ہومیو پیتھی یعنی علاج بالمثل(عمومی علامات کے متعلق نمبر ۱۲)(قسط ۱۳۷)
(حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی کتاب ’’ہومیو پیتھی یعنی علاج بالمثل ‘‘کی ریپرٹری یعنی ادویہ کی ترتیب بلحاظ علامات تیار کردہ THHRI)
بوفو
Bufo
بوفو مینڈک (Toad) کی گردن کے غدود سے نکلنے والے لعاب سے تیار کی جاتی ہے۔ یہ خاص طور پر ذہنی صلاحیتوں اور دماغ پر اثر انداز ہوتی ہے۔ اس کے مریض کی یادداشت کمزور ہو جاتی ہے۔ ذہن دھندلا جاتا ہے اور سخت ذہنی تھکاوٹ محسوس ہوتی ہے۔ بوفو اعصاب کی بہترین دواؤں میں سے ہے۔ اعصابی کمزوریوں، فالجی احساسات اور عضلات کے تشنج میں مفید ہے۔ چھوٹے چھوٹے عضلات میں تشنجی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ آنکھ یا کسی خاص عضو کا پھڑکنا جگہ جگہ اچانک تشنجی کیفیات کا پیدا ہونا بوفو کی خاص علامت ہے۔ (صفحہ۱۷۳)
بوفو میں جلد میں زخم پیدا کرنے کا رجحان پایا جاتا ہے۔ اکثر عام ٹکسالی کے ہو میو پیتھ معالجین اسے جنسی امراض میں تو استعمال کرتے ہیں مگر جلدی امراض اور عضلاتی تشنجات میں اسے شاذ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ اگر کوئی نوجوان بے راہ روی کا شکار ہو جائے تو اس کی دوا بوفو ہے اور جلق (Self-abuse) کو روکتی اور اس کے بداثرات کو دور کرتی ہے۔ بعض نوجوان جنہوں نے اپنی بیوقوفیوں سے اپنی جان پر ظلم کیا ہو اور وہ مرگی کا شکار ہو جائیں تو ان کے لیے بھی بوفو بہت مفید دوا ہے۔ ایسے مرگی کے مریض کو پہلے بوفو دینی چاہیے پھر اس کی ناکامی کی صورت میں دوسری دوائیں تلاش کرنی چاہئیں۔ (صفحہ۱۷۳)
بوفو میں تضادات پائے جاتے ہیں۔ مریض تنہائی پسند ہوتا ہے،لوگوں سے گھبراتا ہے لیکن تنہائی میں ڈرتا ہے۔ اس کے نتیجہ میں اسے بہت غصہ آتا ہےاور غصے میں آکر چیزوں کو دانت سے کاٹنے لگتا ہے۔ گویا اپنی بے بسی اور بے اختیاری کا اظہار اس طریقہ سے کرتا ہےمگر دوسرے لوگوں کو نقصان نہیں پہنچاتا۔ مریض ہنستا بھی ہے،رونے بھی لگ جاتا ہےاور بچوں کی طرح اچھل کود بھی کرتا ہے۔ بوفو کے مریض کا کردار اس کی معصومیت اور بچپنے سے پہچانا جاتا ہے۔ شاذ کے طور پر یہ کیفیت بڑھ کر پاگل پن میں بھی تبدیل ہوجاتی ہے۔ بوفو اس سلسلہ میں بہت گہری دوا ہےاور لمبے عرصہ تک مسلسل اثر کرتی ہے۔ (صفحہ۱۷۴)
اس میں عضلات کا تشنج عام ہے۔ مرگی کے حملہ سے پہلے تشنج کے نتیجہ میں منہ پورا کھل جاتا ہے۔ منہ سے خون نکلتا ہے اور جھٹکے سےزبان یا ہونٹ کٹ جاتے ہیں اور بہت تکلیف دہ صورت حال پیدا ہوجاتی ہے۔ اس کے ساتھ عموما ًسردرد کا حملہ ہوتا ہے،آنکھ کی پتلیاں پھیل کر ایک جگہ ساکت و جامد ہوجاتی ہیں۔ مریض روشنی برداشت نہیں کرسکتا۔ (صفحہ۱۷۴)
