احمدی اور ان کا مذہب(از حضرت شیخ یعقوب علی عرفانی صاحب رضی اللہ عنہ )
تعارف کتب صحابہ کرامؓ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام(قسط ۷۷)
’’احمدی اور ان کا مذہب‘‘ ایک سو پندرہ سال قبل لکھی گئی ایک ایسی دستاویز ہے جو آج بھی اپنی افادیت اور معنویت برقرار رکھے ہوئے ہے۔‘‘
جماعت احمدیہ مسلمہ کی ابتدائی تاریخ میں جہاں ایک طرف اسلام کی خدمت اور اشاعت کا بےمثال کام ہوا، وہیں دوسری طرف احمدیوں کوہر نوع کے دشمنان کی طرف سے سخت مخالفتوں، الزامات اور بدگمانیوں کا سامنا بھی رہا۔ اس پس منظر میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی، پہلے مؤرخِ جماعت اور صحافی، حضرت شیخ یعقوب علی عرفانی صاحبؓ نے ایک مختصر مگر جامع کتابچہ تصنیف فرمایا، جس میں نہایت سادہ، مدلّل اور سچائی پر مبنی انداز میں احمدیت کے حقیقی عقائد کو پیش کیا گیا ہے۔ یہ کتابچہ ’’احمدی اور ان کا مذہب‘‘ کے نام سے معروف ہے، جو غالباً ۷فروری ۱۹۱۰ء کو منظرعام پر آیا۔
اس کتاب کے پس منظر اور مقصد کو دیکھیں تو سامنے آتا ہے کہ ابتدا ہی سے مخالفین نے جماعت احمدیہ سے متعلق بدگمانیاں پیدا کرنے اور عوام الناس کو گمراہ کرنے کی کوشش کی۔ حقائق کو چھپانا، اقوال کو توڑ مروڑ کر پیش کرنا، اور جھوٹے پروپیگنڈا کو فروغ دینا ان کا شیوہ رہا۔ حضرت عرفانی صاحبؓ نے اس کتاب میں ان الزامات کے جواب دینے کی بجائے براہِ راست احمدی عقائد کو ان کی اصل صورت میں بمع حوالہ بیان کرکے ایک مثبت اور حکیمانہ طریق اختیار کیا ہے۔
مصنف لکھتے ہیں کہ اس فرقے کا نام پہلی بار ۱۹۰۱ء کی مردم شماری میں سرکاری طور پر ’’احمدی مسلمان‘‘ کے طور پر متعارف ہوا۔ باوجود اس کے کہ احمدی مسلمان انہی بنیادی عقائد پر ایمان رکھتے ہیں جن پر دیگر مسلمان فرقے، پھر بھی ان پر اسلام سے انحراف کا الزام لگایا گیا۔ مصنف کا مقصد ان ہی غلط فہمیوں کا ازالہ کرنا ہے تاکہ اہلِ تقویٰ و صدق دل افراد کو جماعت احمدیہ کا اصل چہرہ دکھایا جا سکے۔
اس کتاب کا ٹائٹل تو خاکسار کے سامنے نہیں ہے جبکہ متن کا خلاصہ یوں ہے کہ یہ کتاب ۴۸ صفحات پر مشتمل ہے، جو کاتب کی خوبصورت اور دیدہ زیب لکھائی میں تیار ہوئی۔
ابتدائیہ میں اس کاوش کا تعارف کرواتے ہوئے شیخ صاحب نے لکھا کہ ’’احمدی اس فرقہ اسلامیہ کا نام ہے جس کے پیشوا اور امام حضرت مرزا غلام احمد صاحب مغفور قادیانی ہیں اس فرقہ کا یہ نام ۱۹۰۱ء کی مردم شماری کے موقعہ پر پہلی مرتبہ اعلان کیا گیا تھا اور اب تک سرکاری اور عام تحریروں میں اس فرقہ کے لوگوں کو احمدی کہلایا، لکھا جاتا ہے۔ ہر چند اس فرقہ کے مسلمان وہی عقیدہ رکھتے ہیں جو بطور امہات اور اصول دین دوسرے راشد فرقہ کے مسلمانوں کے ہیں مگر بعض غلط فہمیوں کی وجہ سے یہ مشہور اور ظاہر کرنے کی جائز اور ناجائز کوشش کی گئی کہ احمدی لوگوں کے عقائد خلافِ اسلام ہیں۔
میں یہاں ان الفاظ کو نقل کرنا نہیں چاہتا جو احمدیوں اور ان کے امام کے متعلق اس خیال کے لوگوں نے استعمال کیے ہیں۔ بلکہ میں صرف عام لوگوں کو حقیقت ا حمدیہ سے آگاہ کرنے کے لیے ان اوراق میں ان عقائد کو بیان کرنا چاہتا ہوں جو احمدی فرقہ کے ہیں اور جو انہوں نے اپنی تصنیفات میں بیان کیے ہیں۔ ان عقائد کے بیان میں صرف ان تحریروں پر اکتفا کیا جائے گا جو اس سلسلہ کے بانی امام مغفور یا اس کے جانشین خلیفہ بلافصل نے وقتاً فوقتاً شائع کی ہیں ، امید کی جاتی ہے کہ ان اوراق کو تقویٰ اللہ اور خشیت اللہ سے لبریز دل لیکر پڑھا جاوے گا۔‘‘
