امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ کینیڈا سے تعلق رکھنے والے نَو مبائعین کے ایک وفد کی ملاقات
آپ میں احمدیت صرف argument کی حدّ تک نہیں ہونی چاہیے، بلکہ ایک ایسیpractice ہونی چاہیے کہ جس نے آپ کے اندر changeپیداکی ہے، اور وہ جب آپ لوگوں کو دکھائیں گے، تو وہ پھر لوگوں کو attract بھی کرے گی
مورخہ ۲؍ فروری ۲۰۲۶ء، بروزسوموار، امام جماعت احمدیہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ کینیڈا سے تعلق رکھنے والے نَو مبائعین کے تیرہ(۱۳) رکنی وفد کو بالمشافہ شرفِ ملاقات حاصل ہوا۔ یہ ملاقات اسلام آباد (ٹِلفورڈ) میں واقع ایم ٹی اے سٹوڈیوز میں منعقد ہوئی۔ مذکورہ وفد نے خصوصی طور پر اس ملاقات میں شرکت کی غرض سے کینیڈاسے برطانیہ کا سفر اختیار کیا۔
جب حضورِانور مجلس میں رونق افروز ہوئے تو آپ نےتمام شاملینِ مجلس کو السلام علیکم کا تحفہ عنایت فرمایا۔
ملاقات کے آغاز میں حضورِانور نے نیشنل سیکرٹری تربیت نَو مبائعین کو وفد کا تعارف کروانے کی ہدایت فرمائی۔ چنانچہ انہوں نے عرض کیا کہ یہ وفد کینیڈا سے تعلق رکھنے والے نَو مبائعین پر مشتمل ہے۔
بعد ازاں تمام شرکائے مجلس کو حضورِانور کی خدمتِ اقدس میں فرداً فرداً اپنا تعارف پیش کرنےاور بیش قیمت راہنمائی حاصل کرنے کا موقع بھی ملا۔
سب سے پہلےاوٹاوا سے تعلق رکھنے والے ایک نَو مبائع نے عرض کیا کہ انہیں ۲۰۲۴ء میں قبولِ احمدیت کی توفیق ملی اور اس وقت وہ اپنی مقامی مجلس میں بطور ناظم صحتِ جسمانی خدمت کر رہے ہیں۔ وہ پہلے agnosticتھے، لیکن مقصدِ زندگی کی تلاش میں سرگرداں تھے، نیز اپنے مخلوط خاندانی پسِ منظر کا حوالہ دیتے ہوئے بیان کیا کہ ان کی والدہ چینی اور والد ویتنامی ہیں۔
حضورِانور کے استفسار پر انہوں نےعرض کیا کہ وہ قرآنِ کریم کا انگریزی ترجمہ بارھویں پارے تک پڑھ چکے ہیں، اس پر حضورِانور نے انہیں قرآنِ کریم ناظرہ سیکھنے کی بھی تلقین فرمائی۔

جب حضورِانور نے دریافت فرمایا کہ کیا انہوں نے سورۃ الفاتحہ زبانی یاد کر لی ہے تو انہوں نے عرض کیا کہ انہیں اس کا انگریزی ترجمہ تو آتا ہےمگر عربی ابھی تک یاد نہیں کی۔ اس پر حضورِانور نے سورۃ الفاتحہ عربی میں حفظ کرنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے فرمایا کہ یہ روزانہ نماز کی ہر رکعت میں پڑھی جاتی ہے۔ نیز توجہ دلائی کہ چونکہ وہ تقریباً دو سال قبل احمدیت میں داخل ہوئےتھے، اس لیے اب تک کم ازکم سورۃ الفاتحہ تو یاد ہو جانی چاہیے تھی، نیز فرمایا کہ اگر انسان توجہ اور لگن سے کوشش کرے تو ایک ہفتے کے اندر اسے حفظ کیا جاسکتا ہے۔
اس کے بعد ٹورانٹو سے تعلق رکھنے والے ایک نَو مبائع نے اپنا تعارف پیش کرتے ہوئے عرض کیا کہ وہ دراصل پنجاب( بھارت) سے تعلق رکھتے ہیں اور وہ ہندو تھے تاہم ان کی پرورش ایک ایسے گاؤں میں ہوئی جہاں سکھ مذہب کی پیروی کی جاتی تھی۔ وہ ۲۰۱۹ء میں کمپیوٹر سائنس کے طالبِ علم کے طور پر کینیڈا آئے۔
