مقصود میرا پورا ہو مل جائیں اگر دیوانے دو
سیرالیون کا ایک اور دیوانہ : بلالِ احمدیت پا سعیدو بنگورا


گذشتہ سال جلسہ سالانہ سیرالیون پر جماعت احمدیہ سیرالیون کے ابتدائی مخلص احمدی پاالحاج علی روجرز صاحب پر ایک مضمون آن لائن شائع ہوا۔ اور بعد ازاں ۱۸ ؍نومبر ۲۰۲۵ء کے شمارے میں شامل اشاعت ہوا۔ اس مضمون میں پا الحاج علی روجزر کے علاوہ ایک اور مخلص پا سعیدو بنگورا صاحب کا بھی ذکر تھا۔ ان دونوں شخصیات پر حضرت مصلح موعودؓ کا یہ شعر بالفعل پورا اترتا ہے کہ
عاقل کا یہاں پر کام نہیں وہ لاکھوں بھی بےفائدہ ہیں مقصود مرا پورا ہو اگر مل جائیں مجھے دیوانے دو
قبولِ احمدیت
پا سعیدو بنگورا صاحب بوقتِ وفات جماعت احمدیہ سیرالیون کے قدیم ترین احمدی اور معمر ترین احمدی بزرگ تھے۔ ۱۹۳۸ء میں الحاج مولانا نذیر احمد علی صاحب نے شمالی حصۂ ملک میں کامیاب تبلیغ سے روکوپر کے مقام پر جماعت قائم کی پھر آپ جنوبی حصہ ملک کے علاقے باؤماہوں میں ایک عرب دوست کی دعوت پر تشریف لے گئے تھے اور تبلیغی کاوشوں سے وہاں مسلمانوں کی اکثریت منظم طور پر جماعت احمدیہ مسلمہ میں داخل ہو گئی تھی۔
اسی علاقے میں ۱۹۳۸ء یا ۱۹۳۹ء میں پا سعیدو بنگورا صاحب نےاس وقت احمدیت قبول کی جبکہ الحاج مولوی نذیر احمد علی صاحب پہلی مرتبہ وہاں بغرض تبلیغ تشریف لے گئے تھے۔ مولانا محمد صدیق امرتسری صاحب نے سیرالیون کے ابتدائی مخلصین کی ایک فہرست مرتب کی اور لکھا کہ ان احباب کا اخلاص اور ان کا ایثار اور قربانیاں سنہری حروف سے لکھی جانے کے قابل ہیں اور یہ لوگ موجودہ اور آنے والی نسلوں کی دعاؤں کے مستحق ہیں۔ مولانا صاحب نے اس فہرست میں الحاج پا سعیدو بنگورا مرحوم کا نام بھی درج کیا ہے۔ (روح پرور یادیں صفحہ ۴۲۵)
اذان اور بلالِ احمدیت کا خطاب
پا سعیدو بنگورا صاحب کی وفات پر مولانا محمد صدیق امرتسری صاحب نے اپنے ایک مضمون میں آپ کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ لکھتے ہیں کہ آپ نماز با جماعت کے پابند ہونے کے علاوہ تہجد گزاری میں بھی ایک نمونہ تھے با وجود گھر مسجد سے دور ہونے کے صبح کی نماز کے لیے سب سے پہلے پہنچ کر ایسی بلند اور سریلی آواز سے اذان دیتے کہ سارا علاقہ گونج اٹھتا تھا۔ ‘‘بو’’ احمد یہ مرکز کے ابتدائی ایام میں مسجد احمد یہ بھی ایک چھوٹے سے ٹیلے پر واقع تھی۔ جہاں پر وقتِ سحر الحاج پا سعید وصاحب کی باریک اور بلند آواز میں اذان سننے سے ایسی پر سرور کیفیت پیدا ہوتی تھی کہ اس علاقہ کے غير از جماعت اور بعض غیر مسلم مکین بھی ان کی اذان کو پسند کرتے تھے۔ اسی لیے ۱۹۳۹ ء سے ہی اُن کا نام بلالِ احمدیت مشہور ہو گیا تھا۔ (الفضل ۱۷ ؍اگست۱۹۷۵ء)
کئی مقامی زبانوں کے ترجمان
سیرالیون کو موٹے طور پر دو حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے شمال میں ٹمنی قبیلہ اور جنوب میں مینڈے زبان کے بولنے والے ہیں۔ اس کی مثال پنجاب اور سندھ کی لسانی تقسیم سے سمجھی جا سکتی ہے۔ ان علاقوں میں اور بھی مقامی، قبائلی زبانیں بولی جاتی ہیں تاہم ان کے مخصوص علاقے ہیں۔ الحاج نذیر احمد علی صاحب کو ابتدا میں ہی دونوں زبانوں کے ترجمان فراہم ہو گئے۔ شمال سے جناب پا سعیدو بنگورا صاحب اور جنوب سے مینڈے ترجمان پا الحاج علی روجرز صاحب۔ مالی لحاظ سے پا الحاجی علی روجرز متمول تھے جبکہ پا سعیدو بنگورا صاحب ان کی نسبت غیرمتمول، بے نفس اور باوفا انسان تھے۔ دونوں اصحاب نہ صرف خود دینی خدمت میں آگے آگے رہے بلکہ اپنی اپنی قوم سے بھی فاستبقوا الخیرات کے تحت ایک دوسرے سے بڑھ کر قربانی کرانے پر پیش پیش رہتے۔ مولانا امرتسری صاحب لکھتے ہیں کہ الحاج سعیدو بنگورا قومی لحاظ سے ٹمنی قبائل میں سے بنگورا قبیلے سے تعلق رکھتے تھے۔ اگرچہ ناخواندہ تھے لیکن اپنی قومی زبان ٹمنی کے ماہر ہونے کے علاوہ فولانی(Fula)،میڈنگو(Mandingo)، کورانکو(Koranko) اور سوسو(Soso ) زبانوں میں بھی اپنا ما فی الضمیر اچھی طرح ادا کر لیا کرتے تھے اور سیرالیون کی کبوتری انگلش (کریول/Pidgin English) بھی خوب بول سکتے تھے۔ اس وجہ سے جس علاقہ میں انہیں تبلیغ کے لیے بھیجا جاتا تھا انہیں زبان کی مشکل پیش نہیں آتی تھی۔ (الفضل ۱۷ ؍اگست۱۹۷۵ء)
احمدیت کی خاطر سب کچھ چھوڑکر ہجرت کر گئے
پا بنگورا صاحب کو احمدیت قبول کیے ہوئے کچھ عرصہ ہوا تھا کہ آپ نے اطاعت اور وفا کا ایک اعلیٰ نمونہ قائم کر دیا۔ آپ اس وقت کے ایک امیر ترین علاقے میں رہائش پذیر تھے جو سونے کی کانوں اور تجارت کے سبب مشہور تھا۔ تاہم اطاعتِ نظام جماعت کی خاطر مع اہل خانہ اس علاقے کو چھوڑ کر ایک ایسے علاقے میں جا بسے جہاں ۲۰۲۱ء میں اس وقت سڑک بنی جن ایام میں جماعت احمدیہ اپنی سو سالہ تقریبات منا رہی تھی۔ اس واقعہ کی تفصیل یوں ملتی ہے کہ
غالباً ۱۹۴۲ ء میں حضرت مولوی نذیر احمد علی صاحب نے سارے سیرالیون کا سروے کر کے مختصر حالات حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں پیش کیے تو حضور نے ایک خاص ہدایت یہ فرمائی تھی کہ روٹے فونک Rotifunk اور مویامبا Moyamba کی ریاستیں چونکہ تاریخی لحاظ سے عیسائیت کا گڑھ سمجھی جاتی ہیں اس لیے وہاں پر ہماری طرف سے بھی ایک مضبوط اسلامی مرکز کھلنا چاہیے تاکہ وہاں ہر دم توحید کا جھنڈا لہراتا رہے۔ اس علاقہ کے سب نواب اور چیف کیتھولک عیسائی تھے۔ اس لیے دیگر انتظامات اور کوششوں کے علاوہ حضرت مولوی علی صاحب مرحوم نے الحاج سعید و بنگو را مرحوم کو تحریک فرمائی کہ چونکہ وہاں کے اکثر لوگ ان کی قوم سے تعلق رکھتے ہیں اس لیے وہ وہاں ہجرت کر جائیں اور اپنا کاروبار بھی وہاں ہی لے جا کر ڈیرا جمالیں اور اپنے نمونہ اور تبلیغ کے ذریعہ اس ریاست میں اسلام پھیلائیں اور جماعت قائم کریں۔ الحاج سعید و مرحوم کے لیے دنیوی لحاظ سے وہاں کوئی دلچسپی نہیں تھی لیکن محض اللہ تعالیٰ کے دین کی خاطر اور حضرت مصلح موعودؓ کے منشاء مبارک کو پورا کرنے کے لیے وہ مع اہل و عیال وہاں جا کر مقیم ہو گئے اور سالہا سال تک وہیں رہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا اور روٹی فونک میں نہ صرف جماعت قائم ہو گئی بلکہ وہاں کے بعض مسلمان بچے عیسائی سکول چھوڑ کربوشہر کے احمد یہ سکول میں داخل ہو گئے اور سکول کے ہوسٹل میں اسلامی تربیت حاصل کرنے لگے اور پھر فارغ التحصیل ہو کر وہاں کی جماعت کے لیے مفید وجود ثابت ہوئے۔ (الفضل ۱۷ ؍اگست۱۹۷۵ء و ماخوذ از روح پرور یادیں صفحہ ۵۱۶)
