کتاب الصّیام یعنی روزہ اور اس کی حقیقت(از حضرت شیخ یعقوب علی عرفانی صاحب رضی اللہ عنہ )
تعارف کتب صحابہ کرامؓ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام(قسط ۷۸)
جماعت احمدیہ کی متنوع میدانوں میں خدمت پر کمربستہ رہنے والے حضرت شیخ یعقوب علی عرفانی صاحب ؓ کی یہ کتاب بھی اس خاص سلسلہ تصنیف کا حصہ ہے جس میں انہوں نے ارکان اسلام پر وضاحت و تشریح کے لیےقلم اٹھایا ہے۔ اس کتاب کے بار اول میں ۵۰۰ نسخے مطبع دستگیری چیلہ پورہ حیدر آباد دکن سے ۱۹۵۰ء میں طبع ہوئے اور اس کی قیمت ۸ آنے کلدار تھی (یہ اُس دور کی کرنسی کا نام تھا) ۔
سکندر آباد،حیدرآباد دکن سے اپریل؍مئی ۱۹۵۰ء میں لکھے گئے ابتدائیہ میں مصنف بتاتے ہیں کہ مئی ۱۹۰۷ء میں میں نے حقیقت نماز کے نام سے نماز کی فلاسفی پر ایک کتاب شائع کی جو الحمدللہ بہت مقبول ہوئی اور بعد میں مختلف احباب نے اسے مختلف صورتوں میں شائع کرکے فائدہ اٹھایا۔ الحمدللہ علیٰ ذالک۔

مزید بتایا کہ میں ارکان اسلام پر ایک سلسلہ لکھنا چاہتا تھا لیکن وہ کسی نہ کسی وجہ سے ملتوی ہوتا آیا ، پورے ۴۳ سال کے بعد اللہ تعالیٰ نے مجھے توفیق دی کہ مَیں کتاب الصیام یعنی روزہ کی حقیقت شائع کر رہا ہوں ۔ میں تحدیث بالنعمہ کے طور پر کہتا ہوں کہ اس موضوع پر ان شاء اللہ یہ مفید کتاب ثابت ہوگی۔ قارئین کرام سے درخواست کرتا ہوں کہ اس رمضان میں اس سے عملاً استفادہ کریں ، ہر ایک گھر میں یہ کتاب پڑھی جائے، اس کے بعد ان شاء اللہ العزیز مَیں امید کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل اور رحم سے اس عید الاضحی تک کتاب الزکوٰۃ اور کتاب الحج ایک ہی مہینے میں شائع کر سکوں۔ احباب دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ توفیق روزی کرے۔
مصنف نے اس کے بعد کتا ب میں درج تمہیدی نوٹس میں بتایا کہ ہر انسان کی زندگی عجائبات کا مجموعہ ہوتی ہے اور اسی وجہ سے عالم صغیر کہلاتا ہے مگر تھوڑے ہیں جو اپنی زندگی کے عجائبات پر غور کرتے ہیں اوران سے کچھ فائدہ اٹھاتے ہیں۔ قرآن کریم نے اس کی طرف یہ کہہ کر توجہ دلائی :وفی انفسکم افلا تبصرون.تمہارے اندر عجائبات اور آیات کی ایک دنیا ہے تم اسے کیوں نہیں دیکھتے ہو۔
حضرت شیخ یعقوب علی عرفانی صاحبؓ لکھتے ہیں کہ میں نے محسوس کیا ہے کہ بچپن کے اثرات اور ماحول کا انسان کی آئندہ زندگی پر ایک اثر پڑتا ہے۔مَیں نے جب اس نظر سے غور کیا تو بے اختیار مَیں نے حضرت نبی کریم ﷺ پر درود پڑھا کہ آپؐ نے ایسے وقت میں جب کہ دنیا پر ایک تاریکی اور جہالت چھائی ہوئی تھی نومولود بچہ کے کان میں اذان دینے کی تعلیم دی اور اس فلسفہ اور سائنس کے دور میں یورپ کے فلاسفروں نے ان اثرات کی صداقت کا اقرار کیا۔ میں اس حقیقت و صداقت پر بحث کرنے کے لیےاس وقت یہ سطور نہیں لکھ رہا ہوں بلکہ خود میرے اندر جو بعض تبدیلیاں ہوئیں ان تاثرات کو بیان کرنے کے لیےمیں نے یہ ذکر کیا ہے۔
اس کے بعد ’’میری ابتدائی زندگی‘‘ کے عنوان سے لکھا کہ میری دادی صاحبہ جن کا نام سلطان بیگم تھا ۔ (اللہ تعالیٰ ان پر بڑے بڑے فضل کرے) وہ مجھے ساتھ لے کر اپنی چادر میرے اوپر دے کر نماز میں کھڑا کرتی اور بڑی لمبی دعا کرتی اور مجھے ہدایت کرتی کہ تو بھی آمین کہتا جا ۔ ان کی دعا میرے لیےجو عموماً ہوتی یہ ہوتی تھی ۔
