احمدیہ جماعت کی قدر وقیمت(قسط اول)
(خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمودہ ۲۹؍ اکتوبر ۱۹۲۶ء)
۱۹۲۶ءمیں بیان فرمودہ اس خطبے میں حضرت مصلح موعودؓ نے مسلمانوں کی ابتر دینی حالت اور پھر اس کے نتیجے میں احمدیوں پر عائد ہونے والی ذمہ داریوں کے فلسفے کو بیان فرمایا۔ قارئین کے استفادے کے لیے اس کا متن شائع کیا جاتا ہے۔(ادارہ)
افسوس کہ اس زمانہ میں اسلام کی یہ حالت ہے کہ گلا گھونٹنے کو خود مسلمان ہی تیا رہیں۔ دنیا کے کاموں کے لئے انہیں فرصت مل سکتی ہے لیکن اگر نہیں فرصت ملتی تو اسلام کے لئے نہیں ملتی اور اس کی خدمت کیلئے نہیں ملتی۔ حالانکہ سچی بات یہ ہے کہ اسلام کے اندر ہر قسم کی خوبیاں ہیں اور اسلام ہی اس لائق ہے کہ اس کی خدمت کی جائے
تشہد، تعوذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
یہ زمانہ ایسی تاریکی اور ایسی ظلمت کا زمانہ ہے کہ اس سے پہلے کبھی دنیا پر ایسی تاریکی کا زمانہ نہیں آیا اور کبھی اس پر ایسی ظلمت طاری نہیں ہوئی جیسے آج اس پر طاری ہے۔ بظاہر یہ زمانہ روشنی اور تعلیم کا زمانہ کہلاتا ہے اور اس زمانہ کے حالات اور خیالات نئی روشنی کے حالات اور خیالات کہلاتے ہیں اور ان حالات و خیالات کے واقف نئی روشنی کے آدمی کہلاتے ہیں۔ لیکن دین کو مدنظر رکھتے ہوئے اور روحانیت کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ بات اچھی طرح معلوم ہو جاتی ہے کہ جس طرح اس زمانہ میں جسے روشنی کا زمانہ کہتے ہیں تاریکی پھیلی ہوئی ہے ایسی کبھی نہیں پھیلی تھی۔ پہلے زمانہ میں جو لوگ جہالت میں پھنسے ہوئے تھے اور تاریکی میں مبتلا تھے اس کی وجہ یہ تھی کہ ہدایت مفقود تھی لیکن دنیا کی رَو ایسی کبھی نہ ہوئی تھی کہ علومِ روحانیہ کا پھیلنا ہی بند ہو جائے۔ اُس زمانہ کے لوگ جہالت میں تو تھے لیکن ہر ایک چیز کی ضرورت محسوس کرتے تھے اور سمجھتے تھے کہ مذہب اور علومِ روحانیہ ضروری شے ہیں۔
یہ حقیقت آج لوگوں میں نہیں۔ ان کے دلوں میں ایسی امنگ ہی نہیں۔
ان کو اس بات کا احساس ہی نہیں کہ مذہب اورعلومِ روحانیہ کا ہماری ترقی کے ساتھ کیا تعلق ہے۔
دنیا کے کاموں کے لئے ان میں تڑپ موجود ہے اور ان کے لئے ایک آگ ان کے اندر ہے۔ اس کے واسطے ان میں جستجو ہے اور ایک شعلہ ان میں ہے جو ان کے اندر سے اٹھ کر سروں تک جا رہا ہے اور وہ ہر وقت اس سے یہ سمجھتے ہیں کہ ایک اَور اونچا مقام ہے جو ابھی ہم نے حاصل کرنا ہے۔ اور جب یہ سب کچھ اسی تڑپ کے ماتحت ہے تو اس کے یہ معنے ہیں کہ گویا و ہ تڑپ ہی ان کو غلط راہ پر لے جارہی ہے۔ اگر
ان میں سے کوئی ذرا اَور آگے بڑھنا چاہتا ہے اور ترقی کرنا چاہتا ہے تو اس کا راستہ وہ یہی سمجھتا ہے کہ ان باتوں میں کوئی تبدیلی پیدا کر لینے سے وہ مقام حاصل کیا جا سکتا ہے اور اس کا خیال مذہب کی طرف آتا ہی نہیں علومِ روحانیت کی طرف اس کی توجہ ہوتی ہی نہیں جو کامیابی کا اصل ذریعہ ہے۔