۱۹۴۲ء کے سروے، پھر حضرت مصلح موعودؓ کے ارشاد اور پا سعیدو بنگورا کے مویامبا تقرر تک کی ایک دلچسپ داستان ہے۔ ہوا کچھ یوں کہ ستمبر ۱۹۴۳ء میں بو شہر میں مولانا محمد صدیق امرتسری صاحب اور مولانا نذیر احمد علی صاحب کی طبیعت ناساز ہوگئی۔ مولانا صدیق امرتسری صاحب کی آنکھوں میں پرانے کُکروں کی تکلیف اچانک بڑھ گئی۔ ان ہی ایام میں مویامبا میں ایک ہسپتال میں ایک انگریز ماہرِ چشم آیا ہواتھا حضرت مولانا نذیر احمد علی صاحب اپنی تکلیف دمہ اور بخار کی تکلیف کو بھلا کر باصرار انہیں ۱۶ ستمبر ۱۹۴۳ء کو مویامبا لے گئے۔ڈاکٹرز کے دو تین روز کے علاج سے ان دونوں کے عوارض کی شدت میں کمی آگئی۔ چوتھے دن مولانا صاحب نے کہا کہ علاج کے بہانے اللہ تعالیٰ ہمیں اس علاقے میں لایا ہے تا کہ ہم یہاں کے باشندوں کو تبلیغ کر سکیں اور عیسائیت کے اس گڑھ میں جہاں ان کے کئی سکول، گرجے اور اپنا ہسپتال بھی ہے اسلام کی سچائی اور عیسائیت کے بطلان کو ثابت کریں۔ پیراماؤنٹ چیف کی اجازت سے شہر میں تقاریر، لیکچرز اور سوال و جواب بھی ہوئے۔ گھر گھر دستک دے کر لٹریچر بھی تقسیم کیا۔ اور واپسی سے قبل اس مخلص احمدی بھائی مکرم الحاج سعیدو بنگورا مرحوم کو بطور آنریری لوکل معلم مقرر کر دیا۔ ان کی کوششوں سے وہاں چھوٹی سی جماعت پیدا ہو گئی۔ (ماخوذ ازروح پرور یادیں، صفحہ۳۲۰-۳۲۱)
انچارج وقارِ عمل
مولانا محمد صدیق امرتسری صاحب لکھتے ہیں کہ مسجد احمدیہ اور احمدیہ سکول باؤماہوں کی عمارات کی تعمیر کے وقت اقتصادی حالات کے سبب احبابِ جماعت نے وقارِ عمل کے ذریعہ کام کیا۔ کئی ماہ تک ہفتہ میں ایک روز وقارِ عمل منایا جاتا رہا۔ جماعت کے چھوٹے بڑے افراد وفود کی صورت میں جنگل میں جاتے اور مناسبِ حال لکڑیاں کاٹ کر لاتے رہے۔ وقارِ عمل کے اس نظام کے انچارج ٹمنی احباب کے لیے الحاج سعیدو بنگورا مرحوم اور مینڈے احباب کے لیے الحاج علی روجرز صاحب تھے۔ باوجود پیرانہ سالی کے دونوں احباب وقارِ عمل میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش میں فاستبقوا الخیرات کا عملی نمونہ نظر آتے تھے۔ وقار عمل کے اس نظام کے انچارج ٹمنی احمدیوں کے لیے الحاج سعید وبنگو را مرحوم اور مینڈے احمدیوں کے الحاج علی رو جر ز صاحب ہوتے تھے۔ اور دونوں قوموں کے احباب وقار عمل میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش میں فاستبقوا الخيرات کا عملی نمونہ نظر آتے تھے۔(یاد رہے کہ یہ لسانی تقسیم پیغام رسانی میں سہولت کی غرض سے تھی۔)وہ لکھتے ہیں کہ الحاج سعید و مرحوم ستر اسّی کے مابین ہونے کے باوجود بڑے مضبوط اور توانا تھے۔خاکسار خود بھی اس وقت جوان اور مضبوط تھا مگر عادت نہ ہونے کی وجہ سے آدھ میل دور سے لکڑیاں کندھوں پر اٹھا کر لانا میرے لیے کوئی معمولی کام نہ تھا۔ مجھے خوب یاد ہے ہمارے بھائی سعید و بنگو را بلال مرحوم راستے میں بعض دفعہ ایک کندھے پر بوجھ کا اپنا حصہ اٹھائے ہوتے اور اپنے دوسرے کندھے پر میرے گٹھے کا ایک سرا رکھ لیتے اور اس طرح تعاون باہمی کے جذبہ سے وہ میرا بوجھ بٹاتے ہوئے واپس آتے۔ (ماخوذ از روح پرور یادیں، صفحہ ۵۱۶) اس بارے میں مولانا امرتسری صاحب کے وقارِ عمل کے دوران بیمار ہونے پا سعیدو بنگورا صاحب اور پا الحاج علی روجرز صاحب کا ان کی جلد سے کیڑے نکالنے کا ذکر ہو چکا ہے۔ (ملاحظہ ہو الفضل ۱۸ ؍نومبر ۲۰۲۵ء )
