امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ کینیڈا کی جماعتوں ہیملٹن اور ہیملٹن ماؤنٹین کے اراکینِ عاملہ کی ملاقات
[سیکنڈری سکول کی ]عمر میں ذاتی رابطہ نہایت ضروری ہے، ورنہ نوجوان جماعت سےدُور ہو سکتے ہیں۔ ان احبابِ جماعت کا باقاعدہ ریکارڈ مرتّب کیا جائے کہ جو اس وقت یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں یا سکول اور کالج میں زیرِ تعلیم ہیں نیز یہ بھی درج ہو کہ وہ کن شعبہ جات میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ ان سے ذاتی رابطہ رکھا جائے اور ان کی اخلاقی تربیت پر بھی خصوصی توجہ دی جائے
مورخہ ۳۱؍ جنوری ۲۰۲۶ء، بروزہفتہ، امام جماعت احمدیہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزکے ساتھ کینیڈا کی جماعتوں ہیملٹن اور ہیملٹن ماؤنٹین کے اراکینِ عاملہ کو بالمشافہ شرفِ ملاقات حاصل ہوا۔ یہ ملاقات اسلام آباد (ٹِلفورڈ) میں واقع ایم ٹی اے سٹوڈیوز میں منعقد ہوئی۔ مذکورہ وفد نے خصوصی طور پر اس ملاقات میں شرکت کی غرض سے کینیڈا سے برطانیہ کا سفر اختیار کیا۔

جب حضورِانور مجلس میں رونق افروز ہوئے تو آپ نےتمام شاملینِ مجلس کو السلام علیکم کا تحفہ عنایت فرمایا۔ ملاقات کا باقاعدہ آغاز دعا سے ہوا۔بعد ازاں دونوں جماعتوں کے اراکینِ مجلس عاملہ کو یہ سعادت حاصل ہوئی کہ وہ حضورِانور کی خدمتِ اقدس میں نہ صرف اپنا تعارف پیش کریں بلکہ اپنے شعبہ جات کی مساعی کی مختصر تفصیل بھی عرض کریں اور اسی مناسبت سے انہوں نے اپنے متعلقہ شعبہ جات کے بارے میں حضورِانور کی زبانِ مبارک سے نہایت پُرمعارف، بصیرت افروز اور قیمتی نصائح پر مشتمل راہنمائی حاصل کرنے کی توفیق بھی پائی۔
نشست کا انتظام اس طرح سےکیا گیا تھا کہ دونوں جماعتوں کے اراکین مجلس عاملہ کو الگ الگ نمایاں کیا جاسکے۔ اس غرض سے ہیملٹن جماعت کی عاملہ حضورِانور کے سامنےدائیں جانب جبکہ ہیملٹن ماؤنٹین جماعت کی عاملہ بائیں جانب بیٹھی تھی۔
سب سے پہلے حضورِانور جماعت ہیملٹن کے اراکین مجلس عاملہ سے مخاطب ہوئے اور صدر صاحب جماعت ہیملٹن کو تعارف پیش کرنے کی ہدایت فرمائی۔ دورانِ تعارف صدر صاحب جماعت نے عرض کیا کہ اراکین مجلس عاملہ کی جانب سے حضورِانور کی خدمتِ اقدس میں پیش کرنے کے لیے ایک عاجزانہ تحفہ تیار کیا گیا ہے۔ اس پر حضورِانور نے شکریہ ادا فرماتے ہوئے نہایت شفقت کے ساتھ توجہ دلائی کہ تحائف بعد میں بھی پیش کیے جا سکتے ہیں اصل توجہ جماعتی کام اور مفوّضہ ذمہ داریوں کی ادائیگی پر مرکوز ہونی چاہیے۔
اس کے بعد نائب صدر، جو کہ سیکرٹری وصایا بھی ہیں، نے اپنی مساعی کی بابت رپورٹ پیش کی۔
جنرل سیکرٹری نے اپنا تعارف کرواتے ہوئے عرض کیا کہ ہیملٹن جماعت کی کُل تعداد ۵۱۵؍ ہے۔ نماز سینٹر کے حوالے سے عرض کیا کہ ایک مرکز موجود ہے جہاں خواتین تہ خانے میں اور مرد بالائی منزل پر نماز ادا کرتے ہیں۔ اس پر حضورِانور نے فرمایا کہ وہ اس جگہ تشریف لے جاچکے ہیں۔
