وہ کام کرو جو اولاد کے لیے بہترین نمونہ اور سبق ہو
حضرت داؤد علیہ السلام کا ایک قول ہے کہ میں بچہ تھا ، جوان ہوا ، اب بوڑھا ہو گیا میں نے متقی کو کبھی ایسی حالت میں نہیں دیکھا کہ اسے رزق کی مار ہو اور نہ اس کی اولاد کو ٹکڑے مانگتے دیکھا۔اللہ تعالیٰ تو کئی پشت تک رعایت رکھتا ہے ۔
پس خود نیک بنو اور اپنی اولاد کے لیے ایک عمدہ نمونہ نیکی اور تقویٰ کا ہو جاؤ اور اس کو متقی اور دیندار بنانے کے لیے سعی اور دعا کرو۔ جس قدر کوشش تم ان کے لیے مال جمع کرنے کی کرتے ہو اسی قدر کوشش اس امر میں کرو۔
خوب یا درکھو کہ جب تک خدا تعالیٰ سے رشتہ نہ ہو اور سچا تعلق اس کے ساتھ نہ ہو جاوے کوئی چیز نفع نہیں دے سکتی ۔ یہودیوںکو دیکھوکہ کیا وہ پیغمبروں کی اولاد نہیں؟ یہی وہ قوم ہے جو اس پر ناز کیا کرتی تھی اور کہا کرتی تھی نَحۡنُ اَبۡنٰٓؤُا اللّٰہِ وَاَحِبَّآؤُہٗ (المائدۃ:19) ہم اللہ کے فرزند اور اس کے محبوب ہیں مگر جب انہوں نے خدا تعالیٰ سے رشتہ توڑ دیا اور دنیا ہی دنیا کو مقدم کر لیا کیا نتیجہ ہوا ؟خدا تعالیٰ نے اسے سؤر اور بندر کہا۔ اور اب جو حالت ان کی مال و دولت ہوتے ہوئے بھی ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ۔
پس وہ کام کرو جو اولاد کے لیے بہترین نمونہ اور سبق ہو اور اس کے لیے ضروری ہے کہ سب سے اول خود اپنی اصلاح کرو۔ اگر تم اعلیٰ درجہ کے متقی اور پرہیز گار بن جاؤ گے اور خدا تعالیٰ کو راضی کر لو گے تو یقین کیا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہاری اولاد کے ساتھ بھی اچھا معاملہ کرے گا۔ قرآن شریف میں خضر اور موسیٰ علیہما السلام کا قصہ درج ہے کہ ان دونوں نے مل کر ایک دیوار کو بنادیا جو یتیم بچوں کی تھی وہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَكَانَ أَبُوْهُمَا صَالِحًا (الكهف : ۸۳) ان کا والد صالح تھا۔ یہ ذکر نہیں کیا کہ وہ آپ کیسے تھے۔ پس اس مقصد کو حاصل کرو۔ اولاد کے لیے ہمیشہ اس کی نیکی کی خواہش کرو۔ اگر وہ دین اور دیانت سے باہر چلے جاویں۔ پھر کیا؟ اس قسم کے امور اکثر لوگوں کو پیش آجاتے ہیں ۔ بد دیانتی خواہ تجارت کے ذریعہ ہو یا رشوت کے ذریعہ یا زراعت کے ذریعہ جس میں حقوق شرکاء کو تلف کیا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہی میری سمجھ میں آتی ہے کہ اولاد کے لیے خواہش ہوتی ہے کیونکہ بعض اوقات صاحب جائیدا دلوگوں کو یہ کہتے سنا ہے کہ کوئی اولاد ہو جاوے جو اس جائیداد کی وارث ہوتا کہ غیروں کے ہاتھ میں نہ چلی جاوے مگر وہ نہیں جانتے کہ جب مر گئے تو شرکاء کون اور اولادکون ۔ سب ہی تیرے لیے تو غیر ہیں ۔ اولاد کے لیے اگر خواہش ہو تو اس غرض سے ہو کہ وہ خادم دین ہو۔
غرض حق العباد میں پیچ در پیچ مشکلات ہیں جب تک انسان ان میں سے نکلے نہیں مومن نہیں ہو سکتا۔ نری باتیں ہی باتیں ہیں۔
(ملفوظات جلد ۷ صفحہ ۳۲۰۔۳۲۱، ایڈیشن۲۰۲۲ء)
مزید پڑھیں: ختم نبوت کی مثال