وقفِ عارضی میں بے مثال خدمات
اس بارہ میں گو علیحدہ سے کچھ تفصیل نہیں ملتی۔ تاہم مختلف رپورٹس اور دیگر مضامین میں ان کا نہایت احسن پیرایہ میں ذکر ہے۔سیرالیون کی انتہائی مشرقی اور انتہائی مغربی ریاستیں ایسی ہیں جہاں آجکل بھی سڑکیں نہیں۔ اور یہ ریاستیں مکمل طور پر جدید دنیا کے وسائل سے ہم آہنگ نہیں۔
ایک مرتبہ ۱۹۴۵ ء میں سیدنا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے خاکسار کو توجہ دلائی کہ تبلیغ صرف با قاعدہ مبلغین کی ذمہ داری نہ سمجھی جائے بلکہ سیرالیون کے وہ مخلصین جو لوکل زبانیں جانتے ہیں وہ ہر سال کم و بیش ایک مہینہ تبلیغ کے لئے وقف کیا کریں۔ اور خصوصا ًگو رنمنٹ کے ملازمین اور ٹیچروں کو اپنی سالانہ رخصتیں وقف کرنے کی تحریک کی جائے۔ چنانچہ اس مبارک تحریک میں اللہ تعالیٰ نے برکت ڈالی اور سالہا سال تک سیرالیون کے مخلص احباب اس وقف عارضی کی تحریک میں ہر سال حصہ لے کروفود کی صورت میں ملک کے طول و عرض میں پھیل کر تبلیغ کرتے رہے۔ سینکڑوں پاؤنڈ کا اسلامی لٹریچر بھی فروخت او ر تقسیم ہوا۔ مخلص احباب جماعت کثیر تعداد میں کئی سال تک بشاشت اور کامیابی سے یہ وقف عارضی نبھاتے رہے۔ ان میں سر فہرست الحاج سعید و مرحوم اور الحاج علی روجر ز صاحب کا نام آتا ہے۔ الحاج سعید و ٹمنی قوم میں سے ہونے کی وجہ سے ملک کے ٹمنی علاقہ میں زیادہ اثر و رسوخ رکھتے تھے۔ وہ کئی سال تک اپنا کام کاج چھوڑ کر دُور دُور کی اندرونی ٹمنی ریاستوں میں اپنے وفد کے دوسرے احباب کے ساتھ اکثر پیدل اس جہاد کبیر سے مشرف ہوتے رہے۔(روح پرور یادیں،صفحہ ۵۱۷)
مولانا محمد صدیق امرتسری صاحب ان کی وفات پر رقم طراز ہیں کہ فی الحقیقت مرحوم ایک وفادار، خدمت گزار، مخلص اور قربانی کرنے والے احمدی بھائی تھے۔ ا ن کے ساتھ گزارے ہوئے ابتدائی ایام کے کئی دلچسپ واقعات، کٹھن تبلیغی مہمیں، دن بھر میں بیس بیس میل پیدل چلنا اور کئی ایسی یادیں اور واقعات ذہن مین آ رہے ہیں۔ (الفضل ۱۷ ؍اگست ۱۹۷۵ء )
مخالفت و مصائب میں ثابت قدم
۱۹۴۱ء سے ۱۹۴۷ء تک جہاں اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت کے قدم مضبوط ہوتے جارہے تھے وہیں جماعت ہائے احمدیہ سیرالیون پر مظالم کے پہاڑ توڑے گئے۔ تاہم طرح طرح کے مصائب میں وہ ثابت قدم رہے۔ریاست لونیاں کے چیف عبد الرحمٰن کمارا اور ان کے وزراء باہومان کے احمدیوں کو نہایت سخت اور انسانیت سوز تکالیف پہنچاتے رہے۔ اکثر اوقات بیگار کے لیے خلافِ قاعدہ احمدیوں کو لے جاتے۔ نیز جھوٹےالزامات اور جھوٹی گواہیوں پر انہیں آئے دن جرمانے کرتے رہتے۔ ان اذیتوں کا زیادہ تر نشانہ وہیں کے الحاج سعیدو بنگورا اور الحاج علی روجرز اور ان کے لواحقین اور دیگر مخلص ساتھی بنتے رہے۔ (روح پرور یادیں،صفحہ ۲۹۳ – ۲۹۴)
کامیاب مبلغ اور مخالفت میں مار کھانا
مولانا امرتسری صاحب لکھتے ہیں کہ الحاج سعید و بنگو را مرحوم نا خواندہ ہونے کے باوجود بڑے اچھے واعظ اور کامیاب مبلغ تھے۔ تبلیغ اسلام سے انہیں جنون کی حد تک لگاؤ تھا۔ بڑے بڑے عیسائی پادریوں اور تعلیم یافتہ لوگوں کو پہلے خود تبلیغ کرتے اور بعد میں مبلغین کرام میں سے کسی کو ان کے پاس لے جاتے۔ احمدی ہونے کے بعد تقریباً ۳۸ سال زندہ رہے۔ اور اس تمام عرصہ میں ہمیشہ طوعی طور پر بطور ٹمنی زبان کے ترجمان کے اپنے ذاتی کاموں کو ملتوی کر کے مبلغین کی ترجمانی کرتے رہے۔ حضرت حاجی نذیر احمد علی صاحب کے ساتھ روتی فونک Rotifunk، میا مبا (Moyamba)، با ویا(Bawiya)، ییلے(Yele)، مگبور کا(Magburaka)، مکالی(Makali)، مسنگبی(Masingbi)، یونی بانا(Yonibana) وغیرہ علاقوں میں بطور ترجمان لمبے لمبے تبلیغی دورے کرتے رہے۔
