خطبہ جمعہ بطرز سوال و جواب
(خطبہ جمعہ فرمودہ ۴؍اکتوبر۲۰۲۴ء بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد، ٹلفورڈ(سرے) یوکے)
سوال نمبر۱: حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے خطبہ کے عنوان کی بابت کیابیان فرمایا؟
جواب:فرمایا: خطبات میں آجکل جنگِ احزاب کا ذکر ہو رہا ہے۔
سوال نمبر۲:حضورانورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے جنگ احزاب میں مشرکین کے متعددحملوں اور مسلمانوں کے لیے نمازوں کی ادائیگی میں مشکل کی بابت کیا بیان فرمایا ؟
جواب: فرمایا: جب مشرکین کو خندق عبور کرنے کے باوجود کوئی کامیابی نصیب نہ ہوئی بلکہ سخت ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا تو انہوں نے اتحاد کیا کہ وہ سب صبح کو حملہ کریں گے کوئی پیچھے نہیں رہے گا۔ ساری رات وہ تیاری کرتے رہے اور سورج کے طلوع ہونے سے پہلے رسول اللہﷺ کے سامنے خندق پر آ گئے۔ مشرکین نے ہر طرف سے خندق کو گھیر لیا اور ایک لشکر رسول اللہﷺ کے خیمہ کی طرف متوجہ کیا۔ اس میں خالد بن ولید تھے۔ خندق کو بار بار عبور کرنے کی کوشش کے ساتھ ساتھ سخت تیر اندازی کا مقابلہ ہوا۔ کفار مسلمانوں کی طرف سے کسی بھی غفلت کے منتظر رہے کہ کہیں موقع ملے تو وہ خندق عبور کریں اور یہ حملے اور کوششیں وقفے وقفے سے ہوتی رہیں۔ اسی موقع پر وحشی بن حرب نے طفیل بن نعمانؓ کو اور بعض نے کہا ہے طفیل بن مالک بن نعمان انصاریؓ کو اپنا چھوٹا نیزہ مار کر شہید کر دیا۔ حضرت سعد بن معاذؓ کو بھی ایک تیر لگا جس سے وہ زخمی ہوئے اور اسی زخم کی وجہ سے کچھ دنوں کے بعد ان کی شہادت ہوئی۔اوریہی وہ دن تھا کہ جس روز مسلمانوں کے لیے نماز بھی اپنے وقت پرپڑھنا مشکل ہوگیا۔اس دن کی مسلسل مصروفیت اور بار بار کے حملوں کی وجہ سے جو واقعات بیان ہوئے، معلوم ہوتا ہے کہ بعد کے راوی ان باتوں کو صحیح طرح محفوظ نہیں رکھ سکے اور کچھ عرصہ بعد مضمون یہ بن گیا کہ اس دن مسلمان نبی اکرمﷺ سمیت نہ ظہر کی نماز ادا کر سکے اور نہ عصر کی نماز ادا کر سکے یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا۔ اور یہ نمازیں سورج غروب ہونے کے بعد ادا کی گئیں۔ عموماً ایک قصہ یہ بھی بیان کیا جاتا ہے۔بعض مؤرخین نے تو یہاں تک مبالغہ کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ڈوبے ہوئے سورج کو واپس بھیجا تا کہ مسلمان ظہر اور عصر کی نماز ادا کر سکیں جبکہ حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ دن بہت سخت دن تھا۔نبی اکرمﷺ سمیت تمام مسلمان مسلسل حملوں کی زد میں تھے لیکن ایسا بھی نہیں کہ یہ سب اور بالخصوص نبی اکرمﷺ کوئی بھی نماز نہ پڑھ سکے ہوں۔