ہنسنا منع ہے

ہنسنامنع ہے!

معزز مہمان

ایک اعلیٰ عہدے دار نامورادیب پطرس بخاری سے ملاقات کے لیے آئے، پطرس نے کہا : تشریف رکھیے!

اُن صاحب کو یوں محسوس ہوا کہ کچھ بے اعتنائی برتی جا رہی ہے۔

چنانچہ انہوں نے کہا: میں محکمہ برقیات کا ڈائریکٹر ہوں ۔

پطرس مسکرائے اور کہا: پھر آپ دو کرسیوں پر تشریف رکھیے !!

دوائی ہلا کر استعمال کریں

ایک چودھری صاحب بیمار ہوگئے۔ ملازم ہسپتال سے دوا لے آیا۔ ڈاکٹر صاحب نے دوائی کے واسطے حکم دیا کہ ہلا کر دینا، جب چودھری صاحب دوا پینے لگے تو ملازم بولا کہ ٹھہریئے گا جناب !دوائی کے ساتھ ڈاکٹر صاحب نے ایک حکم دیا ہے کہ ہدایت پر پورا عمل نہ کرنے سے دوا نقصان دے گی ۔

یہ کہہ کر نو کرنے چودھری صاحب کو دونوں شانوں سے پکڑ کر جھٹکے دینے شروع کیے۔

انہوں نے پوچھا : کمبخت یہ کیا ہے؟

تو وہ بولا: چودھری صاحب! ڈاکٹر نے دوا دیتے وقت، حکم دیا تھا کہ ہلا کر دینا ۔

اندھے کا چراغ

ایک دن ایک اندھا ایک گھڑا کاندھے پر رکھے اور ایک ہاتھ میں چراغ لیے ہوئے رات کو چلا جارہا تھا اور آواز دیتا تھا کہ ہٹو بچو ۔ راہ دیکھ کر چلو ۔

ایک آدمی بولا کہ جناب ! آپ چراغ کیوں لیے جا رہے ہیں؟آپ کو چراغ سے کیا فائدہ ہے؟

اُس نے جواب دیا کہ بابا چراغ میں نے اپنے لیے نہیں لیا ۔ بلکہ تم لوگوں کے لیے ہے کہ دیکھ کر چلو۔ جو مجھےکوئی تکلیف نہ پہنچے ۔

پڑھائی کا خیال

باپ (بیٹے سے):دیکھو بیٹا ۔ تم جانتے ہی ہو کہ تمہاری پڑھائی میں ہمارا کتنا خرچ ہوتا ہے؟

پپو: جی ابوجی ۔ مجھے خود بڑا خیال ہے ۔ اور اسی لیے تو میں بہت تھوڑا پڑھتا ہوں تا کہ خرچ کم آئے۔

پاجامہ

استاد : بتاؤ!پاجامہ واحد ہے یا جمع؟

اسد : جناب اوپر سے واحد اور نیچے سے جمع۔

اُدھار پر اُدھار

سلیم (کلیم سے) :مجھے پچاس روپے اُدھار دینا۔

کلیم: لیکن میرے پاس تو صرف بیس روپے ہیں۔

سلیم:لاؤ بیس روپے ہی دے دو ، تیس روپے تم پر اُدھار رہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button