وقف عارضی کے ان کامیاب دوروں میں جہاں کئی نئی کامیابیوں کا سہرا ان کے سر رہا وہاں بعض ریاستوں میں مخالفت کی وجہ سے انہیں ماریں بھی کھانی پڑیں۔ بعض دفعہ انہیں گالیاں دے کر گاؤں سے نکال دیا جاتا رہا۔ لیکن دوسرے سال وہ پھر وہیں جاتے اور تبلیغ کی کوئی نہ کوئی صورت ایسی نکال لیتے رہے جس سے گاؤں کے لیڈ ر اپنے سابقہ رویّے پر نادم ہو کر ان سے اچھا سلوک کرتے۔ غرضیکہ اس بندہ خدا کی استقامت،جرأت تبلیغ میں جانفشانی اور حکمت عملی قابل داد اور دوسروں کے لئے نمونہ تھی۔ ٹمنی علاقہ میں بعض جماعتیں ان کے ذریعہ قائم ہوئیں۔ لاریوں اور بسیوں اور ٹیکسیوں میں بیٹھنے کے دوران بھی وہ اپنی تبلیغی باتوں سے ایسا نیک اثر پیدا کر لیتے تھے کہ باصرار کرایہ کی رقم پیش کرنے کے باوجود ڈرائیور ان سے کرایہ لینے سے یہ کہہ کر انکار کر دیتے کہ خدا اور رسول خدا کا پیغام پہنچانے والے بزرگوں سے کرا یہ لینا معیوب بات ہے۔ بعد میں اپنی زندگی کے آخری سالوں میں الحاج سعید و مرحوم ہمہ وقت بطور لو کل مشنری کام کرنے لگے تھے۔(الفضل ۱۷ ؍اگست ۱۹۷۵ء )
مرکزی مبلغین کی خدمت، اور قاتلانہ حملوں سے حفاظت
آپ جسمانی لحاظ سے مضبوط اور صحت مند انسان تھے۔ اس حوالے سے کئی بار مبلغین کی حفاظت کی۔مولانا امرتسری صاحب لکھتے ہیں کہ میرے ساتھ بھی بے شمار مرتبہ دوروں میں شامل اور تبلیغ و تربیت کے کام میں ممد رہے۔ باوجود ایک معمر اور باریش بزرگ ہونے کے دوران سفر مبلغین کی خدمت کرنے، انہیں آرام پہنچانے اور ان کی حفاظت میں بھی کوئی کمی نہ رہنے دیتے اور ہردم چوکس رہتے تھے۔ ایک مرتبہ دوران گفتگو اچانک ایک مخالف شخص اپنے پیچھے چھپائی ہوئی تلوار نکال کر مجھ پر حملہ کرنے کے لیے آگے بڑھا۔ قبل اس کے کہ میں اپنا بچاؤکرتا الحاج سعید و صاحب فوراً درمیان میں آکھڑے ہوئے اور اس شخص کو دونوں بازوؤں میں زور سے بھینچ کر زمین پر گرا لیا۔ جس کے دوران میں نے وہ تلوار اس کے ہاتھ سے لے کر اپنے قبضہ میں کرلی۔( الفضل ۱۷ ؍اگست ۱۹۷۵ء )
مبلغین کے کپڑے صاف کرنے اور اسی طرح کی دوسری خدمات کر کے آپ اور ان کے گھر کے لوگ خوشی محسوس کرتے تھے، اور یہ سب انہی کی تربیت کا اثر تھا۔ جب کبھی ان کے گھر کوئی خاص کھانا پکتا یا درختوں پر پھل لگتے تو مبلغین کرام کے ہاں تحفہ کے طور پر ضرور لےکر آیا کرتے تھے۔ افریقن بھائیوں کی مہمان نوازی کے فرائض بھی بلا تفریق بڑی خوشی اور اخلاص سے ادا کرتے تھے۔ چنانچہ سیرالیون کے جلسہ سالانہ ۱۹۷۳ء کے موقعہ پر الحاج سعید و بنگورا کے گھر پر ۲۰۰ سے زائد احمدی مہمان ٹھہرے جن کی خدمت کی ذمہ داری ان کے سپرد رہی۔ (ماخوذاز روح پرور یادیں، صفحہ۵۱۹-۵۱۸)
لائبیریا میں جماعت کے قیام کا ابتدائی تبلیغی سروے