سیکرٹری تبلیغ نے اپنے شعبے کی مساعی پر روشنی ڈالتے ہوئے عرض کیا کہ ستاسی ہزار گھروں تک رسائی کا ہدف مقرر کیا گیا تھا اور ان تمام گھروں میں پمفلٹس تقسیم کیے جا چکے ہیں۔ اس پر جب حضورِانور نے نتائج کی بابت دریافت فرمایا تو عرض کیا گیا کہ اس کے نتیجے میں آٹھ فون کالز موصول ہوئیں جن میں سے چار افراد نے مزید معلومات حاصل کیں۔ یہ سماعت فرما کرحضورِانور نے توجہ دلائی کہ ستاسی ہزار گھروں میں سے صرف آٹھ جوابات بہت قلیل تناسب ہے اور موجودہ طریقِ تبلیغ کی افادیت پر سوال اُٹھاتا ہے۔
سیکرٹری سمعی و بصری نےعرض کیا کہ تقریباً ہر ہفتے مختلف پروگرام منعقد ہوتے ہیں جن کے لیے سمعی و بصری کے انتظامات کی ذمہ داری وہ انجام دیتے ہیں۔
سیکرٹری اشاعت نے اپنا تعارف کرواتے ہوئے حضورِانور کی خدمتِ اقدس میں عرض کیا کہ ان کا نام ٹونی وِن ہے، اس پر حضورِانور نے مسکراتے ہوئے پُر شفقت انداز میں تبصرہ فرمایا کہ آپ پہلے ہی جیت چکے ہیں، جس پر تمام شاملینِ مجلس بھی مسکرا دیے۔ پیدائشی احمدی ہونے کی بابت دریافت کیے جانے پر انہوں نے عرض کیا کہ انہیں پانچ سال قبل قبولِ احمدیت کی توفیق ملی ہے۔ جس پر حضورِانور نے قلیل عرصے میں اس پیش رفت کو سراہتے ہوئے فرمایا کہ اس کے بعد آپ نے اپنی اتنی اصلاح کی ہے کہ آپ کو سیکرٹری اشاعت مقرر کر دیا گیا ہے۔ حضورِانور نے دریافت فرمایا کہ کیا آپ نے جماعت کا کوئی لٹریچر پڑھا ہے؟ اس پر اثبات میں جواب دیتے ہوئے عرض کیا کہ انہوں نے کشتی نوح، اسلام اور عصرحاضر کے مسائل کا حل اور اسلامی اصول کی فلاسفی کا مکمل مطالعہ کیا ہے جبکہ قرآنِ کریم زیرِ مطالعہ ہے۔ مذکورہ کُتب کے مطالعے کی بابت حضورِانور نے مزید دریافت فرمایا کہ کیا آپ ان سب کو اور خاص طور پر اسلامی اصول کی فلاسفی اچھی طرح سمجھ بھی سکے ہیں؟ جس پر انہوں نے عرض کیا کہ وہ اسلامی اصول کی فلاسفی کا تیسری مرتبہ مطالعہ کر رہے ہیں۔
بعدازاں حضورِانور نے سیکرٹری اشاعت کے فرائض کے بارے میں دریافت فرمایاتو انہوں نے عرض کیا کہ ہم اس وقت ایک آن لائن آرڈرنگ سسٹم تیار کرنے پر کام کر رہے ہیں تا کہ افراد جماعت کو نہ صرف کُتب خریدنے بلکہ انہیں پڑھنے کی بھی ترغیب دی جا سکے۔ حضورِانور نے استفسار فرمایا کہ آیا کوئی ہفتہ وار یا ماہانہ جماعتی بلیٹن شائع ہو رہا ہے؟ تو اس حوالے سے انہوں نے عرض کیا کہ جماعتی سرگرمیوں کی آگاہی کے لیے ڈیجیٹل اور مطبوعہ فلائرز تیار کیے جا رہے ہیں۔ حضورِانور کے مزید استفسار پر کہ آیا کوئی رسالہ یا باقاعدہ اشاعتی مواد شائع کیا جا رہا ہے انہوں نے نفی میں جواب عرض کیا۔
