صحت

ہومیو پیتھی یعنی علاج بالمثل(عمومی علامات کے متعلق نمبر ۱۴)(قسط ۱۳۹)

(حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی کتاب ’’ہومیو پیتھی یعنی علاج بالمثل ‘‘کی ریپرٹری یعنی ادویہ کی ترتیب بلحاظ علامات تیار کردہ THHRI)

کلکیریا سلف Calcarea sulphurica

(Sulphate of Lime-Plaster of Paris)

کلکیر یا سلف اور کاربو نیم سلف میں سلفر کا عنصر مشترک ہے اور سلفر کی بہت سی علامات بھی، لیکن کاربن کی بجائے کلکیریا کا عنصر شامل ہونے کی وجہ سے دونوں دوائیں الگ الگ مزاج رکھتی ہیں۔ کلکیر یا سلف کی ایک خاص علامت گہرے Abscess یعنی پھوڑے پیدا ہونے کا رجحان ہے۔ اس لحاظ سے سلفر اور کلکیریا کارب دونوں سے ملتی ہے اور پائیرو جینم سے بھی اس کی مشابہت ہے۔ پائیرو جینم (Pyrogenium) متعفن پھوڑوں میں اس صورت میں کام آتی ہے جب خون میں تعفن پھیل جائے۔ سلیشیا کے پھوڑوں میں بھی تعفن ہوتا ہے لیکن اس میں عموماً خون میں تعفن نہیں ہوتا جب ہو تو بہت سخت ہوتا ہے۔ گندے خون کے نتیجہ میں جو پھوڑے نکلتے ہیں ان میں پائیرو جینم کے علاوہ کلکیر یا سلف مفید ہے۔ اس طرح کینسر کا رجحان رکھنے والے پھوڑوں سے بھی اس کا گہرا تعلق ہے اور کچھ نہ کچھ فائدہ ضرور پہنچاتی ہے۔ وہ کینسر کے زخم جو جلد پر ظاہر ہو کر ناسور بن جاتے ہیں اور رسنے لگتے ہیں ان میں بھی مفید ہے۔ (صفحہ۲۰۹)

کلکیریا سلف مرگی کی بہترین دوا بتائی جاتی ہے۔ اس زمانہ میں مرگی کی بیماری میں بہت اضافہ ہوگیا ہے۔ اس کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں۔ وضع حمل کے وقت بعض ایسے علاج کیے جاتے ہیں جن کا بچوں کے دماغ پر اثر پڑتا ہے۔ بعض دواؤں کے بد اثرات کے نتیجہ میں بھی مرگی کے دورے پڑنے لگتے ہیں۔ ایسے بچوں کے لیے ٹکسالی کے نسخوں کے علاوہ ایسی دوائیں ڈھونڈنی چاہئیں جن سے مرگی کا مکمل علاج ہوسکے۔ کلکیریا سلف کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس سے مرگی کا قلع قمع ہوسکتا ہے۔ ڈاکٹر کینٹ جو ہومیو پیتھ بننے سے پہلے بہت چوٹی کے ایلوپیتھک ڈاکٹر اور سرجن بھی تھے اور سارے جسمانی نظام کو سمجھتے تھے وہ کلکیریا سلف کے بارے میں کہتے ہیں کے یہ مرگی کو جڑوں سے اکھیڑ دیتی ہے۔ بعض اوقات دماغ میں ٹیومر کی وجہ سے مرگی ہوجاتی ہے۔ دماغ میں چوٹ لگنے کی وجہ سے بھی مرگی کے دورے پڑتے ہیں۔ بعض لوگوں کی کھوپڑی کی بناوٹ پیدائشی طور پرہی ایسی ہوتی ہےکہ دیکھتے ہی پتا چل جاتا ہےکہ یہ مرگی کا مریض ہے۔ ایسے مریض کے اندر مستقل پیدائشی نقص ہوتا ہےجس کا جڑ سے اکھیڑا جانا بظاہر ناممکن ہوتا ہے۔ کینٹ کا یہ فقرہ کہ کلکیریا سلف مرگی کا علاج ہے، ایسے پیدائشی مریضوں پر اطلاق نہیں پاتا ۔ ہاں ان کا یہ تجربہ درست ہےکہ بہت سے مرگی کے مریضو ں کو کلکیریا سلف نے غیر معمولی فائدہ دیا ہے۔ (صفحہ۲۰۹-۲۱۰)

اگر بچپن میں کوئی ایسی بیماری لاحق ہو جس کے نتیجہ میں مرگی کے دورے پڑنے لگیں تو ایسی مرگی کا علاج ممکن ہے۔ ان بیماریوں میں ہیضہ اور پیچش بہت نمایاں ہیں۔ اگر زہریلے دست خطرناک پیچش ہو اور ڈاکٹر کوئی دوا دے کر اس کو زبردستی ٹھیک کردیں تو اس بات کا خطرہ ہوتا ہےکہ ایسے بچے کو مرگی ہوجائے۔ میں ایسے مریضوں کو کیوپرم دیتا رہا ہوں۔ اس کے علاوہ آرٹی میسیا (Artemisia) مدرٹنکچر بھی دی ہے۔ وقتی فائدہ تو ضرور ہوتا ہےلیکن ان کے ذریعہ مکمل شفانہیں دیکھی۔ یہ دوائیں مستقل دینی پڑتی ہیں۔ اونچی طاقت میں بھی دے کر دیکھی ہیں۔ دوروں میں لمبا وقفہ تو ضرور پڑجاتا ہےلیکن مکمل شفانہیں ہوتی۔ اس کا مطلب ہے کہ ہمیں بعض دوائیں تلاش کرنی چاہئیں جو مرگی کو مسقلاً جڑ سے اکھیڑ دیں۔ کینٹ کے نزدیک کلکیریا سلف یہ طاقت رکھتی ہے۔ (صفحہ۲۱۰)

میرے مشاہدہ میں مرگی سے مکمل شفا محض اس صورت میں ہوئی کہ وہ بیماری عود کر آئی جس کو دبانےکے نتیجہ میں مرگی شروع ہوئی تھی۔ اصل بیماری دوبارہ ظاہر ہونے پر بعض مدد گار دوائیں دی جاسکتی ہیں مثلاً بخار کے لیے آرسینک وغیرہ اور پیٹ کا تشنج دور کرنے کے لیے میگ فاس وغیرہ لیکن اینٹی بائیوٹک اور بہت طاقتور دوائیں جو بیماری کو دبا دیں، ان سے احتراز لازم ہے۔ (صفحہ۲۱۰)

مرگی کا علاج کرتے ہوئے یہ دیکھنا چاہیے کہ ’’اورا‘‘ (Aura) کہاں سے شروع ہوا ہے۔ اس کی تفصیل کے لیے دیکھیں کلکیریا آرس۔ بعض مریضوں میں جہاں خون کا رجحان چہرہ اور سر کی طرف ہو، عموماً بیلا ڈونا کی طرف خیال جاتا ہےلیکن بیلا ڈونا اس میں علاج نہیں ہے، کچھ تھوڑا سا فائدہ دے کر رک جاتی ہے۔ اور بھی کئی دواؤں میں خون کا رجحان سر کی طرف ہوتا ہے مثلاً ہائیڈروسائینک ایسڈ (Hydrocyanic acid)۔ یہ گردن کے اندر سانس کی نالیوں میں تشنج پیدا کرتا ہے اور چہرہ ایک دم تمتا اٹھتا ہے۔ خون چہرہ کی طرف ایک دم اکٹھا ہوجاتا ہے۔ ایسی صورت میں ہائیڈرو سائینک ایسڈ بھی مرگی کی دواؤں میں ایک نمایاں دوا بن جاتی ہے۔ اس کے علاوہ ہائیڈرو فوبینم(Hydrophobinum) کا بھی بیماری سے تعلق ہے۔ اس میں چمکدار چیزوں سے مریض کو گھبراہٹ ہوتی ہے۔ اگر چمکدار چیزیں دیکھنےسے مرگی کا دورہ پڑنے کا احتمال ہو تو اس صورت میں ہائیڈروفوبینم بہت مفید ہےاور یہ ایسی دوا ہےجسے ہائیڈرو سائینک ایسڈ سے ملا کر بھی دیا جائے تو یہ ایک دوسرے سے ٹکراتی نہیں ہیں بلکہ ایک دوسرے کی مدد گار ہوجاتی ہیں۔ (صفحہ۲۱۱)

اگر چہرہ پر خون کا دباؤ بہت زیادہ ہو جائے اور شدید تشنج پیدا ہو اور تشنجی رجحان صرف چہرہ پر ہی نہیں بلکہ جسم کے مختلف اعضاء میں بھی پایا جائے چھاتی، بازو، ٹانگ یا سر میں بھی اچانک خون کا دباؤ اور جکڑنے کا احساس ہو تو کلکیر یا سلف بھی علامتیں ملنے پر بہت مؤثر ثابت ہو سکتی ہے۔ ہڈیوں کی دردوں میں بھی مفید ہے۔ گلینڈ ز کی سوزش اور عضلات کے پھڑکنے میں بھی کلکیر یا سلف کام آتی ہے خصوصاً اگر چہرے کے اعصاب پھڑکنے لگیں۔ کمزور اعصاب کے مریضوں میں ذہنی دباؤ ہو اور عضلات ذہنی دباؤ کی وجہ سے پھڑکنے لگیں تو اس مرض میں کلکیر یا سلف کے علاوہ ایگیریکس اور کالی فاس بھی مفید ہیں۔ مریض کی تکلیف کھڑے ہونے سے بڑھتی ہے۔ بعض دفعہ وہ عورتیں جو کھڑے ہو کر کھانا وغیرہ بناتی ہیں ان میں یہ علامت نمایاں طور پر پائی جاتی ہے۔ کلکیر یا سلف میں شروع میں تو چلنے سے مریض کو آرام آتا ہے لیکن چلنے کے بعد جب خون گردش میں آتا ہے اور ٹانگیں گرم ہو جاتی ہیں تو اس کی تکالیف بڑھ جاتی ہیں۔ کلکیر یا سلف کا مریض عموما ًاندیشوں کی حالت میں صبح آنکھ کھولتا ہے۔ یہ علامت کلکیریا سلف کی دوسری علامتوں کے ساتھ مل کر اسے یقینی بنا دیتی ہے۔ ذہنی محنت سے دماغ جلد تھک جائے یا چکر آنے لگیں اور چکر کے ساتھ مرگی سے مشابہ دورے پڑنےلگیں تو بھی کلکیر یا سلف مؤثر ثابت ہو سکتی ہے۔ (صفحہ۲۱۲)

کلکیریا سلف میں کسی ایک جگہ گرمی محسوس نہیں ہوتی بلکہ سارے جسم کو گرم کپڑا اوڑھنےسے اور بستر کی گرمی سے گھبراہٹ ہوتی ہے۔ (صفحہ۲۱۳)

کیلنڈولا

Calendula officinalis

(Marigold)

کیلنڈولا اور ہیپرسلف یا سلیشیا میں یہ بنیادی فرق ہے کہ کیلنڈ ولا اندرونی جسمانی کمزوری کو دور کر کے شکست وریخت کے کام کی مرمت کے لیے جسمانی صلاحیت کو بیدار کرتی ہے جبکہ ہیپر سلف اور سلیشیا انفیکشن کا مقابلہ کرتی ہیں۔ (صفحہ۲۱۵)

مرطوب اور ابر آلود موسم میں اس کی تکلیفیں بڑھ جاتی ہیں۔ (صفحہ۲۱۵)

کیمفر

Camphora

(Camphor)

کیمفر یعنی کا فور کی سب سے نما یاں علامت یہ ہے کہ اس کے مریض میں بیماری کے دوران جسم کی بیرونی سطح بالکل ٹھنڈی ہوجاتی ہےلیکن اندرونی طور پر مریض کوبہت گرمی کا احساس ہوتا ہے۔ بے حد نقاہت اور کمزوری محسوس ہوتی ہے۔ (صفحہ۲۱۷)

تشنجی کیفیات بھی بہت نمایاں ہیں۔اگر جسم بالکل ٹھنڈا ہو اور تشنج کی کیفیت پائی جائے تو کوئی بھی بیماری ہو اس میں کیمفر مفید ہوگی ۔ہیضہ میں بھی بہت مؤثر دوا ہےخصوصاً گم ہیضہ جس میں بغیر درد کے دست ہوتے ہیں یا دست ہوتے ہی نہیں لیکن یکدم توانائی ختم ہوکر سارا جسم ٹھنڈا ہوجاتا ہے۔اس میں کیمفر چھوٹی طاقت میں دینے سے غیر معمولی فائدہ پہنچتا ہے۔اگر ہیضہ کی حالت میں ہاتھ پاؤں میں تشنج نمایاں ہو تو کیوپرم دوا ہے لیکن تشنج کے ساتھ اعضاء برف کی طرح ٹھنڈے ہوجائیں اور ٹھنڈا پسینہ آئے تو یہ کیمفر کی خاص علامت ہے۔کیمفر کے ہیضہ میں متلی بھی نمایاں ہوتی ہے۔کیمفر میں شدید خوف اور اندیشے بھی پائے جاتے ہیں۔اس پہلو سے ایکونائٹ سے مشابہ ہے سوائے اس کے کہ ایکونائٹ میں ایسی سردی نہیں ہوتی جو کیمفر کا طرۂ امتیاز ہے۔اگر ایکونائٹ کی طرح اچانک بیماری شروع ہو اور اس میں خوف غالب ہو اور تشنج بھی پایا جائے لیکن مریض بہت ٹھنڈا ہوتو ایکونائٹ کی بجائے کیمفر دوا ہوگی ۔اگر بیماری میں شدت ،تپش اور تیزی پائے جائے تو ایکونائٹ مفید ہے۔ (صفحہ۲۱۷)

کیمفر میں گرمی اور سردی کا ادلنا بدلنا بھی پایا جاتا ہے۔جب جسم ٹھنڈا ہو تو درمیان میں ایک دم جسم تھوڑی دیرکے لیے گرم بھی ہوجاتا ہے۔یہ کیفیتیں ادلتی بدلتی رہتی ہیں جس کا مطلب ہے کہ بخار دب کر اندرونی اعضاء میں منتقل ہورہا ہے۔جب بخار دب کر اندر ریڑھ کی ہڈی میں چلا جائے یا دماغ میں منتقل ہوجائے تو جسم ٹھنڈا ہوجاتا ہے۔مگر جسم باربار بیماری کے خلاف مدافعت کرتا ہے اور اسے دھکیل کر باہر لانے کی کوشش کرتا ہے۔لہٰذا جسم کبھی ٹھنڈا اور کبھی گرم ہوجاتا ہے۔اس صورت حال میں کیمفر بہت مفید ہے۔ (صفحہ۲۱۹)

تشنج اور دندل پڑنے (بتیسی بند ہونے) میں کیمفر بطور علاج مشہور ہے۔بسااوقات گرمی کی شدت سے یا اندرونی کمزوریوں کی وجہ سے عورتوں کو دندل پڑجاتے ہیں۔منہ زبردستی کھول کر اندر دوا ڈالنے کی ضرورت نہیں ۔کیمفر کی چھوٹی طاقت کی ہومیو دوا سے صرف ہونٹ گیلا کردیں تو وہ خود بخود اثر دکھائے گی اور یہ کیفیت جاتی رہے گی۔تشنج اور دندل پڑنے سےہونٹ نیلے ہوجاتے ہیں۔صرف ہونٹ ہی نہیں بلکہ زبان بھی نیلی ہوجاتی ہے۔یہ کیمفر کی خاص علامت ہے۔ (صفحہ۲۱۹)

کیمفر کی ایک خاص علامت یہ ہے کہ درد کا احساس درد کی جگہ توجہ دینے سے کم ہوجاتا ہے۔مریض سردی اور چھونے سے زود حس ہوتا ہےجس سے تکلیف میں اضافہ ہوجاتا ہے۔آپریشن کے بعد اگر جسم کا درجہ حرارت بہت زیادہ گر جائے اور خون کے دباؤ میں کمی ہو تو کاربوویج کے علاوہ کیمفر کی چند خوراکوں سے بھی فوری فائدہ ہوتا ہے۔(صفحہ۲۲۱)

کینیبس انڈیکا

Cannabis indica

کینیبس کی تکلیفیں صبح کے وقت ،دائیں کروٹ لیٹنے اور تمباکو وغیرہ قسم کے نشوں کے ا ستعمال سے بڑھ جاتی ہیں۔تازہ ہوا اور آرام کرنے سے سکون محسوس ہوتا ہے۔نیند آتی ہے پر نہیں آتی۔ (صفحہ۲۲۶)

(نوٹ ان مضامین میں ہو میو پیتھی کے حوالے سے عمومی معلومات دی جاتی ہیں۔قارئین اپنے مخصوص حالات کے پیش نظر کوئی دوائی لینے سے قبل اپنے معالج سے ضرورمشورہ کرلیں۔)

(ڈاکٹر لئیق احمد)

مزید پڑھیں: ہومیو پیتھی یعنی علاج بالمثل(عمومی علامات کے متعلق نمبر ۱۳)(قسط ۱۳۸)

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button