سخت دن تو تھے لیکن اتنا نہیں تھا کہ نمازیں بالکل نہ پڑھ سکے ہوں۔اس دن بھی نمازیں تو ادا کرتے رہے لیکن ایک مسلسل خوف اور پریشانی کے عالم میں یہ نمازیں ادا ہوئیں۔اور معلوم ہوتا ہے کہ عصر کے وقت حملوں میں اتنی شدت آئی کہ عصر کی نماز ادا کرنے میں مشکل پیش آئی ہو گی اور وہ تنگ وقت میں پڑھی گئی ہو گی۔سیرت خاتم النبیین میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ نے اس کو اس طرح بیان کیا ہے کہ ’’اس دن مسلمانوں کی ساری نمازیں وقت پر ادا نہیں ہوسکیں۔ یہ درست نہیں ہے۔ بلکہ جیسا کہ صحیح روایات سے ثابت ہوتا ہے بات صرف یہ ہوئی تھی کہ چونکہ اس وقت تک صلوٰةِ خوف شروع نہیں ہوئی تھی اس لیے بوجہ مسلسل خطرے اورمصروفیت کے صرف ایک نماز یعنی عصر بے وقت ہوگئی تھی جو مغرب کے ساتھ ملاکر پڑھی گئی۔ اور بعض روایات کی رو سے صرف ظہروعصر کی نماز بےوقت ادا ہوئی تھی۔‘‘
سوال نمبر۳:حضورانورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے نمازوں کی ادائیگی وقت پر نہ ہونے کی بابت حضرت مصلح موعودؓ کا کیا موقف بیان فرمایا ؟
جواب: فرمایا: حضرت مصلح موعودؓ نے بیان فرمایا ہے کہ ’’ایک دن حملہ اتنا شدید ہو گیا کہ مسلمانوں کی بعض نمازیں وقت پر ادا نہ ہو سکیں جس کا رسول اللہﷺ کو اتنا صدمہ ہو اکہ آپ نے فرمایا: خد اکفار کو سزا دے انہوں نے ہماری نمازیں ضائع کیں … اس سے محمد رسول اللہﷺ کے اخلاق پر ایک بہت بڑی روشنی پڑتی ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں سب سے زیادہ عزیز ترین چیز آپ کے لیے خدا تعالیٰ کی عبادت تھی جبکہ دشمن چاروں طرف سے مدینہ کو گھیرے ہوئے تھا۔ جبکہ مدینہ کے مرد تو الگ رہے ان عورتوں اور بچوں کی جانیں بھی خطرہ میں تھیں۔ جب ہر وقت مدینہ کے لوگوں کا دل دھڑک رہا تھا کہ دشمن کسی طرف سے مدینہ کے اندر داخل نہ ہو جائے اس وقت بھی محمد رسول اللہﷺ کی خواہش یہی تھی کہ خدا تعالیٰ کی عبادت اپنے وقت پر عمدگی کے ساتھ ادا ہوجائے۔‘‘ یعنی انتہائی خوف کی حالت میں بھی آپ کی خواہش تھی تو صرف یہ کہ عبادت نہ کہیں ضائع ہو جائے۔ ’’مسلمانوں کی عبادت یہودیوں اور عیسائیوں اور ہندوؤں کی طرح ہفتہ میں کسی ایک دن نہیں ہوا کرتی بلکہ مسلمانوں کی عبادت دن رات میں پانچ دفعہ ہوتی ہے۔ ایسے خطرناک وقت میں تو دن میں ایک دفعہ بھی نماز ادا کرنا انسان کے لئے مشکل ہے چہ جائیکہ پانچ وقت اور پھر عمدگی کے ساتھ باجماعت نماز ادا کی جائے۔ مگران خطرناک ایام میں بھی محمد رسول اللہﷺ یہ پانچوں نمازیں اپنے وقت پر ادا کرتے تھے اور اگر ایک دن دشمن کے شدید حملہ کی وجہ سے آپ اپنے ربّ کا نام اطمینان اور آرام سے اپنے وقت پر نہ لے سکے تو آپ کو شدید تکلیف پہنچی۔‘‘