ابتدا میں ’’ احمدی عقائد کا اجمالی بیان یعنی ہمارا مذہب‘‘ کے عنوان سے احمدی عقائد کا تعارف پیش کیا گیا ہے۔اس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب ازالہ اوہام سے ایک اقتباس اور ایک نظم شامل کی گئی ہے۔جس میں حضور علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ’’ہمار ے مذہب کا خلاصہ اور لب لباب یہ ہے کہ لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ ہمارا اعتقاد ….‘‘اور منظوم فارسی کلام میں سے بطور مثال درج ذیل کلام درج ہے۔
ما مسلمانیم از فضل خدا
مصطفیٰ مارا امام و پیشوا
ہست او خیر الرسل خیر الانام
ہر نبوت را بروشد اختتام
اندریں دیں آمده از مادريم
ہم بریں از دارد نیا بگذریم
آں کتاب حق کہ قرآں نام اوست
بادۂ عرفان ما زا جام اُوست
یک قدم دوری ازاں روشن کتاب
نزد ما کفر ست و خسراں و تباب
صفحہ ۴ پر اس نظم کی شرح کرتے ہوئے مصنف نے بڑے درد سے مسلمانوں کو اس پر غور کی دعوت دی ہے۔اور لکھا کہ ’’ یہ اقتباسات جو میں نے اوپر دیے ہیں ہمارے مذہب اور معتقدات کے اظہار کے لیے کافی تھے۔ اور اگر علمایان اسلام جلد بازی سے کام نہ لیتے اور خدا ترس دل لیکر بانی سلسلہ احمدیہ کی تصانیف کا مطالعہ فرماتے …‘‘
صفحہ ۷ پر حضرت مسیح موعودؑ کی بیان کردہ ’’شرائط بیعت‘‘ درج ہیں، جن پر ایک احمدی حضرت اقدس کے ہاتھ پر بیعت کرتے وقت عہد کیا کرتا تھا۔ بیعت کے بعد دہرائے جانے والے الفاظ کو بھی محفوظ کیا گیا ہے، جو اس عہد کی روح کو اجاگر کرتے ہیں۔
صفحہ ۱۰ سے کتاب کا مرکزی حصہ شروع ہوتا ہے جس کا عنوان ہے: ’’عقائد احمدیت کی تفصیل اور تشریح‘‘۔
اس حصہ میں ہستی باری تعالیٰ سے آغاز کیا گیا ہے اور صفحہ ۲۰ تک اس موضوع پر جماعت احمدیہ کے عقائد کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔
مصنف نے نہ صرف عقلی و نقلی دلائل پیش کیے ہیں بلکہ حضرت مسیح موعودؑ کے منتخب اقتباسات کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات کو نہایت لطیف اور گہرے پیرایہ میں واضح کیا ہے۔ ان اقتباسات سے معلوم ہوتا ہے کہ احمدیت نے تصورِ توحید میں کتنی گہرائی اور وسعت پیدا کی ہے۔
آگے چل کر رسالت، قیامت، جزا و سزا اور ملائکہ جیسے بنیادی عقائد پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ خاص طور پر فرشتوں کے متعلق ایک معروف اعتراض کا ذکر کر کے اس کا معقول اور مؤثر جواب دیا گیا ہے۔
کتاب کے آخری صفحات میں کئی اقتباسات شامل کیے گئے ہیں جو واضح کرتے ہیں کہ جماعت احمدیہ اسلام کے بنیادی عقائد سے کسی پہلو میں بھی انحراف نہیں کرتی بلکہ انہی عقائد کو نئے رنگ میں، عقلی و روحانی روشنی کے ساتھ پیش کرتی ہے۔
’’احمدی اور ان کا مذہب‘‘ ایک سو پندرہ سال قبل لکھی گئی ایک ایسی دستاویز ہے جو آج بھی اپنی افادیت اور معنویت برقرار رکھے ہوئے ہے۔ آج جبکہ فتنہ و انتشار کا دور دورہ ہے، اور احمدیت کے خلاف سوشل میڈیا اور روایتی پلیٹ فارمز پر بے بنیاد اعتراضات کا بازار گرم ہے، ایسے میں حضرت عرفانیؓ کی اس مختصر مگر پُرمعانی تصنیف کا مطالعہ سعید روحوں کے لیے ایک چراغ راہ ثابت ہوسکتا ہے۔




