اللہ تعالیٰ اس تحریر کو مقبولیت عطا فرمائے گا(حضرت مصلح موعودؓ)
ہمیں کتنی خوشی ہوتی ہے جب ہمیں پیارے آ قا کا خط ملتا ہے۔ حضور کے خطوط محبت، دعاؤں اور نصائح کا ایک خزانہ ہوتے ہیں۔
کیا ہم نے کبھی پیارے حضور کے خط کے لیٹر ہیڈ پر غور کیاہے؟
سب سے اوپر بسم اللہ ہوتی ہے، پھر اگلی لائن میں نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم اور و علٰی عبدہ المسیح الموعودؑ لکھا ہوتا ہے۔ اور ان کے معنی ہیں ‘ہم حمد کرتے ہیں اس کی اور ہم درود بھیجتے ہیں ا س کے رسول پر جو کریم ہے، اور اس کے بندے پر جو مسیح موعودؑ ہے۔
اس کے بعد اگلی لائن میں، ’خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ‘ لکھاہوتا ہے۔ اور پھر آخر میں ’ھوالنّاصر‘ لکھا ہوتا ہے۔ کیا آ پ کو پتا ہے کہ ’خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ ‘ لکھنے کی کیا وجہ ہے؟ ویسے تو ان الفاظ کے معنی با لکل واضح ہیں کہ ہماری زندگی کے ہر پہلو میں خدا کا فضل اور رحم چاہیے مگر پیارے حضور کے خطوط کے اوپر ان الفاظ کے ہونے کی ایک خاص وجہ ہے۔
حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ خلافت سے پہلے ۸؍ستمبر ۱۹۱۳ کو شملہ تشریف لے گئے۔ شملہ میں آپؓ نے جماعت احمدیہ شملہ کے سالانہ جلسہ میں دو تقاریر کیں۔ شملہ میں قیام کے دوران حضورؓ نے ایک رؤیا دیکھا۔اس رؤیا کا حضورؓ نے اپنے خطبہ جمعہ فرمودہ ۱۲؍اپریل ۱۹۳۵ء میں تفصیلی ذکر فرمایا۔
حضورؓ نے فرمایا:میں نے رؤیا دیکھا کہ میں ایک پہاڑی سے دوسری پہاڑی پر جانا چاہتا ہوں۔ ایک فرشتہ آیا اور مجھ سے کہنے لگا کہ تمہیں پتہ ہے یہ راستہ بڑا خطرناک ہے۔ اس میں بڑے مصائب اور ڈراؤنے نظارے ہیں۔ ایسا نہ ہو تم ان سے متاثر ہو جاؤ اور منزل پر پہنچنے سے رہ جاؤ۔ اور پھر کہا کہ میں تمہیں ایسا طریق بتا ؤں جس سے تم محفوظ رہو۔ میں نے کہا ہاں بتاؤ۔ اس پر اس نے کہا کہ بہت سے بھیانک نظارے ہوں گے۔ مگر تم اِدھر اُدھر نہ دیکھنا اور نہ ان کی طرف متوجہ ہونا۔ بلکہ
خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ
خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ
کہتے ہوئے سیدھے چلے جانا۔ ان کی غرض یہ ہوگی کہ تم ان کی طرف متوجہ ہو جاؤ۔ اور اگر تم ان کی طرف متوجہ ہوگئے تو اپنے مقصد کے حصول میں ناکام رہ جاؤ گے۔ اس لیے اپنے کام میں لگےجاؤ۔ چنانچہ میں جب چلا تو میں نے دیکھا کہ نہایت اندھیرا اور گھنا جنگل ہے اور ڈر اور خوف کے بہت سے سامان جمع تھے۔ اور جنگل با لکل سنسان تھا۔ جب میں ایک خاص مقام پر پہنچا جو بہت ہی بھیانک تھا، تو بعض لوگ آئے اور مجھے تنگ کرنا شروع کیا۔ تب مجھے معًا خیال آیا کہ فرشتہ نے مجھے کہا تھا کہ ’خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ‘ کہتے چلے جانا۔ اس پر میں نے ذرا بلند آواز سے یہ فقرہ کہنا شروع کیا، اور وہ لوگ چلے گئے۔ اس کے بعدپہلے سے بھی زیادہ بھیانک شکلیں نظر آنے لگیں۔ حتّٰی کہ بعض سر کٹے ہوئے جن کے ساتھ دھڑ نہ تھے، ہوا میں معلق میرے سامنے آتے اور طرح طرح کی شکلیں بناتے اور منہ چڑاتے ہیں اور چھیڑتے۔ مجھے غصّہ آتا۔ لیکن معًا فرشتہ کی نصیحت یاد آجاتی۔ اور میں پہلے سے بھی بلند آواز سے ’خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ‘ کہنے لگتا۔ اور پھر وہ نظارہ بدل جاتا۔ یہاں تک کہ سب بلائیں دور ہو گئیں۔ اور میں منزل مقصود پر خیریت سے پہنچ گیا۔