یہی وجہ ہے کہ مذہب ان کے پاس نہیں ہے اور اگر ہے تو وہ نام کا ہے کام کا نہیں۔ زیادہ سے زیادہ اگر کچھ ان کے پاس ہے تو وہ الفاظ ہیں جن کی ان کے حالات کے مطابق کوئی حقیقت ہی نہیں۔ جسم ہے پر جان نہیں۔
گویا وہ مذہب کے الفاظ کبھی بولتے ہیں تو صرف بولتے ہی ہیں ان پر عمل ان کا ہرگز نہیں۔ اور اس کی وجہ یہی ہے کہ وہ دنیا کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔
آج عیسائی عیسائی نہیں رہے۔ ہندو ہندو نہیں رہے۔ سکھ سکھ نہیں رہے۔ مسلمان مسلمان نہیں رہے۔ جس طرح وہ پہلے عیسائی کہلاتے تھے آج بھی عیسائی کہلاتے ہیں۔ جس طرح وہ پہلے ہندو کہلاتے تھے آج بھی ہندو کہلاتے ہیں۔ جس طرح وہ پہلے سکھ کہلاتے تھے آج بھی سکھ کہلاتے ہیں۔ جس طرح وہ پہلے مسلمان کہلاتے تھے آج بھی مسلمان کہلاتے ہیں۔ مگر ان کی اس حالت میں جو آج سے پہلے تھی اور اس حالت میں جو آج ہے بڑا فرق ہے۔ آج سے پانچ سو سال پہلے جو عیسائی تھے وہ آج نہیں ہیں۔ اسی طرح مسلمان بھی آج ویسے نہیں رہے جیسے آج سے پانچ سو سال پہلے تھے۔ وہ اسلام سے بالکل دور ہو گئے ہیں۔ یہی حال ہندوؤں کا ہے۔ جس طرح پہلے زمانہ میں ہندو ہندو کہلاتے تھے اب بھی وہ ہندو کہلاتے ہیں مگر جیسے وہ آج سے کئی سوسال پہلے ہندو تھے ویسے آج نہیں رہے۔ نام رہ گئے ہیں حقیقت نہیں رہی ۔چغے ہیں پر اندر کچھ نہیں۔ اور یہ ایسی ہی بات ہے کہ انسان کے کپڑے بھیڑیا پہن لے یا بھیڑبھیڑ یا کی کھال اوڑھ لے۔ پس جس طرح بھیڑیا انسان کے کپڑے پہن کر انسان نہیں ہو جاتا اور جس طرح بھیڑ بھیڑئیے کی کھال اوڑھ کر بھیڑیا نہیں بن جاتی ۔اسی طرح ان لوگوں کا حال ہے کہ لباس تو مذہب کا ہے لیکن اندر مذہب سے خالی ہے۔ لیکن جس طرح بھیڑیا انسان کے کپڑے پہن کر انسان کا نام تو ایک رنگ میں پا لیتا ہے مگر انسان بن نہیں جاتا یا جس طرح بھیڑ بھیڑئیے کی کھال اوڑھ کر بھیڑئیے کی مشابہت سے بھیڑیا نام تو پا لیتی ہے مگر درحقیقت وہ ویسی نہیں ہو جاتی اسی طرح ان کا حال ہے کہ صرف کہلاتے ہی ہیں کہ ہم ہندو ہیں، ہم عیسائی ہیں، ہم سکھ ہیں، ہم مسلمان ہیں مگر یہ لوگ صرف ہندو یا سکھ یا عیسائی یا مسلمان نام پا لینے سے وہ سچے ہندو وہ سچے سکھ وہ سچے عیسائی اور وہ سچے مسلمان نہیں بن سکتے جو آج سے پہلے تھے۔
صرف نام رکھ لینے سے کوئی شخص وہ نہیں بن جاتا جس کا کہ وہ نام رکھ لے۔
سب سے زیادہ قابلِ افسوس مسلمانوں کی حالت ہے کہ ہندوؤں اور عیسائیوں سے بڑھ کر وہ اپنے مذہب سے دور ہیں۔
حقیقت کے لحاظ سے تو وہ بھی یعنی ہندو اور عیسائی اور سکھ وغیرہ بھی اپنے اپنے مذہب سے دور ہیں لیکن لگاؤ کے لحاظ سے وہ قریب ہیں۔ ایک عیسائی خواہ دہریہ ہو جائے عیسیٰ کا نام لینے پراسے جوش آجائے گا۔ وہ باوجود اس کے کہ دہریہ ہوگا عیسائیوں کی طرح گرجے میں بھی جاتا ہے۔ اسے یسوع مسیح کی توہین پر غصہ بھی آتا ہے اوران کاموں پر جو حضرت عیسیٰ کی طرف منسوب ہیں اسے جوش بھی پیدا ہوتا ہے۔ مگر مسلمانوں میں یہ بات نہیں۔ ہندوستان میں جتنے وائسرائے اور جتنے گورنر آتے ہیں وہ سب مذہبی رسوم ادا کرتے ہیں اور گرجوں میں جاتے ہیں لیکن مسلمانوں کی یہ حالت نہیں۔ ذرا ان میں کوئی آسودہ حال ہوجائے تو اگر وہ پہلے مسجد میں جاتا تھا تو پھر مسجد میں جانا بھی چھوڑ دیتا ہے۔ اگر وہ پہلے کچھ مذہبی رنگ رکھتا تھا تو پھر اس سے بھی غافل ہو جاتا ہے۔
غرض مسلمانوں کا وہ حال نہیں جو دوسرے مذہب والوں کا اپنے مذہب سے لگاؤ کی وجہ سے ہے۔ ان کی حالت بگڑ گئی ہے ان کے چلن خراب ہوچکے ہیں۔ ان کی شان و شوکت باقی نہیں ہے۔ وہ چھوٹے ہیں مگر بڑا کہلانا چاہتے ہیں بلکہ بڑا کہلانے والوں سے بھی اپنے آپ کو بڑا سمجھتے ہیں۔ دنیا کے لئے وہ ہر کام کرنے کو تیار ہیں لیکن نہیں اگر تیار تو دین کے کام کے لئے نہیں تیار۔ دنیا کی طرف ان کی توجہ پھر سکتی ہے لیکن نہیں اگر پھر سکتی تو خدا کی طرف ان کی توجہ نہیں پھر سکتی۔
ایک ٹُوٹی ہوئی جُوتی کی ان کے نزدیک زیادہ قیمت ہے لیکن خدا کی اتنی بھی نہیں۔ پھٹے ہوئے کپڑے کی زیادہ عزت ان کی نظروں میں ہے لیکن خدا کے کلام کی اتنی بھی عزت ان میں نہیں۔ وہ ٹُوٹی ہوئی جُوتی اور پھٹے ہوئے چیتھڑے کو سنبھال کر رکھیں گے کہ کسی وقت کام آجائیں گے لیکن خدا اور خدا کے کلام کی طرف مطلقاً توجہ نہیں کریں گے۔ خدا کا کلام خواہ رہے یا ضائع ہو جائے مگر انہیں پروا نہیں۔ اور خدا کی ذات ان کی نظروں میں ایسی بھیانک ہو گئی ہے جیسے کوڑھی کہ جس کے جسم سے کیڑے چلتے ہوں اور جس سے اتنی گھِن آتی ہو کہ پاس بھی پھٹکنے کو جی نہ چاہے۔
حضرت خلیفۃ المسیح الاوّلؓ فرماتے تھے۔ بھوپال میں ایک بزرگ تھے انہوں نے خواب میں دیکھا کہ ایک آدمی پُل پر پڑا ہے جس کے بدن پر کوڑھ تھا اور اس سے سخت تعفّن اٹھ رہا تھا۔ انہوں نے اس سے پوچھا میاں تم کون ہو جو اس طرح پڑے ہو؟ اس نے کہا میں اﷲ میاں ہوں۔ میں خدا ہوں۔ وہ بزرگ کہتے ہیں رؤیا میں ہی مجھے ایسی گھِن پیدا ہوئی کہ میں گھبرا گیا اور اس شخص کے جواب سے سخت متعجب ہو ا کیونکہ ہم نے تو قرآن شریف میں پڑھا تھا کہ خدا میں سب خوبیاں ہیں۔ وہ منبع ہے کمالات کا۔ وہ منبع ہے تمام حُسنوں کا۔ وہ منبع ہے تمام بھلائیوں کا۔ وہ منبع ہے تمام قدرتوں کا لیکن یہ تو مجموعہ ہے سب بدصورتیوں کا۔ مجموعہ ہے سب کمزوریوں کا۔ مجموعہ ہے سب عیبوں کا۔پھر ہم نے تو یہ سنا ہوا تھا کہ وہ عیب سے پاک ہے لیکن یہاں حالت بالکل برعکس ہے۔ یہ سن کر اس نے جواب دیا میں بھوپال کے لوگوں کا خدا ہوں۔ انہوں نے مجھے ایسا ہی سمجھ رکھا ہے کہ میں بدصورت، عیبوں سے بھرا ہوا، لنجا، کوڑھی اور کمزور ہوں۔
کیا وہ خوش قسمتی کا زمانہ ہو گا جس میں بھوپال کا خدا ایسا بناہوا تھا؟ ہرگز نہیں۔ لیکن بخدا آج ساری دنیا کا خد اہی ایسا خدا بنا ہوا ہے۔ یہ صرف بھوپال پر ہی منحصر نہیں کہ اس نے خدا کو ایک وقت اس قسم کا خداسمجھا بلکہ آج تمام دنیا کے لوگ اسے ایسا ہی سمجھ رہے ہیں۔ اور ان چند پاک لوگوں کو چھوڑ کر جن کے دلوں میں خدا تعالیٰ کی خشیت ہے اور جن کے اندر اس کی محبت ہے باقی سب کا خدا ایسا ہی ہے۔ دنیا کیڑے پتنگے کی بھی عزت کرتی ہے اور ایسے لوگ بھی پائے جاتے ہیں جو کسی کی محبت میں روتے ہیں مگر قرآن کی اتنی عزت بھی ان کے دلوں میں نہیں۔ اور جو لوگ اس کی عزت کرتے ہیں اور اس کی محبت جتاتے ہیں اور اس کا ادب کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں وہ حقیقت میں اس کی عزت کے لئے عزت نہیں کرتے۔ وہ حقیقت میں اس کے ادب کے لئے ادب نہیں کرتے۔ بلکہ وہ صرف دنیا پر ظاہر کرنے کے لئے ایسا کرتے ہیں۔ وہ صرف دنیا میں عزت پانے کے لئے اس کی عزت کرتے ہیں۔ وہ اس لئے اس سے محبت کرتے ہیں کہ وہ قوم میں عزت حاصل کریں اور قوم کی طرف سے محبت کئے جائیں۔ وہ قرآن کی اتنی ہی عزت اور محبت کرتے ہیں جتنی فریبوں اور دھوکوں میں کام آجائے۔ وہ صرف اس لئے اس کی عزت کرتے ہیں کہ وہ ان کی قسمیں کھانے میں کام آئے ورنہ قرآن کریم کی عزت و عظمت کے برابر وہ ایک پھٹے پرانے کپڑے کے چیتھڑے کی عزت و عظمت کرتے ہیں بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ وہ حقیقت سے کوسوں دور جا پڑے ہیں اور نور سے دور ظلمت میں بھٹک رہے ہیں۔ بسا اوقات گاؤں کے کُتے کے اردگرد لوگ جمع ہوجاتے ہیں جو ایک جانور سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا اور جانور بھی وہ جانور جو پر لے درجے کا نجس جانور ہے۔ لیکن نہیں اگر جمع ہوتے تو اس کے لئے نہیں جمع ہوتے جو زمین اور آسمان کا پیدا کرنے والا خد ا ہے۔ جو دنیا میں لوگوں کے لئے ہدایت کے سامان بہم پہنچانے والا خد اہے۔ ایک گاؤں کے بچے اور لوگ کُتے سے تو کھیلتے ہیں اور اس کے لئے اگر وہ گم ہو جائے یا مر جائے تو رنج محسوس کرتے ہیں۔ لیکن
افسوس! خدا تعالیٰ کا نام لینے والے دنیا بھر سے عنقا ہیں۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی حقیقی عظمت اور شان سے لوگ غافل ہیں۔
کہاں گئے وہ دن کہ اسلام دنیا کو جذب کر رہا تھا ؟کہاں گئیں وہ راتیں کہ نور ِخدا کی پھوہار برستی ہوئی نظر آرہی تھی؟ کہاں گیا وہ زمانہ کہ لوگ قرآن کی عظمت کے قائل تھے؟ کہاں گیا وہ وقت کہ اسلام کے دشمن بلکہ اشد ترین دشمن بھی اسلام اور قرآن کی خوبیوں کے قائل تھے؟ یہودیوں کے ایک عالم نے حضرت عمرؓ سے ایک دفعہ بیان کیا کہ حسرت آتی ہے یہ دیکھ کر کہ آپ کے پیغمبر نے کوئی بات ایسی نہیں چھوڑی جس کے متعلق کچھ نہ کچھ بیان نہ کر دیا ہو۔ ہمیں اگر کسی امر کے متعلق جستجو کی ضرورت پڑتی ہے اور ہم اپنی کتاب کو اٹھا کر دیکھتے ہیں تو نہیں ملتی اور آپ کی کتاب میں مل جاتی ہے۔ غرض ایک تو وہ دن تھے کہ کافر بھی بار بار کہہ اٹھتے تھے کہ کاش! ہم بھی مسلمان ہوتے اور یہ تعلیم ہمارے اندر ہوتی۔ یا ایک یہ وقت ہے کہ آج مسلمان کہہ رہے ہیں کہ کاش! یہ تعلیم ہم میں نہ ہوتی۔
مسلمان رات دن کوشش کر رہے ہیں کہ ثابت کردیا جائے کہ اسلام کی تعلیم یہ نہیں جو ظاہر کی جاتی ہے یا جو اس کی کتاب میں ہے بلکہ وہ یہ ہے جو ہم بتاتے ہیں۔ مسلمان حکومتیں برابر اسی کوشش میں لگی ہوئی ہیں کہ اسلام کے احکام کی متابعت ترک کر دیں۔ اور زمانہ کی تبدیلی کے ساتھ مذہب کو بھی بدل ڈالیں۔
پس
کیا واقعی تاریکی نہیں چھا گئی؟ کیا واقعی لوگ دین اور تعلیم کو نہیں بدل رہے؟ کیا واقعی خدا کی محبت، قرآن کی عزت اور رسول کا ادب ان کے دلوں سے نہیں نکل گیا ؟یقیناً نکل گیا ہے۔
جب مسلمانوں کا یہ حال ہے تو اس دین کا کیا حال ہوگا جس کے ماننے والوں کی یہ حالت ہے اور جس کے اپنے بھی دشمن ہوگئے۔ جس کے یگانوں نے بیگانوں کا طریق اختیار کر لیا۔
افسوس کہ اس زمانہ میں اسلام کی یہ حالت ہے کہ گلا گھونٹنے کو خود مسلمان ہی تیا رہیں۔ دنیا کے کاموں کے لئے انہیں فرصت مل سکتی ہے لیکن اگر نہیں فرصت ملتی تو اسلام کے لئے نہیں ملتی اور اس کی خدمت کیلئے نہیں ملتی۔
حالانکہ
سچی بات یہ ہے کہ اسلام کے اندر ہر قسم کی خوبیاں ہیں اور اسلام ہی اس لائق ہے کہ اس کی خدمت کی جائے۔
اسلام کے اندر ہر قسم کی خوبیاں ہیں لیکن مسلمانوں کو ان کا احساس نہیں ہے۔ وہ اپنے اندر محسوس ہی نہیں کرتے کہ اسلام ہر قسم کی خوبیوں کا مجموعہ ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انہیں اس کا درد نہیں۔ انہیں اس بات کا یقین اور وثوق نہیں۔ اگر انہیں درد ہوتا، اگر انہیں اس بات کا یقین اور وثوق ہوتا، اگر انہیں اس بات پر اعتبار ہوتا کہ اسلام میں ہر قسم کی خوبی موجود ہے تو جیسے صحابہ کی زبانوں میں اثر تھا، جیسے صحابہؓ کی حرکات و سکنات میں اثر تھا، جیسے صحابہؓ کے اشارات میں اثر تھا ان کی زبانوں میں بھی اثر ہوتا۔ ان کی حرکات و سکنات میں بھی اثر ہوتا، ان کے اشارات میں بھی اثر ہوتا۔ او ر لوگ جب ان کی باتوں کو سنتے اور ان کو دیکھتے تو دین کی طرف مائل ہوجاتے۔ پھر اگر وہ خود بھی اسی تڑپ کے ساتھ کوشش کرتے جس تڑپ کے ساتھ صحابہؓ کرتے تھے تو آج اسلام کی وہ حالت نہ ہوتی جو ہو رہی ہے۔ بلکہ اسلام ترقی پر ترقی کرتا چلا جاتا۔ اور جس طرح پہلے دنیا کو کھائے چلا جا رہا تھا آج بھی کھائے چلا جاتا۔ جس طرح پہلے دنیا کو اپنے اندر جذب کر رہا تھا آج بھی اُسی طرح اسے جذب کر رہا ہوتا۔ لیکن
افسوس ہے کہ آج مسلمانوں میں نہ وہ تڑپ ہے اور نہ وہ جوش۔ نہ وہ جنون ہے اور نہ وہ دیوانگی جو اسلام کے لئے صحابہؓ کو تھی۔
آج اگر تلاش کریں تو اس دیوانگی کا اثر مسلمانوں میں کہیں نہیں ملتا۔
دیوانگی کا یہ اثر بھی مسلمانوں میں نہیں اور پھر ان کو اپنے دنیا کے کاموں سے فرصت بھی نہیں کہ وہ دین کی طرف متوجہ ہوسکیں۔ وہ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔ ان کے دلوں پر اور کانوں پر مہر لگ گئی ہے اور ان کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہے۔ وہ سنتے ہوئے نہیں سنتے۔ وہ دیکھتے ہوئے نہیں دیکھتے۔ وہ تغیرات کو محسوس کرتے ہوئے نہیں محسوس کرتے۔ اور یہ غفلت کی رَو کسی ایک گوشہ میں نہیں بلکہ دنیا کے ہر گوشہ میں چلی ہوئی ہے اور صُمٌّۢ بُکۡمٌ عُمۡیٌ فَہُمۡ لَا یَرۡجِعُوۡنَ (البقرۃ :۱۹)کا سماں نظر آ رہا ہے۔ وہ بہرے ہیں، گونگے ہیں، اندھے ہیں اور اُسی کی طرف لَوٹنے والے ہیں کہ جس کی طرف سے وہ غفلت کے ساتھ آنکھیں بند کر رہے ہیں۔ ان کے اموال کی تھیلیاں ہر ایک پلید اور گندے کام کے لئے کھل سکتی ہیں لیکن نہیں اگر کھلتیں تو خد اکے دین کے لئے نہیں کھلتیں۔ ان کی آنکھیں دنیا کے سیر و تماشے کے لئے تو کھل سکتی ہیں لیکن نہیں اگر کھلتیں تو دین کی کمزور حالت کے لئے نہیں کُھلتیں۔ ان کے کانوں پر مہر لگ جاتی ہے کہ وہ اس فریاد کو سنتے ہوئے نہیں سنتے۔ ان کی زبانوں پر مہر لگ جاتی ہے کہ وہ بولتے ہوئے دین کے لئے نہیں بول سکتے۔ اور ان کی آنکھوں پر پردہ پڑ جاتا ہے کہ وہ دیکھتے ہوئے دین کے کاموں کو نہیں دیکھ سکتے۔ سیر تماشوں کے لئے ان کے پاس فرصت ہے لیکن دین کے لئے ان کے پاس فرصت نہیں۔ ذلیل سے ذلیل اور کمینہ سے کمینہ اشغال میں شوق سے مصروف ہوتے ہیں مگر اسلام کے کاموں کے لئے ان میں کوئی شوق نہیں۔ بلکہ کہتے ہیں کہ یہ مُلاّنوں کے کام ہیں کہ دین کے کاموں میں دخل دیں۔ غرض ایک مردار کی طرح سمجھ کر اسلام کو چھوڑ دیا گیا ہے اور دھتکار کر اسے اپنے گھر کے دروازے سے نکال دیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خداتعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو مبعوث کیا ہے۔
آپ لوگ جو یہاں بیٹھے ہیں، آپ لوگ جو دنیا کے ہر گوشہ سے آکر یہاں جمع ہوگئے ہیں آپ ہی ایک ایسی جماعت ہیں جس نے اس خطر ناک اور نازک وقت میں خدا کی آواز پر لبیک کہا۔
آج اگر اسلام کا کوئی سہارا ہے، آج اگر اسلام کی کوئی مدد ہے، آج اگر اسلام کے لئے ٹھہرنے کی کوئی جگہ ہے تو اے احمدی جماعت کے لوگو! وہ آپ ہی ہیں۔ جس وقت خدا کو رد کر دیا گیا، جس وقت خداکی طرف سے منہ پھیر لیا گیا، جس وقت خدا کی طرف سے دلوں کو ہٹا لیا گیا وہ صرف آپ ہی ہیں جنہوں نے اپنی گردنوں کو اس کے احکام کے جوئے کے نیچے رکھا۔ وہ صرف آپ ہی ہیں جنہوں نے دنیا سے منہ پھیر کر اس کی طرف منہ کر لیا۔ وہ صرف آپ ہی ہیں جنہوں نے دنیا کی لذّات اور خواہشات سے منہ موڑ کر دل کو اس کی محبت سے بھر لیا۔ اور خد انے آ پ کو جو ذلیل سمجھے جاتے تھے معزز بنا دیا۔
تم دیکھتے ہو کہ شہروں میں اور بڑی بڑی بستیوں میں بڑی بڑی عمارتیں بنی ہوئی ہیں۔ تم دیکھتے ہو کہ ان کے دروازوں پر موٹریں کھڑی ہیں۔ تم دیکھتے ہو کہ سپاہی ان کے دروازوں پر پہرہ دے رہے ہیں۔ تم دیکھتے ہو کہ چوبدار ان کی نوکری بھر رہے ہیں۔ تم دیکھتے ہو کہ شان و شوکت کے ساتھ ایک عظیم الشان اور فرعون سے بھی بڑا بنا ہوا انسان ان اسباب کے ساتھ آرام سے زندگی بسر کر رہا ہے۔ لیکن خبردار دھوکانہ کھا جانا۔ وہ عزت جو تمہیں اس کی نظر آتی ہے عزت نہیں ہے۔ وہ آرام جو تم دیکھتے ہو کہ وہ پا رہا ہے وہ آرام نہیں۔ وہ آسائش جو اس کے ساتھ وابستہ نظر آرہی ہے آسائش نہیں ہے بلکہ وہ رسوائی ہے بلکہ وہ تکلیف ہے بلکہ وہ دکھ ہے۔ کیونکہ وہ خدا سے غافل ہے۔ دین کے درد سے خالی ہے۔ قرآن کی تعلیم سے بے بہرہ ہے۔ اسے ان باتوں سے تعلق نہیں۔
لیکن آ پ لوگوں کو اﷲ تعالیٰ نے درد بخشا ہے اور دین کی خدمت کے لئے چن لیا ہے۔ پس جو عزت کا مقام آپ کو دیا گیا ہے وہ بادشاہوں کو بھی نہیں دیا گیا۔ اِس وقت اپنی قدر آپ لوگوں کو بھی معلوم نہیں ہے لیکن وقت آرہا ہے کہ آپ کو اپنی قدر وقیمت معلوم ہو جائے گی۔ اور پتالگ جائے گا کہ خدا تعالیٰ نے ہمیں بہت بڑی عزت کے مقام پر کھڑا کیا ہے۔ اور جنہیں دوسرے لوگ ذلیل سمجھتے تھے وہ ذلیل نہ تھے۔ بلکہ ذلیل وہ تھے جو خدا کے دین کی خدمت کرنے والوں کو ذلیل سمجھتے تھے۔
اس نقشہ کو دیکھو جس میں نبی کریم ﷺ ایک سادہ لباس میں خانہ کعبہ میں عبادت کے لئے جاتے ہیں اور پھر اس نقشہ پر بھی نگاہ ڈالو کہ فوجوں کے جھرمٹ میں آپ وہاں داخل ہوتے ہیں۔ پھر ایک وقت وہ بھی آیا کہ آپ تن تنہا رہ گئے اور آپ کو دیکھ کر آپ کے عزیز بھی اور آپ کے دوست بھی کتراجاتے، وہ وقت بھی آیا کہ آپ کو تکلیفیں دی گئیں۔ وہ وقت بھی آیا کہ آپ کی ذلت و رسوائی کے لئے کوئی کسر نہ چھوڑی گئی۔ لوگ آپ کو برا بھلا کہتے۔ گالی گلوچ نکالتے۔ دست درازی کرتے۔ حالانکہ خود ان کا یہ حال تھا کہ چوری وہ کرتے۔ ڈاکے وہ ڈالتے۔ مال اٹھا لے جانا ان کے نزدیک معمولی بات ہوتی اور کمزوروں پر ظلم کرنا کوئی عیب ہی نہ شمار کیا جاتا۔ خود تو یہ حال تھا لیکن وہ نبی کریمﷺ کو اذیتیں پہنچاتے اور سمجھتے کہ ہم معزز ہیں اور یہ غیر معزز۔ یہ صرف اس لئے تھا کہ وہ لوگ تو خد ا کو جانتے ہی نہ تھے اور اُس کو بُھلا بیٹھے تھے۔ لیکن آپؐ اﷲ تعالیٰ کو مانتے اور خدا سے منسوب شدہ گھر میں خدا کی عبادت کے واسطے داخل ہوتے۔ آپ کی ابتدائی حالت میں کوئی آپ پر میلا ڈالتا۔ کوئی دھکا دیتا۔ کوئی گلے میں پٹکا ڈالتا۔ غرض کوئی تکلیف نہ ہوتی جو پہنچائی نہ جاتی۔ اور کوئی سخت سلوک نہ تھا جو آپ کے ساتھ کیا نہ گیا۔ کیا اُس وقت کی حالت کو دیکھنے سے کوئی کہہ سکتا ہے کہ آج جس کو ذلیل سمجھا جاتا ہے وہی دنیا میں سب سے زیادہ عزت دار ہو گا۔ آج جس کے گلے میں پٹکا ڈالا جاتا ہے وہی ہوگا جس کے آگے دنیا کے بڑے بڑے لوگوں کی گردنیں جُھک جائیں گی۔ آج جس کے بدن پر میلا ڈالا جاتا ہے اُسی کے پسینے کی جگہ لہو بہانے کے لئے سینکڑوں انسان تیار ہو جائیں گے۔ کیا کوئی کہہ سکتا ہے اس تن تنہا شخص کے قدموں میں دنیا آگرے گی۔ کیا کوئی سیاح اُس وقت کی آپ کی حالت کو دیکھ کر اندازہ لگا سکتا تھا کہ آپ دنیا میں بڑھیں گے۔ کیا کوئی ہندوستانی سیاح جسے اُدھر جانے کا اتفاق ہوتا اور جسے آپ کی اس کمزور حالت کے دیکھنے کا موقع ملتا اس بات کو جان سکتا تھا کہ یہ دنیا میں مشہور ہوجائے گا۔ اس کی تعلیم دنیا کے ہر گھر میں پھیل جائے گی اور ملکوں کے ملک اس کی اطاعت کے جوئے کے نیچے آجائیں گے؟ ہرگز نہیں۔
اس کے گمان میں بھی یہ بات نہ آسکتی تھی کہ
وہ شخص جسے ہر شخص پاگل خیال کرتا ہے اس قدر بڑھے گا کہ دنیا کے عقلمند، دنیا کے طاقتور، دنیا کے عزت دار اس کی غلامی کو فخر سمجھیں گے۔ مگر وہ بڑھا، اس کی تعلیم دنیا کے گھر گھر میں پھیل گئی بڑے بڑے بادشاہ اس کی غلامی کو فخر سمجھنے لگ گئے۔ اور یہ سب اس لئے ہو اکہ اس نے نہایت تاریکی کے دنوں میں خدا کا نام لیا اور خدا نے اسے روشن کرنے کا وعدہ کیا۔
پس اے احمدی جماعت کے لوگو! خدا کے وعدوں کی طرف نظر کرو اور سمجھ لو کہ اگر کوئی قوم اس وقت دنیا میں معززو مقبول ہے تو وہ آپ ہی ہیں۔ اور یہ عزت اور مقام ہے جو خدا نے آپ کو بخشا آج اور کسی کو نہیں دیا۔ آج تمام دنیا خدا سے منہ پھیرے کھڑی ہے اور تم ہی ہو جن کا منہ خدا کی طرف ہے۔ پس اے وہ لوگو جو احمدی جماعت سے تعلق رکھتے ہو! یاد رکھو کہ آپ نے خدا کے لئے سب کچھ چھوڑا ہے۔ خدا کے دین کی خدمت کے لئے اپنے آپ کو وقف کر دیا ہے اور خدا کی کتاب کے لئے آپ نے کوشش شروع کی ہوئی ہے۔ پس خدا اپنی سنت کے مطابق آپ کو ضائع نہیں کرے گا۔ اُس کی رحمت کے دروازے آپ کے لئے کھلے ہیں۔ اپنے دامنوں کو پھیلاؤ اور رحمت سے ان کو بھر لو۔ یہ دن روز روز نہیں آتے۔ جب احمدیت میں فوجوں کی فوجیں داخل ہوں گی۔ جب احمدیت دنیا کے کونہ کونہ میں پھیل جائے گی۔ جب احمدیت کے آگے بڑے بڑے بادشاہ آ جھکیں گے تو یاد رکھو پھر وہ دن نہیں رہیں گے جو آج ہیں اور وہ ثواب اور اجر نہیں مل سکے گا جو آج ادنیٰ ادنیٰ امور پر مل سکتا ہے۔ پس یہ دن بڑے ہی مبارک دن ہیں اور بڑے ہی قدر والے۔ اُس دن جب کہ احمدیت پھیل جائے گی۔اُس دن جب کہ بڑے بڑے لوگ احمدیت کی تعلیم کے جوئے کے نیچے اپنی گردنیں رکھ دیں گے اُس دن بادشاہ خواہش کریں گے کہ کوئی سلطنت لے لے اور وہ اجر ہمیں حاصل کر ا دے جو آج ایک غریب کسان کو مل رہا ہے۔ وہ بادشاہتیں لٹا دینے پر تیار ہو جائیں گے مگر سابقین سا اجر حاصل نہ کر سکیں گے۔
(جاری ہے)
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: صحیح طریق سے کوشش کرنے پر کامیابی حاصل ہوتی ہے