سوال نمبر۴: حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے نمازوں کی ادائیگی وقت پر نہ ہونے کی بابت حضرت اقدس مسیح موعود ؑکا کیا موقف بیان فرمایا ؟
جواب: فرمایا: اس زمانے کے حَکَم و عَدَل حضرت مسیح موعود ؑ نے ان تمام روایات کو جن میں ان نمازوں کو رات کے وقت ادا کرنے کا ذکر ہے ضعیف قرار دیتے ہوئے صرف ایک روایت کو درست قرار دیا ہے جس میں عصر کی نماز معمول سے تنگ وقت میں پڑھنے کا ذکر ہے۔چنانچہ جنگ خندق میں آنحضورﷺ کی چار نمازیں قضا کرنے پر ایک پادری کے اعتراض کا جواب دیتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام فرماتے ہیں:’’باقی رہا یہ کہ خندق کھودنے کے وقت چار نمازیں جمع کی گئیں اس احمقانہ وسوسہ کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ دین میں حرج نہیں ہے یعنی ایسی سختی نہیں جو انسان کی تباہی کا موجب ہو۔ اس لیے اس نے ضرورتوں کے وقت اور بلاؤں کی حالت میں نمازوں کے جمع کر نے اور قصر کرنے کا حکم دیا ہے مگر اس مقام میں ہماری کسی معتبر حدیث میں چار جمع کرنے کا ذکر نہیں۔‘‘ یہ تو ٹھیک ہے کہ ہو سکتی ہیں لیکن کہیں کسی معتبر حدیث میں ذکر نہیں ہے کہ چار نمازیں جمع ہوئی ہوں ’’بلکہ فتح الباری شرح صحیح بخاری میں لکھا ہے کہ واقعہ صرف یہ ہوا تھا کہ ایک نماز یعنی صلوٰة العصرمعمول سے تنگ وقت میں ادا کی گئی۔‘‘آپؑ فرماتے ہیں کہ ’’اگر آپ اس وقت ہمارے سامنے ہوتے تو ہم آپ کو ذرہ بٹھا کر پوچھتے‘‘ کہ آپ نے کہاں سے لے لی ہے ۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام یہ مخالف کو مخاطب کر کے فرما رہے ہیں تم میرے سامنے ہوتے تو میں تمہیں پوچھتا کہ کس طرح کہاں سے تم نے یہ روایت لے لی ہے۔ آپؑ فرماتے ہیں ’’ کہ کیا یہ متفق علیہ روایت ہے کہ چار نمازیں فوت ہوگئی تھیں۔ چار نمازیں تو خود شرع کی رو سے جمع ہوسکتی ہیں یعنی ظہر اور عصر۔ اور مغرب اور عشاء۔ ہاں ایک روایت ضعیف میں ہے کہ ظہر اور عصر اور مغرب اور عشاء اکٹھی کرکے پڑھی گئی تھیں لیکن دوسری صحیح حدیثیں اس کو ردّ کرتی ہیں اورصرف یہی ثابت ہوتا ہے کہ عصر تنگ وقت میں پڑھی گئی تھی۔‘‘
سوال نمبر۵: حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے آنحضرتﷺکی احزاب کے خلاف بددعا کی بابت کیا بیان فرمایا؟
جواب: فرمایا: حضرت جابر بن عبداللہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ بروز پیر منگل اور بدھ ظہر اور عصر کے درمیان تشریف لائے اور اپنے اوپر کی چادر رکھ دی اور کھڑے ہو کر ہاتھ بلند کیے۔ احزاب پر بددعا کی۔ حضرت جابرؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے آپﷺ کے چہرے میں خوشی پہچان لی۔عبداللہ بن اُبَی بن اَوفیٰؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے احزاب پر بددعا کی۔ ابونُعَیم نے اضافہ کیا ہے۔ یہ زائد بات اس میں بتائی ہے کہ آپؐ نے انتظار کیا جب سورج کا زوال ہو گیا تو آپﷺ لوگوں میں کھڑے ہوئے اور فرمایا اے لوگو !تم دشمن سے مڈھ بھیڑ کی تمنا نہ کرو اور تم اللہ تعالیٰ سے عافیت مانگو اور اگر تمہاری دشمن سے مڈھ بھیڑ ہو جائے تو پھر صبر کرو اور جان لو کہ جنت تلواروں کے سایوں کے نیچے ہے۔پھر فرمایا :اَللّٰھُمَّ مُنْزِلَ الْکِتٰبِ سَرِیْعَ الْحِسَابِ اِھْزِمِ الْاَحْزَابَ،اَللّٰھُمَّ اھْزِمْھُمْ وَانْصُرْنَاعَلَیْھِم۔اے اللہ! کتاب نازل کرنے والے!! جلد حساب لینے والے!!! تُو لشکروں کو شکست دے دے۔ اے اللہ !ان کو شکست دے دے اور ان کے خلاف ہماری مدد کر۔ایک روایت میں یہ دعا بھی مذکور ہے کہ اَ للّٰهُمَّ إِنِّي أَنْشُدُكَ عَهْدَكَ وَوَعْدَكَ، اَللّٰهُمَّ إِنْ تَشَأْ لَاتُعْبَدْ۔اے اللہ !میں تجھے تیرے عہد اور وعدے کا واسطہ دیتا ہوںاے اللہ !اگر تُو چاہے تو تیری یہ عبادت نہ کی جائے۔ابو سعید خدریؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا: یارسول اللہﷺ! کلیجے منہ کو آ گئے ہیں۔ بہت بری حالت ہو گئی ہے۔ کیا ہمارے کہنے کے لیےکچھ کلمات ہیں یا ایسی دعا سکھائیں کہ ہم کوئی دعا کریں۔ آپﷺ نے فرمایا ہاں۔ تم کہواَللّٰهُمَّ اسْتُرْ عَوْرَاتِنَاوَ آمِنْ رَوْعَاتِنَا۔اے اللہ !ہمارے عیب ڈھانپ دے اور ہمارے خوف دُور فرما دے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی بیان فرمایا ہے کہ ’’بعض مسلمان گھبرا کر رسول اللہﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا یا رسول اللہ! حالات نہایت خطرناک ہو گئے ہیں۔ اب بظاہر مدینہ کے بچنے کی کوئی امید نظر نہیں آتی۔ آپ اِس وقت خدا تعالیٰ سے خاص طور پر دعا کریں اور ہمیں بھی کوئی دعا سکھلائیں جس کے پڑھنے سے اللہ تعالیٰ کا فضل ہم پر نازل ہو۔ آپؐ نے فرمایا تم لوگ گھبراؤ نہیں۔ تم اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرو کہ تمہاری کمزوریوں پر وہ پردہ ڈالے اور تمہارے دلوں کو مضبوط کرے اور گھبراہٹ کو دور فرمائے اور پھر آپؐ نے خود بھی اس طرح دعا فرمائی کہ اَللّٰھُمَّ مُنْزِلَ الْکِتٰبِ سَرِیْعَ الْحِسَابِ اِھْزِمِ الْاَحْزَابَ اَللّٰھُمَّ اھْزِمْھُمْ وَزَلْزِلْھُمْ۔اور اسی طرح یہ دعا فرمائی۔یَا صَرِیْخَ الْمَکْرُوْبِیْنَ یَامُجِیْبَ الْمُضْطَرِّیْنَ اکْشِفْ ھَمِّیْ وَ غَمِّیْ وَکَرْبِیْ فَاِنَّکَ تَرٰی مَا نَزَلَ بِیْ وَ بِاَصْحَابِیْ۔ اےاللہ! جس نے قرآن کریم مجھ پر نازل کیا ہے، جو بہت جلدی اپنے بندوں سے حساب لے سکتا ہے یہ گروہ جو جمع ہوکر آئے ہیں اِن کو شکست دے۔ اے اللہ! میں پھر عرض کرتا ہوں کہ تُو انہیں شکست دے اور ہمیں اِن پر غلبہ دے اور ان کے ارادوں کو متزلزل کر دے۔ اے دردمندوں کی دعا سننے والے! اے گھبراہٹ میں مبتلا لوگوں کی پکار کا جواب دینے والے!‘‘اس دعا کا ترجمہ یہ ہے کہ اے درد مندوں کی دعا سننے والے! اے گھبراہٹ میں مبتلا لوگوں کی پکار کا جواب دینے والے! ’’میرے غم اور میری فکر اور میری گھبراہٹ کو دور کر کیونکہ تو اِن مصائب کوجانتا ہے جو مجھے اور میرے ساتھیوں کو درپیش ہیں۔‘‘
سوال نمبر۶: حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے جنگ احزاب میں آنحضرتﷺکواللہ کی طرف سےکفار کی واپسی کی اطلاع ملنے کی بابت کیا بیان فرمایا؟
جواب: فرمایا: ’’رات کے آخری ثلث میں وہ میدان جس میں پچیس ہزار کے قریب کفار کے سپاہی خیمہ زن تھے وہ ایک جنگل کی طرح ویران ہو گیا۔ رسول کریمﷺ کو اس وقت اللہ تعالیٰ نے الہام کے ذریعہ بتایا کہ تمہارے دشمن کو ہم نے بھگا دیا ہے۔‘‘اللہ تعالیٰ نے بتایا تھا تبھی آپؐ نے صحابہؓ سے پوچھا تھا کون ہے جو آئے۔ ’’آپ نے حقیقت حال معلوم کرنے کے لیے کسی شخص کو بھیجنا چاہا اور اپنے اِردگرد بیٹھے ہوئے صحابہؓ کو آواز دی۔ وہ سردی کے ایام تھے اور مسلمانوں کے پاس کپڑے بھی کافی نہ ہوتے تھے۔ سردی کے مارے زبانیں تک جم رہی تھیں۔‘‘ بول نہیں سکتے تھے۔ ’’بعض صحابہؓ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہﷺ کی آواز سنی اور ہم جواب بھی دینا چاہتے تھے مگر ہم سے بولا نہیں گیا۔ صرف ایک حذیفہؓ تھے جنہوں نے کہا یارسول اللہ! کیا کام ہے؟‘‘ یہاں حضرت مصلح موعودؓ نے یہ نہیں فرمایا کہ آپؐ نے حضرت حذیفہؓ کو بلایا۔ حضرت مصلح موعودؓ کہتے ہیں کہ انہوں نے کہا تھا تو ’’آپؐ نے فرمایا تم نہیں مجھے کوئی اَور آدمی چاہیے۔پھر آپؐ نے فرمایا کوئی ہے؟ مگر پھر سردی کی شدت کی وجہ سے جو جاگ بھی رہے تھے وہ جواب نہ دے سکے۔ حذیفہؓ نے پھر کہا میں یارسول اللہ! موجود ہوں۔ آخر آپ نے حذیفہؓ کو یہ کہتے ہوئے بھجوایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے خبر دی ہے کہ تمہارے دشمن کو ہم نے بھگا دیا ہے۔ جاؤ اور دیکھو کہ دشمن کا کیا حال ہے حذیفہؓ خندق کے پاس گئے اور دیکھا کہ میدان کلی طور پر دشمن کے سپاہیوں سے خالی تھا۔ واپس آئے اور کلمہ شہادت پڑھتے ہوئے رسول اللہﷺ کی رسالت کی تصدیق کی اور بتایا کہ دشمن میدان چھوڑ کر بھاگ گیا ہے۔‘‘
مزید پڑھیں: رموزالاطباء میں حضرت خلیفۃ المسیح الاوّلؓ کا ذکر خیر