حضورِانور کے دوبارہ دریافت فرمانے پر کہ سیکرٹری اشاعت کا اصل کردار کیا ہے، انہوں نے عرض کیا کہ ان کی ذمہ داری احبابِ جماعت کو مطالعہ کتب کی ترغیب دینا اور مرکز سے شائع شدہ کُتب کو فروغ دینا ہے۔اس پرحضورِانور نے توجہ دلائی کہ اپنی جماعت کے افراد کو یہ بھی تلقین کریں کہ وہ alislam.orgکو کھول کر دیکھیں۔ انہیں باقاعدگی سے alislam.org کی ویب سائٹ دیکھنے یا وہاں موجود کُتب پڑھنے کی عادت ڈالنی چاہیے۔
سیکرٹری تعلیم نے عرض کیا کہ وہ چودہ سال تک کے بچوں کے لیے ناصر اکیڈمی چلاتے ہیں۔اسی طرح موصوف نےبیان کیا کہ وہ پاکستان میں ڈاکٹر تھے اور اس وقت کینیڈا میں مینٹل ہیلتھ کے معالج کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اس پرحضورِانور نے ان کے تعلیمی پسِ منظر اور نفسیات میں اہلیت کے بارے میں بھی دریافت فرمایا۔
سیکرٹری تربیت نےعرض کیا کہ ان کی بنیادی توجہ سینٹر میں حاضری بڑھانے پر مرکوز ہے۔ اس پر حضورِانور نے فرمایا کہ کم ازکم دو سو مرد تو ہوں گے، کیا ان میں سے ۱۷۰یا۱۸۰؍ نمازِ جمعہ یا دیگرنمازوں پر آتے ہیں؟ جب عرض کیا گیا کہ نمازِ جمعہ پر زیادہ تر حاضری اَسّی سے نوّے کے درمیان ہوتی ہے تو حضورِانور نے فرمایا کہ چلیں اس وقت کام پر گئے ہوتے ہوں گے تو کیا وہ شام کو مغرب عشاء پر آتے ہیں؟ جس پر عرض کیا گیا کہ دورانِ ہفتہ تقریباً چالیس کے قریب لوگ مغرب، عشاء اور فجر کی نمازوں پر آتے ہیں۔
یہ سماعت فرما کر حضورِانور نے مسافت کی بابت دریافت کیا کہ آپ کے نماز سینٹر سے لوگ کتنے کتنے دُور رہتے ہیں؟ جس پر عرض کیا گیا کہ ہماری تقریباً نوّے فیصد تجنید دس منٹ کی مسافت پر رہائش پذیر ہے۔ اس پر حضورِانور نے توجہ دلائی کہ بالخصوص مغرب اورعشاء کی نمازوں میں حاضری مزید بہتر ہونی چاہیے۔نمازِفجر پرصرف چالیس افراد کی حاضری کو ناکافی قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ اسی کو آپ نے کافی سمجھ لیا ہے۔ چالیس کا مطلب بیس فیصد ہے۔تو بیس فیصد سے نجات کے راستے کھل جائیں گے؟ اس پر عرض کیا گیا کہ حاضری کو بہتر بنانے کے لیے کوششیں جاری ہیں اور اس ضمن میں ابھی مزید کام کی ضرورت ہے۔
علاوہ ازیں انہوں نے مجلس انصاراللہ اور تحریکِ جدید سے متعلق اپنے شعبہ جات کی مساعی کا بھی تذکرہ کیا، اور عرض کیا کہ تحریکِ جدید کی مالی قربانی میں ہیملٹن جماعت نے دوسری پوزیشن حاصل کی ہے۔
سیکرٹری امورِ خارجہ نےعرض کیا کہ وہ ڈرائی کلیننگ کا کاروبار کرتے ہیں اور میئر اور مقامی ایم پی سے روابط رکھتے ہیں۔ اس پرحضورِانور نے ہدایت فرمائی کہ کسی ایک گروپ کی طرف جھکاؤ رکھنے کی بجائے تمام سیاسی جماعتوں بشمول اپوزیشن اور صوبائی حکومت سے روابط رکھے جائیں۔
سیکرٹری امورِ عامہ کوحضورِانور نے توجہ دلائی کہ اس شعبہ کی ذمہ داریاں صرف تنازعات تک محدود نہیں بلکہ اس میں نئے آنے والوں کو آباد ہونے میں مدد دینا، انہیں جائز روزگار دلوانا، اس ضمن میں ان کی تربیت کرنا، کیریئر کے متعلق راہنمائی فراہم کرنا، اور احباب کو ان کی صلاحیتوں کے مطابق پیشوں یا کاروباری مواقع کی طرف راہنمائی کرنا بھی شامل ہے۔