بوفو میں ایمبرا گریسا کی طرح موسیقی سے نفرت ہوجاتی ہے۔ مریض میں رفتہ رفتہ ہکلانے اور تھتھلانے کا رجحان پیدا ہوجاتا ہے۔ مریض کی بات سمجھنی مشکل ہوجاتی ہے جو اسے غصہ دلاتی ہے۔ ایسا مریض جس میں مرگی کی معرو ف علامتیں نہ پائی جاتی ہوں لیکن مریض بیٹھے بیٹھے ساکت و جامد ہوجاتا ہو،آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جاتی ہوں اور مریض ہر چیز سے بے نیاز ہوجاتا ہو،بوفو اس کیفیت کے لیے بہترین دوا ہے۔ یہ کیفیت وقتی طور پر ہوتی ہے۔ جب مریض کے ہوش و حواس بحال ہوجائیں تو اسے علم نہیں ہوتا کہ اسے کیا ہوا تھا۔ چونکہ بوفو کی مرگی کا جنسی کمزوری سے بھی تعلق ہےاس لیے بعض مریضوں کو ہمبستری کے وقت بھی مرگی کا دورہ پڑجاتا ہے۔ (صفحہ۱۷۴۔۱۷۵)
بوفو کی کھانسی بہت تکلیف دہ ہوتی ہے۔ بلغم کے ساتھ خون کا اخراج بھی ہوتا ہے اورجلن کا احساس بہت نمایاں ہوتا ہے۔ اس کی بیماریاں بہت تیزی سےبڑھتی اور پھیلتی ہیں اور مریض جلد موت کے منہ میں چلاجاتا ہے۔ اس کی تکالیف گرم کمرے اور نیند سے جاگنے پر بڑھتی ہیں جبکہ نہانے اور گرم پانی میں پاؤں رکھنے سے افاقہ ہوتا ہے۔ (صفحہ۱۷۵)
کیکٹس گرینڈی فلورس
Cactus grandiflorus
(Night-Blooming cereus)
پیشاب کی سخت تکلیف ہوجاتی ہے۔ نہ صرف جلن بلکہ تشنج بھی شروع ہوجاتا ہے۔ کینتھرس میں بھی پیشاب میں جلن بہت ہوتی ہے۔ قطرہ قطرہ آگ کی طرح جلتا ہوا پیشاب آتا ہے۔ کیکٹس میں اس جلن کے ساتھ تشنج بھی پایا جاتا ہے۔ یہ کیکٹس کی خاص علامت ہےکہ جہاں بھی تکلیف ہو وہاں تشنج ضرور ہوگا۔ (صفحہ۱۷۷)
کیکٹس کا اعصاب کے چھلے دار ریشوں اور والوز (Valves) پر بہت گہرا اثر پڑتاہے۔ اس کی بیماریوں کے حملے میں اچانک پن پایا جاتا ہے۔ دل پر بھی حملہ اچانک ہو گا ہے جیسے کسی نے یک لخت شکنجے میں جکڑ دیا ہو۔ دل کی بیماریوں میں خصوصاً وہ بیماریاں جب پھیل جائیں اور والوز خراب ہو جائیں کیکٹس بہت مفید ثابت ہو تا ہے۔ گلے میں بھی تشنج کی علامت ظاہر ہو تو سخت قسم کی جکڑن کا احساس ہو تا ہے۔ ہر جگہ خون کا دباؤ زیادہ ہو جاتا ہے۔ دل، گر دوں، انتڑیوں اور چہرے کی طرف خون کا اجتماع کیکٹس کے علاوہ بیلاڈونا میں بھی پایا جاتا ہے۔ دھڑکن اور تشنج کی علامات بھی مشترک ہیں لیکن کیکٹس میں بخار نہیں ہو تا۔ بیلاڈونا میں ماؤف حصہ گرم ہو جاتا ہے۔ گرمی اس کی خاص علامت ہے۔ کیکٹس میں ماؤف حصہ میں خون کا دباؤ بڑھ جاتا ہے لیکن گرمی کا احساس اور بخار نہیں ہوتے۔ کیکٹس کے مریض مرض کے اچانک حملہ سے سخت خوفزدہ ہو جاتے ہیں اور ایکونائٹ کی طرح علامتیں ظاہر ہو جاتی ہیں۔ بیماری کے اچانک پن اور کیکٹس کے خصوصی مزاج کی وجہ سے موت کا خوف طاری ہونا قدرتی بات ہے۔ ماؤف حصہ میں تشنج اتنا شدید ہو جاتا ہے کہ جیسے لوہے کی تاریں کسی جا رہی ہوں۔ ہر جگہ تنگی اور گھٹن کا احساس غالب ہو تا ہے۔ گلے میں ہو تو کالر کے بٹن بند کرنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ لیکیسس اور گلونائن میں بھی کسی حد تک یہ علامت پائی جاتی ہے۔ کیکٹس میں تشنج کی وجہ سے ماؤف حصہ زخمی ہو جاتا ہے۔ رحم کے اندر بھی یہی کیفیت ہوتی ہے۔ نوبیاہتا عورتوں کے لیے یہ دوا بہت اہم ہے بشرطیکہ تشنج کی وجہ سے سخت تکلیف ہو۔ جسم کے کسی ایسے حصہ پر جہاں عموما ًتشنج کا اثر نہیں ہوتا وہاں گھٹن اور تشنج کا احساس ہو تو یہ کیکٹس کی نمایاں علامت ہے۔ گنٹھیا اور بائی کی دردوں میں بھی ماؤف حصہ میں تشنج ملتا ہے۔ خون کا دباؤ بڑھ جا تا ہے۔ کو لچیکم اور بنزوئیک ایسڈ میں پاؤں کا انگوٹھا سوجتا ہے مگر تشنج نہیں ہو تا۔ کیکٹس میں ایسی ماؤف جگہ پر تشنج بھی ہو جا تا ہے۔ (صفحہ۱۷۷-۱۷۸)
ہاتھ پاؤں متورم،ہاتھ نرم اور ٹھنڈے برف، پاؤں بڑے ہونے کا احساس اور ٹانگوں میں بے چینی سب علامات کیکٹس کی تصویر ہیں۔ جو رات کو بڑھ جاتی ہیں اسی طرح بائیں کروٹ لیٹنے سے،شورو غل سے،روشنی،گرمی،دھوپ اور محنت سے بھی علامات بڑھ جاتی ہے۔ (صفحہ۱۸۰)
کیڈمیم سلف
Cadmium sulph
کیڈمیم سلف بہت گہرا اثر رکھنے والی دوا ہے۔ اس کے مریض جسمانی اور ذہنی محنت سے بہت گھبراتے ہیں اور کوئی کام نہیں کرنا چاہتے۔ انہیں کام سے نفرت ہوتی ہے۔ سلفر کے مریض بھی نکھٹو ہوتے ہیں۔ بہت پیسہ کمانے کی سکیمیں بناتے رہتے ہیں لیکن انہیں کام کرنے کی توفیق نہیں ملتی۔ اوپیم کا مریض بھی خیالی پلاؤ پکاتا رہتا ہےاور مختلف ترکیبیں سوچتا رہتا ہے۔ لیکن اس کے لیے ہاتھ پاؤں ہلانا اور کام کرنا سخت دوبھر ہوتا ہے۔ (صفحہ۱۸۱)
کیڈمیم سلف میں بے چینی اور بے قراری نمایاں ہوتی ہیں۔ اس لحاظ سے یہ آرسینک سے مشابہ دوا ہے لیکن آرسینک کے مریض کے مزاج کا ایک پہلو کیڈ میم سلف کے بالکل بر عکس ہوتا ہے۔ آرسینک کا مریض اپنی روزمرہ زندگی میں کوئی بھی بےترتیبی برداشت نہیں کرتا۔ ہر چیز قرینہ سے رکھتا ہے اور محنت سے بھی نہیں گھبراتا جبکہ کیڈمیم سلف کا مریض سلفر کے مریض کی طرح سست ہو تا ہے اور اس کی چیزوں میں بے ترتیبی ملتی ہے۔ معدہ میں کیڈ میم سلف کا اثر آرسینک کی طرح ہوتا ہے۔ معدہ میں بے چینی ہوتی ہے۔ بعض مریض اس بے چینی کی وجہ سے سو بھی نہیں سکتے۔ کیڈ میم سلف ایسی بے چینی کے لیے اچھی دوا ہے۔ اس کا آرسینک سے ایک فرق یہ بھی ہے کہ آرسینک کا مریض بے چینی سے کروٹیں بدلتا رہتا ہے اور ایک حالت میں نہیں رہ سکتا جبکہ کیڈمیم کا مریض حرکت سے تکلیف محسوس کرتا ہے۔ اس کی کاہلی اور سستی بے چینی پر غالب آجاتی ہے اور وہ کوئی حرکت بھی پسند نہیں کرتا۔ وہ اپنی بے چینی کا اظہار صرف زبان سے کرتا ہے۔ (صفحہ۱۸۱)
کیڈمیم سلف میں تشنج بھی پایا جاتا ہے اور زنک کی طرح اس کا اثر عضلات پر ظاہر ہوتا ہے۔ زنک کا مریض متاثرہ عضو کو ہر وقت حرکت دیتا رہتا ہےاور اپنا ایک پاؤں دوسرے پاؤں پر ملتا رہتا ہے یا ٹانگ ہلاتا رہتا ہے۔ کیڈمیم کا مریض جسم میں ہر جگہ بے چینی تومحسوس کرتا ہےمگر زنک کی طرح متحرک نہیں رہتا۔ (صفحہ۱۸۲)
کیڈمیم سلف میں حرکت کرنے اور سونے سے تکلیفیں بڑھتی ہیں۔ کھانا کھانے کے بعد آرام کرنےسے افاقہ ہوتا ہے۔ مریض ہر وقت بھوک محسوس کرتا ہے۔ معدہ اور نظام ہضم جواب بھی دے جائیں لیکن بھوک ختم نہیں ہوتی۔ اگر کسی مریض کو اس قسم کی بھوک کے ساتھ سیاہ رنگ کی الٹیاں آئیں اور حالت اتنی بگڑ جائے کہ گویا موت کی علامتیں ظاہر ہوں تو اس وقت کار بوویج کے بجائے کیڈ میم سلف موت سے واپس کھینچ لاتی ہے بشرطیکہ تقدیر جاری نہ ہو چکی ہو۔ (صفحہ۱۸۳)
کیلیڈیم
Caladium
(امریکہ میں اگنے والا ایک شلجم)
کیلیڈیم Epilepsy یعنی مرگی کی بھی دوا ہو سکتی ہے۔ شریانوں کی سختی (Arteriosclerosis) کا اثر بھی بہت بڑھ جائے تو کیلیڈیم کی یاد دلا تا ہے لیکن یہ آرٹیریو سکلروسس کی براہ راست دوا نہیں ہے۔ (صفحہ۱۸۵)
کیلیڈیم میں گرمی سے تکلیف بڑھتی ہے۔ گرم موسم یا گرم کمرہ میں بیماری میں اضافہ ہوتا ہے۔ جبکہ جسم کو ٹھنڈک پہنچانے سے آرام ملتا ہے مگر معدے میں ٹھنڈی چیزوں سے تکلیف بڑھ جاتی ہے اس لحاظ سے یہ فاسفورس کے بالکل برعکس ہے۔ فاسفورس میں معدہ کو ٹھنڈی چیز سے آرام ملتا ہے۔ (صفحہ۱۸۶)
کیلیڈیم کی تکالیف حرکت سے بڑھ جاتی ہیں۔ پسینہ آنے اور سونے سے تکلیف میں کمی ہوجاتی ہے۔ (صفحہ۱۸۶)
(ڈاکٹر لئیق احمد)
(نوٹ: ان مضامین میں ہو میو پیتھی کے حوالے سے عمومی معلومات دی جاتی ہیں۔ قارئین اپنے مخصوص حالات کے پیش نظر کوئی دوائی لینے سے قبل اپنے معالج سے ضرورمشورہ کرلیں۔ )
٭…٭…٭




