جدید زمانےکی برائیاں اور ان سے محفوظ رہنے کے طریقے(حصہ دوم۔ آخری)
انٹرنیٹ کے غلط استعمال کے حوالے سے حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:’’پھر انٹرنیٹ کا غلط استعمال ہے یہ بھی ایک لحاظ سے آجکل کی بہت بڑی لغو چیز ہے۔ اس نے بھی کئی گھروں کو اجاڑ دیا ہے۔ ایک تو یہ رابطے کا بڑا سستا ذریعہ ہے پھر اس کے ذریعہ سے بعض لوگ پھرتے پھراتے رہتے ہیں اور پتہ نہیں کہاں تک پہنچ جاتے ہیں۔ شروع میں شغل کے طور پر سب کام ہو رہا ہوتا ہے پھر بعد میں یہی شغل عادت بن جاتا ہے اور گلے کا ہار بن جاتا ہے چھوڑنا مشکل ہو جاتا ہے کیونکہ یہ بھی ایک قسم کا نشہ ہے اور نشہ بھی لغویات میں ہے۔ کیونکہ جو اس پر بیٹھتے ہیں بعض دفعہ جب عادت پڑ جاتی ہے تو فضولیات کی تلاش میں گھنٹوں بلاوجہ، بے مقصد وقت ضائع کررہے ہوتے ہیں۔ تو یہ سب لغو چیزیں ہیں۔
… لغو باتوں اور لغو حرکتوں اور لغویات میں ڈوبنے کی یہ بیماری آجکل کچھ زیادہ جڑ پکڑ رہی ہے۔ اور اسی وجہ سے یہ بیماری تقویٰ میں بھی روک بنتی ہے۔ اور اس طرح غیر محسوس طور پر اس کا حملہ ہو رہا ہے کہ اس بیماری کی گرفت میں آنے کے بعد بھی انسان کو یہ احساس نہیں ہوتا کہ وہ کس بیماری میں گرفتار ہے اور کیونکہ پورا معاشرہ ہر جگہ اور ہر علاقے میں ہر ملک میں اس بیماری میں مبتلا ہے اس لئے اس بیماری کے لپیٹ میں آ کر بھی پتہ نہیں لگتا کہ ہم اس بیماری میں گرفتار ہیں۔ بعض قریبی عزیزوں کو بھی اس وقت پتہ چلتا ہے جب ان لغویات کی وجہ سے ان کے حقوق متاثر ہو رہے ہوتے ہیں۔ بیویاں بھی اس وقت شور مچاتی ہیں جب ان کے اور ان کے بچوں کے حقوق مارے جا رہے ہوں۔ اس سے پہلے وہ بھی معاشرے کی روشنی کا نام دے کر اپنے خاوندوں کی ہاں میں ہاں ملا رہی ہوتی ہیں۔ بلکہ بعض دفعہ خود بھی ان لغویات میں شامل ہو رہی ہوتی ہیں تو اسی طرح ماں باپ، دوست احباب اس وقت تک کچھ توجہ نہیں دیتے جب تک پانی سر سے اونچا نہیں ہو جاتا۔ نظام جماعت کو بھی پتہ نہیں لگ رہا ہوتا جب تک کسی دوست یا عزیز رشتہ دار کی طرف سے یہ نہ پتہ چل جائے کہ لغویات میں مبتلا ہے۔ بظاہر ایک شخص مسجد میں بھی آ رہا ہوتا ہے اور جماعتی خدمات بھی بجا لا رہا ہوتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ بعض قسم کی غلط حرکتوں میں، لغویات میں بھی مبتلا ہوتا ہے اس لئے یہ نہایت اہم مضمون ہے جس پر کچھ کہنا ضروری ہے۔
جیسا کہ میں نے کہا تھا کہ بعض لوگ بعض باتیں اور حرکتیں ایسی کر رہے ہوتے ہیں جو اُن کے نزدیک کوئی برائی نہیں ہوتی حالانکہ وہ لغویات میں شمار ہو رہی ہوتی ہیں اور نیکیوں سے دور لے جانے والی ہوتی ہیں۔ اور بعض دفعہ جائز بات بھی غلط موقع پر لغو ہو جاتی ہے۔… حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ’’اللَّغْو میں کل باطل، کل معاصی، لغو میں داخل ہیں، تاش، گنجوفہ چوسر سب ممنوع ہیں۔ گپیں ہانکنا، نکتہ چینیاں وغیرہ۔ ‘‘(حقائق الفرقان جلد۳ صفحہ۱۷۱)
…بہرحال مقصد یہ ہے کہ جماعت کے کسی بھی فرد کا وقت بلا مقصد ضائع نہیں ہونا چاہئے اس لئے جس حد تک ان لغویات سے بچا جا سکتا ہے، بچنا چاہئے اور جو اس ایجاد کا بہتر مقصد ہے اس سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔
علم میں اضافے کے لیے انٹرنیٹ کی ایجاد کو استعمال کریں…‘‘(خطبہ جمعہ فرمودہ ۲۰؍اگست۲۰۰۴ء)
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز مزید فرماتے ہیں: ’’…اس کے علاوہ کئی اوربرائیاں اور گناہ ہیں جو آج کے معاشرے میں بد اخلاقیاں پھیلانے کا باعث ہیں۔مثلاً انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کا غلط استعمال عام ہو تا جا رہا ہے۔جس میں لڑکے اور لڑکیوں کی آن لائن آپس میں نا مناسب chatting شامل ہے اسی طرح بیہودہ فلمیں دیکھی جاتی ہیں جس میں pornographyبھی شامل ہے… اس بات کو یاد رکھیں کہ بعض اوقات جائز چیزوں کا غلط استعمال بھی نقصان دہ ہوتا ہے۔…اگر کسی بھی کام کے زہریلے یا نقصان دہ اثرات کسی کہ ذہن پر پڑتے ہوں تو قرآن مجید کے مطابق وہ کام لغو شمار ہوگا۔‘‘ (مجلس خدام الاحمدیہ انگلستان کے نیشنل اجتماع ۲۰۱۶ء کے موقع پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا اختتامی خطاب، مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل ۲؍جون ۲۰۱۷ء صفحہ ۱۵)
پس اگر آج گمبھیر ترین مسائل حل کرنے کے لیے کوئی علاج ہے تو وہی علاج ہے جسے اسلام نے ہمیں بتایا اور حضرت مسیح موعودؑ نے اس کی وضاحت کی اور آج آپ کے خلیفہ کے ذریعہ دنیا کو ان مسائل سے نکالنے کی جدو جہد جاری ہے۔ پس ہم پر لازم ہے کہ جب ہم اس علاج سے واقف ہیں تو دنیا کو اس علاج سے آشنا کریں اور اس کی طرف لے کر آئیں تاکہ لوگ اس تباہی کے گڑھے میں گرنے سے محفوظ رہیں جس کی طرف وہ جا رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
(غزالہ خرم ۔جرمنی)
مزیدپڑھیں: جدید زمانہ کی برائیاں اور ان سے محفوظ رہنے کے طریقے(حصہ اول)