سیکرٹری ضیافت نے عرض کیا کہ ہر اتوار نمازِ فجر کے بعد ناشتے کا انتظام کیا جاتا ہے۔
اس کے بعد سیکرٹری مال کو اپنی مساعی کی تفصیل پیش کرنے کا موقع ملا۔
سیکرٹری زراعت نےعرض کیا کہ جماعت کے پاس دو فارم ہیں اور مسجد کے پھولوں کے قطعوں کی دیکھ بھال بھی کی جاتی ہے۔
سیکرٹری وقفِ نو نے عرض کیا کہ واقفینِ نَو کی کُل تعداد باسٹھ ہے، جن میں چوبیس لڑکے اور اڑتیس لڑکیاں شامل ہیں، اس پر حضورِانور نے دریافت فرمایا کہ آیا بچوں کے لیے باقاعدہ کلاسز منعقد کی جا رہی ہیں اور کیا لجنہ اماءاللہ بھی لڑکیوں کے لیے کلاسز کا اہتمام کر رہی ہے؟ جس پر انہوں نے عرض کیا کہ ماہانہ کی بنیاد پر چار کلاسز کا انعقاد کیا جاتا ہے۔
سیکرٹری جائیداد نے عرض کیا کہ وہ مسجد کے لیے ایک وسیع تر پراپرٹی تلاش کر رہے ہیں اور اس سلسلے میں دعاؤں کی عاجزانہ درخواست ہے۔
سیکرٹری تعلیم القرآن و وقفِ عارضی نے عرض کیا کہ وہ گھانین نژاد اور پیشے کے اعتبار سے اکاؤنٹنٹ ہیں۔حضورِانور نے ان سے دریافت فرمایا کہ کیا وہ روزانہ قرآنِ مجید کی تلاوت کرتے ہیں جس پر انہوں نے اثبات میں جواب عرض کیا۔ بعدازاں حضورِانور نے ہدایت فرمائی کہ روزانہ کی بنیاد پر تلاوت کرنے والے احبابِ جماعت کا باقاعدہ ڈیٹا مرتّب کیا جائے اور صرف نیتوں ’اِن شاءاللہ‘ پر اکتفا کرنے کے بجائے عملی اور ٹھوس نتائج ’ما شاء اللہ‘ کے حصول کی کوشش کریں۔
مزید برآں وقفِ عارضی کے حوالے سے عملی مساعی کی بابت دریافت فرمانے پر عرض کیا گیاکہ گذشتہ سال جلسہ سالانہ برطانیہ میں نو خدام اس مقصد کے لیے شریک ہوئے تھے۔ یہ سماعت فرما کر حضورِانور نے توجہ دلائی کہ اگر ہر عاملہ ممبر وقفِ عارضی کرے تو اعداد و شمار بہت زیادہ حوصلہ افزا ہوں گے۔ حضورِانور نے اس امر پر زور دیا کہ آپ سب سے پہلے اپنے اراکین عاملہ کو وقفِ عارضی میں شامل ہونے کی ترغیب دلائیں اور اس حوالے سےاپنی ذات سےآغاز کرتے ہوئے دوسروں کے لیے ایک مثال قائم کریں۔
سیکرٹری صنعت و تجارت نے اپنا تعارف کراتے ہوئے عرض کیا کہ وہ صحت اور لائف کوچ کے طور پر خدمات انجام دیتے ہیں۔
محاسب اور امین کو بھی اپنا تعارف پیش کرنے کی سعادت حاصل ہوئی۔
مقامی آڈیٹر نے عرض کیا کہ انہیں مرکز سے آڈٹ پلان موصول ہوا ہے جو ابھی تک نافذ العمل نہیں ہوا۔
اسسٹنٹ جنرل سیکرٹری برائےتجنید نے افراد جماعت کی تعداد کی مزید تفصیل پیش کی۔
اسسٹنٹ جنرل سیکرٹری برائے آئی ٹی کو بھی اپنا تعارف پیش کرنے کا موقع ملا۔
قائد مجلس خدام الاحمدیہ نے عرض کیا کہ خدام کی تعداد۹۲؍ہے۔
ایڈیشنل سیکرٹری مال نے چندہ جمع کرنے کی مساعی کے بارے میں عرض کیا تو اس پر حضورِانور نے دریافت فرمایا کہ آیا تمام عاملہ ممبران مقررہ شرح کے مطابق اپنا چندہ ادا کر رہے ہیں اور متعلقہ سیکرٹری کو ہدایت دی کہ وہ اس معاملے کی تصدیق کریں۔
سیکرٹری وقفِ جدید نے عرض کیا کہ وقفِ جدید کی مدّ میں وعدہ جات سے زائد چندے کی وصولی ہوئی ہے۔
اسسٹنٹ سیکرٹری تعلیم القرآن و وقفِ عارضی نے اعتراف کیا کہ انہوں نے اس سال خود وقفِ عارضی نہیں کیا، جس پرحضورِانور نے انہیں ہدایت فرمائی کہ وہ وقفِ عارضی کریں۔
اسسٹنٹ سیکرٹری تحریکِ جدید نے بھی آخر میں اپنا تعارف پیش کیا۔
بعد ازاں حضورِانور ہیملٹن ماؤنٹین جماعت کی عاملہ کی طرف متوجہ ہوئے۔ دورانِ تعارف صدر صاحب جماعت نےعرض کیا کہ ماؤنٹین سے مراد دونوں جماعتوں کے درمیان واقع ایک بلند علاقہ ہے۔ اگرچہ وہ حقیقی پہاڑ نہیں ہے۔یہاں جماعت کی کُل تعداد ۵۸۸؍ہے۔
نائب صدر، جو بطور ایڈیشنل سیکرٹری مال بھی خدمات کی توفیق پا رہے ہیں نے عرض کیا کہ ان کی توجہ ان احباب پر مرکوزہے جو چندہ ادا نہیں کر رہے۔
اس کے بعد مبلغ سلسلہ کو بھی حضورِانور کی خدمتِ اقدس میں اپنا تعارف پیش کرنے کا موقع ملا۔
جنرل سیکرٹری نے عرض کیا کہ احبابِ جماعت سے باقاعدہ فون اور ذاتی ملاقاتوں کے ذریعے رابطہ رکھا جاتا ہے اور زیادہ تر احباب سینٹر سے تقریباً دس سے پندرہ کلومیٹر کے فاصلے پر رہائش پذیر ہیں۔
اسسٹنٹ سیکرٹری تبلیغ نے عرض کیا کہ بارہ ہزار کی تعداد میں فلائرز تقسیم کیے گئے جو کہ وہاں کی مقامی آبادی کے تناسب کے لحاظ سے دس فیصد بنتے ہیں۔ اس پر حضورِانور نے یاد دلایا کہ دس فیصد کا ہدف بیس سال قبل دیا گیا تھا اور اب تک اسے سو فیصد تک پہنچ جانا چاہیے تھا۔
سیکرٹری سمعی و بصری اور سیکرٹری اشاعت کو بھی اپنا تعارف پیش کرنے کی توفیق ملی۔ سیکرٹری اشاعت نے عرض کیا کہ کینیڈا جماعت کی جانب سے احمدیہ گزٹ کی ویب سائٹ بھی متعارف کروائی گئی ہے۔
سیکرٹری تعلیم و تحریک جدید نے عرض کیا کہ تحریکِ جدید میں مالی قربانی کے اعتبار سے ہماری جماعت اوّل نمبر پر ہے۔ تعلیمی حوالے سے عرض کیا گیا کہ یونیورسٹی میں دس جبکہ کالج میں سات طلبہ زیرِ تعلیم ہیں۔ اس پر حضورِانور نے سیکنڈری سکول یعنی گریڈ گیارہ اور گریڈ بارہ میں زیرِ تعلیم طلبہ کے بارے میں بھی دریافت فرمایا اور اس بات پر زور دیا کہ اس عمر میں ذاتی رابطہ نہایت ضروری ہے، ورنہ نوجوان جماعت سےدُور ہو سکتے ہیں۔ حضورِانور نے ہدایت فرمائی کہ ضروری ہے کہ ان احبابِ جماعت کا باقاعدہ ریکارڈ مرتّب کیا جائے کہ جو اس وقت یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں یا سکول اور کالج میں زیرِ تعلیم ہیں نیز یہ بھی درج ہو کہ وہ کن شعبہ جات میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ ان سے ذاتی رابطہ رکھا جائے اور ان کی اخلاقی تربیت پر بھی خصوصی توجہ دی جائے۔
سیکرٹری تربیت، جو بطور زعیم مجلس انصار الله بھی خدمت سرانجام دے رہے ہیں نےعرض کیا کہ سردیوں میں برفباری اور فاصلے زیادہ ہونے کی وجہ سے دو اضافی نماز سینٹر قائم کیے گئے ہیں۔مسجد میں حاضری کی تعداد بیس سے پچیس کے درمیان رہتی ہے، جبکہ نماز سینٹر زمیں اس سے کم تعداد میں احباب شریک ہوتے ہیں۔اس پرحضور انور نے توجہ مبذول کروائی کہ احبابِ جماعت کو تلاوتِ قرآنِ کریم اور تربیت سے متعلق دیگر اُمور کے بارے میں باقاعدگی سے یاددہانیاں بھجوانا بھی نہایت ضروری امر ہے۔
اسسٹنٹ جنرل سیکرٹری برائے تجنید نے عرض کیا کہ ماسوائے چند احبابِ جماعت کی تجنید کا ریکارڈ اَپڈیٹ کر دیا گیا ہے۔
سیکرٹری امورِ خارجہ کو حضورِانور کی جانب سے ہدایت عطا فرمائی گئی کہ وہ تمام سیاسی جماعتوں کے اراکینِ پارلیمنٹ، کونسلرز، میئرز اور حتّی کہ ممکنہ امیدواروں سے بھی وسیع تر روابط قائم رکھیں۔
سیکرٹری امورِ عامہ، جنہیں بطور سیکرٹری رشتہ ناطہ بھی خدمت کی توفیق مل رہی ہےسے مخاطب ہوتے ہوئےحضورِانور نے فرمایا کہ یہ دونوں شعبہ جات تنازعات کے حل اور شادیوں کےانتظام کے حوالے سے اپنی نوعیت میں بعض اوقات متضاد دکھائی دیتے ہیں۔ حضورِانور نےدریافت فرمایا کہ کن لوگوں کو کاروبار کے لیے گائیڈ کیا ہے؟ اس پر انہوں نے عرض کیا کہ جو بھی نئے دوست آتے ہیں وہ ان سے ملاقات کرتے ہیں اور ان کی راہنمائی کرتے ہیں کہ کس طرح سے وہ یہاں سکونت اختیار کر سکتے ہیں اور کام تلاش کر سکتے ہیں۔ یہ سماعت فرما کر حضورِانور نے تبصرہ فرمایا کہ تو بتانا تھا کہ جس طرح مَیں نے کمایا ہے تم لوگ بھی اس طرح کام کرو گے تو کما لو گے۔ جس پر انہوں نے عرض کیا کہ وہ ایسا ہی کرتے ہیں اور جتنا علم ہے، اس کے مطابق راہنمائی فراہم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
مزید برآں حضورِانور نے امورِ عامہ کا دائرہ کار صرف تنازعات تک محدود نہ رکھنے کی بابت توجہ دلاتے ہوئے تلقین فرمائی کہ صرف جھگڑوں میں نہ پڑا کریں، لوگوں کو اعتماد میں لیں اور سیکرٹری امورِ عامہ کا یہ بھی کام ہے کہ آپ لوگ ان سے ذاتی رابطہ رکھیں تاکہ وہ آپ کی بات مانیں۔ اسی طرح حضورِانور نےتاکید فرمائی کہ نئے آنے والوں کی آبادکاری، جائز روزگار، تربیت اور کیریئر کی راہنمائی بھی آپ کے کام میں شامل ہے۔
سیکرٹری ضیافت اور اسسٹنٹ جنرل سیکرٹری برائے آئی ٹی کو بھی اپنا تعارف پیش کرنے کا موقع ملا۔
سیکرٹری وصایا نے عرض کیا کہ موصیان کی کُل تعداد۱۸۰؍ ہے۔ اس پرحضورِانور نے یاددہانی کروائی کہ اصل ہدف یہ ہے کہ کمانے والوں میں سے کم از کم پچاس فیصد کو نظامِ وصیت کے بابرکت نظام میں شامل کیا جائے۔
سیکرٹری تعلیم القرآن و وقفِ عارضی نے عرض کیا کہ گذشتہ سال وقفِ عارضی میں حصّہ لینے والوں کی تعداد چار تھی۔ اس پر حضورِانور نے عاملہ کو بھی وقفِ عارضی کرنے کی تاکید فرمائی۔
سیکرٹری وقفِ جدید اور ایڈیشنل سیکرٹری تربیت برائے نَومبائعین کو بھی یہ سعادت ملی کہ وہ حضورِانور کی خدمتِ اقدس میں اپنا تعارف پیش کریں۔ ایڈیشنل سیکرٹری تربیت برائے نَو مبائعین نے عرض کیا کہ ایک نَو مبائع جو کہ ریٹائرڈ کینیڈین پروفیسرہیں، وہ مالی قربانی میں بھی بھرپور حصّہ لے رہے ہیں اور ساتھ ہی اسلام احمدیت کے بارے میں اپنے علم میں بھی اضافہ کر رہے ہیں۔
بعدازاں سیکرٹری جائیداد، قائد مجلس، سیکرٹری وقفِ نَو، مقامی محاسب اور امین کو بھی اپنا تعارف پیش کرنے کا موقع ملا۔
سیکرٹری زراعت نے دورانِ تعارف عرض کیا کہ وہ خود بھی پھول پودے لگاتے ہیں اور احباب کو بھی گھر میں پھول، پودے اور سبزیاں لگانے کی ترغیب دیتے ہیں۔ اس پر حضورِانور نے ہدایت فرمائی کہ وہ احبابِ جماعت کے ہاں باقاعدگی سے جایا کریں اور شجرکاری کے حوالے سے انہیں راہنمائی فراہم کیا کریں۔
سیکرٹری مال سے حضورِانور نے دریافت فرمایا کہ جو احباب چندہ ادا کر رہے ہیں کیا وہ سب مقررہ شرح کے مطابق ادا کرتے ہیں یا بعض رعایت کے تحت کم شرح پر ادائیگی کر رہے ہیں؟ اس پر سیکرٹری مال نے عرض کیا کہ بعض احباب رعایتی شرح کے مطابق چندہ ادا کر رہے ہیں۔ جس پرحضورِانور نےمزید دریافت فرمایا کہ آیا یہ رعایت کھل کے یا چھپ کے لی ہوئی ہے؟ اس پر انہوں نے عرض کیا کہ بعض احباب بغیر باقاعدہ اجازت کے ایسا کر رہے ہیں۔ اس پر حضورِانور نے کسی بھی قسم کی رعایت صرف اجازت کے ساتھ مشروط قرار دیتے ہوئے اس سارے عمل کو باقاعدہ اور منظّم طریقے سے انجام دیے جانے کی بابت ہدایت فرمائی آپ کو پتا ہے کہ اتنی آمد ہے، لیکن وہ کم دیتے ہیںتو ان سے کہیں کہ تم ویسے باقاعدہ اس کو سٹریم لائن کر لو اور اجازت لے لو۔
حضورِانور نے عمومی طور پر پائے جانے والے طرزِ عمل کی بابت اس اَمر کی بھی وضاحت فرمائی کہ آپ جو دوسری تحریکات میں چندہ لیتے رہتے ہیں کہ ہاں! اس نے لازمی چندہ نہیں دیاتو اس سے چندہ وقفِ جدید زیادہ لے لو، یاتحریکِ جدید کا لے لو، مسجد فنڈ کا زیادہ لے لو یا فلاں پروجیکٹ شروع کرنا ہےتو اس میں لے لو۔ تو وہ لوگ کہتے ہیں کہ چلو !ہم نے وہاں دے دیاتوتمہیں کیا دینا ہے۔ وہاں تو ہمارا نام آ جائے گا لیکن یہاں تو نہیں آئے گا۔
اس پسِ منظر میں حضور انور نے توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ ان کو realiseکروائیں کہ اصل چیز یہ ہے اگر چندہ عام اور چندہ وصیت صحیح طرح ادا ہو رہا ہے تو باقی تحریکات کی ضرورت ہی نہیں پڑتی۔اسی سے فنڈز پورے ہو جاتے ہیں۔
ملاقات کے اختتام پر مذکورہ جماعتوں کے اراکینِ عاملہ کو اپنے محبوب آقا کے ساتھ الگ الگ گروپ فوٹوز بنوانے اور آپ کے دستِ مبارک سے قلم بطورِ تبرک حاصل کرنے کی سعادت بھی نصیب ہوئی۔
آخر پر حضورِانور نے قیام و طعام کے انتظامات کے بارے میں بھی مختصراً دریافت فرمایا۔
الغرض یہ روح پرور نشست حضورِانور کے دعائیہ کلمات السلام علیکم پر اختتام پذیر ہوئی۔
٭…٭…٭