موصوف نےعرض کیا کہ احمدیت قبول کرنے کے بعد میری فیملی نے مجھ سے بات کرنی بند کر دی ہےتو مَیں آپ سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ اس صورتحال سے کیسے نبردآزما ہوں؟
اس پر حضورِانور نے دلنشین اور خوبصورت اسلامی تعلیم کی روشنی میں راہنمائی عطا فرمائی کہ ان کےلیے دعا کرو۔ ان سے ملتے رہو اورتم ان کو اپنے اچھے اخلاق دکھاؤ۔ان سے کہو کہ مَیں نے جو اسلام قبول کیا ہے تو اسلامک ٹیچنگ یہ ہے کہ مَیں اچھے اخلاق دکھاؤں اور قرآنِ کریم کہتا ہے کہ ماں باپ کے سامنے اُفّ تک نہ کہو، سوائے اس کے کہ وہ تمہیں کہیں کہ شرک کرو، تو مذہب کے علاوہ ہر بات مَیں آپ کی مانوں گا۔ آپ کا اطاعت گزار ہوں، آپ کا بیٹا ہوں اور آپ کی خدمت کروں گا۔ اور میری طرف سے آپ کو کوئی تکلیف نہیں ہو گی، آپ چاہےجو مرضی مجھے تکلیف دیتے رہیں، کوئی مسئلہ نہیں۔
اونٹاریو کے شہر ونڈسر سے تعلق رکھنے والے ایک نَومبائع نے عرض کیا کہ انہوں نے تین سال قبل احمدیت قبول کی تھی۔ وہ پہلے agnostic تھے تاہم اسلام کے منظّم طریقِ عبادات، خاص طور پر روزہ اور نماز نے انہیں متوجہ کیا۔ حضورِانور نے دریافت فرمایا کہ آیا وہ پانچ وقت کی نمازیں ادا کرتے ہیں، جس پر انہوں نے اثبات میں جواب دیتے ہوئے عرض کیا کہ وہ نمازِ فجر کے لیے مسجد بھی جاتے ہیں۔ مزید برآں حضورِانور نے یہ معلوم ہونے پر اظہارِ خوشنودی فرمایا کہ انہوں نے سورۃ الفاتحہ سیکھ لی ہے۔
گیانا سے تعلق رکھنے والے ایک نَو مبائع نے عرض کیا کہ انہیں ۲۰۲۳ء میں احمدیت قبول کرنے کی سعادت حاصل ہوئی۔ جس پرحضورِانور نے انہیں نصیحت فرمائی کہ وہ دین کے بارے میں مزید علم حاصل کرنے پر توجہ مرکوز کریں۔
خصوصی ضروریات کے مالک بچوں کے ساتھ کام کرنے والے ایک نَو مبائع نے عرض کیا کہ انہوں نے ۲۰۲۳ءمیں احمدیت قبول کی تھی۔ان کی پرورش عیسائی ماحول میں ہوئی اور انہوں نے بشمول عبرانی بائبل کی زبانیں سیکھی ہیں۔وہ اس وقت جماعتی لٹریچر کی کتاب نمبر ۲۵ کا مطالعہ کر رہے ہیں اور اس سے قبل وہ Introduction to the Study of the Holy Quran پڑھ چکے ہیں۔ حضورِانور نے ان کے علم اور مطالعے کو سراہا۔ انہوں نے حضورِانور کی خدمتِ اقدس میں یہ بھی عرض کیا کہ انہیں پہلے نقل و حرکت سے متعلق مسائل درپیش تھے، تاہم اب وہ مکمل صحت یاب ہو چکے ہیں۔ آخر میں حضورِانور نے انہیں نصیحت فرمائی کہ وہ عیسائیوں اور مسلمانوں دونوں میں تبلیغ کا سلسلہ جاری رکھیں۔ اسلام کی حقیقی تعلیمات کو واضح کریں اور جہاد کی غیر اسلامی تشریحات کا علمی اور مدلّل ردّ پیش کریں۔
ٹرینیڈاڈ سے تعلق رکھنے والے ایک نَو مبائع نے عرض کیا کہ جب وہ تین سال کے تھے تو ان کےوالد احمدیت قبول کر چکے تھے۔ اس پر حضورِ انورنے نصیحت فرمائی کہ والدین کے ذریعے ایمان کی دولت سے فیضیاب ہونے کے باوجود ذاتی طور پر دین کے بارے میں علم حاصل کرنا ضروری ہے تاکہ روحانی ترقی جاری رہے۔
دس سال قبل احمدیت قبول کرنے والے ایک نَو مبائع نے باسکٹ بال کھیلتے ہوئے ماضی میں گھٹنے کی لگنے والی ایک چوٹ کا ذکر کیا، تو حضورِ انورنے انتہائی شفقت کے ساتھ ان کی صحت اور شفایابی کے بارے میں دریافت فرمایا۔
مزید برآں دورانِ ملاقات شاملینِ مجلس کو حضور انور کی خدمت میں متفرق سوالات پیش کرنے نیز ان کے جواب کی روشنی میں حضورانور کی زبانِ مبارک سے نہایت پُرمعارف، بصیرت افروز اور قیمتی نصائح پر مشتمل راہنمائی حاصل کرنے کی سعادت بھی نصیب ہوئی۔
ایک شریکِ مجلس نے عرض کیا کہ ہم مشاہدہ کرتے ہیں کہ بعض لوگ بنیادی طور پر نکاح کے مقصد سے احمدیت قبول کرتے ہیں اور بعد میں جماعت سے دُور ہو جاتے ہیں۔ جب ہم ان سے رابطہ کرنے کی کوشش کرتے ہیںتو بعض اوقات ان کے شریکِ حیات ہم سے کہتے ہیں کہ ہم ان سے رابطہ نہ کریں۔ نیز اس سلسلے میں راہنمائی کی درخواست کی کہ جماعت نَو مبائعین کی بہتر معاونت، راہنمائی اور تحفظ کے لیے کیا اقدامات کر سکتی ہے؟
اس پر حضورِانور نے سوال کے نفسِ مضمون کی روشنی میں مذکورہ سوچ پائے جانے کے حوالے سے تربیتی فقدان کی نشاندہی فرمائی کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ خود یعنی شریکِ حیات بھی جماعت سے دُور ہیں، وہ بھی جماعت میں زیادہ فعّال نہیں ہیں، اسی لیے وہ یہ بات کہتے ہیں۔ ورنہ اگر کوئی احمدی مرد یا عورت پکا اور مضبوط احمدی ہواور جماعت کے ساتھ رابطے میں ہو تو وہ کبھی یہ بات نہیں کہہ سکتا کہ آپ ہمارے شریکِ حیات سے رابطہ نہ کریں اورانہیں تربیت کے مقصد سے، ان کی تربیت کرنے کےلیے یا تبلیغ کے لیے یا ان سے یہ کہنے کے لیے اپنی دینی معلومات میں اضافہ کریں، رابطہ کرنے کی ضرورت نہیں۔
اسی تناظر میں حضورِانور نے مضبوط دوستی اور تعلقات کے ذریعے مؤثر رابطہ قائم کرنے کی حکمتِ عملی اختیار کرنے کی جانب بھی توجہ مبذول کروائی کہ بس ایک احمدی دوست کے طور پر ان سے رابطہ کریں۔ اور اس طرح آپ لوگوں کے ساتھ اپنا تعلق بڑھا سکتے ہیں، اس شخص کے ساتھ اپنا رابطہ بڑھا سکتے ہیں اور اس کے ساتھ اپنی دوستی کو مضبوط کر سکتے ہیں۔ پھر کچھ عرصے کے بعد وہ یہ محسوس کریں گے کہ اب جماعت احمدیہ مجھ سے صرف میرے مذہب کی وجہ سے یا اپنی تعداد بڑھانے کے لیے رابطہ نہیں کر رہی، بلکہ میرے اپنے فائدے اور میری اپنی بہتری کے لیے رابطہ کر رہی ہے۔ جب دوستی کا رشتہ مضبوط ہو جاتا ہے تو پھر وہ آپ کی بات سنیں گے، اس میں وقت لگے گا اور یہ ایک طویل عمل ہے۔
جواب کے آخر میں حضورِانور نے کوشش کو جاری رکھتے ہوئے ہار نہ ماننے اور ثابت قدم رہنے پر زوردیتے ہوئے فرمایا کہ یہ آسان کام نہیں ہے۔ یہ ایک چیلنج ہے۔ اس لیے اس کام کو جاری رکھیں اور انہیں کبھی نہ چھوڑیں۔ ہم وہ لوگ نہیں ہیں کہ جو ہار مان لیتے ہیں۔
ایک سائل نے راہنمائی کی درخواست کی کہ ثقافتی اور مذہبی چیلنجز کو مدّ نظر رکھتے ہوئے نَو مبائعین کو قبول احمدیت کے بارے میں اپنے خاندان کے ساتھ کس طرح بات چیت کرنی چاہیے؟
اس پرحضور ِ انورنےاوّل الذکر نصیحت کا اعادہ فرمایا کہ انہیں خاندان کے افراد کے ساتھ اچھے تعلقات برقرار رکھنے چاہئیں۔ نیزتلقین فرمائی کہ وہ اپنے کردار کے ذریعے عاجزی، شفقت، صبر اور محبّت سے یہ ظاہر کریں کہ اسلام نے انہیں صحیح راستے پر گامزن کیا ہے۔actions speak louder than words اور اس طرح کے مثبت رویے کی تبدیلیوں کا مشاہدہ ان کے رشتہ داروں کے یقین میں بھی اضافے کا باعث بنے گا۔
پولش پس ِمنظر سے تعلق رکھنے والے ایک نَومبائع جن کی پرورش کینیڈا میں ہوئی نے اپنا تعارف پیش کرتے ہوئے عرض کیا کہ وہ اپنے خاندان میں واحد احمدی ہیں، جبکہ ان کی والدہ اور بہن بھائی اب بھی کیتھولک ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ روایتی طور پر کیتھولک خاندان کے افراد کے ساتھ بغیر کسی ٹکراؤ یا کسی کو تکلیف پہنچائے تبلیغ کرنے کا بہترین طریقہ کیا ہے؟
اس پر حضورِانور نے احمدیت قبول کرنے کے بعد بھی خاندان کے ساتھ برابر حسنِ سلوک جاری رکھنے کی تاکید کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ انہیں صرف یہ دکھائیں کہ اگرچہ مَیں نے احمدیت یعنی سچا اسلام قبول کیا ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ مَیں آپ سے رشتہ توڑ لوں۔آپ اب بھی میرے بہن بھائی اور والدہ ہیں۔ لہٰذا ایک خاندان کے فرد کی حیثیت سے ہمیں آپس میں اچھے تعلقات اور مضبوط رشتہ قائم رکھنا چاہیے۔
حضورِانور نے حکمت اور فراست سے کام لیتے ہوئے قبول احمدیت کے پسِ منظر پر روشنی ڈالنے کی تلقین فرمائی کہ بعض اوقات جب مناسب وقت ہو، جب سب لوگ دوستانہ ماحول میں بیٹھے ہوں تو آپ ان سے کہہ سکتے ہیں کہ آپ مجھ سے یہ کیوں نہیں پوچھتے کہ مَیں نے احمدیت یا اسلام کیوں قبول کیا؟ کیونکہ آجکل اسلام کا نام ہر جگہ بہت بدنام کیا جا رہا ہے اور لوگ اسے پسند نہیں کرتے تو پھر آپ انہیں بتائیں کہ مَیں نے احمدیت کیوں قبول کی۔
مزید برآں حضورِانور نے دینی علم میں اضافے کے ساتھ ساتھ جماعتی عقائد کی روشنی میں مؤثر گفتگو کرنے کی بابت عملی راہنمائی عطا فرمائی کہ اس طرح اگر وہ آپ سے مزید سوال کریں تو ان کے سوالات کا جواب دیں، اور اپنے دینی علم میں اضافہ کریں۔ انہیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں بتائیں کہ ہم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں کیا ایمان رکھتے ہیں، حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت مریم علیہا السلام کے بارے میں ہمارا عقیدہ کیا ہے اور عیسائیت، یہودیت اور دیگر تمام مذاہب کے بارے میں ہمارا کیا موقف ہے۔ اور اس طرح وقتاً فوقتاً جب بھی بات کرنے کا موقع ملے توآپ اس انداز میں ان سے گفتگو کر سکتے ہیں۔
جواب کے آخر میں حضورِانور نے اس بات پر زور دیا کہ جیسا کہ مَیں نے کہا کہ یہ ایک طویل عمل ہے، لیکن کبھی بھی ان سے اپنا رشتہ نہ توڑیں۔ صبر سے کام لیں، ان کے ساتھ نرمی اورشفقت کا سلوک کریں، توپھر سب ٹھیک ہو جائے گا۔
ایک شریکِ مجلس نے عرض کیا کہ ان کی بدولت ان کے بھائی نے احمدیت قبول کی اور ان کاکزن بھی احمدیت قبول کر چکا ہے، نیز سوال کیا کہ بطور ایک نَو مبائع وہ کس طرح اللہ تعالیٰ کے پیغام کو احسن رنگ میں پھیلا سکتے ہیں؟
اس پر حضورِانور نے اللہ تعالیٰ کے پیغام کو احسن رنگ میں پھیلانے کے سلسلے میں عملی کردار کی اہمیت پر مبنی مختصر مگر گہری نصیحت فرمائی کہ اپنے عمل سے ایسا کریں۔ حضورِانور نے گذشتہ سوال کے جواب میں فرمودہ تاکید کا اعادہ فرمایا کہ جس طرح مَیں نے ان کو بتایا ہے کہ احمدی ہو کر اگر اچھے اخلاق نہیں ہیں، ا گر اللہ کے بندوں کے حق ادا نہیں کر رہے، صرف نماز پڑھ کے سمجھتے ہو کہ مَیں نے اللہ کا حق ادا کر دیا تو اس کا کوئی فائدہ نہیں۔
اسی طرح حضورِانور نے حقوق الله اور حقوق العباد کی ادائیگی کی اہمیت کو اُجاگر کرتے ہوئے بیان فرمایاکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ میرے ماننے والوں کو دو حق ادا کرنے بہت ضروری ہیں۔ نمبر ایک: خدا تعالیٰ کا حق۔یعنی اس کی عبادت کرنا اور اس کی ہر بات ماننااور اس کی سب باتیں قرآنِ کریم میں لکھی ہوئی ہیں اور بےشمار ہدایتیں ہیں۔ نمبر دو: بندوں کے حق ادا کرنا۔ چاہے وہ کوئی ہو۔ قرآن ِشریف تو کہتا ہے کہ تمہارا دشمن بھی تمہیں انصاف کرنے سے نہ روکے، اس لیے دشمن کا بھی حق ادا کرنا ہے۔ نیز اس بات پر زور دیا کہ تو آپ یہ حق ادا کریں گےتو لوگ آپ کی تعریف کریں گے، آپ کی بات سنیں گے اور اس طرح آپ پھر اپنا پیغام آہستہ آہستہ پہنچا سکتے ہیں۔ یہی طریقہ ہے۔
حضورِانور نے عصرِ حاضر کے تقاضوں کے تحت محض دلیلوں کو ناکافی قرار دیتے ہوئے ان کی محدود افادیت پر روشنی ڈالی کہ دلیلیں دینے سے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر نہیں گئے یا اسلام سچا مذہب ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں اور اس زمانے میں مسیح موعود علیہ السلام آ گئے۔ یہ چیزیں علیحدہ ہیں، ان سے آجکل لوگ indifferent ہیں، ان کو کوئی فرق نہیں پڑتا کہ عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں یا فوت ہو گئے۔ ان کو کوئی فرق نہیں پڑتا کہ عیسیٰ علیہ السلام نے دوبارہ آنا ہے کہ نہیں۔above 80% جو کرسچن آبادی ہے، majority ہے، وہ practicing Christians نہیں رہے۔ افریقہ میں کچھ لوگ رہ گئے، ساؤتھ امریکہ میں رہ گئے یا کچھ علاقوں میں رہ گئے۔ یورپ اور امریکہ میں تو کوئی ایسے practicingنہیں ہیں۔ اسی طرح ہندو اور سکھ ہیں۔ ان کی صرف traditions رہ گئی ہیں، مذہب تو رہا نہیں، اس سے تو کوئی ہرج نہیں ہوتا۔
پھر حضورِانور نے عملی تبلیغ اور عمدہ اخلاق کے ذریعے پیغام کے مؤثر پھیلاؤ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے فرمایا کہ اس لیے جب انسان دوسرے کے اچھے اخلاق دیکھتا ہے، تو پھر آپ کا میسج سننے کی کوشش کرتا ہے اور وہ میسج پھر آپ spread کریں گے تو لوگوں میں پھیلے گا۔ اس لیے اپنے عمل سے تبلیغ کرو۔ آپ میں احمدیت صرف argument کی حدّ تک نہیں ہونی چاہیے، بلکہ ایک ایسیpractice ہونی چاہیے کہ جس نے آپ کے اندر changeپیداکی ہے، اور وہ جب آپ لوگوں کو دکھائیں گے، تو وہ پھر لوگوں کو attract بھی کرے گی۔
جواب کے آخر میں حضورِانور نے اس اَمر کا اعادہ فرمایا کہ practicing مسلمان بنو۔اور وہ یہ ہے کہ اللہ کی عبادت اور بندوں کے حق ادا کرو توپھر میسج spread ہو گا۔
ایک نَو مبائع نے حضورِانور کی خدمتِ اقدس میں عرض کیا کہ میرے تمام گھر والوں میں سے جنہیں یہ معلوم ہوا ہے کہ مَیں مسلمان ہوگیا ہوں، تو میری والدہ نے اسلام کے متعلق سیکھنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے، لیکن چونکہ مَیں خود ابھی سیکھنے اور سمجھنے کے عمل سے گزر رہا ہوں، اس لیے آپ مجھے کیا نصیحت فرما سکتے ہیں کہ جس سے مَیں ان کی راہنمائی کرنے میں مدد کر سکوں؟
اس پرحضورِانور نے اسلامی تعلیم کے خلاصے کی روشنی میں عملی راہنمائی عطا فرمائی کہ آپ میرے خطبات اور مختلف خطابات سنتے رہے ہیں، تو آپ اپنی والدہ کو بتا سکتے ہیں کہ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ ہمیں اپنے خالقِ حقیقی یعنی اللہ تعالیٰ کے تمام حقوق ادا کرنے چاہئیں اور ہمیں بنی نوع انسان کے بھی تمام حقوق ادا کرنے چاہئیں اور یہی اسلام کی تعلیم کا لبّ لباب اور خلاصہ ہے۔ تو اس طرح آپ اپنی والدہ یا اپنے دوستوں کے ساتھ گفتگو کا آغاز کر سکتے ہیں۔
حضورِانور نے اعلیٰ عملی کردار کے ذریعے دوسروں پر نیک اثر مرتّب کرنے کی بابت توجہ دلائی کہ اگر وہ آپ میں کوئی تبدیلی دیکھیں گے تو ظاہر ہے وہ کہیں گے کہ آپ نے ایک اچھا مذہب اختیار کیا ہے۔اور اگر وہ دیکھیں کہ آپ اب بھی ویسے ہی ہیں یعنی آپ ظلم کرتے ہیں، غصّہ دکھاتے ہیں، آپ میں صبر نہیں ہے، آپ نرم دل نہیں ہیں اور اپنے رشتہ داروں والدین اور بہن بھائیوں کے ساتھ محبّت سے پیش نہیں آتےتو وہ کہیں گے کہ اس مذہب نے آپ میں کیا تبدیلی پیدا کی ہے؟پھر آپ کو قبول کرنے کے بجائے وہ آپ سے دُوری اختیار کر لیں گے۔
جواب کے آخر میں حضورِانور نے اچھے نتائج کے حصول کی بابت اس بات کی اہمیت کو اُجاگر فرمایا کہ انسان کا عمل، فعل اور اللہ تعالیٰ سے دعا ہونی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ آپ کے اپنے اعمال میں اور آپ کی تبلیغی مساعی میں بھی آپ کی مدد فرمائے، تو اس طرح سے آپ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کریں گے اور جب اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ہو گا، تو پھر آپ کو اچھے نتائج بھی حاصل ہوں گے۔
ایک نَو مبائع نے سوال کیا کہ نماز اور قرآن پڑھنے کے علاوہ وہ کون سے دوسرے طریقے ہیں کہ جن سے ہم روحانی طور پر ترقی کر سکتے ہیں اور اللہ کے ساتھ مضبوط تعلق پید اکر سکتے ہیں؟
اس پرحضورِانور نے ہمہ وقت الله تعالیٰ کی نگرانی کے شعور کا احساس بیدار کرنے کے ضمن میں فرمایا کہ آپ کو اپنے ہر قول و فعل میں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ مجھے دیکھ رہا ہے۔ مجھے کوئی غلط کام نہیں کرنا چاہیے۔
اسی حوالے سے حضورِانور نے عبادت کے ساتھ ساتھ مسلسل اعمالِ صالحہ بجا لانے کی ضرورت کی جانب توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ مَیں اللہ تعالیٰ کی محبّت پانے کے لیے نماز پڑھ رہا ہوں اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہوں کہ اس نے مجھے اسلام اور احمدیت قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائی جو کہ دینِ حق ہے اور اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ میری روحانیت اور علم میں بھی اضافہ فرمائے تو اس کےلیے آپ کو احمدیت کا لٹریچر پڑھنا پڑے گا۔لیکن اصل بات یہ ہے کہ اگر نماز پڑھنے کے بعد اور قرآن پڑھنے کے بعد آپ بُرے کاموں میں ملوث ہو جائیںتو پھر اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ آپ نے پھر اپنی تمام نمازیں اور سب نیک اعمال ضائع کر دیے۔ اس لیےنمازوں کے بعد بھی آپ کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ مجھے دیکھ رہا ہے اور مجھے نیک اعمال بجا لانے چاہئیں۔ سُبْحَانَ اللّٰه، اَلْحَمْدُلِلّٰه، اَسْتَغْفِرُ اللّٰه پڑھ کر اللہ تعالیٰ سے دعا کریں۔
حضورِانور نے الله تعالیٰ کے ساتھ ایک بہتر تعلق پیدا کرنے کے حوالے سے ضروری اُمور کی بابت یاد دلایا کہ جیسا کہ مَیں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ اگر آپ وہ دعائیں پڑھیں، جن کی مَیں نے تحریک کی تھی یعنی روزانہ کم از کم دو سو(۲۰۰) مرتبہ درود شریف پڑھیں، سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ سُبْحَانَ اللّٰہِ الْعَظِيْمِ، پھر کم ازکم سو(۱۰۰)مرتبہ اِستغفار پڑھیں اور کچھ دوسری دعائیں بھی ہیں، تو آپ کے ذہن میں ہمیشہ یہ بات رہے گی کہ آپ ایک سچے مسلمان ہیں اور آپ اللہ کی مدد کے بغیر کچھ نہیں کر سکتے۔اور اللہ کی خوشنودی اور اس کی محبّت حاصل کرنے کے لیے آپ کو نیک اعمال بجا لانے ہوں گے۔ تو یہ وہ اُمور ہیں کہ جن سے آپ کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایک بہتر تعلق پیدا ہو گا۔
شرکائے مجلس میں سے ایک خادم نے دریافت کیا کہ اسے گھر والوں، کام، پڑھائی، جماعتی ذمہ داریوں اور وسیع پیمانے پر معاشرتی ذمہ داریوں کے درمیان کیسے توازن پیدا کرنا چاہیے؟
اس پرحضورِانور نے عائلی زندگی کی اہمیت کو اُجاگر فرماتے ہوئے توجہ دلائی کہ آپ کی ازدواجی زندگی میں آپ کو اپنے وہ حقوق ادا کرنے ہیں کہ جو آپ پر واجب ہیں۔ اگر آپ ملازمت کر رہے ہیںتو آپ دن میں چھ یا آٹھ گھنٹے کام کرتے ہیں اور ہفتہ اور اتوار کے روز آپ کو دو دن کی چھٹی ملتی ہے۔ اس پر خادم نے عرض کیا کہ وہ زیادہ تر ساتوں دن کام کرتے ہیں۔یہ سماعت فرماکرحضورِانور نے توجہ دلائی کہ آپ کو پھر بھی اپنے والدین، بیوی اور بچوں کو وقت دینا ہو گا۔ انہیں آپ کی ضرورت ہے۔ انہیں آپ کی مدد اور رفاقت کی ضرورت ہے۔ اور اس طرح آپ اپنے بچوں اور اپنی بیوی کے ساتھ وقت گزار سکتے ہیں اور یہی عائلی زندگی ہے۔
اسی مناسبت سے حضورِانور نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک اُسوۂ حسنہ کی روشنی میں عبادت، عائلی زندگی اور دیگر فرائضِ منصبی کی انجام دہی میں پائے جانے والے کامل توازن کی مثال پیش کرتے ہوئے بیان فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کئی بیویاں تھیں۔ایک وقت میں نَو بیویاں تھیں اور آپؐ ہر بیوی اور خاندان کے فرد کے حقوق ادا فرماتے تھے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ آپؐ مسلمانوں کو تعلیم بھی دیتے تھے۔ اسی طرح جب بھی آپ پر قرآنِ کریم کی آیات کی صورت میں کوئی وحی نازل ہوتی تو آپ کاتبِ وحی کو بُلا کر اسے لکھنے کےلیےکہتےیہاں تک کہ مَیں نے اپنے حالیہ خطبے میں بھی وضاحت کی تھی کہ آپؐ کس قدر مصروف تھے اور اس سب کے باوجود آپؐ اپنی نماز ادا فرماتے تھے، نمازِ تہجد ادا فرماتے تھے اور دیگر تمام کام سر انجام دے رہے ہوتے تھے۔
جواب کے آخر میں حضورِانور نے یاد دلایا کہ اگر آپ میرے خطبات غور سے سن رہے ہوںتو آپ ان سے سیکھ سکتے ہیں کہ جب مَیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت و سوانح بیان کروںتو یاد رکھیں کہ وہ ہمارے لیےاُسوۂ حسنہ ہے اورہمیں اس کے مطابق عمل کرنا چاہیے۔
مستقبل میں مکینیکل انجینئر بننے کے خواہش مند ایک نَومبائع نے سوال کیا کہ نوجوان کس طرح اپنے شوق سے ہم آہنگ ایک ایسے کیریئر کا انتخاب کر سکتے ہیں کہ جس کے ساتھ انسانیت کی خدمت بھی سرانجام دی جا سکے؟
اس پر حضورِانور نے خادم کو مکینیکل انجینئرنگ میں اپنی دلچسپی کو مزید آگے بڑھانے کی ترغیب دلاتے ہوئے فرمایا کہ اس نوعیت کی مہارت حاصل کرنے سے وہ انٹرنیشنل ایسوسی ایشن آف احمدی آرکیٹیکٹس اینڈ انجینئرز (IAAAE) یا غریب ممالک میں وقفِ عارضی کے ذریعے انسانیت کی خدمت کر سکتا ہے۔ حضورِانور نے مزید فرمایا کہ اگر آپ کا ذہن تخلیقی اور زرخیز ہو تو آپ ایسی ٹیکنالوجیز ایجاد کر سکتے ہیں کہ جو انسانیت کے لیے مفید ہوں، اور یہ بھی جماعت کی خدمت ہی شمار ہوگی۔
تینتیس سالہ ایک اکاؤنٹنٹ نے اس حوالے سے راہنمائی کی درخواست کی کہ آیا کُل وقتی جماعتی خدمت وقفِ زندگی کے لیے درخواست دینا یا اپنی ملازمت جاری رکھتے ہوئے فارغ اوقات میں تبلیغ کرنا بہتر ہے؟
اس پرحضورِانور نے ہدایت فرمائی کہ وہ اپنی ملازمت اور کاروبار کو جاری رکھیں اور ساتھ ہی تبلیغ کے لیے وقت نکالتے رہیں۔ حضورِانور نے توجہ دلائی کہ اس عمر میںجبکہ انسان تجربہ اور پختگی حاصل کر چکا ہوتا ہے کُل وقتی وقفِ زندگی کی پابندیوں کے ساتھ خود کو ہم آہنگ کرنا بعض اوقات مشکل ہو سکتا ہے۔ اس لیے حضورِانور نے یہ راہنمائی فرمائی کہ وہ باقاعدہ وقفِ زندگی کی ذمہ داریوں میں خود کو مقید کرنے کے بجائے جب بھی موقع اور وقت میسر ہوتبلیغی سرگرمیوں میں باقاعدگی سے حصہ لیتے رہیں۔
ملاقات کے اختتام پر تمام شرکائے مجلس کو اپنے محبوب آقا کے ساتھ گروپ فوٹو بنوانے اور آپ کے دستِ مبارک سے قلم بطورتبرک حاصل کرنے کی سعادت بھی نصیب ہوئی۔
بعد ازاں حضورِانور نے شاملینِ مجلس سے سفر اور قیام و طعام کے انتظامات کی بابت بھی دریافت فرمایا۔
مزید برآں آخر میں حضورِانور نے ایک شریکِ مجلس نَومبائع سے دریافت فرمایا کہ آپ خوش ہیں؟ اس پر نَو مبائع نے اثبات میں میں جواب دیتے ہوئے کامل بشاشت سےعرض کیا کہ جی حضور! مَیں بے حدّ خوش ہوں کہ اُنیس برس تک اسلام کا مطالعہ کرنے کے بعد مجھے خلافت جیسی عظیم نعمت نصیب ہوئی ہے۔یہ سماعت فرما کر حضورِانور نے نہایت پُرشفقت اور محبّت بھرے انداز میں دعا دی کہ اللہ تعالیٰ فضل فرمائے، آپ کے علم اور ایمان میں اضافہ فرمائے اور آپ کو ایمان پر ثابت قدم رکھے۔
الغرض یہ روح پرور نشست حضورِانور کے دعائیہ کلمات السلام علیکم پر اختتام پذیر ہوئی۔
٭…٭…٭




