نمازِ جنازہ حاضر و غائب
مکرم منیر احمد جاوید صاحب پرائیویٹ سیکرٹری حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز تحریر کرتے ہیں کہ حضورِ انور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ۲۹؍جنوری ۲۰۲۶ء بروز جمعرات بارہ بجے بعد دوپہر اسلام آباد (ٹلفورڈ) میں اپنے دفتر سے باہر تشریف لاکر مکرم مرزا رحمان بیگ صاحب ابن مکرم مرزا غالب بیگ صاحب درویش قادیان (ربوہ، حال فارنبرو، یوکے) کی نماز جنازہ حاضر اور پانچ مرحومین کی نمازِ جنازہ غائب پڑھائی۔
نماز جنازہ حاضر
مکرم مرزا رحمان بیگ صاحب ابن مکرم مرزا غالب بیگ صاحب درویش قادیان (ربوہ، حال فارنبرو، یوکے)
۱۷؍جنوری ۲۰۲۶ء کو ۷۳ سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ حضرت مرزا اکرم بیگ صاحب رضی اللہ عنہ صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پوتے تھے۔ آپ کے والد کو درویش قادیان ہونے کی سعادت نصیب ہوئی۔ مرحوم نے ساری زندگی دوسروں کی مدد کرنے میں صرف کی۔ چھوٹی عمر میں والد کی وفات کے بعد آپ ہی اپنی والدہ اورچھ بہنوں کے کفیل تھے اور اپنی بہنوں کی شادیاں بھی آپ نے ہی کروائیں۔ہمیشہ جماعتی کاموں میں پیش پیش رہے۔ آپ غریبوں کی مدد کرنے والے یتیموں کی کفالت کرنے والے، مرحوم رشتہ داروں کے چندہ جات ادا کرنے والے، مالی قربانی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والے ایک سادہ مزاج، نیک، نافع الناس اور ملنسار وجود تھے۔ کبھی کسی چیز کی فرمائش نہیں کی اور نہ ہی کبھی کوئی شکوہ یا شکایت کی بلکہ ہمیشہ شکر گزاری سے زندگی بسر کی۔عہدیداران، واقفین زندگی اور کارکنان کی بڑی عزت کرنے والے تھے۔ خلافت کے ساتھ گہرا عقیدت کا تعلق تھا۔آپ یوکے میں اپنے چھوٹے بیٹے کے ہاں مقیم تھے اور جب تک صحت نے اجازت دی باقاعدگی سے نمازوں کے لئے اسلام آباد آتے رہے۔ جب بھی عید کی نماز کے لیے آتے تو کہتے کہ حضور انور کو دیکھ لیتا ہوں تو عید ہو جاتی ہے۔ آپ حضورانور کا خطبہ جمعہ باقاعدگی اور اہتمام کے ساتھ سنا کرتے تھے۔ وفات سے ایک روز قبل شدید بیماری کی حالت میں موبائل فون اپنے ہاتھ میں پکڑ ا اور کان سے لگا کر مکمل خطبہ جمعہ سنا۔ پسماندگان میں ایک بیٹی اور تین بیٹے شامل ہیں۔ آپ کے چھوٹے بیٹے مکرم مرزا اطہر بیگ صاحب دفتر پرائیویٹ سیکرٹری( اسلام آباد۔یوکے) میں بطور واقف زندگی خدمت کی توفیق پارہے ہیں۔
نماز جنازہ غائب
۱۔مکرم خواجہ مبارک احمد صاحب ابن مکرم خواجہ عبدالرزاق صاحب (دارالرحمت وسطی ربوہ )
۱۰؍دسمبر ۲۰۲۵ء کو ۹۲ سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ کے پڑدادا حضرت ابراہیم جُو صاحب رضی اللہ عنہ اور دادا حضرت حسن جُو صاحب رضی اللہ عنہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ میں سے تھے۔ ہجرت کے بعد ۱۹۵۲ء میں داریل گلگت میں احمدیت کا پودا آپ کے ذریعہ لگا اور آ پ نے اپنے روزمرہ کے عمل سے احمدیت کاحسین تعارف مقامی لوگوں کو کروایا۔ ۱۹۷۴ء کے حالات کی وجہ سے ایک مرتبہ پھر ہجرت پر مجبور ہوئے اور مستقل طور پر ربوہ میں سکونت اختیار کی اور وہاں پہلے دن ہی اپنے آپ کو خدمت کے لیے پیش کیا۔ لمبے عرصہ تک سیکرٹری مال اور پھر صدرمحلہ کے طور پر خدمت بجالاتے رہے۔آپ کے دور صدارت میں محلہ کی مسجد نصرت کی توسیع اور تعمیر نو تکمیل کو پہنچی۔ آپ کے چندوں اور مالی قربانی کا معیار نہایت اعلیٰ تھا۔ محلہ کے تمام مسائل اور باہمی خاندانی جھگڑوں کی شکایات کو ہمیشہ دونوں پارٹیوں کی باہمی رضامندی سے حل کروانا آپ کی ایک بہت بڑی خوبی تھی۔آپ میں بردباری بہت اعلیٰ معیارکی تھی۔ مشکل سے مشکل حالات میں بھی کبھی آپ کے چہرہ پر گھبراہٹ کے آثار ظاہر نہ ہوتے۔ قناعت پسندی آپ کانمایاں وصف تھا۔آپ تہجد گزار، پنجوقتہ نمازوں اور تلاوت قرآن کریم کے پاپند، نرم مزاج، غریب پرور،بڑے نیک اور مخلص انسان تھے۔ خلافت سے گہرا عشق کا تعلق تھا۔ مرحوم موصی تھے۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاہ تین بیٹے اور تین بیٹیاں شامل ہیں۔ آپ مکرم خواجہ نثاراحمد صاحب (آف مورڈن) کے والد تھے۔
۲۔مکرم معلم ڈاکٹر احمد کوفی اباکاہ صاحب (آف گھانا)
۱۷؍نومبر ۲۰۲۵ء کو ۷۰ سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحوم کی پیدائش کیپ کوسٹ، ابورا میں ہوئی۔ آپ کے والد محترم چیف رئیس سعید صاحب ایک نہایت مخلص احمدی تھے جنہوں نے اپنے بیٹے کو ابتدا ہی سے جماعتِ احمدیہ اور خدمتِ دین کے لیے وقف کر دیا۔ اسی تربیت کے نتیجے میں مرحوم نے دنیاوی پیشے کی بجائے مشنری سکول میں داخلہ لیا اور ۱۹۷۵ء میں تعلیم مکمل کرنے کے بعد فوراً میدانِ عمل میں آگئے۔ آپ نے سینٹرل اور اشانٹی ریجن کی متعدد جماعتوں میں نہایت اخلاص اور جانفشانی سے خدمت انجام دی۔مرحوم تبلیغِ اسلام کے بے حد شوقین تھے۔ باقاعدگی سے تبلیغی دورے کیا کرتے اور نو مبائعین سے خصوصی محبت و توجہ کے ساتھ ملاقات کرتے۔ آپ نے مختلف مقامات پر مشن ہاؤسز کی تعمیر کی نگرانی بھی کی۔ قرآنِ کریم کی تعلیم سے آپ کو خاص لگاؤ تھا اور آپ کی تربیت کے نتیجے میں کئی افراد مبلغین کے طور پر جماعت کی خدمت کے لیے تیار ہوئے۔جماعت نے آپ کو ہومیوپیتھی اور بایوکیمسٹری کی تعلیم کے لیے منتخب کیا۔ آپ نے ۱۹۹۸ء میں فرسٹ کلاس امتیاز کے ساتھ اپنی تعلیم مکمل کی اور کچھ عرصہ کماسی کے ہومیوپیتھک کلینکس میں خدمت انجام دی۔ ۲۰۰۷ء میں دوبارہ میدانِ تبلیغ میں واپس آ کر اپنی جماعتوں کی خدمت جاری رکھی اور ۲۰۱۸ء میں باضابطہ طور پر ریٹائر ہوئے۔ریٹائرمنٹ کے بعد بھی مرحوم اپنے آبائی علاقے میں بطور مقامی امام خدمت کرتے رہے۔ مرحوم عبادات کے پابند، جماعتی خدمات میں پیش پیش اور چندہ جات کی ادائیگی میں باقاعدہ، بڑے اعلیٰ اخلاق کے مالک، ملنسار، نرم گفتار، مہمان نواز اور غریب پرور انسان تھے۔ ہر ایک کے ساتھ بڑی شفقت سے پیش آتے اور حتی المقدور دوسروں کی ضرورت پوری کرنے کی کوشش کیا کرتے تھے۔ مرحوم موصی تھے۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ تین بیٹے اور پانچ بیٹیاں شامل ہیں۔
۳۔مکرمہ نادیہ جلیل صاحبہ اہلیہ مکرم محمد عبدالجلیل صاحب (لاہور )
۱۳؍دسمبر ۲۰۲۵ء کو ۵۲ سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔مرحومہ نے ۱۹۹۸ء میں بیعت کرنے کے بعد ایمان، عشق خلافت اور استقامت کا غیر معمولی نمونہ دکھایا اور گھر والوں کی شدید مخالفت کے باوجود ایمان میں ذرا بھی کمی نہیں آنے دی۔ ہر ابتلاء نے انہیں خلافت کے دامن سے مزید مضبوطی سے وابستہ کیا۔خلافت اور جماعت سے ان کا تعلق بڑامثالی تھا۔مرکز سے جب بھی کوئی نمائندگان یا مہمان اجتماع اور اجلاسات کے لیے آتے تو آپ بڑے شوق اور لگن سے ان کی مہمان نوازی کرتی تھیں۔ مالی قربانی کا یہ عالم تھا کہ گزارہ بہت مشکل سے ہوتا تھا مگر سب سے پہلے چندہ ادا کرتی تھیں۔ مرحومہ صوم وصلوٰۃ اور تلاوت قرآن کریم کی پابند، تہجدگزار،صابرہ وشاکرہ،ایک مخلص اور باوفا خاتون تھیں۔مرحومہ موصیہ تھیں۔آپ کی کوئی اولاد نہیں تھی۔پسماندگا ن میں میاں شامل ہیں۔
۴۔مکرمہ روشن تارا بیگم صاحبہ اہلیہ مکرم غلام حیدر خان صاحب (ریٹائر ڈ معلم سلسلہ حال پنکال، کٹک،اڈیشہ۔انڈیا)
۲۱؍دسمبر ۲۰۲۵ء کو بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ کے میاں کو ہندوستان کے مختلف صوبوں میں ۳۳ سال خدمت کرنے کی توفیق ملی۔ آپ نے ان کے ساتھ رہ کر بڑی قناعت اور صبر کے ساتھ وقت گزارا۔ مرحومہ صوم وصلوٰۃ کی پابند، بڑی ہر دلعزیز، غریب پرور، مہمان نواز، خلافت سے محبت رکھنے والی، چندوں کو پابندی کے ساتھ ادا کرنے والی،ایک نیک فطرت،مخلص اور باوفا خاتون تھیں۔ مرحومہ موصیہ تھیں۔ پسماندگان میں میاں کے علاوہ ایک بیٹا اور ایک بیٹی شامل ہیں۔آپ کے داماد مربی سلسلہ کے طور پر خدمت کی توفیق پارہے ہیں۔
۵۔مکرمہ زاہدہ رفیق صاحبہ اہلیہ مکرم سید رفیق احمد صاحب (کیلگری کینیڈا)
۱۷؍دسمبر ۲۰۲۵ء کو ۶۲ سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ کا تعلق ایک مخلص احمدی خاندان سے تھا۔ آپ کے دادامکرم شیخ رحمت اللہ صاحب رضی اللہ عنہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی تھے۔ آپ کا خاندان قربانیوں میں ہمیشہ پیش پیش رہا۔ آپ کے والد، دو بھائیوں، دو بہنوئیوں اور دو بھانجوں نے راہ مولیٰ میں شہادت کار تبہ پایا۔ آپ پنجوقتہ نمازوں کی پابند، تہجدگزار، مہمان نواز، غریب پرور، نرم مزاج اور ہمدرد خاتون تھیں۔قرآن کریم سے خاص عشق تھا اور عرصہ دراز تک بچوں کو قرآن کریم پڑھانے کی توفیق پاتی رہیں۔ بیماری سے قبل آپ مقامی جماعت میں مختلف خدمات سر انجام دیتی رہیں۔ خلافت سے گہرا والہانہ عقیدت کا تعلق تھا۔ اپنی وفات سے قبل آخری ایام میں بھی آپ اپنی بیٹیوں کو نماز، تلاوت اور خلافت سے وابستہ رہنے کی تلقین کرتی رہیں۔ آپ نے اپنی ایک ۱۲ سالہ بیٹی کی وفات کا صدمہ بڑے صبر اور حوصلے سے برداشت کیا۔پسماندگان میں میاں کے علاوہ دو بیٹیاں، ایک بھائی اورتین بہنیں شامل ہیں۔ آپ مکرم ڈاکٹر غضنفر شیخ صاحب (آف لندن۔یوکے) کی ہمشیرہ تھیں۔ آپ کے بھتیجے مکرم شیخ حسام محمود صاحب …میں خدمت کی توفیق پارہے ہیں۔
اللہ تعالیٰ تمام مرحومین سے مغفرت کا سلوک فرمائے اور انہیں اپنے پیاروں کے قرب میں جگہ دے۔ اللہ تعالیٰ ان کے لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے اور ان کی خوبیوں کو زندہ رکھنے کی توفیق دے۔آمین
٭…٭…٭




