چولہ بابا نانک رحمۃ اللہ علیہ(قسط ۷)
۵۳۔میں قرباں ہوں دل سے تری راہ کا
نشاں دے مجھے مردِ آگاہ کا
مردِ آگاہ mard-e-aagaah: پہچاننے والا، انسان۔ A divine person well versed in
spiritual knowledge
اے اللہ !میں پوری جان سے تیری راہ میں قربان ہو گیا ہوں مجھ پر یہ رحم فرما کہ مجھے کسی ایسے اللہ والے کا پتا بتا دے جو میری تیرے سیدھے راستے پر راہنمائی کرے۔
۵۴۔نشاں تیرا پا کر وہیں جاؤنگا
جو تیرا ہو وہ اپنا ٹھہراؤں گا
تیرے کسی پیارے بندے کا پتا نشان مل جائے تو میں اس کے پاس چلا جاؤں گا۔ وہ جو تیرا عاشق ہوگا اسے اپنا بنالوں گا۔
۵۵۔کرم کر کے وہ راہ اپنی بتا
کہ جس میں ہو اے میرے تیری رضا
رضا razaa: خوشنودیApproval
تُو مجھ غریب پر رحم فرما اور اپنا راستہ دکھادے۔ایسا راستہ دکھا جس پر چل کر تیری خوشنودی حاصل کرسکوں۔
۵۶۔بتایا گیا اس کو الہام میں
کہ پائیگا تو مجھ کو اسلام میں
الہام ilhaam: اللہ تعالیٰ کی طرف سے دل میں ڈالی گئی بات، القا Divine revelation
اللہ تعالیٰ نے اس کا جذبہ اور تڑپ کو دیکھ کر اس کی دعا سنی اور اس کا جواب دیا۔ ان کو الہام ہؤا کہ میں تمہیں مذہب اسلام پر عمل کرنے سے ملوں گا۔
۵۷۔مگر مرد عارف فلاں مرد ہے
وہ اسلام کے راہ میں فرد ہے
مردعارف mard-e-’aaref: پہچاننے والا، عرفان رکھنے والا انسان One who delves deep into the secret of things
فرد fard: واحد، ایک، خاص Incomparable, unique
جو تم نے اللہ کے عرفان رکھنے والے کا پتا پوچھا تھا اس کا جواب یہ ہے کہ ایک بندہ ہے جو اسلام کی سچی تعلیم خوب جانتا ہے۔
۵۸۔ملا تب خدا سے اُسے ایک پیر
کہ چشتی طریقہ میں تھا دستگیر
پیر Peer: بوڑھا، عمر رسیدہ، A saint
chishtee چشتی: حضرت خواجہ معین الدین چشتی ایک بزرگ تھے جو لاہور اور دہلی سے ہوتے ہوئے اجمیر پہنچے۔ تعلیم دین و عبادت میں مشغول رہتے۔ ۶۳۳ھ میں وفات پائی۔ اجمیر میں مدفون ہیں۔ ان سے متعلق کئی قسم کی کرامات منسوب ہیں۔
Travelling through Lahore and Delhi, Hazrat Khwaja Moin-ud-din Chishtee arrived and settled in Ajmer. He devoted himself to worship of God and promoting religious education. He died in 663 A.H and was burried in Ajmer. Various miracles are attributed to him.
طریقہtareeqah: مسلک School, creed
دستگیر dastgeer: ہاتھ پکڑنے والا، معاون، مددگار Helper
He met a sage Who was well versed in the Chishti Way
پھر بابا نانک کو اللہ تعالیٰ کی حکمت سے ایک عمر رسیدہ شخص ملا جو ایک بزرگ خواجہ معین الدین چشتی ؒ کے طریق سے خوب واقف تھا۔
۵۹۔وہ بیعت سے اسکی ہوا فیضیاب
سنا شیخ سے ذکر راہِ صواب
بیعت bai’at: بک جانا To pledge allegiance to a religious leader
فیض یاب faiz yaab: فیض حاصل کرنا، فائدہ اُٹھانا Benefited
شیخ shaikh: محترم بزرگOne’s saintly guide, the learned saint
راہِ صواب raah-e-sawaab: سچائی کا راستہ The path of truth
گرو بابا نانک خواجہ صاحب کے دربار میں پہنچے اس خدا رسیدہ انسان نے آپ کواسلام کا سچا راستہ بتایا۔ آپ نے ان کی بیعت کی اور مسلمان ہوگئے۔
۶۰۔پھر آیا وطن کی طرف اس کے بعد
ملے پیر کے فیض سے بخت سعد
بختِ سعد bakht-e-sa’d: خوش قسمتی، Good fortune
ان سے تعلیم حاصل کرکے واپس اپنے وطن آگیا۔ بزرگ کی برکت سے اسے خوش قسمتی سے سچائی کا راستہ مل گیا۔ اس کی قسمت کھل گئی تھی۔
۶۱۔کوئی دن تو پردہ میں مستور تھا
زباں چپ تھی اور سینہ میں نور تھا
مستور mastoor: چھپا ہوا، Hidden
نور noor: روشنی Light
وطن آکر وہ کچھ دن تو بالکل الگ تھلگ رہا۔ کسی سے بات نہیں کی خاموشی اختیار کیے رکھی۔اس کا سینہ الٰہی نور سے بھرا ہواتھا۔
مزید پڑھیں: چولہ بابا نانک رحمۃ اللہ علیہ(قسط ۶)




