بنیادی مسائل کے جوابات(قسط ۱۰۹)
٭…حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ نے سیرت خاتم النبیینؐ میں حضرت ہاجرہ اور حضرت اسماعیل علیہماالسلام کے واقعہ میں لکھا ہے کہ فرشتے کے ایڑی مارنے سے پانی کا چشمہ نکلا۔ جبکہ میں نے بچپن سے اب تک یہی پڑھا ہے کہ حضرت اسماعیلؑ کے پاؤں مارنے سے چشمہ نکلا تھا۔ اس بارہ میں راہنمائی کی درخواست ہے۔
٭…اگر سورج گرہن کے وقت نماز نہ پڑھی جائے تو اس کا کفارہ کیا ہے۔ نیز میں نے سورج گرہن کا نظارہ کرنے اپنے دوست کے پاس جانا ہے اگر میں وہاں نماز کسوف نہ پڑھ سکوں تو کیا صدقہ، نوافل اور استغفار کے ذریعہ اس کا کفارہ ادا کیا جا سکتا ہے؟
٭…سود کے حوالے سے چند سوالات کے متعلق راہنمائی۔
٭…سُبْحَانَ اللّٰهِ وَبِحَمْدِهِ والی دعا اور درود شریف کا صحیح مطلب اور مفہوم کیا ہے؟
سوال: کیرالہ انڈیا سے ایک دوست نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں لکھا کہ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ نے سیرت خاتم النبیین میں حضرت ہاجرہ اور حضرت اسماعیل علیہماالسلام کے واقعہ میں لکھا ہے کہ فرشتے کے ایڑی مارنے سے پانی کا چشمہ نکلا۔ جبکہ میں نے بچپن سے اب تک یہی پڑھا ہے کہ حضرت اسماعیلؑ کے پاؤں مارنے سے چشمہ نکلا تھا۔ اس بارہ میں راہنمائی کی درخواست ہے۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مورخہ ۱۷؍دسمبر ۲۰۲۳ء میں اس سوال کے بارے میں درج ذیل راہنمائی عطا فرمائی۔ حضور انور نے فرمایا:
جواب: اس میں کوئی پریشانی والی بات نہیں ہے۔ حدیث، تاریخ و سیرت اور تفسیر کی کتب میں دونوں قسم کی باتوں کا ذکر ملتا ہے۔ چنانچہ لکھا ہے کہ یہ چشمہ وہاں نکلا جہاں فرشتہ نے اپنی ایڑی یا اپنے پر؍بازو سے زمین کو کریدا تھا۔ (صحیح بخاری کتاب الانبیاء بَاب قَوْلِ اللّٰهِ تَعَالَى وَاتَّخَذَ اللّٰهُ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلًا)اور یہ بھی لکھا ہے کہ یہ چشمہ وہاں سے نکلا جہاں حضرت اسماعیل علیہ السلام شدت پیاس سے روتے ہوئے اپنی ایڑیاں مار رہے تھے۔ (تفسیر الطبری جلد۱۳ صفحہ۲۷۲ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت لبنان ۲۰۰۱ء، سورۃ ابراہیم آیت ۳۸۔ الکامل فی التاریخ مؤلفہ محمد ابن الاثیر الجزری متوفیٰ ۶۳۰ ہجری جلد اوّل صفحہ ۸۰، مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ بیروت لبنان ۱۹۷۱ء)
پس چونکہ سابقہ کتب میں دونوں طرح ہی کی روایات موجود ہیں، اس لیے جماعتی کتب میں بھی دونوں قسم کے موقف بیان ہوئے ہیں۔ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ تفسیرکبیر میں ایک جگہ فرماتے ہیں کہ اس (فرشتہ) نے کہا ہاجرہ جا اور دیکھ کہ اسمٰعیل کے پاؤں کے نیچے خدا تعالیٰ نے ایک چشمہ پھوڑ دیا ہے۔ (تفسیر کبیر جلد سوم صفحہ ۷۳، مطبوعہ یوکے ۲۰۲۳ء) اور ایک اور جگہ فرمایا کہ اسماعیل سَمِعَ سے ہے۔ اس میں یہ بتایا گیا تھا کہ خدا اس کی دعا کو سنے گا چنانچہ حضرت اسماعیل نے پیر مارے اور چشمہ پھوٹ پڑا۔ (تفسیر کبیر جلد ہفتم صفحہ۳۲۴، مطبوعہ یوکے ۲۰۲۳ء) اور جیسا کہ آپ نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ نے سیرت خاتم النبیینؐ میں اس واقعہ کے بارے میں لکھا ہے کہ جب ہاجرہ کا کرب انتہا کو پہنچ گیا تو ساتویں چکر کے بعد ہاجرہ کو ایک غیبی آواز سنائی دی کہ ’’اے ہاجرہ اﷲ نے تیری اور تیرے بچے کی آواز سُن لی ہے۔‘‘ یہ آواز سُن کر وہ واپس آئیں تو جس جگہ بچہ شدّتِ پیاس کی وجہ سے بے تابی کی حالت میں تڑپ رہا تھا وہاں ایک خدائی فرشتہ کو کھڑا پایا جو اپنے پاؤں کی ایڑی اس طرح زمین پر مار رہا تھا کہ گویا کوئی چیز کھود کر نکال رہا ہے۔ حضرت ہاجرہ آگے بڑھیں تو جس جگہ وہ ایڑی مار رہا تھا وہاں اُنہوں نے ایک چشمہ پایا جس میں سے پانی پھوٹ پھوٹ کر بہہ رہا تھا۔ (سیرت خاتم النبیینؐ صفحہ ۷۵)
پس اس واقعہ کے بارے میں دونوں قسم کی روایات آتی ہیں ، جن سے یہ استدلال بھی ہو سکتا ہے کہ جس جگہ حضرت اسماعیل علیہ السلام شدت پیاس کی وجہ سے ایڑیاں مار رہے تھے، اسی جگہ پر فرشتے نے بھی ایڑی ماری ہو اور چشمہ اس جگہ سے نکلا ہو جہاں پر دونوں نے اپنی اپنی ایڑیاں ماری تھیں۔
سوال: امریکہ سے ایک دوست نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں یہ استفسار بھجوایا کہ اگر سورج گرہن کے وقت نماز نہ پڑھی جائے تو اس کا کفارہ کیا ہے۔ نیز میں نے سورج گرہن کا نظارہ کرنے اپنے دوست کے پاس جانا ہے اگر میں وہاں نماز کسوف نہ پڑھ سکوں تو کیا صدقہ، نوافل اور استغفار کے ذریعہ اس کا کفارہ ادا کیا جا سکتا ہے؟ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مورخہ ۱۷؍دسمبر ۲۰۲۳ء میں اس سوال کا درج ذیل جواب عطا فرمایا۔ حضور انور نے فرمایا:
جواب: نماز کسوف و خسوف کوئی فرض نماز نہیں جس کے ترک کرنے پر کوئی گناہ ہوتا ہو کہ اس کے مداوا کے لیےکسی کفارہ کی ضرورت پڑے۔ بلکہ یہ نماز حضور ﷺ کی ایسی سنت ہے کہ اگر اسے ادا کیا جائے تو ثواب ہوتا ہے اور اگر نہ پڑھی جا سکے تو کوئی گناہ نہیں۔
یہ نماز اکیلے اور باجماعت دونوں طرح ادا کی جا سکتی ہے۔ اس لیے جب آپ اپنے دوست سے ملنے جائیں تو وہاں اکیلے بھی آپ یہ نماز ادا کر سکتے ہیں۔ اس نماز میں معمول کی نمازوں سے زیادہ قراءت ہوتی ہے اور ہر ایک رکعت میں دو یا دو سے زیادہ رکوع ہوتے ہیں۔
سوال: یوکے سے ایک دوست نے حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے بعض ارشادات اورحضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ایک خط نیز ریویو آف ریلیجنز میں شائع شدہ ایک نوٹ کے حوالے سے سود کے بارے میں کچھ سوالات حضور انور کی خدمت اقدس میں بھجوائے۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مورخہ ۱۹؍دسمبر ۲۰۲۳ء میں ان سوالات کے بارے میں درج ذیل راہنمائی عطا فرمائی۔ حضورانور نے فرمایا:
جواب: دراصل اسلام کے اقتصادی نظام میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے جو سود کی تعریف بیان فرمائی ہے، وہ صرف مالی لین دین کے بارہ میں نہیں بلکہ اس میں حضورؓ نے کئی اور مالی معاملات کو بھی شامل فرمایا ہے جو بنی نوع انسان کے لیےمضر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سود کی یہ تعریف بیان کرنے سے پہلے حضورؓ یہ بھی فرما رہے ہیں کہ اسلام نے سود کی ایسی تعریف کی ہے جس سے بعض ایسی چیزیں بھی جو عرف عام میں سود نہیں سمجھی جاتیں سود کے دائرہ عمل میں آ جاتی ہیں اور وہ بھی بنی نوع انسان کے لیےناجائز ہو جاتی ہیں۔ (اسلام کا اقتصادی نظام، انوار العلوم جلد ۱۸ صفحہ ۴۹) اور اس کے بعد پھر حضورؓ نے مختلف قسم کے ٹرسٹ جو دوسروں کے لیےنقصان کا باعث ہوتے ہیں، ناجائز کاروباری داؤ پیچ، مختلف تجارتی سسٹم جن سے چھوٹے کاروبار والوں کو نقصان پہنچے ،ذخیرہ اندوزی نیز دوسرے کو نقصان پہنچانے کے لیےاپنے مال کی قیمت گھٹانا وغیرہ کا ذکر کر کے ان امور کے خلاف اسلامی تعلیمات کو بیان فرمایا ہے۔ لیکن جہاں حضورؓ نے صرف قرض کے لین دین کے ضمن میں سود کی تعریف بیان فرمائی ہے وہاں حضورؓ فرماتے ہیں: شرع میں سود کی یہ تعریف ہے کہ ایک شخص اپنے فائدہ کے لیےدوسرے کو قرض دیتا ہے اور فائدہ مقرر کرتا ہے جو محض روپیہ کے معاوضہ میں حاصل کیا جاتا ہے اور اس کے ساتھ گھاٹے کا عقلاً امکان نہیں ہوتا۔یہ مالی فائدہ مدتِ معینہ پر پہلے سے مقدار جنس یا رقم کی صورت میں معین ہوتا ہے۔(روزنامہ الفضل ربوہ نمبر ۵۰، جلد ۱۵؍۵۰ ، مورخہ ۲ مارچ ۱۹۶۱ء صفحہ ۴)
پس یہ تعریف ہر اس قرض پر لاگو ہو گی، جس میں قرض دینے والا قرض دیتے وقت اس قرض پر کچھ زائد لینے کی شرط لگا دے۔ اس لیے اسلام کی رو سے کوئی ایسا قرض جس پر سود کے ذریعہ منافع لیا جائے جائزنہیں۔ لیکن اگر قرض لینے والا بغیر کسی پیشگی شرط کے قرض واپس کرتے وقت از خود کچھ زائد دے دے تو یہ سود کے زمرہ میں نہیں آتا۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس بارے میں فرماتے ہیں: شرع میں سُود کی یہ تعریف ہے کہ ایک شخص اپنے فائدے کے لیےدوسرے کو روپیہ قرض دیتا ہے اور فائدہ مقرر کرتا ہے یہ تعریف جہاں صادق آوے گی وہ سود کہلاوے گا ۔ لیکن جس نے روپیہ لیا ہے اگر وہ وعدہ وعید تو کچھ نہیں کرتا اور اپنی طرف سے زیادہ دیتا ہے تو وہ سود سے باہر ہے۔ چنانچہ انبیاء ہمیشہ شرائط کی رعایت رکھتے آئے ہیں ۔ اگر بادشاہ کچھ روپیہ لیتا ہے اور وہ اپنی طرف سے زیادہ دیتا ہے اور دینے والا اس نیت سے نہیں دیتا کہ سود ہے تو وہ بھی سود میں داخل نہیں ہے وہ بادشاہ کی طرف سے احسان ہے۔ پیغمبر خدا نے کسی سے ایسا قرضہ نہیں لیا کہ ادائیگیٔ وقت اُسے کچھ نہ کچھ ضرور زیادہ (نہ)دیدیا ہو ۔یہ خیال رہنا چاہیے کہ اپنی خواہش نہ ہو۔ خواہش کے برخلاف جو زیادہ ملتا ہے وہ سُود میں داخل نہیں ہے۔ (البدرنمبر ۱۰، جلد ۲، مورخہ۲۷؍مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ۷۵)
باقی جو آپ نے حکومتی سکیموں میں پیسہ لگا کر کچھ زائد ملنے کی بات کی ہے تو وہ ایک الگ امر ہے۔ اگر کوئی ادارہ جو خالصۃً حکومت کی ملکیت ہو( جیسا کہ پاکستان میں قومی بچت)جو اپنے سرمایہ کو مختلف قسم کے فلاحی کاموں میں خرچ کرتا اور عوام الناس کی بھلائی اور بہتری کے لیےاس پیسہ کو استعمال کرتا ہےجس کے نتیجہ میں ملک کی معیشت میں ترقی ہوتی ہے ،عوام کے لیےروز گار کے زیادہ مواقع پیدا ہوتے ہیں اور حکومت کے Revenue میں اضافہ کا باعث بنتا ہے۔ جس وجہ سے اس مالیاتی ادارہ میں رقم جمع کروا کر فائدہ اٹھانے والے افراد کے علاوہ باقی عوام بھی حکومت کے ان فلاحی کاموں سے مستفید ہو رہے ہوتے ہیں۔اس صورت میں یہ حکومتی مالی ادارہ اپنے کھاتہ داروں کو بھی اپنے نفع میں شریک کر لیتا ہے، جسے وہ منافع کا نام دیتا ہے۔ اور کھاتہ داروں کو جب اپنی رقم کی ضرورت ہوتی ہے وہ اسے واپس بھی لے سکتے ہیں۔ تو ایسی صورت میں یہ خالص حکومتی ادارے اپنے کھاتہ داروں کو منافع کے نام پر جو زائد رقم دیتے ہیں وہ سود کے زمرہ میں نہیں آتی، بلکہ وہ بادشاہ کی طرف سے ایک احسان سمجھا جائے گا۔ لہٰذا ایسا منافع انسان اپنے ذاتی استعمال میں لا سکتا ہے۔
اسی طرح حکومتی بانڈز وغیرہ خریدنا اور ان پر ملنے والی انعام کی رقم کو اپنے ذاتی استعمال میں لانا منع نہیں ہے کیونکہ بانڈز کی خریداری میں نہ تو جوئے کی کوئی صورت پائی جاتی ہے اور نہ ان پر ملنے والا انعام سود کے زمرہ میں آتا ہے۔
جہاں تک سٹاکس اور مختلف کمپنیوں کے شیئرز خریدنے کا معاملہ ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں کیونکہ یہ بھی ایک طرح سے نفع و نقصان میں شراکت والا ایک کاروبار ہی ہے، اگرچہ اس میں بہت زیادہ احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ اس کاروبار میں دھوکا دہی کا بہت امکان ہوتا ہے۔ لیکن اگر دیانت داری کے ساتھ یہ کام ہو تو اگرچہ شیئرز کی قیمت اوپر نیچے ہوتی رہتی ہے مگر شیئرز اپنی جگہ بہرحال موجود رہتے اور یہ انویسٹمنٹ قائم رہتی ہے۔ اوراگر آپ اس سے نکلنا چاہیں توآپ ان شیئرز کو فروخت بھی کر سکتے ہیں۔ سوائے اس کے کہ وہ کمپنی جس کے شیئرز خریدے گئے ہیں Bankrupt ہو جائے تو ایسی صورت میں اس کے شیئرز کی قیمت بھی ختم ہو جاتی ہے۔
سٹاکس اور شیئرز کے اس کاروبار میں اگر یہ صورت ہو کہ ادھر شیئرز خریدے، ادھر فروخت کیے اور صبح شام شیئرز مارکیٹ کے انڈیکس بورڈ پر ہی نظر جمائے رکھی جائے تو یہ جوئے اور لاٹری سے ملتی جلتی صورت ہو گی جس کی ممانعت سے کسی کو انکار نہیں۔
باقی عصر حاضر کے مختلف مالی معاملات پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشاد کہ’’اب اس ملک میں اکثر مسائل زیروزبر ہو گئے ہیں۔کل تجارتوں میں ایک نہ ایک حصہ سود کا موجود ہے۔ اس لیے اس وقت نئے اجتہاد کی ضرورت ہے۔‘‘(البدرنمبر ۴۱ و ۴۲، جلد ۳، یکم و ۸؍نومبر۱۹۰۴ء صفحہ۸) کی روشنی میں ایک مرکزی کمیٹی ان مسائل پر غور کر رہی ہے۔فیصلہ ہونے پر افراد جماعت کو ان شاء اللہ اس سے آگاہ کر دیا جائے گا۔
سوال: کینیڈا سے ایک دوست نےحضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں لکھا کہ سُبْحَانَ اللّٰهِ وَبِحَمْدِهِ والی دعا اور درود شریف کا صحیح مطلب اور مفہوم کیا ہے؟ حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مورخہ ۲۸؍دسمبر ۲۰۲۳ء میں اس استفسار کا درج ذیل جواب عطا فرمایا۔ حضور انور نے فرمایا:
جواب: سُبْحَانَ اللّٰهِ وَبِحَمْدِهِ کی دعا میں تو اللہ تعالیٰ کی پاکیزگی اور حمد کو بیان کیا گیا ہے اور اس کا ترجمہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہر قسم کے عیوب اور نقائص سے پاک ہے اور تمام قسم کی حمد اور تعریف اسی کے لیےہے اور اسی کو زیب دیتی ہے۔ حدیث میں اس دعا کی بہت زیادہ فضیلت بیان ہوئی ہے۔ چنانچہ حضرت ابوہریرہؓ کی روایت ہے کہ حضو رﷺ نے فرمایا کہ دو کلمے ایسے ہیں جو اللہ تعالیٰ کو بہت محبوب ہیں، یہ کلمے زبان پر بہت ہلکے ہیں(یعنی ان کو ادا کرنا بہت آسان ہے) لیکن قیامت کے روز اعمال کے ترازو میں یہ بہت وزنی ہوں گے۔اوروہ کلمات مبارکہ یہ ہیں سُبْحَانَ اللّٰهِ وَبِحَمْدِهِ، سُبْحَانَ اللّٰهِ الْعَظِيمِ۔ (صحیح بخاری کتاب الدعوات بَاب فَضْلِ التَّسْبِيحِ)
علاوہ ازیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھی الہاماً یہ دعا سکھائی گئی ہے جس کے ساتھ درود شریف کا حصہ بھی شامل ہے۔ چنانچہ حضور علیہ السلام فرماتے ہیں:’’جس طرح خدا تعالیٰ نے مصائب سے نجات پانے کے لیےبعض اپنے نبیوں کو دعائیں سکھلائی تھیں مجھے بھی خدا نے الہام کرکے ایک دعا سکھلائی او ر وہ یہ ہے۔ سبحان اللّٰہ وبحمدہ سبحان اللّٰہ العظیم اللّٰھم صلّ علٰی محمّد وآل محمّد۔‘‘(تریاق القلوب، روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحہ ۲۰۸ حاشیہ)
باقی جہاں تک مسنون درود شریف کا تعلق ہے تو یہ آنحضور ﷺ کی ذات اقدس پر رحمت اور برکت نازل ہونے کے لیے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا ہے۔ جس کا قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں حکم دیا ہے۔ جیسا کہ فرمایا اِنَّ اللّٰہَ وَمَلٰٓئِکَتَہٗ یُصَلُّوۡنَ عَلَی النَّبِیِّ ؕ یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا صَلُّوۡا عَلَیۡہِ وَسَلِّمُوۡا تَسۡلِیۡمًا۔(الاحزاب:۵۷) یعنی یقیناً اللہ اور اس کے فرشتے اس نبی پر رحمت بھیجتے ہیں۔ اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! تم بھی اس پر درود اور خوب خوب سلام بھیجو۔
اس مسنون درود شریف کا ترجمہ یہ ہے کہ اے اللہ تو محمد ﷺ اور آپؐ کی آل پر اسی طرح رحمت نازل فرما جس طرح تو نے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کی آل پر رحمت نازل فرمائی ہے، یقیناً تو بہت زیادہ تعریف والا اور بڑی شان والا ہے۔ اے اللہ تو محمد ﷺ اور آپؐ کی آل پر اسی طرح برکت نازل فرما جس طرح تو نے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کی آل پر برکت نازل فرمائی ہے، یقیناً تو بہت زیادہ تعریف والا اور بڑی شان والا ہے۔
اس درود میں اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ اور اَللّٰھُمَّ بَارِکْ عَلَی مُحَمَّدٍ جو علیحدہ علیحدہ آیا ہےاس کی وضاحت میں اپنے مختلف خطبات و خطابات میں بیان کر چکا ہوں ۔ یہاں خلاصۃً بیان کر دیتا ہوں۔ اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍکی دعا کے یہ معنی ہوں گے کہ اے اللہ! تو محمد ﷺکو اس دنیا میں ان کا ذکر بلند کر کے اور ان کے پیغام کو کامیابی اور غلبہ عطا فرما کر اور ان کی شریعت کے لیےبقا اور دوام مقدر کر کے عظمت عطا فرما جبکہ آخرت میں ان کی امّت کے حق میں ان کی شفاعت کو قبول فرماکے اور ان کے اجر و ثواب کو کئی گنا بڑھا کر دینے کے ذریعہ سے انہیں عظمت سے ہمکنار فرما۔اور اَللّٰھُمَّ بَارِکْ عَلَی مُحَمَّدٍ کے معنی یہ ہیں کہ اے اللہ! تو نے جو بھی عزت و عظمت اور عظیم شان اور بزرگی آنحضرت ﷺ کے لیےمقدر فرمائی ہوئی ہے اس کو ان کے لیےقائم فرما دے اور اس کو ہمیشگی اور دوام بخش۔ وہ ہمیشہ قائم رہنے والی ہو۔
پس خلاصہ یہ ہے کہ اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ میں آپ کی شریعت کے غلبہ اور ہمیشہ قائم رہنے اور امت کے حق میں آپ کی شفاعت سے فیض پانے کی دعا ہے اور اَللّٰھُمَّ بَارِکْ عَلَی مُحَمَّدٍ میں آپ ﷺ کی عزت و عظمت اور شان اور بزرگی کے ہمیشہ قائم رہنے کے لیےدعا ہے۔
احادیث میں درود شریف کی بہت زیادہ فضیلت بیان ہوئی ہے۔ چنانچہ حضرت ابی بن کعبؓ سے مروی ہے کہ میں نے حضور ﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ میں کثرت سے حضور پر درود بھیجتا ہوں۔ پس میں اپنی دعا کا کتنا حصہ حضور کے لیےمخصوص کروں؟ فرمایا جتنا چاہو۔میں نے عرض کیا ایک چوتھائی ؟ فرمایا جتنا چاہو، لیکن اگر اس سے زیادہ کرو تو یہ تمہارے لیے بہتر ہوگا۔ میں نے عرض کیا نصف حصہ؟ فرمایا جتنا چاہو، لیکن اگر اس سے بھی زیادہ کرو تو یہ تمہارے لیے بہتر ہوگا۔ میں نے عرض کیا دو تہائی؟ فرمایا جتنا چاہو، اور اگر اس سے بھی زیادہ کرو تو یہ تمہارے لیے بہتر ہوگا۔ میں نے عرض کیا کہ آئندہ میں اپنی تمام دعا کو حضور کے لیےہی مخصوص رکھا کروں گا۔ آپؐ نے فرمایا پھر اس کے نتیجہ میں تمہاری دنیا اور آخرت کی تمام مرادیں پوری ہو جائیں گی اور تمہارے گناہ بخش دیے جائیں گے۔ (سنن ترمذی كِتَاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالرَّقَائِقِ وَالْوَرَعِ بَاب مَا جَاءَ فِي صِفَةِ أَوَانِي الْحَوْضِ)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام درود شریف کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ایک مرتبہ ایسا اتفاق ہوا کہ درود شریف کے پڑھنے میں یعنی آنحضرت ﷺ پر درود بھیجنے میں ایک زمانہ تک مجھے بہت استغراق رہا کیونکہ میرا یقین تھا کہ خدا تعالیٰ کی راہیں نہایت دقیق راہیں ہیں وہ بجز وسیلہ نبی کریمؐ کے مل نہیں سکتیں جیسا کہ خدا بھی فرماتا ہے: وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ۔(المائدۃ:۳۶)تب ایک مدت کے بعد کشفی حالت میں میں نے دیکھا کہ دو سقے یعنی ماشکی آئے اور ایک اندرونی راستے سے اور ایک بیرونی راہ سے میرے گھر میں داخل ہوئے ہیں اور ان کے کاندھوں پر نور کی مشکیں ہیں اور کہتے ہیں ھَذَا بِمَا صَلَّیْتَ عَلیٰ مُحَمَّدٍ۔(حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۱۳۱ حاشیہ)
درود شریف کی فضیلت اور اہمیت کے بارہ میں قرآن کریم، احادیث نبویہ ﷺ ، حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے ارشادات کی روشنی میں کئی مرتبہ میں بھی اپنے خطبات جمعہ اور خطابات میں تفصیلی ذکر کر چکا ہوں، ان خطبات و خطابات کو آپ الفضل میں پڑھ بھی سکتے ہیں اور جماعتی ویب سائٹ alislam.org پر آپ انہیں سن بھی سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: بنیادی مسائل کے جوابات(قسط۱۰۸)