فروری ۱۹۵۲ء میں مولانا امرتسری صاحب کی ایک رپورٹ پر حضرت مصلح موعودؓ نے تحریر فرمایا کہ ‘‘آپ کا کام صرف سیرالیون کی حدود تک ہی محدود نہیں ہمسایہ ممالک میں بھی تبلیغ کا انتظام کریں۔’’ اس ارشاد کی تعمیل میں فرنچ گنی، لائبیریا اور گیمبیا میں بذریعہ ڈاک کثرت سے لٹریچر بھجوایا گیا۔ اس کے ساتھ سیرالیون کے جنوبی ملک لائبیریا کے تبلیغی سرو ے کے لیے جماعت بو کے انہی دومخلص اور فدائی احمدیوں الحاج علی روجرز اور الحاج سعیدو بنگورا کو تحریک کی گئی۔ دونوں بزرگوں نے اس تحریک پر ایک ایک مہینہ وقف کیا۔ انہیں بہت سی عربی اور انگریزی اسلامی کتب اور قرآن کریم اور یسرنا القرآن کے قاعدے دے کر اس ملک میں بھیجا گیا۔ ان دونوں بزرگوں کے دورے کے نتائج نہایت خوش کن رہے، ایک ماہ دس روز کے دورے کے دوران ۲۱۰ میل پیدل سفر کیا اور لائبیریا کے غیر معروف علاقوں کے لوگوں کو اسلام اور احمدیت سے متعارف کروایا۔ ۱۵۰ میل بذریعہ لاری اور لانچ سفر کیا اور ۸۰ پاؤنڈ کا لٹریچر فروخت کرنے کے علاوہ بہت سا لٹریچر مفت تقسیم کیا اور گاؤں گاؤں قصبہ قصبہ اور شہر شہر پہنچ کر فریضہ تبلیغ ادا کیا۔ (روح پرور یادیں، صفحہ۴۰۷-۴۰۶)
حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ کے دورہ کے لیے دعائیں
حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ کے دورہ افریقہ ۱۹۷۰ء کی رپورٹس میں لکھا ہے کہ لطف الرحمٰن محمود صاحب مرحوم کہتے ہیں کہ پا سعیدو بنگورا اور الحاج علی روجرز جن کی زندگی کی شام ہوا چاہتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے حضور رو رو کر التجا کیا کرتے کہ خدایا !اتنی عمر دے کہ خلیفۂ وقت کی زیارت سے مشرف ہو سکیں اور کہتے کہ اے مولیٰ کریم اس مبارک گھڑی سے پہلے سانس کی ڈوری ٹوٹ نہ جائے۔(الفضل ۴؍جون ۱۹۷۰ء )
پھر حضورؒ کے بابرکت دورہ کے بعد لطف الرحمٰن محمود صاحب ایک اور مضمون میں تحریر کرتے ہیں کہ پا سعیدو بنگوراPa Saidu Bangura سیرالیون کے ٹمنی قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں۔ مخلص اور قدیمی احمدی ہیں۔ اسی نوے کے لگ بھگ عمر ہے لیکن ان کا تبلیغ حق کا جوش جوانوں کو شرمندہ کرتا ہے۔یہی بزرگ ہیں جنہوں نے حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعا لیٰ عنہ کے انتقال پر ملال کی خبر سن کر کہا تھا : ‘‘کاش میرے پاس روپے ہوتے اور میں پاکستان جانے کے قابل ہوتا تو اس وقت سے بہت پہلے میں حضرت خلیفۃ المسیح کی زیارت کر چکا ہوتا۔’’ یہ کہہ کر ان کی آنکھوں سے موٹے موٹے آنسو گرنے لگے۔ فرشتوں نے ان آنسو ؤں کو ر شک کی نگاہ سے دیکھا !!یہی بزرگ سفر افریقہ کے سلسلے میں رو رو کر دعا مانگتے کہ خدا یا حضور کے سفر افریقہ تک ضرور زندگی دراز کر دے اور حضور کی زیارت کا موقع عطا فرما۔ حضور کے سیرالیون پہنچنے سے ہفتہ عشرہ قبل وہ شدید بیمار ہوگئے۔ لیکن خدا نے ان کی سن لی۔
حضور نے بومیں ورود کے معاً بعد سب سے پہلے جس بزرگ کو مصافحہ اور معانقہ کا شرف عطا فرمایا وه ‘‘پا سعیدو’’ ہی تھے! اور واپسی سے قبل حضور نے اس باہمت بوڑھے کے لئے اپنی دستار مرحمت فرمائی۔ جب یہ گرانقدر تبرک امیر صاحب سیرالیون کی ہدایت کے مطابق احقر نے نماز مغرب کے بعد پا سعید و کی خدمت میں پیش کیا تو وہ ممنونیت اور محبت کی ایک ایسی تصویر بن گئے جسے کوئی شخص بھی الفاظ کا روپ نہیں دے سکتا!
یہی بزرگ تھے جو حضور کی آمد سے کئی روز قبل بار بار فرمائش کرتے کہ تقاریر کے دوران حضور کے قریب کم از کم اتنے فا صلے پر ضرور بٹھایا جائے۔ جہاں سے وہ واضح طور پر حضور کے ہونٹوں کی حرکت اور جنبش دیکھ سکیں۔ وہ جاننا چا ہتے تھے کہ امام مہدی علیہ السلام کے خلیفہ کے ہونٹوں میں تلاوت قرآن کریم کے وقت کس انداز کی جنبش ہوتی ہے!! نہ مصحفِ رخِ دلدار آئے بر خواں نہ این مقام مقالات کشف و کشاف استعشق ومحبت کےیہ نمونے سمندر پار سات ہزار میل بسنے والوں میں پائے جاتے ہیں۔ جنہوں نے حضور علیہ السلام کو دیکھا نہیں صرف ذکر خیر ہی سنا ہے۔ یہ مقبولیت صرف مقبولان بارگاہ الہی کا حصہ ہے۔
کا ذب اور مفتری کا کاروباران حدوں کو نہیں چھو سکتا۔(الفضل ۲۰ ؍اگست ۱۹۷۰ء)
مسجد ناصر بو شہر کا سنگِ بنیاد
پا علی روجرز صاحب کی جانب سے ہبہ کردہ قطعہ زمین پر ۱۰ ؍مئی ۱۹۷۰ء کو حضرت خلیفۃالمسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے سنگِ بنیاد رکھا۔ حضور کی موجودگی میں پا علی روجرز صاحب، سعیدو بنگورا صاحب اور محمد کمانڈابونگے صاحب نے بھی مسجد کی بنیاد میں اینٹیں نصب کیں۔(الفضل ۴؍جون ۱۹۷۰ء)
وفات و تدفین
مبلغ اسلام احمدیت الحاج نذیر احمدعلی صاحب کے یہ ترجمان۱۹/ جولائی ۱۹۷۵ء کو ۱۰۲ سال کی عمر(مقامی اخبار کے اعلان کے مطابق ۱۰۳ سال) پا کر اس دارِ فانی سے کوچ کر گئے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔ آپ بھی خدا کے فضل سے موصی تھے۔پا الحاج علی روجرز صاحب کا وصیت نمبر۲۱۱۰۲ جبکہ پا سعیدو بنگورا صاحب کا ۲۱۳۶۶ ہے۔
پا سعیدو بنگورا صاحب کی نسل سے الحاجی عبد الحئی کروما صاحب (نواسے) اس وقت بطورنائب امیر ثانی سیرالیون خدمات بجا لا رہے ہیں۔ آپ نے ۱۵ نومبر ۲۰۲۵ء کو مجلس خدام الاحمدیہ سیرالیون کے ریفریشر کورس سے اختتامی خطاب میں اس واقعہ کا یوں ذکر کیا کہ پا علی روجرز کی بہت قربانیاں ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ان کی قربانیوں کو بہت پھل لگایا۔ اور ان کی خواہشات کو بھی پورا کیا۔ الحاج پا علی روجرز صاحب اور پا سعیدو بنگورا کے درمیان طے پایا تھا کہ ان میں سے جو پہلے وفات پائے گا وہ اپنے عزیز مبلغ کے پہلو میں دفن ہوگا۔ پا علی روجرز صاحب کو ان کی وفات پر گہرا دکھ تھا ایک دکھ یہ کہ ان کا ساتھی انہیں داغِ مفارقت دے گیا اور دوسرا یہ کہ اب انہیں اپنے عزیز مبلغ کے پہلو میں جگہ نہ ملے گی۔ جولائی کے ایام سیرالیون میں موسمِ برسات کے ہوتے ہیں، اگر بارش شروع ہو جائے تو کئی گھنٹے جاری رہتی ہے۔ جس دن پاسعیدو بنگورا صاحب کی وفات ہوئی۔ شدید بارش شروع ہوگئی۔ یہاں نمازِ جنازہ ادا ہوئی اور وہاں قبرستان میں ان کی خواہش کے مطابق قبر کی کھدائی ہوچکی تھی۔ تاہم شدید بارش کے باعث قبر پانی سے بھر گئی۔ جتنی کوشش کرتے پانی ختم نہ ہوتا۔ پھر کچھ فاصلے پر قبر کھودنی شروع کی گئی تو بارش تھم گئی۔ اور ان کی وہاں تدفین ہوئی۔ نائب امیر صاحب نے پا علی روجرز کی اس خواہش کی تکمیل ان کی قربانیوں کا ثمرقرار دیا۔
پا سعیدو کی اولاد در اولاد آہستہ آہستہ پھر عیسائیت کی جانب مائل ہوگئی۔
ڈاکٹرامتیاز احمد چودھری صاحب آف امریکہ: پا سعیدو بنگورا صاحب صحت مند اور مضبوط جسم کے مالک تھے۔ عظیم الجثہ کہہ سکتے ہیں۔ ان کو پراسٹیٹ کا مرض ہوا تو خاکسار نے احمدیہ کلینک بواجے بو میں ان کا آپریشن کیا تھا۔ بہت نیک آدمی تھے جیسے ہم پنجابی میں بیبا انسان کہتے ہیں اسی طرح کے تھے۔پا علی روجرز اور پا سعیدو کے درمیان مبلغین کی آواز پر لبیک کہنے کا مقابلہ ہوتا تھا۔ ان کی وفات کا اعلان ریڈیو پر ہوا۔ پا سعیدو بنگورا اور پا علی روجرز صاحب باہم بات کیا کرتے تھے کہ جو ان میں سے پہلے فوت ہوگاوہ مولانا نذیر احمد علی صاحب کے پہلو میں دفن ہوگا۔ تاہم پا سعیدو بنگورا صاحب کی وفات پہلے ہوگئی۔ اس پر اس حوالہ سے علی روجرز صاحب دوست کے بچھڑنے کے ساتھ مزید غم زدہ ہوئے کہ مولانا صاحب کے پہلو میں جگہ نہ مل سکے گی۔ جب قبر کھودنے کا عمل جاری تھا تو اس گڑھے سے پانی نکل آیا یا وہ پانی سے بھر گیا جس کے سبب پاسعیدو بنگورا کی تدفین ذرا فاصلے پر کرنی پڑی۔جب اس جگہ سے پانی نکلا تو علی روجرز صاحب نے خوشی سے اللہ اکبر کے نعرے لگائے کہ ان کی اپنے محبوب مبلغ کے ساتھ جگہ محفوظ ہے۔ اور بعد ازاں ان کی وفات پر ان کی خواہش کی تکمیل کی گئی۔
کتاب روح پرور یادیں میں پا سعیدو بنگورا صاحب کا ذکر درج کرنے کے بعد مولانا محمد صدیق امرتسری صاحب نے اپنے یہ منتخب اشعار درج کیے ہیں۔
حوادث سے خدا کے بندے گھبرایا نہیں کرتے
وہ حرمان اور مایوسی کو اپنایا نہیں کرتے
نرالی شان ہے گلہائے گلزارِ محمد کی
وہ موسم میں خزاؤں کے بھی مرجھایا نہیں کرتے
نہ کرنا یا الٰہی غیر کا محتاج تو ہم کو
کہ ہم غیروں کے آگے ہاتھ پھیلایا نہیں کرتے
وہ جن کی زندگی سب وقف ہو اسلام کی خاطر
وہ سیم و زر کے لالچ میں کبھی آیا نہیں کرتے 1
- (اس مضمون کی تیاری میں روح پرور یادیں، تابعین اصحابِ احمد جلد چہارم، الفضل قادیان و ربوہ کے علاوہ ڈاکٹر چودھری امتیاز احمد صاحب امریکہ سے رابطہ کیا گیا ) ↩︎
مزید پڑھیں: سیرالیون کے دو معزز واقفین زندگی کے اعزاز میں الوداعی تقاریبیابی کی دعا




