متفرق مضامین

ہمارے مقدس تہوار

مغربی ممالک میں بچوں کی تربیت کی ضرورت اور اہمیت

رمضان المبارک کی آمد آمد ہے، اس پاکیزہ مہینے کا انتظار دلوں کو گرما رہا ہے اور ہم میں سے ہر ایک کسی نہ کسی صورت میں اپنی بساط کے مطابق تیاری کر رہا ہے۔ خاکسار اس بارے میں اپنی بہنوں اور مائوں کی خدمت میں کچھ گزارشات پیش کرنا چاہے گی۔

حضرت خلیفۃالمسیح الثانیؓ کا لجنہ اماءاللہ کی تنظیم کے قیام کا سب سے بڑا مقصد ہی خواتین کی تربیت کرنا تھا ۔ آپؓ فرماتے ہیں کہ ’’جنت مائوں کے قدموں کے نیچے ہے اِس کا یہ مطلب نہیں کہ ظاہری طور پر جنت مائوں کے قدموں کے نیچے ہے بلکہ یہ ہے کہ ماں کی اچھی تربیت سے جنت مل جاتی ہے۔‘‘ پھر اجتماعی تربیت کی جانب بھی توجہ دلاتے ہوئے فرمایا:’’اسی طرح اولاد کی تربیت ہے یہ ایک اجتماعی کام ہے، تربیت اولاد کبھی اجتماع کے بغیر نہیں ہو سکتی۔ عورتوں کو چاہئے کہ وہ مل بیٹھیں او رسوچیں کہ ہمارے بچوں میں کیا کیا خرابیاں ہیں عورتیں تدابیر کریں اورعہد کریں کہ وہ ان کمزوریوں کو دور کریں گی اس میں تعاون کی ضرورت ہے۔(اوڑھنی والیوں کے لئے پھول۔ صفحہ ۳۵۸)

ہر زمانے، علاقے اور ملک کے مطابق تربیت اولاد کے تقاضے بھی بدلتے رہتے ہیں۔ ہم سب اس بات کو اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ مغربی ممالک کے سکولوں میں کرسمس اوردوسرے تہواروں کومنانے کے لیے بہت سی سرگرمیاں منائی جاتی ہیں ۔جیسے کرسمس کے کیلنڈر بنانا، بہت سی ڈیکوریشن کاٹ کر سجانے کی تربیت دینا ،سکولوں گھروں کوسجانا اورہرطرف بازاروں میں بھی یہ سب چیزیں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ یہ سب سرگرمیاں بچوں کو اپنی طرف بےحد کھینچتی ہیں۔ اسی حوالے سے بہت سے مسلمان بچے بھی اب اپنے والدین سے یہ سب خرید نےکی خواہش کرتے ہیں اوراسی طرح مزے سے رنگین کاغذوں کو مختلف ڈیزائن میں کاٹنا،چپکانا یا لٹکانا پسند کرتے ہیں۔مگر اکثر اوقات مسلمان والدین اس بارے میں نہ سوچتے ہیں اور نہ ہی بچوں کو وقت دیتے ہیں حالانکہ یہ اس زمانے میں چھوٹی عمر میں سکھانے کا ایک اچھا طریقہ بنایا جا سکتا ہے تاکہ بچے بھی اپنی مقدس روایات اور تہواروں کو جانیں اوراسی دلچسپی اورخوشی سے ان کا انتظار کریں۔

اگر مائیں اس محنت کے لیے تیار ہوں تویہ ایک پنکھ دو کاج کے مترادف ہو گا اور نہ صرف آپ کے خاندان کے بڑوں اور بچوں کو اکٹھے بیٹھ کر ایک دلچسپ طور پر وقت گزارنے کا موقع ملے گا ان کی تربیت کا بھی موقع مل سکے گا۔ ہم احمدی مائوں کو اس حوالے سے ہرلمحہ اپنے بچوں کی تربیت پر نظر رکھتے ہوئے اور فضول خرچی سے بچتے ہوئےمحنت کر کےبچوں کو ان تہواروں کی اہمیت کے اجاگر کرنے کے لیے توجہ سے سکھانے کی پوری کوشش کرنی چاہیے۔

یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ہم احمدی مسلمان ہمیشہ اپنے پیارے خلیفہ کے ارشادات اورہدایات کے مطابق بچوں کو توازن کے ساتھ روشناس کروا سکتے ہیں تاکہ ان میں دین اسلام احمدیت کی تربیت کا پہلو نمایاں رہے اورہرسرگرمی جو ہم بچوںکے ساتھ منعقد کریں اس کا اولین مقصد بچوں کی توجہ خدا تعالیٰ کی پیاری کتاب ،اس کے پیارے رسولؐ اور اپنی پیاری جماعت کی طرف رہنالازمی ہے۔ہمیں اس بات کے لیے بھی محتاط اور فکر مند رہنا چاہیے کہ ہماری نیت ہرگز نئی روایات کو جاری کرنا نہیں ہونی چاہیے بلکہ جس معاشرے کا ہم خاص طور پر مغربی ملکوں میں سامنا کر رہے ہیں ان روایات اور طرز کو اچھائی کی جانب ڈھال کر اپنے بچوں کے دلوں میں اسلامی روایات سے محبت کی جانب مائل کرنا ہونی چاہیے۔

خاندان کے بچوں بچیوں اور بزرگان کے ساتھ کچھ وقت رمضان سے پہلے یا شروع میں ان سرگرمیوں کے لیے نکال سکتے ہیں۔جہاں اچھے ماحول میں بچوں کو اپنے پیارے آقا حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کو خط لکھوا سکتے ہیں یا سادہ سا ڈیزائن بنوا کر حضورِ انورکی خدمت اقدس میں بھجواسکتے ہیں جس میں رمضان المبارک کے حوالے سےدعا کی درخواست ہو۔اپنے گھر اور حلقہ کے بزرگوں کے لیے ایک چھوٹا سا گفٹ پیک تیار کر سکتے ہیں جس میں کھجوریں، ٹافیاں، بسکٹ پیک کر کے ان سے دعا کی درخواست کر سکتے ہیں۔

چھوٹی عمر کے بچوں کے لیے مختلف رنگوں میں رمضان کیلنڈر بنا سکتے ہیں جس میں چھوٹے چھوٹے کاغذ کے ٹکڑوں پر یا چھوٹی چھوٹی تھیلیوں میں یا چھوٹے چھوٹے لفافوں میں ہر روز کے کرنے والے کام ، سرگرمیاں لکھ دی جن کو ایک بورڈ پر تاریخوں کے ساتھ لکھ کریا ایک رسی میں یا تار میں پرو کر دیوار پر لگا دیں ۔جہاں بچہ روز کا ایک حصہ کھول کے اپنا انعام اور اس دن کا کام بھی پڑھے اور سارا دن اس ہی سوچ میں رہے کہ آج یہ کام ختم کروں گا توکل کے دن کا کیلنڈر کھول سکوں گا۔جمعہ والے دن کے لیے خاص طور پر صدقہ دلوائیں جو چند سکے ہی ہوں جن کو ان کے کیلنڈرز میں رکھ سکتے ہیں۔

ان کیلنڈرز میں ہر روز کے لیے کوئی بھی چھوٹی سی بات، کوئی دعا،حدیث، حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے لیے خصوصی دعا کرنا ،کوئی اچھی بات، بیمار کی تیمارداری کرنا،سکول میں کوئی خدمت خلق کا کام کرنا، ہمسائے کی مدد کرنا،رمضان میں کوئی خاص کام کرناجس کا تعلق روزوں سے ہو، نماز با جماعت پڑھنے کی تلقین کرنا ، والدین کی مددکرنا، بزرگوں کی مدد کرنا، ہمسایوںکے گھر کچھ افطار بھجوانا، والدین کے لیے دعا کرنا۔ اس طرح دعا کا طریق بھی کچھ سمجھ آ جائے گا۔غرض لا تعداد قسم کی چھوٹی چھوٹی سرگرمیاں ہو سکتی ہیں جو بچوں اور بچیوں کے ساتھ کی جا سکتی ہیں۔ یاد رکھیں کیلنڈر پہلے بچوں کے ساتھ بنا لیں، لیکن تمام سرگرمیاں اور جو کام بھی آپ چنیں، ان کے انعامات (کھلونے، ٹافیاں، بسکٹ وغیرہ) اور چِٹّیں بعد میں اس میں رکھیں یا لگائیں تاکہ بچوں کی حیرت اور خوشی برقرار رکھی جا سکے۔

(عفت وہاب بٹ۔ ڈنمارک)

اس حوالے سے قارئین درج ذیل لنک سے مزید استفادہ بھی کر سکتے ہیں:

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button