یا اللہ !میرے اس بچہ کو علم کی دولت نصیب کر
اس کے بعد میں مکتب کی تعلیم کے لیےبھیجا گیا اور میں نے مولوی محمد حسین آزاد دہلوی کی فارسی کی پہلی اور دوسری پڑھا کر گلستان شروع کی …
یہ قصہ میں نے اپنے حالات زندگی کے لیےنہیں لکھا بلکہ بتانے کے لیےکہ اس ماحول نے میری زندگی میں کیا تبدیلی کی۔ اس وقت تو قلم کشی کا نتیجہ میرے ذہن میں چاندی سونے کے سکے ہی تھے مگر مجھ پر اس کی حقیقت اب کھلی میری دادی صاحبہ تو ہمیشہ علم کی دولت ہی کی دعا کرتی تھیں اور میں اب بھی اپنی دعاؤں میں رَبِّ زِدْنِیْ عِلْمًا کی ہی دعا کرتا ہوں ۔ قلم کشی کا جذبہ جو ابتدا میں پیدا ہوا تھا اس میں ترقی ہوتی گئی ۔ اور میں مضمون نگاری اور تصنیف وتالیف کی طرف ہمیشہ متوجہ رہا۔ اس لیےسلسلہ کی تاریخ بیان کرنا اس وقت میرا مقصدنہیں بلکہ یہ ظاہر کرنا زیر نظر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے میرے لیےجس دولت سرمدی کے حصول کے لیےقلم سے کام لینے کا جذبہ مجھ میں پیدا کردیا تھا وہ بالآخر ایک ایسی سعادت اور دولت کے چشمہ کی طرف لے گیا جس کی تمنا لیے لاکھوں کروڑوں انسان گزر گئے اور لاکھوں کروڑوں انسان رشک کریں گے کہ میرے جیسے گنہگار کو اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے اس سے سیراب ہونے کا موقع دیا ۔
غرض اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل و کرم سے مجھے ابتداء ہی سے خدمت و اشاعت دین کا ایک جذبہ ودیعت فرمایا تھا اور یہ عجیب بات ہے کہ میں چودہ پندرہ سال کی عمر سے ہی اہل قلم بن گیا تھا۔ قیام لودہانہ کے ایام میں حضرت منشی احمد جان رضی اللہ عنہ کی یادگار میں انوار الاحمدیہ کے نام سے ایک تبلیغی رسالہ شائع کرنے کا انتظام آپ کے مریدوں نے کیا اور اس کی ایڈیٹری کے فرائض میرے سپرد کئے…
صفحہ ۶ سے کتاب کا متن شروع ہوتا ہے جہاں روزہ (صوم )کے لفظی معانی، دینی مفہوم ، فلسفہ اور دیگر پہلوؤں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ حقیقی روزہ دار کے اجر کا ذکر کرکے مصنف نے روزہ کی ابتدائی تاریخ بتائی ہے اور روزہ کا فلسفہ سمجھایا ہے کہ تا انسان اپنی طبعی خواہشوں اور جذبات پر حکومت کرے۔
روزہ کی تاریخ کے ضمن میں مصنف نے اسے آنحضرتﷺ کی صداقت کے ثبوت کے طور پر ثابت کیا ہے۔ تاریخ امم کی تلاش و تحقیق کے اداروں اور سوشیالوجی کے ماہرین اور تاریخ الامم کے مبصرین کے حوالے سے بتایا کہ روزہ ہمیشہ سے ہی ایک مذہبی حیثیت سے مانا گیا ہے۔ روزہ کل اقوام و ملل میں لازمی رہا ہے اور روزہ ہر مذہبی نظام کا جزو ہے۔
صفحہ ۱۸ پر اس وہم کا ازالہ کیا گیا ہے کہ روزہ ایک تعزیری اور اذیتی رنگ رکھتا ہے۔ بلکہ بجائے خود مذہبی دنیا میں یہ ایک مستقل عبادت اور اخلاقی ادارہ ہے۔ کیونکہ تعزیری صورتیں مستقل حیثیت نہیں رکھا کرتیں ۔ نیز روزہ کا مقصد خود قرآن کریم کے الفاظ میں لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْن ہے۔ روزہ اللہ کا قرب دلاتا ہے۔ معصیت اور شیطان کا حملہ روکتا ہے۔
صفحہ ۲۲ پر روزہ کی اصل روح بتائی گئی ہے۔ مختلف پہلوؤں سے روشنی ڈالنے کے بعد رمضان کی بین الاقوامی حیثیت کا ذکر ہے۔ صفحہ ۶۰ پر روزہ کے متعلق اعتراضات و شکوک کا ذکر ہے جس میں غیر مذہب والوں کے ساتھ ساتھ مسلمان گھروں میں پیدا ہونے والوں کا بھی دفعیہ کیا گیا ہے جو انگریزی تعلیم کے زیر اثر یونیورسٹی کی ڈگریاں حاصل کرکے اور قرآنی علوم و معارف سے بے نصیب رہ کر (الا ماشاء اللہ) حقیقت اسلام سے بے پروائی اور مذہب اسلام کے احکام کے فلسفہ کو حقیر سمجھتے ہیں ، اور یہ نفرت و دوری اس حد تک ہوچکی ہے کہ اصول دین کے جاننے اور سیکھنے کو بھی اپنے علم کی توہین قرار دیتے ہیں۔
مصنف نے لکھا کہ ’’ اس تعلیم یافتہ گروہ میں مذہب اسلام اور اس کے احکام سے بیزاری اور بعد پیدا کرنے میں علماء سوء کا بھی دخل ہے…‘‘
اس کے بعد اعتراضات کے جوابات کے ضمن میں روزہ کی نوعیت پر اعتراضات کا جواب ہے مثلاً وہ لوگ جو روزہ کو ہی خلاف عقل قرار دیتے ہیں۔
روزہ اور رمضان کے مسائل پر لکھتے ہوئے مصنف نے صفحہ ۷۰ پر اعتکاف پر بھی لکھا ہے۔ اور اس سنت عبادت کی تفصیل ، مسائل اور فضائل بتائے ہیں۔
پھر صفحہ ۷۴ پر نماز تراویح پر بحث ہے۔ قضائے عمری کی حقیقت کھولی ہے اور ثابت کیا ہے کہ یہ ایک بے معنی چیز ہے جس کی اصلیت کچھ بھی نہیں ہے۔
حکام کے دورہ کو سفر شمار کرنے جیسے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے مصنف نے لکھا ہے کہ فتویٰ کے ساتھ ساتھ تقویٰ کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔ کتاب کے صفحہ ۸۰ تک روزہ کے حوالے سے قابل قدر مواد جمع کرنے کے بعد مصنف نے آگے چل کر روزہ کے متعلق حضرت محمد ﷺ کے ارشادات طیبہ کو جمع کیا ہے جہاں احادیث کا ترجمہ پیش کیا گیا ہے۔ یہ سلسلہ صفحہ ۹۶ تک چلتا ہے۔
کتاب کے صفحہ ۱۱۳ پر لکھا کہ اگرچہ میں روزہ کے متعلق احادیث پیش کر چکا ہوں مگر ابھی ابھی مجھے مکرم مولوی ابوالعطاء صاحب شیخ الجامعہ احمدیہ احمد نگر کی ایک تالیف ملی جس میں بعض مزید احادیث بھی موجود ہیں۔ میں وہ بھی اپنی اس تالیف میں شامل کرتا ہوں۔
کتاب کے صفحہ ۱۴۵ پر حضرت اقد س مسیح موعود علیہ السلام کے بطور حکم و عدل بعض ارشادات اور فیصلہ جات کو جگہ دی گئی ہے۔ صفحہ ۱۶۱ پر لیلۃ القدر کی بحث ہےاور صفحہ ۱۷۳ پر سورۃ القدر کی وہ تفسیر درج کی ہے جو فاضل مصنف نے کتاب کی تالیف سے کوئی چالیس سال قبل تیار کی تھی۔
صفحہ ۱۸۳ پر عید الفطر کے متعلق ضروری مسائل ہیں اور صفحہ ۱۹۳ پر دعااور قبولیت دعا کے متعلق حضرت میر محمد اسماعیل صاحب ؓ کے ایک قیمتی مضمون کو جگہ دی ہے، جس کے بعد صفحہ ۱۹۶ پر تبرکات کے عنوان کے تحت حضرت میر محمد اسماعیل صاحب ؓکے بعض دعائیہ اشعار کو جگہ دی ہے۔ جس میں میرے خدا اور حقیقت حال کے عنوان سے دو نظمیں ہیں۔
حضرت شیخ یعقوب علی عرفانی صاحب نے کتاب کے تتمہ میں بے معنی روزہ اور صائم الدہر کی حقیقت لکھی ہے۔ الغرض فاضل مصنف نے ۲۰۸ صفحات کی اس کتاب میں روزہ کے متعلق تمام اہم پہلوؤں اور ضروری امور کو نہایت حکمت، تحقیق اور قرینے کے ساتھ یکجا کردیا ہےجو نہ صرف طلبہ بلکہ عام مسلمانوں کے لیےبھی ایک مفیدمجموعہ ہے۔
مزید پڑھیں: ’’ذکر الٰہی‘‘




