خدا تعالیٰ کے قرب حاصل کرنے کی راہ
خدا تعالیٰ کے قرب حاصل کرنے کی راہ یہ ہے کہ اس کے لئے صدق دکھایا جائے۔حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جو قرب حاصل کیا تو اس کی وجہ یہی تھی۔چنانچہ فرمایا ہے اِبۡرٰہِیۡمَ الَّذِیۡ وَفّٰۤی ابراہیمؑ وہ ابراہیمؑ جس نے وفاداری دکھائی۔خدا تعالیٰ کے ساتھ وفاداری اور صدق اور اخلاص دکھانا ایک موت کو چاہتا ہے جب تک انسان دنیا اور اس کی ساری لذتوں اور شوکتوں پر پانی پھیر دینے کو طیارنہ ہو جاوے۔اور اس کی ذلت اور سختی اور تنگی خدا کے لئے گوارا کرنے کو طیار نہ ہو۔یہ صفت پیدا نہیں ہوسکتی۔بت پرستی یہی نہیں کہ انسان کسی درخت یا پتھر کی پرستش کرے بلکہ ہر ایک چیز جو اللہ تعالیٰ کے قرب سے روکتی اور اس پر مقدم ہوتی ہے۔وہ بت ہے اور اس قدربت انسان اپنے اندر رکھتا ہے کہ اس کو پتہ بھی نہیں لگتا کہ میں بت پرستی کر رہا ہوں۔پس جب تک خالص خدا تعالیٰ ہی کے لئے نہیں ہو جاتا اور اس کی راہ میں ہر مصیبت کی برداشت کرنے کے لئے طیار نہیں ہوتا۔صدق اور اخلاص کا رنگ پیدا ہونا مشکل ہے۔ابراہیم علیہ السلام کو جو یہ خطاب ملا۔کیا یہ یونہی مل گیا تھا ؟ نہیں۔اِبۡرٰہِیۡمَ الَّذِیۡ وَفّٰۤیکی آواز اس وقت آئی جبکہ وہ بیٹے کی قربانی کے لئے طیار ہو گیا۔اللہ تعالیٰ عمل کو چاہتا ہے اور عمل ہی سے راضی ہوتا ہے۔اور عمل دکھ سے آتا ہے۔لیکن جب انسان خدا کے لئے دکھ اٹھانے کو طیار ہوجاوے تو خد اتعالیٰ اس کو دکھ میں بھی نہیں ڈالتا۔دیکھو۔ابراہیم علیہ السلام نے جب اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کے لئے اپنے بیٹے کو قربان کر دینا چاہا اور پوری طیاری کرلی تو اللہ تعالیٰ نے اس کے بیٹے کو بچالیا۔وہ آگ میں ڈالے گئے لیکن آگ ان پر کوئی اثر نہ کر سکی۔اللہ تعالیٰ کی راہ میں تکلیف اٹھانے کو طیار ہو جاوے تو خدا تعالیٰ تکالیف سے بچالیتا ہے۔
(الحکم جلد نمبر ۱۰ مورخه ۷ا؍ مارچ ۱۹۰۳ء صفحه ۱۔ بحوالہ تفسیر حضرت مسیح موعود جلد۷صفحہ۳۰۶۔۳۰۷)
جب تک انسان صدق وصفا کے ساتھ خدا کا بندہ نہ ہو گا۔تب تک کوئی درجہ ملنا مشکل ہے۔جب ابراہیم کی نسبت خدا تعالیٰ نے شہادت دی وَ اِبْرَاهِيْمَ الَّذِيْ وَفّٰۤی کہ ابراہیم وہ شخص ہے جس نے اپنی بات کو پورا کیا۔تو اس طرح سے اپنے دل کو غیر سے پاک کرنا اور محبتِ الٰہی سے بھرنا ، خدا کی مرضی کے موافق چلنا اور جیسے ظل اصل کا تابع ہوتا ہے ویسے ہی تابع ہونا کہ اس کی اور خدا کی مرضی ایک ہو کوئی فرق نہ ہو۔یہ سب باتیں دُعا سے حاصل ہوتی ہیں۔
(البدر جلد ۲ نمبر ۴۳ مورخه ۱۶ نومبر ۱۹۰۳ء صفحه ۳۳۴ بحوالہ تفسیر حضرت مسیح موعود جلد۷صفحہ۳۰۷)
مزید پڑھیں: جس کا دل مُردہ ہو وہ خوشی کا مدار صرف دنیا کو رکھتا ہے