حضور ؓمزید فرماتے ہیں کہ ’’اس رؤیا کو آج کچھ ماہ کم ۲۲ سال ہو گئے ہیں۔ اسی دن سے جب میں کوئی مضمون لکھتا ہوں تو اس کے اوپر ’خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ‘ ضرور لکھتا ہوں۔‘‘ اور پھر آپؓ کے بعد بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے تمام خلفاء کی یہی روایت رہی ہے کہ ان کے خطوط میں ’خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ‘ کے الفاظ لیٹر ہیڈ میں شامل رہے ہیں۔
’ھوالنّاصر‘
آیئے !آگے ہم دیکھتے ہیں کہ پیارے آقا کے خطوط میں ’ھوالنّاصر‘ کس وجہ سے لکھا ہوتا ہے۔ ’ھوالنّاصر‘ کے لفظی معنی ’ وہ مددگار‘ ہیں۔ لغت کے مطابق ’ناصر‘ عربی زبان کا لفظ ہے، جس کے معنی مددگار، حامی اور فتح اور نصرت بخشنے والا ہیں۔
حضرت مصلح موعود ؓنے ’سیر روحانی ‘کے نام سے اپنی معرکہ آ راء تقاریر کے سلسلے میں ۲۸؍دسمبر ۱۹۵۷ء کے خطاب میں فرمایا: ’ھوالنّاصر‘ میں اس لیے لکھتا ہوں کہ… ’خواجہ محمد ناصر صاحب کو خدا تعالیٰ نے ا لہاماً بتایا کہ جو شخص اپنی کسی تحریر کی پیشانی پر ’ھوالنّاصر‘ لکھے گا، اللہ تعالیٰ اس تحریر کو مقبولیت عطا فرمائے گا۔
خواجہ محمد ناصر صاحب کا تعارف یہ ہے کہ حضرت مصلح موعودؓ، حضرت اُمّ المومنین نصرت جہاں بیگم صاحبہ ؓکی طرف سے خواجہ محمد ناصر صاحب کی اولاد میں سے تھے۔ حضورؓ کے نانا حضرت میر ناصر نواب صاحبؓ کے والد مکرم ناصر امیر تھے۔ مکرم ناصر امیر کی والدہ نصیرہ بیگم تھیں۔ نصیرہ بیگم صاحبہ کی والدہ مکرمہ زینت النساء بیگم صاحبہ تھیں اور وہ ہندوستان کے مشہور شاعر خواجہ میر درد کی بیٹی تھیں۔ خواجہ میر درد مکرم خواجہ محمد ناصر صاحب کے بیٹے تھے۔
تاریخ سے ثابت ہے کہ خواجہ محمد ناصر صاحب دہلی میں ایک پائے کے بزرگ گزرے ہیں۔
کتاب ’میخانہ درد‘ کے مطابق ’خواجہ محمد ناصر جس گھر میں پیدا ہوئے، اس میں زروجواہر کے ڈھیر تھے کیونکہ آپ کے پدر بزرگوار منصب دار تھے، آپ نے بادشاہوں کی طرح ناز و نعمت کے ساتھ پرورش پائی، آپ نہایت حسین و خوبصورت تھے۔ جب آپ سوار ہوکر نکلتے تھے تو آپ کی سواری کے چاروں طرف تماشائیوں اور مشتاقوں کا ہجوم ہوتا تھا اور بڑے بڑے رئیس اور امیر اور اجنبی آ پ کے سلام کے لیے جاتے جاتے ٹھہر جاتے تھے اور آداب بجا لاتے تھے۔ (صفحہ ۲۳)
’میخانہ درد‘ کے مطابق بیس سال کی عمر کو پہنچنے سے پہلے ہی آپ ایک شاہی لشکر کے سردار بنا دیے گئے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ کیونکہ آ پ عالم اسلام کے ایک مشہور بزرگ خواجہ سید بہا ؤالدین نقشبند کی اولاد میں سے تھے اس لیے ’آپ ظاہری عیش و آرام سے محظوظ نہ ہوتے تھے۔اور بات بات میں آپکا دل پکڑا جا تا تھا۔…مکلف لباس پہنتے تو رسول ﷺ کی گڈری یاد آجاتی تھی۔ قالین پر بیٹھتے تو حضرت فاطمہؓ کا بوریا آنکھوں میں بس جاتا تھا۔(صفحہ ۲۳)
آپ دنیا کی عیش و عشرت سے بیزار آ چکے تھے۔ خواجہ محمد ناصر صاحب نے اپنے دادا نواب فتح اللہ خانصاحب کی شہادت اور اپنے والد نواب روشن الدولہ کی وفات کے بعد نوکری سےاستعفیٰ دے دیا۔
اُس وقت کے ہندوستان کے مغل بادشاہ محمد شاہ نے خواجہ محمد ناصر کو بہت روکا کہ وہ استعفٰی نہ دیں، مگر خواجہ محمد ناصر نہ مانے اور اپنا سارا مال و متا ع خدا کی راہ میں قربان کرکے محل چھوڑ دیا اور اپنے بیوی بچوں کے ساتھ ایک کھنڈر میں جا بسے۔
اب آپ کی زندگی کا ایک نیا دَور شروع ہو گیا۔ آپ نے خدا کی عبادت میں دن رات ایک کردیا۔ میخانہ درد کے مطابق یاد الٰہی میں سردی کی پہاڑ سی راتیں کاٹ کاٹ کر دن نکال دیتے تھے اور معبود کی بندگی میں گرمی کے لمبے لمبے دنوں کو شام کردیتے تھے۔ عشا ء کی نماز سے فارغ ہوکر حجرہ میں داخل ہوتے اور حجرے کا دروازہ بند کر لیتے اور دو زانو بیٹھ کر اپنے دونوں پاؤں اور بالوں کو رسی سے باندھ لیتے تھےتاکہ اصل جگہ سے جنبش نہ ہو اور اٹھنا چاہیں تو بھی اٹھا نہ جائے۔… ایک رول لکڑی کااپنے پہلو میں رکھ لیتے اور احیاناًنیند کا جھونکا آ جاتا تو اس رول سے اپنے بدن کو مارتے اور نفس سے مخاطب ہو کر فرماتے، اے خطا کار تُو کیوں سو گیا تھا، آنکھ کیوں لگ گئی، خدا کی یاد سے کیوں غافل ہوا…کبھی حجرہ میں بیٹھے بیٹھے ایسا استغراق طاری ہوتا کہ چار چار پانچ پانچ دن تک کھانے پینے کا تو کیا ذکر ہے آپ کو دنیا و ما فیہا بھی فراموش ہوجاتی ۔
ایک دفعہ اسی طرح آپ کو حجرہ کے اندر بیٹھے بیٹھے سات دن اور راتیں ہو گئیں۔ ساتویں رات کو گرمی کی حالت میں بھوک اور پیاس کا غلبہ ہوا اور آپ کی آنکھ جھپکی، آپ نے وہ لکڑی کا رول اٹھاکر اپنے آپ کو مارنا شروع کردیا۔
اسی حالت میں یکدم وہ کمرہ روشنی سے منور ہوگیا… اور ایک نوجوان خورشید طلعت نے جو ایک حُلہ بہشتی پہنے ہوئے اور جواہر نگار تاج سر پر دھرے ہوئے تھے، خواجہ محمد ناصر کا وہ ہاتھ پکڑ لیا جس میں رول تھا اور ارشاد کیا ’’اے محمد ناصر یہ کیا جبرو ستم ہے جو تُو اپنے نفس پر کرتا ہے۔ تجھے معلوم نہیں ہے کہ تو ہمارا لخت جگر ہے اور تیرے بدن کی چوٹیں ہمارے دل پر پڑتی ہیں ۔‘‘
خواجہ محمد ناصر صاحب یہ نظارہ دیکھ کر تھرا گئے۔ آپ نے عرض کی کہ (یہ محنت اور جفا اس لیے ہے کہ) ’حضور صرف اس غرض سے کہ عرفان الٰہی حا صل ہو جائے‘۔ خواجہ صاحب نے بڑے ادب سے ان کا نام مبارک پوچھا۔ ان بزرگ نے فرمایا ’میں حسن مجتبیٰ بن علی مر تضیٰ ہوں اور نانا جان نے مجھے خاص اس لیے تیرے پاس بھیجا ہے کہ میں تجھے معرفت اور ولایت سے مالا مال کردوں۔ یہ ایک نعمت تھی جو خانوادہ نبوت نے تیرے واسطے محفوظ رکھی تھی۔ اس کی ابتدا تجھ پر ہوئی ہےاور انجام اس کا مہدی موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام پر ہوگا‘۔
مکرم محمود احمد عرفانی صاحب نے اپنی کتاب سیرت حضرت سیّد ۃُ النسا ء اُمّ المومنین نصرت جہان بیگم صاحبہ میں میخانہ درد کا حوالہ دیتے ہوئے درج کیا ہے کہ خواجہ محمد ناصر کو ایک دفعہ الہام ہوا : ’ہم نے تمہارے نام کو پسند کیا اور مقبول فرمالیا اور تمہاری اولاد اور تمہارے معتقدین اور مریدوں کے لیے اس میں دونوں جہان کی برکات داخل فرما دیں۔ جو شخص ازراہِ عقیدت لفظ ناصر کو اپنی یا اپنی اولاد کے نام میں شامل کرے گا، اس کی برکت سے ہمیشہ مظفر و منصور رہے گا اور آتش دوزخ اس پر حرام کردی جائے گی اور جو شخص اپنی کتاب یا خط کی پیشانی پر ’ھُوَ النَّا صِر ‘ تحریر کرے گا، اس کتاب اور خط کے مطالب کو کامیابی ہوگی‘۔
اسی وجہ سے حضرت مصلح موعودؓ اپنے خطوط، مضامین اور تمام کتب کے شروع میں’ھُوَ النَّا صِر‘ لکھتے تھے۔ اور پھر آپ کے بعد بھی تمام خلفاء نے یہ روایت جاری رکھی۔
(سید محمد احمدناصر۔ یوکے)
مزید پڑھیں: ڈھونڈوگے اگر ملکوں ملکوں ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم




