شرائطِ بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں
تم خدا کی آخری جماعت ہو
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام اللہ تعالیٰ سے وفا کا تعلق قائم رکھنے کے لیے اپنی جماعت کو نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’ضرور ہے کہ انواع رنج و مصیبت سے تمہارا امتحان بھی ہوجیسا کہ پہلے مومنوں کے امتحان ہوئے۔ سو خبر دار رہو ایسا نہ ہو کہ ٹھوکر کھائو۔ زمین تمہارا کچھ بھی بگاڑ نہیں سکتی اگر تمہارا آسمان سے پختہ تعلق ہے۔ جب کبھی تم اپنا نقصان کروگے تو اپنے ہاتھوں سے نہ دشمن کے ہاتھوں سے۔ اگر تمہاری زمینی عزت ساری جاتی رہے تو خدا تمہیں ایک لازوال عزت آسمان پر دے گا۔ سو تم اس کو مت چھوڑو ۔اور ضرور ہے کہ تم دُکھ دئے جائو اور اپنی کئی امیدوں سے بے نصیب کئے جائو۔ سو ان صورتوں سے تم دلگیر مت ہو کیونکہ تمہارا خدا تمہیں آزماتا ہے کہ تم اس کی راہ میں ثابت قدم ہو یا نہیں۔ اگر تم چاہتے ہو کہ آسمان پر فرشتے بھی تمہاری تعریف کریں تو تم ماریں کھائو اور خوش رہو اور گالیاں سنو اور شکرکرو اور ناکامیاں دیکھو اور پیوند مت توڑ و۔ تم خداکی آخری جماعت ہو سو وہ عمل نیک دکھائو جو اپنے کمال میں انتہائی درجہ پر ہو ۔ہرایک جو تم میں سست ہو جائے گا وہ ایک گندی چیز کی طرح جماعت سے باہر پھینک دیا جائے گا اور حسرت سے مرے گا اور خدا کا کچھ نہ بگاڑ سکے گا۔دیکھو میں بہت خوشی سے خبر دیتا ہوں کہ تمہارا خدا درحقیقت موجود ہے۔ اگرچہ سب اسی کی مخلوق ہے لیکن وہ اس شخص کو چن لیتا ہے جو اس کو چنتا ہے۔ وہ اس کے پاس آجاتا ہے جو اس کے پاس جاتا ہے۔ جو اس کو عزت دیتا ہے وہ بھی اس کو عزت دیتا ہے‘‘۔ (کشتی نوح ۔روحانی خزائن جلد۱۹۔صفحہ۱۵)
پھرآپؑ فرماتے ہیں ’’ ہم کو تو چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کو راضی کریں اور اس کے لئے ضرورت ہے اخلاص کی ،صدق و وفا کی، نہ یہ کہ قیل وقال تک ہی ہماری ہمت و کوشش محدود ہو۔ جب ہم اللہ تعالیٰ کو راضی کرتے ہیں پھر اللہ تعالیٰ بھی برکت دیتا ہے اور اپنے فیوض و برکات کے دروازے کھول دیتا ہے۔… اس تنگ دروازے سے جو صدق و وفا کا دروازہ ہے گزرنا آسان نہیں۔ ہم کبھی ان باتوں سے فخرنہیں کرسکتے کہ رؤیا یا الہام ہونے لگے اور ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ رہیں اور مجاہدات سے دستکش ہورہیں اللہ تعالیٰ اس کو پسند نہیں کرتا‘‘۔ (البدر۔ جلد۳۔نمبر۱۸-۱۹۔ بتاریخ ۸ تا۱۶؍مئی۱۹۰۴ء۔ صفحہ۱۰)
پھر آپؑ نے فرمایا ’’ ہر مومن کا یہی حال ہوتا ہے اگر وہ اخلاص اور وفاداری سے اس کا ہو جاتا ہے تو خدا تعالیٰ اس کاولی بنتا ہے لیکن اگر ایمان کی عمارت بوسیدہ ہے تو پھر بےشک خطرہ ہوتا ہے۔ ہم کسی کے دل کا حال تو جانتے ہی نہیں۔… لیکن جب خالص خدا ہی کا ہو جاوے تو خدا تعالیٰ اس کی خاص حفاظت کرتا ہے۔ اگرچہ وہ سب کا خدا ہے مگر جو اپنے آپ کو خاص کرتے ہیں ان پر خاص تجلی کرتا ہے اور خدا کے لئے خاص ہونا یہی ہے کہ نفس بالکل چکنا چور ہوکر اس کا کوئی ریزہ باقی نہ رہ جائے۔ اس لئے میں بار باراپنی جماعت کو کہتا ہوں کہ بیعت پر ہرگز ناز نہ کرو۔ اگر دل پاک نہیں ہے ہاتھ پر ہاتھ رکھنا کیا فائدہ دے گا… مگرجو سچا اقرار کرتا ہے اس کے بڑے بڑے گناہ بخشے جاتے ہیں اور اس کو ایک نئی زندگی ملتی ہے‘‘۔ (ملفوظات ایڈیشن ۱۹۸۸ء۔ جلد سوم۔ صفحہ۶۵)
جو میرے ہیں وہ مجھ سے جدا نہیں ہو سکتے
پھر آپؑ نے فرمایا: ’’پس اگر کوئی میرے قدم پر چلنا نہیں چاہتا تو مجھ سے الگ ہو جائے۔ مجھے کیا معلوم ہے کہ ابھی کون کون سے ہولناک جنگل اور پرخار بادیہ درپیش ہیں جن کو میں نے طے کرنا ہے۔ پس جن لوگوں کے نازک پیر ہیں وہ کیوں میرے ساتھ مصیبت اُٹھاتے ہیں۔ جو میرے ہیں وہ مجھ سے جدا نہیں ہوسکتے ،نہ مصیبت سے نہ لوگوں کے سب وشتم سے ،نہ آسمانی ابتلائوں اور آزمائشوں سے۔ اور جو میرے نہیں وہ عبث دوستی کا دَم مارتے ہیں کیونکہ وہ عنقریب الگ کئے جائیں گے اور ان کا پچھلا حال ان کے پہلے سے بدتر ہوگا۔ کیا ہم زلزلوں سے ڈر سکتے ہیں ۔کیا ہم خدا تعالیٰ کی راہ میں ابتلائوں سے خوفناک ہوجائیں گے۔ کیا ہم اپنے پیارے خدا کی کسی آزمائش سے جدا ہو سکتے ہیں۔ ہرگز نہیں ہوسکتے مگر محض اس کے فضل اور رحمت سے۔ پس جو جدا ہونے والے ہیں جدا ہو جائیں ان کو وداع کا سلام۔ لیکن یاد رکھیں کہ بدظنی اور قطع تعلق کے بعد اگر پھر کسی وقت جھکیں تو اس جھکنے کی عنداللہ ایسی عزت نہیں ہوگی جو وفادار لوگ عزت پاتے ہیں کیونکہ بدظنی اور غداری کا داغ بہت ہی بڑا داغ ہے‘‘۔ (انوارالاسلام، روحانی خزائن۔ جلد ۹۔صفحہ۲۳-۲۴)
کامل وفا اور استقامت کا نمونہ دکھائیں
آج سے سو سال پہلے حضرت اقدس مسیح موعودؑ کی زندگی میں دو بزرگوں نے کامل وفا کا اوراستقامت کا نمونہ دکھایا تھا اور اپنے عہد بیعت کو نبھایا تھا اور خوب نبھایا۔ عہد بیعت کو توڑنے کیلئے مختلف لالچ ان کو دیئے گئے مگر ان استقامت کے شہزادوں نے ذرہ بھر بھی اس کی پرواہ نہ کی اور عہد بیعت پر قائم رہے۔ حضرت اقدسؑ نے ان کو زبردست خراج تحسین پیش فرمایا۔یہ حضرت صاحبزادہ سیدعبداللطیف شہیدؓ اور عبدالرحمان خان صاحبؓ ہیں ۔حضورؑ کا ایک اقتباس پیش کرتا ہوں فرماتے ہیں: ’’ اب ایمان اور انصاف سے سوچنا چاہئے کہ جس سلسلہ کا تمام مدار مکر اور فریب اور جھوٹ اور افترا ء پر ہو کیا اس سلسلہ کے لوگ ایسی استقامت اور شجاعت دکھلاسکتے ہیں کہ اس راہ میں پتھروں سے کچلا جانا قبول کریں اور اپنے بچوں اور بیوی کی کچھ بھی پرواہ نہ کریں اور ایسی مردانگی کے ساتھ جان دیں اور باربار رہائی کاوعدہ بشرط فسخ بیعت دیاجاوے مگر اس راہ کو نہ چھوڑیں۔ اسی طرح شیخ عبدالرحمٰن بھی کابل میں ذبح کیا گیا اوردم نہ مارا اور یہ نہ کہا کہ مجھے چھوڑ دو۔ میں بیعت کو توڑتا ہوں۔ اور یہی سچے مذہب او ر سچے امام کی نشانی ہے کہ جب کسی کو اس کی پوری معرفت حاصل ہو جاتی ہے اور ایمانی شیرینی دل و جان میں رچ جاتی ہے تو ایسے لوگ اس راہ میں مرنے سے نہیں ڈرتے ہاں جو سطحی ایمان رکھتے ہیں اور ان کے رگ و ریشہ میں ایمان داخل نہیں ہوتا وہ یہودا اسکریوطی کی طرح تھوڑے سے لالچ سے مرتد ہوسکتے ہیں۔ ایسے ناپاک مرتدوں کے بھی ہر ایک نبی کے وقت میں بہت نمونے ہیں۔ سو خدا کا شکر ہے کہ مخلصین کی ایک بھاری جماعت میرے ساتھ ہے اور ہر ایک ان میں سے میرے لئے ایک نشان ہے یہ میرے خدا کا فضل ہے۔ رَبِّ اِنَّکَ جَنَّتِیْ وَ رَحْمَتُکَ جُنَّتِیْ وَآیَاتُکَ غِذَائِیْ وَفَضْلُکَ رِدَائِیْ۔‘‘ (حقیقۃالوحی۔ روحانی خزائن جلد۲۲۔ صفحہ۳۶۰-۳۶۱)
یعنی اے میرے ربّ تو میری جنت ہے اور تیری رحمت میری ڈھال ہے تیرے آیات و نشانات میری غذا ہیں اور تیرا فضل میری چادر ہے ۔
اس کے بعد بھی جماعت کی سو سال سے زائد کی تاریخ اس بات پر گواہ ہے کہ یہ وفا اور استقامت کی مثالیں قائم ہوتی رہیں۔ مالی و جانی نقصان پہنچائے گئے، شہید کئے گئے ،بیٹا باپ کے سامنے اور باپ بیٹے کے سامنے مارا گیا تو کیاخدا نے جو سب سے بڑھ کر وفائوں کا جواب دینے والا ہے اس خون کو یوں ہی رائیگاں جانے دیا؟نہیں اس نے پہلے سے بڑھ کر ان کی نسلوں پر رحمتوں اور فضلوں کی بارش برسائی۔ آپ میں سے کئی جو یہاں موجود ہیں یا دنیا کے مختلف ممالک میں پھیلے ہوئے ہیں اس بات کے چشم دید گواہ ہیں۔ بلکہ آپ میں سے اکثر ان فضلوں کے مورد بنے ہوئے ہیں۔ یہ اس وفا کا ہی نتیجہ ہے جو آپ نے خدا تعالیٰ سے کی اورحضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام سے کئے عہد بیعت کو سچ کردکھایا۔کشائش میں کہیں آپ یا آپ کی نسلیں اس عہد بیعت کو بھول نہ جائیں۔ اس پیارے خدا سے ہمیشہ وفا کا تعلق رکھیں تاکہ یہ فضل آپ کی نسلوں میں بھی قائم رہے اور اس وفا کے تعلق کو اگلی نسلوں میں بھی منتقل کرتے چلے جائیں۔
(شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں صفحہ ۹۴ تا ۹۹)
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: شرائطِ بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں




