متفرق مضامین

مباحثہ کوئمبتورتامل ناڈو(جنوبی ہند) کی روداد(قسط اوّل)

اہلحدیث واحمدی حضرات کےمابین

اس مناظرے کی کامیابی کا خوشگوار اثر احمدیوں پر تو تھاہی مناظرہ سننےوالے غیروں نے بھی اس کا اعتراف کیا اور خود مخالف مناظر کو بھی اپنی آخری تقریر میں تسلیم کرنا پڑا کہ ہمیں علم کا کوئی دعویٰ نہیں اور آپ کےعلماء کی علمی قابلیت بھی مسلّم ہے

۱۹؍ تا ۲۷؍نومبر۱۹۹۴ء جنوبی ہندوستان کےشہر کوئمبتور کےسری آروی ہوٹل کےہال میں علمائے اہلحدیث کےساتھ جماعت احمدیہ قادیان کا نوروزہ مباحثہ وفات مسیح، ختم نبوت اور صداقت مسیح موعودؑ کےموضوع پر نہایت پُرامن ماحول میں ہواجس کا آنکھوں دیکھا حال اور بعض دلچسپ تفاصیل یہاں بیان کی جارہی ہیں۔

مناظرے کا پس منظر: اس مناظرے کا باعث مدراس (چنائی) کے ایک اہلحدیث عالم مولوی زین العابدین صاحب ہوئے جنہوں نے مدینہ منورہ سے تحصیلِ علم کے بعد اپنے علاقےمیں ایک تنظیم جمعیۃ القرآن والحدیث بناکر خوب شہرت پائی۔ موصوف کا مدراس میں اپنا پریس تھا جس سے وہ اپنارسالہ ’’الجنّت‘‘ بھی نکالتے تھے۔ اپنی تنظیم کے تامل عالم راہنماکے طور پران کا ایک مقام سمجھا جاتا تھا، اس مناظرے سےقبل انہوں نے صوبہ تامل ناڈو میں کسی بحث یا مناظرے میں شکست نہیں کھائی۔ شاید اسی برتے پرہی انہوں نے مدراس وغیرہ کے احمدیوں کو بھی مناظرے کےلیے للکارا اور احمدیوں کے ساتھ مناظرے سے پہلے انہوں نےاس کی ریہرسل کرنے کےبعد مدراس کی بڑی مسجد میں اعلان کروایا کہ آئندہ چند روز میں کوئمبتور میں احمدیوں کا خاتمہ ہوجائےگا۔

مولوی صاحب موصوف مدراس میں کسی نَوآموز مربی سلسلہ سے نشانِ کسوف و خسوف کی سندِ حدیث کے بارے میں فنّی بحث کےبعداپنے زعم میں انہیں لاجواب کر کے دیگر اختلافی مسائل پر مناظرے کےلیے اصرار کرنے لگے تو مقامی جماعت کی طرف سے شرائط مناظرہ طے کرکے اسے قبول کرلیا گیا۔ موضوع ومقامِ مناظرہ، قیامِ امن وامان، ہر فریق کےبزرگان کےباہمی احترام کی اہم شرائط کےعلاوہ طے پایا کہ قرآن وحدیث اور لغت کی رو سے بات ہوگی اور مفسرین اور بزرگانِ سلف کےحوالہ پیش نہ ہوسکیں گے،نہ ہی کوئی چیلنج دیاجائے گا۔ آخر ی تقریر غیراحمدی مناظر کی طے تھی۔ ہر موضوع کےلیے تین دن وقت رکھا گیا، اخراجاتِ مناظرہ فریقین نے مشترکہ طورپر برداشت کیے۔فریقین کےپچیس پچیس ملا کر کل پچاس افراد کا داخلہ بذریعہ اجازت نامہ ہوٹل کےہال میں ہوتا۔ روزانہ مناظرے کی دو نشستیں مقرر تھیں؛ صبح ساڑھے نو سے ساڑھےبارہ اور اڑھائی بجےسے شام ساڑھے پانچ بجے تک۔ ہر نشست کا دورانیہ تین گھنٹے تھا۔ مناظرہ تامل زبان میں تھا جس کی مکمل ویڈیو ریکارڈنگ کی گئی جو محفوظ ہے۔

سفر کوئمبتور:حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒنے اس مناظرے کی اصولی منظوری عطا کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اس مناظرے میں قادیان کے علماء کےساتھ تعاون کے لیے ربوہ سے دو علماء مکرم مولانا دوست محمد شاہد صاحب اور مکرم حافظ مظفر احمد صاحب بھی شریک ہوں۔ سوئےاتفاق سے اس وقت پاکستان انڈیا کے باہمی تعلقات حسبِ معمول اتار چڑھاؤ کا شکار تھے۔ چنانچہ اسلام آباد میں ابتداءً انڈین ایمبیسی سے ویزے کاحصول ممکن نہ ہوا مگر حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ کی دعاؤں کےطفیل اللہ تعالیٰ نے خاص فضل فرمایا اوراس وقت ناظر خدمت درویشاں مکرم مولانا اللہ بخش صاحب بعض دیگر ذرائع سے کراچی کی انڈین قونصلیٹ سے دونوں علمائے کرام کے لیے تین مقامات قادیان، مدراس اور کوئمبتور کے ویزے حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ جس کےبعد مذکورہ بالا دونوں احباب ۱۷؍ نومبر ۱۹۹۴ء کوبذریعہ پی آئی اے کی پرواز لاہور سے دہلی اوراگلی صبح ۱۸؍ نومبر بروز جمعہ انڈین ایئرلائنز (Indian Airlines) کی اڑھائی گھنٹے کی پرواز سے دوپہر کے قریب مدراس(چنائی) پہنچے جہاں مکرم محمد احمد صاحب امیر صوبہ تامل ناڈو پیشوائی کےلیے موجودتھے۔ان کے ہم راہ بذریعہ فاسٹ ٹرین ۵۰۰ کلومیٹر کا سفر طے کرکے رات نوبجے مقام مناظرہ کوئمبتور (Coimbatore) پہنچے، یہاں احبابِ جماعت شدت سے علماء و مرکزی مہمانان کے منتظر تھے۔ قبل ازیں کوئمبتور کے نوجوان مربی سلسلہ مکرم مولوی محمد ایوب صاحب مناظرے کےلیے آمادہ تھے لیکن معاملے کی نوعیت و اہمیت کے پیشِ نظر صدر مناظرہ اے پی وائی عبدالقادر صاحب کے ساتھ باہمی مشاورت کےبعد مولانا محمدعمر صاحب مناظراور ان کے ساتھ معاونت کےلیے مولوی محمد ایوب صاحب مقرر ہوئے۔الحمد للہ کہ اس طویل مجاہدانہ سفر کےبعد کوئمبتور پہنچ کر رات کو ہی مناظرے کی حکمت عملی طے کی گئی اورپہلےروز پیش کرنے کے لیے وفاتِ مسیح کی آیات اور احادیث مع استدلال معین کی گئیں نیز مخالف مناظر کے ممکنہ اعتراضات کے جواب کے متعلق بھی مشورہ کر کے تیاری مکمل کرلی گئی۔

وفاتِ مسیح کے موضوع پر سہ روزہ مناظرہ

مورخہ ۱۹؍ نومبر۱۹۹۴ء بروز ہفتہ مناظرہ کوئمبتور کا پہلا دن تھا۔ فریقَین ساڑھے نو بجے صبح وقتِ مقررہ پر ’’آروی‘‘ ہوٹل کوئمبتور کے مین ہال میں بذریعہ اجازت نامہ داخل ہوئے۔۶۰×۸۰کے اس وسیع ہال میں دونوں فریق کےپچیس پچیس افراد ملاکرکُل پچاس افراد موجود تھے۔درمیان میں دوکرسیوں پرفریقین کے صدرمناظرہ تشریف فرما ہوئے۔جماعت احمدیہ کے صدر مناظرہ اے پی وائی عبدالقادر صاحب ایم اے تامل پرنسپل کالج جبکہ جمعیۃ القرآن والحدیث کے صدرمختار شیخ صاحب تھے۔صدرانِ مناظرہ کے دائیں طرف کرسیوں پر ایک لمبی میز کے سامنےمخالف مناظر پی جےمولوی زین العابدین صاحب اپنے چھ معاونین کےساتھ موجود تھے۔ ان کے بالمقابل احمدی مناظراور ان کےمعاونین کی نشستیں صدارتی میز کے بائیں جانب تھیں، سب سے پہلے احمدی مناظر مولانا محمدعمر صاحب ان کے بائیں جانب معاون مناظر مولوی ایوب صاحب ان کے ساتھ مولانا دوست محمد شاہد صاحب اورپھر مکرم حافظ مظفر احمد صاحب کی نشست تھی۔مناظرے کےلیے معاون مربیان محمود احمدصاحب (مرحوم)مربی چنائی اور مزمل احمد صاحب مربی دہلی عقب میں دوسری رَو میں تھے،جن کی ذمہ داری دورانِ مناظرہ تامل زبان سے اردو ترجمہ کرنے کی تھی، ہرپانچ منٹ بعد وہ مناظروں کو گفتگو کا ترجمہ شدہ پرچہ مہیاکرتے تھے، اس خدمت کا حق انہوں نے خوب ادا کیا۔ان کےساتھ مکرم رفیق احمد صاحب مدراسی مربی سلسلہ بھی فریقین کی تقاریر کے اردو ترجمہ کے کام میں معاونت کی توفیق پا تے رہے۔فجزاھم اللہ احسن الجزاء

مناظرے کا پہلا دن:۔ ساڑھے نوبجے صبح آغازِ مناظرہ سے قبل موجوداحباب جماعت احمدیہ نے اجتماعی دعا کی۔پہلےروز مناظرہ نصف گھنٹہ تاخیر سے شروع ہوا جس کا ایک فائدہ یہ ہوا کہ ابتدائی سیشن میں پہلی اور آخری تقریر جماعت احمدیہ کی ہی رہی جبکہ شرائط کےمطابق آخری تقریر مخالف مناظر کی ہونی تھی۔ سب سے پہلے ۳۲؍شرائط مناظرہ احمدی صدر مناظرہ جناب عبدالقادر صاحب نے پڑھ کر سنائیں جبکہ مرکزی کمیٹی حسبِ مشورہ احمدی مناظر مولانا محمدعمر صاحب نے ابتدائی تقریر میں جماعت احمدیہ کے مختصر تعارف کےبعد احمدی اور غیر احمدی کافرق بھی بیان کیا اور وفاتِ مسیح کے دلائل ازروئے قرآن پیش کیے جس میں بالترتیب حضرت عیسیٰؑ سے اللہ تعالیٰ کے وعدۂ وفات کےبعد رفع روحانی کا ذکر، فرمایا جیسے:يٰعِيْسٰۤى اِنِّيْ مُتَوَفِّيْكَ وَ رَافِعُكَ اِلَيَّ …الخ (آل عمران: ۵۶) یعنی اے عیسیٰ! میں تجھے موت دینےوالاہوں اور تیرا رفع کرنے والا ہوں، پھرخودحضرت عیسیٰؑ کے اقرار سے اس وعدۂ وفات کےپورا ہونے کا ذکر فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِيْ كُنْتَ اَنْتَ الرَّقِيْبَ عَلَيْهِمْ۔الخ (المائدة: ۱۱۸) یعنی (اےاللہ!) جب تُونے مجھے وفات دےدی تو پھر تو خود ہی ان (میری قوم) کا نگران تھا۔ تیسری دلیل یہ کہ جس طرح سورۂ مائدہ کی آیت ۷۶ سے حضرت عیسیٰؑ سےپہلے تمام نبی وفات یافتہ مانے جاتے ہیں جیسا کہ فرمایا:مَا الْمَسِيْحُ ابْنُ مَرْيَمَ اِلَّا رَسُوْلٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ۔الخ (المائدة: ۷۶)مسیح ایک رسول تھا اور اس سے پہلےسب رسول فوت ہوگئے۔اسی اصول کےتابع حضرت عیسٰیؑ کی وفات بھی ثابت ہے جیساکہ فرمایا:وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ…الخ (آل عمران:۱۴۵) محمدؐ ایک رسول ہیں آپ سےپہلے سب رسول فوت ہوچکےہیں۔ اسی طرح چند احادیث بھی وفات عیسیٰؑ پر پیش کیں۔ مخالف مناظر مولوی زین العابدین صاحب نے جواباً حیات عیسیٰؑ کی کوئی آیت پیش کرنے کی بجائےاحمدی مناظر کےبیان پر محض چند اعتراضات کر دیے۔ موصوف ظاہری طورپر تو بڑے طمطراق اور خوب تیاری کے ساتھ تین چار صد کتب کا انبارایک ٹرک میں لادکر لائے ہوئے تھے جو حاضرین کو مرعوب کرنے کےلیے ہال کےوسط میں سامنےسجا کے رکھی تھیں مگر مخالف مناظر سوائے نکتہ چینی کے پیش کردہ دلائل وفات مسیح کا کوئی معقول جواب پیش نہ کرسکے۔ احمدی مناظر ین کی کتب کا اثاثہ ایک سوٹ کیس تھا جس میں قرآن شریف،صحیح بخاری اور دو لغت کی کتابیں یا پھر اختلافی مسائل کے دلائل پر مشتمل حوالہ جات کی نقول (فوٹوکاپیز) تھیں جن کی روشنی میں ناقابل تردید دلائل پیش کیے گئے۔ پہلے سیشن میں ساڑھے بارہ بجے تک دو تقاریر مخالف مناظرنے کیں اور تین تقاریر جماعت احمد یہ کی طرف سے ہوئیں۔

پہلے دن کا دوسرا دور اڑھائی بجےسے ساڑھے پانچ بجے شام تک ہوا جس میں فریقین کی تین تین تقاریر ہوئیں۔ مولانا محمد عمر صاحب کی جوابی تقریر سے پہلے مولانا دوست محمد صاحب اور مکرم حافظ مظفر احمد صاحب باہمی مشاورت سے کاغذ پر مخالف مناظر کے اعتراضات کے اہم جوابی نکات کے نوٹس انہیں مہیا کردیتےتھے جو موصوف نہایت عمدگی سے بیان کرتے رہے۔

دوسرے سیشن میں مخالف مناظر نے اپنی بجائے پہلےاپنے معاون مولوی عبدالرحمان فردوس کوجوابی تقریر کے لیے کھڑا کیا۔ مگر جب وہ بھی ہمارے پیش کردہ دلائل کا جواب نہ دے سکے تو تیسرے معاون کومیدان میں اتارا جبکہ دوسری طرف پہلے ہی دن احمدی مناظرمولانا محمد عمر صاحب نے وفات مسیح پر اکیلے بحث کرتے ہوئے تقریباًنو(۹) آیات قرآنیہ اور تین احادیث پیش کیں۔ ان پیش کردہ بارہ(۱۲) دلائل کا کوئی مدلّل جواب مخالفین کی طرف سے نہ آسکا،نہ ہی حیاتِ مسیح پر وہ اپنی کوئی دلیل پیش کر سکے۔ البتہ اپنے جوابی بیان میں مخالف مناظر توفّی کےلغوی معنی پر بحث کےعلاوہ پیش کردہ احادیث کی سند پر اعتراض کرتے رہےجس کا تسلّی بخش جواب انہیں دیا گیا۔ مثلاًوفاتِ عیسٰی کےلیے صحیح بخاری سے قولِ حضرت ابن عباسؓ کے مطابق کہ يٰعِيْسٰۤى اِنِّيْ مُتَوَفِّيْكَ کے معنی مُمِیْتُکَ پیش کیے گئے تھے یعنی اے عیسیٰ میں تجھے موت دینے والا ہوں جس پر مخالف مناظر نے سندکا مطالبہ کیا تو شرح بخاری عمدۃ القاری از علامہ بدر الدین عینی سے یہ سند پیش کر دی گئی رَوَاہُ ابْنُ ابِی حَاتِمِ عَنۡ اَبِیْہِ حَدَّثنَا اَبُو صالحٍ حَدَّثَنَامُعَاوِیَۃَ عَنۡ عَلِی بنِ ابِی طَلۡحَۃَ عَنۡ اِبْنِ عَبَّاسٍ جس پر وہ ساکت وصامت ہو کر رہ گئے۔الغرض پہلے دن کا مناظرہ نہایت کامیابی سےاختتام پذیر ہوا۔ احمدی مناظر کا بیان زیادہ تر دلائل وفات مسیح ناصریؑ ازروئے قرآن وحدیث پر مشتمل تھا۔ دوسرے سیشن میں احمدی معاون مناظرمولوی ایوب صاحب نے بھی وفات مسیح پر تین پُرجوش مدلّل تقاریر کیں۔

یہ امر قابل ذکر ہےکہ آج سے تیس سال قبل ۱۹۹۴ء میں کو ئمبتورتو ایک چھوٹی سی جماعت تھی لیکن یہاں کے احمدیوں کے دل بڑے تھے اور حوصلہ غیر معمولی تھا،وہ مہمانوں کی خدمت اور حفاظت کا حق خوب ادا کرتے رہے۔ شاملین مناظرے میں کئی مخلصین جماعت کیرالہ کی جماعتوں سے بھی آتے تھے تما م احباب جماعت پہلےدن کی کارروائی سے بےحد خوش اور مطمئن تھے۔

مناظرے کا دوسرا دن: حسبِ پروگرام۲۰؍ نومبر۱۹۹۴ء بروز اتوار مناظرہ کوئمبتور کےدوسرے روز بھی وفات مسیح کے موضوع پرفریقین میں گفتگو جاری رہی۔ پہلی نشست حسب سابق ساڑھے نو بجے صبح تا ڈیڑھ بجےاور دوسری نشست ساڑھےتین بجے تاشام آٹھ بجے تھی۔ چونکہ پہلے روز اہلحدیث مناظر کو نصف گھنٹہ کم ملا تھا جو انہوں نے ۲۰؍ نومبر کو آخری تقریر کی باری لے کر اسے پورا کرلیا۔ مولانا محمد عمر صاحب نے اپنی تقاریر میں قرآنی آیات پر مشتمل مزید دلائل پیش کیے۔ ان پر ہونے والے اعتراضات کے جواب مکرم مولوی ایوب صاحب نےبطور معاون مناظر دیے جبکہ مولانا دوست محمد شاہد صاحب اور مکرم حافظ مظفر احمد صاحب حسبِ معمول کاغذ پر متعلقہ حوالہ اور جو اب لکھ کر ان کی مدد کرتے رہے اس طرح مخالف مناظر کا کوئی علمی یا فنّی اعتراض یا سوال لاجواب نہیں چھوڑا گیا جو مخالف مناظر کی توقع کے برخلاف تھا۔ اس دوران یہ بھی پتا چلا کہ فریق مخالف یہ معلوم کرنے کی ٹوہ میں تھے کہ یہ دو علماء کون اور کہاں سے آئے ہیں؟ بتایا گیا کہ مرکز سلسلہ سےآئے’’قادیانی‘‘ علماء ہیں۔

الغرض مناظرے کے پہلے دو دنوں میں خلاف توقع احمدی مناظر کےدلائل کا پلّہ بھاری دیکھ کرمخالف مناظر نے اپنی کامیابی کے لیے ایک عیارانہ چال یہ اختیار کی کہ اپنے اعتراضات کےجواب ملنے کےبعد بھی مسلسل یہ تکرار شروع کیا کہ ان کے سوالات کا جواب نہیں ملا مگر شکست سے بچنے کی خاطر ان کی یہ تدبیر کارگر نہ ہوئی۔ مناظرے کےدوسرے دن کے اختتام تک وفات مسیح ناصری کے ثبوت میں پیش کردہ قرآنی آیات کی تعداد پندرہ ہوچکی تھی جن میں سے کسی ایک آیت کا بھی تسلّی بخش جواب مخالف مناظر قرآن و حدیث سے نہیں دے سکے۔البتہ انہوں نے محمدیہ پاکٹ بک کی مدد سے وفات مسیح کی ہر دلیل پر کوئی نہ کوئی اعتراض کرنےکی کوشش ضرورکی جس کے مکمل جواب انہیں دیے گئے۔ احمدی مناظر مولانا محمد عمر صاحب نےوفاتِ مسیح کے دلائل نہایت مؤثررنگ میں پیش کیے۔ دوسرے روز کی آخری تقریر بھی ان کی تھی اس لیے اختتامِ مناظرہ پر شاملین احمدی احباب بہت خوش تھے۔وفات مسیح کی بحث میں آیت وَمَا جَعَلۡنَا لِبَشَرٍ مِّنۡ قَبۡلِکَ الۡخُلۡدَ ؕ اَفَا۠ئِنۡ مِّتَّ فَہُمُ الۡخٰلِدُوۡنَ (الانبیاء :۳۵) بھی پیش کی گئی کہ اے نبیؐ! ہم نے تجھ سے پہلے کسی انسان کو غیرطبعی عمر نہیں دی اب اگر آپ فوت ہوجائیں تودوسرے کیسے غیرطبعی عمر پاسکتے ہیں ؟اس آیت کی روشنی میں غیرتِ رسولؐ کے حوالے سے تکرار کے ساتھ وفات عیسیٰؑ کی دلیل پرخوب زوردیا گیا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ نبیوں کے سردارحضرت محمد مصطفےٰﷺتوفوت ہوجائیں اورحضرت عیسیٰ ؑزندہ رہیں؎

غیرت کی جا ہے عیسیٰ زندہ ہوآسماں پر

مدفون ہو زمیں میں شاہِ جہاں ہمارا

یہ دلیل بھی کارگر رہی اور مخالف مناظر لاجواب ہو کر اس دلیل سے بہت زچ بھی ہوا مگر اس کا کوئی جواب دینے کی بجائےیہی شور مچایا کہ ان دلائل کا جواب دیاجاچکا ہے۔ اس لیے یہ حکمت عملی طے پائی کہ اگلے روز احمدی مناظر اپنی ابتدائی تقریر میں پہلےاپنےتمام لاجواب دلائل دہرائیں گے پھران کےجواب کا مطالبہ کریں گے اور مخالف مناظر کے اٹھائے گئے اعتراضوں کے دوبارہ جواب دے کر ان پر اتمام حجت کریں گے۔

مناظرے کا تیسرا دن: ۲۱؍نومبر۱۹۹۴ء مناظرہ کوئمبتور کے تیسرے دن وفات مسیح کے موضوع کا آخری دن تھا۔ حسبِ پروگرام ساڑھے نو بجے صبح سے سات بجے شب تک دوپہر دو گھنٹے کے وقفہ کے ساتھ دو نشستیں ہوئیں۔ جن میں دونوں طرف سے کل آٹھ آٹھ تقاریر تھیں۔گذشتہ روز کی آخری تقریر میں مخالف مناظر کی طرف سےمحض مناظرانہ چال کےطورپر جو خلاف واقعہ واویلا کیا گیا کہ آپ وفات مسیح ثابت نہیں کر سکے،آپ کی طرف سے پیش کردہ پندرہ آیاتِ وفات مسیح کا جواب ہم دے چکے،حالانکہ مخالف مناظرحیاتِ مسیح کی ایک دلیل بھی پیش نہ کر سکے تھے۔طے شدہ لائحہ عمل کے مطابق احمد ی مناظر نے پہلی تقریر میں ہی پیش کردہ آیات وفات مسیح مع استدلال دہرا کر بتایا کہ ان دلائل پر ہونے والے اعتراضات کے جواب دے کرہم وفات عیسیٰ ثابت کرچکے ہیں جبکہ اب تک مدّمقابل حیات مسیح کےحق میں کوئی ایک دلیل بھی پیش نہیں کر سکے۔ اس اتمام حجت کےبعد قرآن وحدیث سے حیاتِ مسیح کے دلائل مخالف مناظر سےطلب کیے گئے۔ احمدی مناظر کے آخری تقریر تک اس موقف پر ڈٹے رہنے سے مدّمقابل لاجواب ہوا، خصوصاً احمدی معاون مناظرمکرم مولوی ایوب صاحب نے تکرار کے ساتھ پہلی نشست میں ہی اہلحدیث مناظر کو اس بات پر خوب رگیدا کہ وہ حضرت عیسیٰؑ کی توفّی کے بارے میں پیش کردہ اس لغوی قاعدے کا جواب بھی نہیں دے سکے کہ جب توفّی باب تفعّل سے ہو، فاعل اللہ تعالیٰ اور مفعول کوئی ذی روح ہوتومعنی موت کےسوا کچھ نہیں ہوتے، یہ مطالبہ آخری تقریر تک کرنے کےباوجود مدمقابل مناظرلاجواب ہی رہےاور آخرکار بےبس ہوکر صرف اتنا کہا کہ اگر ہم نےاس آیت کا جواب نہیں دیا تو باقی آیات کا جواب تو دے دیا ہے لہٰذا اس آیت کے معنی بھی دیگر آیات کے مطابق کرلیں۔ پہلی نشست کےبعدوقفہ میں احبابِ جماعت بہت خوش تھے کہ احمدی مناظر نےمدّمقابل کو خوب لاجواب کیا۔ احمد ی مناظر کے بار بار حیات مسیح کی دلیل کےمطالبہ پر بالآخر آخری نشست میں مخالف مناظر نے اپنی اکلوتی دلیل آیت وَ اِنْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهٖ قَبْلَ مَوْتِهٖ… الخ(النساء:۱۶۰) پیش کرکےاس سے حیات مسیح ثابت کرنے کی ناکام کوشش کی جس کا جواب انہیں دیا گیا مگر وہ اپنے استدلال پر مصر رہے کہ حضرت عیسیٰؑ زندہ ہیں اور موت سے پہلے پہلے تمام اہل کتاب ان پر ایمان لائیں گے۔ اسی طرح انہوں نے احمدی مناظر کی وفات مسیح ؑ کے لیے پیش کردہ یہ آیت حیاتِ مسیح کی تائید میں پیش کی کہ وَ اَوْصٰنِيْ بِالصَّلٰوةِ وَ الزَّكٰوةِ مَا دُمْتُ حَيًّا۔وَّ بَرًّۢا بِوَالِدَتِيْ وَ لَمْ يَجْعَلْنِيْ جَبَّارًا شَقِيًّا۔(مريم:۳۲-۳۳) یعنی اللہ نے مجھے نماز کى اور زکوٰۃ کى تلقىن کى ہے جب تک مىں زندہ رہوں اور اپنى ماں سے حسن سلوک کرنے والا (بناىا) اور مجھے سخت گىر اور سخت دل نہىں بناىا اور اس سےغلط استدلال یہ کیا کہ حضرت عیسیٰ ؑکے قول جب تک میں زندہ ہوں سے ان کی زندگی ثابت ہے مگر جب ان سے مطالبہ کیا گیا کہ اگر حضرت عیسیٰؑ زندہ ہیں تو اب وہ کہاں اور کیسے نماز پڑھتے ہیں اور وفات یافتہ والدہ سےکیونکر حسن سلوک کرتے ہیں؟ مگر مخالف مناظر اس کا کوئی جواب نہ دے سکےاور بار بار آیت مَا دُمْتُ حَيًّا(مريم:۳۲) اور وَاِنْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ(النساء:۱۶۰) یہی دو آیات پیش کرکے کہتے رہے کہ اگر میں آپ کی توفّی کی دلیل کا جواب نہیں دے سکا تو آپ بھی میرے ان دو دلائل کا جواب نہیں دے سکے۔ حالانکہ انہیں واضح طورپر یہ جواب دیا گیا کہ اول تو سارے وفات یافتہ اہلِ کتاب نہ تو اب حضرت عیسیٰؑ کی آمد پر زندہ ہو کر ان پر ایمان لاسکتے ہیں اورنہ آئندہ کبھی یہ ممکن ہے۔ لہٰذا آیت میں مَوْتِهٖ کےالفاظ کی ضمیر حضر ت عیسیٰ ؑکی طرف نہیں بلکہ ضمیر اہل کتاب کی طرف راجع ہے کہ اہلِ کتاب کا ہر فرد اپنی موت سے پہلے تک حضرت عیسیٰؑ کی موت صلیب پر ایمان لاتارہے گا اور روزِ قیامت حضرت عیسیٰؑ اہلِ کتاب کے اس عقیدہ کےخلاف گواہ ہوں گے۔اسی طرح دوسری سورہ مریم کی آیت ۳۳،۳۲ کےبارے میں بھی کھول کر واضح کیا گیا کہ حضرت عیسیٰؑ کی نمازو زکوٰۃ اوروالدہ سے حسن سلوک کا تعلق دنیا کی زندگی سے تھا نہ کہ آسمانی زندگی سے،جہاں سارے نبی ہی روحانی طورپر زندہ ہوتے ہیں۔لہٰذا اس آیت سے تووفات عیسیٰ ثابت ہے اور اس احتمال سے آپ کا استدلال بابت حیات مسیح باطل ہوجاتا ہے۔ حضرت عیسیٰ ؑعبادت اور والدہ سے حسن سلوک کے مکلّف تھے اپنی اس والدہ کی وفات کےبعدوہ اس حکم کی تعمیل نہیں کرسکتے لہٰذ ا وہ زندہ موجود نہیں ہوسکتے۔ مگر اس کےباوجود مخالف مناظر مکاری و عیاری سے اپنے اس غلط استدلال پر مسلسل تکرار کرتے رہے تاکہ عوام اسے درست سمجھ لیں۔مگر اہل فہم پر حقیقت روشن ہوگئی۔مخالف مناظر کی آخری تقریر سے قبل احمدی مناظر مولوی محمد عمر صاحب نے وفات مسیح کے ثبوت کےلیے مزید تین آیات اور چار پانچ احادیث اکٹھی پیش کر دیں۔

وفات مسیح اورحوالہ جات بزرگانِ امت: اگرچہ مفسرین اور بزرگانِ امت کے حوالے شرائط مناظرہ کےمطابق تو پیش نہیں ہوسکتے تھے۔ اس کےلیے حکمت عملی سے یہ راہ نکالی گئی کہ ایک احمدی مناظر نے آخر پر پہلے یہ آیت وَ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْهُمْ بِاِحْسَانٍ رَّضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمْ ( التوبة :۱۰۰) پیش کی کہ صحابہ ؓکی پیروی کرنے والوں سے اللہ تعالیٰ راضی ہوتا ہےپھردوسری یہ آیت پیش کی کہ وَ يَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيْلِ الْمُؤْمِنِيْنَ نُوَلِّهٖ مَا تَوَلّٰى وَ نُصْلِهٖ جَهَنَّمَ (النساء :۱۱۶) کہ جوشخص مومنوں کی راہ کے علاوہ کوئی اور راہ اختیار کرے وہ جہنمی ہے۔پھر ان دونوں قرآنی آیات کی تائید میں حضرت ابوبکر ؓسے لے کر چودہ صدیوں تک ان تمام بزرگانِ سلف کے نام پڑھ دیے جو وفات مسیح کےقائل ہیں اور بتایا یہ سب صحابہؓ تابعین اور بزرگان امت وفات مسیح کے قائل ہیں اور سب کا اجماع وفات عیسیٰؑ پر ہے۔ اور واضح کیا کہ شرائط مناظرہ کے مطابق بزرگان امت کے حوالے پیش کر نےکی اجازت ہوتی تو ہم ان بزرگان کے مکمل حوالے بھی پیش کرتے۔مگر چونکہ قرآنی دلائل پیش کرنے کا حق ہے۔ان دو آیات کی روشنی میں ہم صحابہؓ اور بزرگان امت کا مسلک ذکر کیے بغیر رہ بھی نہیں سکتے۔سب سے آخر میں احمدی مناظر مولانا محمدعمر صاحب نے آیت وَ جَعَلْنَا ابْنَ مَرْيَمَ وَ اُمَّهٗۤ اٰيَةً وَّ اٰوَيْنٰهُمَاۤ اِلٰى رَبْوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَّ مَعِيْنٍ (المؤمنون:۵۱) پیش کرکے بتایا کہ قرآنی بیان کےمطابق بالآخرحضرت عیسٰیؑ اور ان کی والدہ نے کشمیر کی طرف ہجرت کی تھی اور مطابق حدیث۱۲۰ سال کی عمر میں وفات پائی اور پھر اس پر بآواز بلند اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَيْهِ رٰجِعُوْنَ پڑھ دیا۔اس آخری بھرپور کاری وار کے بعد تو مخالف مناظر کی آخری تقریر محض پُھس پھسی ہوکر رہ گئی اور وہ صرف احمدی مناظر کی پیش کردہ احادیث کی سند پر ہی اعتراض کرتے رہ گئے۔

وفات مسیح پر بحث کا نتیجہ: الحمدللہ وفات مسیح کےموضوع پر پہلے تین روز ہ مناظرے میں دلائل کےمیدان میں احمدیوں کو واضح فتح اوربرتری عطاہوئی اوریہ محض خدا تعالیٰ کا فضل اور حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒکی دعائیں اورمسلسل راہنمائی تھی۔ ورنہ مدّمقابل مناظر تو بڑی تیاری اور بلند بانگ دعووں کےساتھ آئے تھے مگر ناکام ہوکر رہ گئے۔ اس مناظرے کی کامیابی کا خوشگوار اثر احمدیوں پر تو تھاہی مناظرہ سننےوالے غیروں نے بھی اس کا اعتراف کیا اور خود مخالف مناظر کو بھی اپنی آخری تقریر میں تسلیم کرنا پڑا کہ ہمیں علم کا کوئی دعویٰ نہیں اور آپ کےعلماء کی علمی قابلیت بھی مسلّم ہے۔ اس لیے اس موضوع پر گفتگو میں اگر کوئی غلطی ہو گئی ہو تو معاف کر دیں۔ مناظرے میں دو شامل احمدی نوجوان ایسے تھےجو مخالف مناظر کی تنظیم جمعیۃ القرآن والحدیث سے نکل کر آٹھ ماہ قبل احمدی ہوئے اور ایک تنظیم کے سیکرٹری مال بھی رہے،ایک عالمِ دین نے ان سے دلائل وفات مسیح ؑکےبارے میں تاثرات پوچھےتو ایک نے کہا کہ احمدی سو فیصد درست جا رہے ہیں۔ دوسرے کی رائے تھی کہ مولوی زین العابدین ہمارے دلائل کا توڑ پیش نہیں کر سکا۔دراصل مخالف مناظر کو اپنے علم پر ناز کےساتھ یہ گمان بھی تھا کہ تامل زبان میں اس جیسا کوئی اَورمناظر عالم موجود نہیں اور اس کی فتح یقینی ہے۔اس لیے موصوف نےمحض سستی شہرت کےحصول اور جلب زر کی ترکیب کےلیے مناظرے کاڈھونگ رچایا تھا۔ وفاتِ مسیح کے قرآنی دلائل سے لاجواب ہوکر موضوع کے غیر متعلق مسائل میں الجھانے کی اس کی کوشش بھی ناکام ٹھہری، جب انہوں نےلغت اور سند حدیث کی طرف گھسیٹنا چاہاتواحمدی مناظر انہیں قرآن پہ لے آئے۔ چنانچہ زچ ہو کر ایک موقع پر تومخالف مناظر کہنے لگے کہ شرط مناظرہ یہ تھی کہ لغت سے بات ہوگی مگر یہ لوگ لغت پیش ہی نہیں کرتے، حالانکہ احمدی مناظر ضروری لغت کےساتھ حکمت عملی سے قرآن کو بنیاد بناکر بات کر رہےتھے اور قرآنی آیات کی تفسیر قرآن سے پیش کرتے تھے۔

متفرق دلائل اور بحث: چنانچہ توفّیکی بحث میں آیت آل عمران مُتَوَفِّيْكَ کی تفسیر اور رسول اللہؐ کی آیت سورۂ مائدہ کی تفسیر فَأَقُولُ كَمَا قَالَ الْعَبْدُ الصَّالِحُ… فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي بخاری سے پیش کردی،اسی طرح قول ابن عباسؓ بابت مُتَوَفِّيْكَکے معنی موت بیان کیےگئے۔اور مخالف مناظر کےمطالبہ سندپر وہ بھی پیش کر دی گئی جس پر وہ لاجواب ہوکر رہ گئے۔ احمدی مناظر کےوفات مسیح کے پیش کردہ دلائل سے لاجواب ہوکر مخالف مناظر نے ایک تو حضرت عزیرؑ کے مرنے کےبعدزندہ ہونے کی من گھڑت کہانی میں الجھانا چاہا، جس کے جواب میں انہیں حضرت عیسٰیؑ اور مریم کے ماضی میں کھانا کھانے کے ذکر کَانَايَأْكُلَانِ الطَّعَامَ (المائدہ :۷۶) کا بتایا۔ اور لَیَاْكُلُوْنَ الطَّعَامَ وَ یَمْشُوْنَ فِی الْاَسْوَاقِ(الفرقان:۲۱)کہ نبی عام انسانوں کی طرح کھانا کھاتے اوربازاروں میں چلتے ہیں کی روشنی میں بتایا گیا کہ قرآن کےمطابق نبی بھی انسان ہوتے ہیں۔ لہٰذا عزیرؑ بغیر طعام کے سو سال کیسے زندہ رہ سکتے ہیں؟ اسی طرح ان کی حیات مسیح کی پیش کردہ آیت وَ اِنْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهٖ قَبْلَ مَوْتِهٖ…الخ (النساء:۱۶۰) کےجواب میں احمدی مناظر کی طرف سےمطالبہ کیا گیا کہ گذشتہ اہل کتاب کا ایمان ثابت کرو اور اہل کتاب کےایمان لانےکے برخلاف آیات فَلَا يُؤْمِنُوْنَ إِلَّا قَلِيْلًا (النساء:۱۵۶)کہ وہ بہت کم ایمان لائیں گے اور فَاَغْرَيْنَا بَيْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَآءَ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ (المائدة:۱۵) یعنی اہل کتاب(یہود ونصاریٰ) کےمابین ایسی عداوت ڈالی گئی ہے جو قیامت تک قائم رہے گی، پیش کی گئیں کہ سب اہل کتاب کا ایمان لانا ممکن ہی نہیں مگر ان دلائل کا بھی وہ کوئی جواب نہ دے سکے۔اسی طرح احمدی مناظر نے آیت وَالَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللّٰهِ لَا يَخْلُقُوْنَ شَيْـًٔا وَّ هُمْ يُخْلَقُونَ اَمْوَاتٌ غَيْرُ اَحْيَآءٍ (النحل:۲۱،۲۲)سے بھی وفات عیسیٰ ثابت کی کہ وہ نصاریٰ کے باطل معبود ہیں اس پر مخالف مناظر نے اعتراض کیا کہ قرآن میں ملائکہ کی بھی عبادت کرنے کا ذکر ہےجیسے فرمایا:لَوْ شَآءَ الرَّحْمٰنُ مَا عَبَدْنٰهُمْ (الزخرف :۲۱)تو کیا ملائکہ بھی معبودان باطلہ ہونے کےناطےمردوں میں شامل ہیں؟ انہیں جواب دیا گیا کہ ملائکہ معبودانِ باطلہ میں شامل نہیں ہوسکتے کیونکہ وہ خود اپنے معبود ہونےسے انکار کرکے کہتے ہیں قَالُوْا سُبْحَانَكَ أَنْتَ وَلِيُّنَا مِنْ دُونِهِمْ بَلْ كَانُوْا يَعْبُدُوْنَ الْجِنَّ(سبا:۴۲)کہ یہ لوگ ہماری نہیں جنّوں کی عبادت کرتےتھے اور جنّ بھی چونکہ انسانوں کی طرح مرتے اس لیے وہ اموات میں شامل ہوسکتے ہیں۔ دوسرے ملائکہ کی عبادت کرنے سے مشرکین کی دوسری مراد ان کے خیالی بت بھی ہوسکتے ہیں ایسے بت کالمعدوم ہونے کے باعث اموات میں شامل ہیں جیسےفرمایا: كَيْفَ تَكْفُرُوْنَ بِاللّٰهِ وَكُنْتُمْ أَمْوَاتًا فَأَحْيَاكُمْ(البقرة:۲۹) یہاں قبل از پیدائش کی حالت کو موت سے تعبیر کیاجاسکتا ہے۔مخالف مناظر نے دوسرا اعتراض یہ کیا کہ اموات میت کی جمع ہے اس لیے معبودان باطلہ کے بارے میں آیت اَمْوَاتٌ غَيْرُ اَحْيَآءٍ (النحل:۲۲)کا مطلب یہ ہے کہ وہ معبودانِ باطلہ مرے نہیں آئندہ مرنے والے ہیں مخالف مناظرپر لغت کی رُو سےواضح کیا گیا کہ اموات مَیِّت کی نہیں بلکہ مَیْت کی جمع ہے یعنی وہ معبود اب بھی مردےہیں اور اس کا ثبوت خودآیت قرآنی میں اموات کےبعدغیر احیاء کا لفظ ہے جو خود اس کے معنے بیان کر رہا ہے کہ اموات کےمعنے جو زندہ نہیں ہیں۔

مخالف مناظر کی ایسی ہی بےکار بحثوں کا مسلسل تکرار کا تسلی بخش جواب دے کر توفّی کےمعنے موت ثابت کیے گئے جس پر وہ لاجواب ہوئے۔احمدی مناظر نےمزید آیات وفات مسیح بطور ثبوت پیش کیں۔مخالف مناظر ان کے جزوی جواب دے کر پھر انہی مذکورہ بحثوں کا تکرار کرتے رہے مگر توفّی کا جواب نہ دے سکے۔ان پر واضح کیا گیا کہ اللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ ضُعْفٍ (الروم:۵۵) اور وَ مِنْكُمْ مَّنْ يُّتَوَفّٰى وَ مِنْكُمْ مَّنْ يُّرَدُّ اِلٰۤى اَرْذَلِ الْعُمُرِ (الحج :۶) اور وَ مَنْ نُّعَمِّرْهُ نُنَكِّسْهُ فِي الْخَلْقِ اَفَلَا يَعْقِلُوْنَ (يٰس: ۶۹) کی آیات میں ایک انسان کےلیے بیان فرمودہ موت کا طبعی اصول موجود ہے۔جو بطور انسان حضرت عیسٰیؑ پر بھی لاگو ہے مگر انہوں نے حضرت مسیح ناصری کو مستثنٰی قرار دیا اور اس کی دلیل یہ دی کہ ان کی پیدائش میں بھی استثنا ء تھا۔ ان پر واضح کیا گیا کہ قرآن میں توایسی کوئی استثناء موجود نہیں بلکہ الٹا حضرت عیسیٰؑ کی مماثلت حضرت آدم ؑسے دے کر استثناء ختم کر دی گئی ہے۔ اِنَّ مَثَلَ عِیْسٰى عِنْدَ اللّٰهِ كَمَثَلِ اٰدَمَ (آل عمران: ۶۰) یعنی عیسیٰؑ کی مثال آدمؑ کی مثال کی طرح ہےاور آدمؑ کی طرح عیسیٰؑ کو بھی موت سے استثناء نہیں۔

الغرض احمدی مناظر نے اپنے دلائل کی بنیادقرآن شریف پر ہی رکھی اوریہ پالیسی نہایت کامیاب رہی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وفات مسیح کے موضوع پر احمدی مناظر کی طرف سے پیش کردہ ۱۵؍آیات کا کوئی معقول مدلّل اور مسکت جواب مدمقابل مناظر پیش نہ کر سکے۔اس طرح وفات مسیح کے موضوع پر دلائل کے میدان میں بہرحال احمدیوں کاپلہ بھاری رہا اور اللہ کے فضل سے ایک علمی فتح جماعت کو عطا ہوئی۔ چنانچہ اختتام پر مخالف مناظر کے ہی ایک ساتھی جناب فاروق صاحب نے مولوی زین العابدین سے سوال کیا مولانا! آپ نے توفّیکے چیلنج کا آخر تک جواب کیوں نہ دیا؟ جس پر وہ سراسیمہ سے ہوگئے۔

احمدی مناظرکی طرف سےآخری تقریر میں ایک تو حدیث حضرت عیسیٰ ؑ کی ۱۲۰ سال عمر سے ان کی وفات ثابت کی گئی۔ دوسری حدیث یہ تھی کہ لَوْ کَانَ مُوْسیٰ وَ عِیْسیٰ حَیَّیْنِ لَمَا وَسِعَھُمَا اِلَّا اِتَّبَاعِیْ ( الیواقیت والجواہر جلد ۲ صفحہ ۲۰ از علامہ عبدالوہاب شعرانی)کہ اگر حضرت موسیٰ ؑ او ر عیسیٰ ؑ زندہ ہوتے تو انہیں میری پیروی کےسوا چارہ نہ ہوتا اورتیسرے رسول اللہ ﷺ کے سامنے نصاریٰ نجران کا اقرار کہ ان کے عقیدہ کےمطابق حضرت عیسٰیؑ پر موت آچکی ہے،اِنَّ عِیْسَی اَتَی عَلَیۡہِ الفَنَاءُ پیش کی گئیں کہ یہ احادیث بھی وفات مسیح کےموضوع پر ہماری پیش کردہ قرآنی آیات کی تائید کرتی ہیں۔ مخالف مناظر ان احادیث کی سند پر اعتراض کرتا رہا جس کےجواب ان کو دیے گئے۔

الغرض اس مناظرے میں شامل احمدی احباب جماعت وفات عیسیٰ ؑکےلاجوا ب دلائل سن کر بےحد خوش اور مطمئن تھے۔ بعدمیں بھی مناظرے کی ریکارڈنگ اس علاقے میں بہت مفید اور مؤثر ثابت ہوئی۔ صوبائی امیر جناب محمد احمد صاحب مناظرے کے پہلے روز سے ہی وفد کے ہمراہ کوئمبتور میں قیام فرما رہے۔

جیسا کہ ذکر ہوا مناظرہ کوئمبتور میں یہ عظیم الشان کامیابی حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ کی دعاؤں اورراہنمائی ہی کے طفیل ہوئی۔ حضورؒہماری روزمرہ رپورٹس ملاحظہ فرما کر باقاعدہ تفصیلی ہدایات عطا فرما تےرہے۔علمی لحاظ سے اصولی وتفصیلی راہنمائی توالگ رہی اس علمی معرکہ میں مصرو ف خدام کی طرف حضور ؒکی توجہ اورشفقت کا یہ عالم تھا کہ مناظرے کےدوسرے روز خاکسار نے رپورٹ کےآخرمیں ضمناً بغرض درخواست دعا تحریر کردیا کہ خاکسارکو نزلہ زکام کی شکایت ہورہی ہے ۔حضورؒ کی شفقت اور لطف وکرم کا اندازہ فرمائیں کہ اپنے اس ادنیٰ خادم کےلیے آپ نے کس قدر دعا کی ہوگی اورلنڈن سے ہومیوپیتھی کا یہ نسخہ تجویز فرمایا کہ انفلوئیزینم اور بسیلینم 200 میں استعمال کی جائے۔ اس سے الحمد للہ نمایاں افاقہ ہوا۔

ختم نبوت پر سہ روزہ مناظرہ

(۲۲تا۲۴؍نومبر۱۹۹۴ء)

وفات مسیح پر پہلے مناظرہ کوئمبتور کی رپورٹس ملاحظہ فرمانے کے بعد آئندہ تین دن ختم نبوت کے موضوع پر بحث کےلیے بھی حضور ؒنے نہایت تفصیلی اور بصیرت افروز راہنمائی یہ فرمائی کہ صرف فلاں تین آیات اس موضوع پر پیش کی جائیں اور ان کا جواب مخالف مناظر سے طلب کیا جائے۔یہ عجیب حسن توارد تھا یا ٹیلی پیتھی؟ کہ مرکزی کمیٹی نے بھی چوتھے روز ۲۲؍نومبر کےلیے وہی آیات بحث کے لیے تجویز کی تھیں جس کی راہنمائی حضورؒ نے فرمائی۔ البتہ باقی ایام میں نبوت کےمسئلہ پر مخالف مناظر کے دلائل کے جواب کے ساتھ دیگر قرآنی آیات پیش کرنے کا بھی ارادہ تھا۔تاہم حضرت خلیفۃالمسیح الربع ؒکے ارشاد کے مطابق محض تین آیات کے قلعہ میں رہ کر مسئلہ نبوت کی بحث مکمل ہوئی۔مخالف مناظر ان آیات پرلایعنی اعتراض کرتے رہے جبکہ احمدی مناظر کا مسلسل مطالبہ رہا کہ ان آیات کا جواب دویا بندش نبوت کی کوئی آیت پیش کریں۔

۲۴؍نومبر کو مناظرے کے تیسرے روز نبوت کے موضوع پر بحث مکمل ہوئی جس میں ایک بارپھر اللہ تعالیٰ نے احمدیوں کو دلیل کےمیدان میں فتح دے کر ان کے دل ٹھنڈے کر دیے۔بفضلہ تعالیٰ احمدی مناظر جن قرآنی آیات کے مضبوط حصار میں رہے اسے مخالف مناظر تمام تر کوششوں کے باوجود توڑ نہ سکا۔ پہلی آیت میثاق النبیین آل عمران :۸۲ پیش کی گئی جس کے مطابق ہر نبی سے یہ عہد لیاگیا کہ انہیں اللہ تعالیٰ نے جو کتاب وحکمت عطا کی ہے اس کےبعد ان کے پاس کوئی ایسا رسول آئے جو ان کی تعلیم کی تصدیق کرنے والا ہو تو وہ ضرور اس پر ایمان لائیں گے اور اس کی مدد کریں گے، اس کے تائید و تفسیر میں یہ آیت پیش کی وَإِذْ أَخَذْنَا مِنَ النَّبِيِّينَ مِيثَاقَهُمْ وَمِنْكَ (الاحزاب :۸) یعنی تمام نبیوں سے یہ عہد لیا گیا اورخود نبی کریم ﷺ سے بھی۔تبھی تو آنحضرت ﷺ نے اپنی امت کو مسیح ومہدی کےماننے کی پُرزور تاکید کرتے ہوئے فرمایا کہ جب اس کو دیکھو تو اس کی بیعت کرنا خواہ برف کےتودوں پر گھٹنوں کے بل جانا پڑے(مستدرک حاکم کتاب الفتن و الملاحم باب خروج المہدی )اور یہ بھی فرمایا کہ اس مسیح کو میرا سلام کہنا۔ (مسند احمد جلد ۲ صفحہ۲۹۸ مطبوعہ مصر)

مسئلہ نبوت میں احمدی مناظر نے دوسری آیت فیضان نبوت کے جاری رہنےکےبارے میں یہ پیش کی کہ يَا بَنِي آدَمَ إِمَّا يَأْتِيَنَّكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ يَقُصُّونَ عَلَيْكُمْ آيَاتِي فَمَنِ اتَّقٰى وَأَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ (الْاَعراف:۳۶) یعنی اے ابنائے آدم! اگر تمہارے پاس تم مىں سے رسول آئىں جو تم پر مىرى آىات پڑھتے ہوں تو جو بھى تقوىٰ اختىار کرے اور اصلاح کرے تو ان لوگوں پر کوئى خوف نہىں ہوگا اور وہ غمگىن نہىں ہوں گے۔

نبوت کے موضوع پر تیسری آیت یہ پیش کی گئی کہ اللّٰهُ يَصْطَفِي مِنَ الْمَلَائِكَةِ رُسُلًا وَمِّنَ النَّاسِ (الحج:۷۶)یعنی اللہ فرشتوں مىں سے رسول چنتا رہتاہے اور انسانوں مىں سے بھى چنتا رہے گا اور اللہ کی یہ دائمی صفت کبھی معطل نہیں ہوسکتی۔ مخالف مناظر آخر تک اس کا جواب نہیں دے سکا۔

نبوت کی بحث میں ایک دلچسپ بات یہ ہوئی کہ مخالف مناظر نے بندش نبوت کےلیے اپنی مرکزی اور بنیادی دلیل آیت خاتم النبیین اور حدیث لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ پیش ہی نہیں کی جو ہمیشہ پیش کی جاتی ہےاور یہ مخالفین کی واضح شکست اور پسپائی تھی۔ ان کی ساری بنیادیہ دلیل رہی کہ آنحضرت ؐ قیامت تک کے لیے نذیر ہیں جیسا کہ آپؐ نے اعلان فرمایا لِأُنْذِرَكُمْ بِهٖ وَمَنْ بَلَغَ (الانعام: ۲۰) کہ مىں اس (قرآن)کے ذرىعہ سے تمہىں ڈراؤں اور ہر اُس شخص کو بھى جس تک ىہ (قرآن) پہنچے۔لہٰذا آپؐ آخری نذیرتھے آپؐ کےبعد اب قیامت تک کوئی نذیر نہیں آسکتا۔

اس دلیل کا نہایت مؤثر اور مدلّل جواب یہ دیا گیا کہ قرآن کریم میں ہے وَلَقَدْ ضَلَّ قَبْلَهُمْ أَكْثَرُ الْأَوَّلِيْنَ۔ وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا فِيْهِمْ مُّنذِرِيْنَ۔(الصافات:۷۲، ۷۳)یہ غیرمبدّل قانون اور سنت الٰہی ہے کہ ہمیشہ اکثریت کےبگاڑ کے وقت اللہ تعالیٰ نے رسول بھیجے اور اپنی امّت کے بارے میں رسول اللہؐ نے فرمایا کہ اس پر لا زماً پہلوں کی سنت آئے گی یہ یہود کی طرح ۷۳؍فرقوں میں بٹ جائے گی یہاں تک کہ ان کےعلماء بھی گمراہ ہو جائیں گے، یہ بات احادیث کےمستند حوالہ جات سے ثابت کی گئی کہ یہ گمراہی ایک منذر کی ضرورت ظاہر کرتی ہے۔جو نبی کریم ﷺکی نمائندگی میں ایک بار پھر آکر انذار کرے جیسا کہ سورہ جمعہ کی دوسری آیت وَآخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوْا بِهِمْ (الجمعہ:۴)میں بھی ایک ایسے آنے والے معلَّم کتاب موعود کا ذکر موجود ہے کہ کچھ دوسرے لوگ انہی(صحابہ) میں سے ہوں گے جو ابھی ان سے نہیں ملےجن میں رسول اللہؐ کی دوسری بعثت تعلیم کتاب وحکمت کےلیے ہوگی۔ پھر اس آیت کی تفسیر بخاری کتاب التفسیر سے پیش کی جس میں رسول اللہؐ نے امت کی گمراہی کےوقت اپنے ایک فارسی الاصل روحانی فرزند کےآنے کا وعدہ فرمایا تھا جو حضرت بانئ جماعت احمدیہ کےذریعہ پورا ہوا۔ احمدی مناظر نے تیسری آیت لِتُنْذِرَ أُمَّ الْقُرٰى وَمَنْ حَوْلَهَا وَتُنْذِرَ يَوْمَ الْجَمْعِ لَا رَيْبَ فِيهِ (الشورىٰ:۸) بھی پیش کی کہ اس آیت سے رسول اللہ ﷺ کا ایک اور انذاربھی دوسری مرتبہ یوم الجمع یعنی روزقیامت کو ثابت ہے مگر چونکہ قیامت کے دن توکوئی انذار فائدہ نہیں دے گااور اس کی ضرورت نہ ہوگی۔پس یوم الجمع سے مراد آخری زمانہ میں وحدت اقوام کا زمانہ ہے جب دنیا اکٹھی کردی جائے گی ایسے وقت میں جس منذر یا نذیرنے امت کی گمراہی میں رسول اللہ ﷺ کے بروز کےطور پر قرب قیامت میں آنا تھا، اس کا آنا دراصل آنحضرتؐ کا ہی آنا ہے اس لیے آپؐ نے لِأُنْذِرَكُمْ بِهٖ (الانعام:۲۰) فرمایا کہ آئندہ بھی ہر زمانے میں قرآن سے ہی انذار کروں گا۔ الغرض مخالف مناظر نے جو آیت خاتم النبیین کی دلیل چھوڑ کر اس آیت کی پنا ہ لی تھی وہ اس میں بری طرح ناکام رہے اور احمدی مناظر کےان دلائل کے سامنے لاجواب ہوکر رہ گئے۔فالحمدللہ

مخالف مناظر نےآخری نشست کی دو تقریروں میں بندش رسالت کی یہ عجیب وغریب دلیل پیش کی وَلِكُلِّ أُمَّةٍ رَّسُولٌ (يونس:۴۸) یعنی ہر رسول کی ایک امت ہوتی ہے اور مرزا صاحب اگر رسول ہیں تو ان کی امت مسلمانوں سے الگ اور نئی کونسی امت ہے؟ اس کےجواب میں فیضانِ نبوت کے جاری ہونے سے متعلق چارپیش کردہ آیات کے دلائل کا خلاصہ دہرا کر انہیں بتایا کہ وَلِكُلِّ أُمَّةٍ رَّسُولٌ سے جو استدلال کیا گیاہے اوّل تو وہ خود قرآن کےخلاف ہےکیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتاہے وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَى الْكِتَابَ وَقَفَّيْنَا مِنْ بَعْدِهٖ بِالرُّسُلِ (البقرۃ:۸۸) کہ حضرت موسیٰؑ کے بعد ان کی امّت موسویہ بنی اسرائیل میں پے در پے رسول آئے۔مگر ان میں سے کسی رسول کی کوئی الگ امت نہ تھی، اگر تھی تو اس امت کا نام بتائیں؟ اس دلیل کی تائید میں وہ مشہور حدیث نبویؐ بھی پیش کی گئی کہ کل ایک لاکھ چوبیس ہزار نبی آئے جن میں سے ۳۱۵؍رسول تھے۔( مسند احمد جزء۵صفحہ ۲۶۵ مطبوعہ مصر) اور مخالف مناظر سے مطالبہ کیا کہ جب تک ان ۳۱۵؍ رسولوں کی امتیں پیش نہ کر دیں آپ کی پیش کردہ دلیل باطل ہے۔ مکرم مولانا دوست محمد شاہد صاحب اور مکرم حافظ مظفر احمد صاحب صاحب کےمشورے کے مطابق احمدی مناظر نےہر امت کا رسول ہونے کے خلاف اہلحدیث مناظر کےسامنے دوسری حدیث یہ پیش کی: حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَنْتُمْ تُوَفُّونَ سَبْعِينَ أُمَّةً أَنْتُمْ خَيْرُهَا وَأَكْرَمُهَا عَلَى اللّٰهِ۔ (مسند احمد جزء۳۳صفحہ ۲۱۹) حضرت حکیم بن معاویہؓ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا(اے مسلمانو !)تم نے ستّر امتیں پوری کر دیں اور تم آخری امت ہو جو اللہ کےنزدیک سب سے بہتر اور معزز ہو۔

اس حدیث کےمطابق ستّر(۷۰) امتوں میں مسلمان آخری امت بنتے ہیں۔مخالف مناظرسےیہ مطالبہ کیا گیا کہ اگر آپ اس حدیث کے مطابق باقی ۶۹؍امتوں کے نام ہی پیش کر دیں توپھر بھی آ پ کا پیش کردہ یہ اصول کہ ہر امت کارسول ہوتا ہے قابل قبول ہو سکتاہے۔ اس پر وہ بہت سٹپٹائےاور کوئی جواب نہ دے سکے۔ اہلحدیث ہوتے ہوئےبھی مجبوراً موصوف نےاس حدیث کو فنّی جرح کے ذریعہ کمزور ثابت کرنا چاہا۔ اور کہا کہ اس کا ایک راوی ’’علی‘‘ ضعیف ہے۔ جب ان سے ہی اسماء الرجال کی متعلقہ کتاب برائے جائزہ منگوائی تو جس راوی’’علی‘‘ کو وہ علامہ ابن حجر کی کتاب تہذیب التہذیب سے ضعیف ثابت کررہے تھےوہ ستّر امت والی حدیث کی پیش کردہ سند میں سرے سےمو جود ہی نہ تھا۔ مرکز سلسلہ سے آئےعلماء کےمشورہ سے احمدی مناظر نے جب یہ نکتہ اعتراض اٹھایا تو مخالف مناظر کی ساری تقریر کا اثر زائل ہو کر رہ گیا۔اور مخالف مناظر پر تو گویا ایک بجلی سی گری وہ سخت شرمندہ اور کھسیانے ہوئے ان کی ساری ٹیم کے چہروں کے رنگ سیاہ تھے۔ کیونکہ وہ غلط فہمی سے ایک لاکھ چوبیس ہزار نبیوں والی حدیث کا راوی ضعیف ثابت کررہے تھے جوزیر بحث ہی نہ تھی ۔چنانچہ دوبارہ ستّر امت والی حدیث کی سند کمزور کرکے دکھانے کی خاطر مزید کوئی نیاحوالہ تلاش کرنے لگ گئے۔اس مقصد کےلیے ان کو باتفاق صدران مجلس مناظرہ نصف گھنٹہ مزید دیا گیا۔ اس دوران انہوں نے بعد تلاش بسیار ایک اور حوالہ پیش کیا کہ ستّر امت والی حدیث کا ایک راوی ’’حماد‘‘ ضعیف ہےدوبارہ ان کی پیش کردہ کتاب اسماء الرجال منگواکر دیکھی تو اس میں حماد راوی کا ذکرتو تھا مگر احمدی مناظر کی پیش کردہ حدیث کا راوی حماد نہ تھاجو ’’جریری‘‘ سے روایت کرتا ہے جبکہ مخالف مناظر کا پیش کردہ ضعیف راوی حماد جریری سے روایت ہی نہیں کرتا۔ اس فاش غلطی پرپھر ان کی خوب درگت بنی،سارے مجمع کے سامنے نصف گھنٹہ تک جس خجالت اور گھبراہٹ میں انہوں نے متعلقہ حوالہ تلاش کرنے کی ناکام کوشش کی تھی، اس کی ویڈیو دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے مگرجب یہ حوالہ بھی ردّ ہو گیا تو مدّمقابل سخت پشیمان ہوئے۔اس روز اجلاس کے اعلانِ اختتام سے قبل احمدی مناظرنے کھول کر بتا دیا کہ اہلحدیث مناظرپیش کردہ احادیث وفات مسیح کی سند پر کوئی اعتراض ثابت نہیں کر سکے۔الغرض اس روزمخالفین کافی شرمسار اور بےآبرو ہو کر ہال سےباہر نکلے۔ اور مناظرے میں پیدا شدہ صورتحال کی وجہ سے اپنی آخری تقریر میں بھی نبوت کےبارہ میں موصوف کوئی مخالفانہ جذباتی تقریر نہ کرسکے۔ نبوت کےموضوع پر مناظرے میں احمدی مناظرین مکرم مولانا محمدعمر صاحب اور مولوی ایوب صاحب سب کو اللہ تعالیٰ نے غیر معمولی تا ئید و نصرت عطا فرمائی اور وہ خوب دل کھول کر بولے۔وفات مسیح کےبعد نبوت کے موضوع پر یہ دوسری فتح تھی جو احمدی مناظرین کو فضل الٰہی سےعطا ہوئی جس پراحباب جماعت بےحد خوش تھے الحمدللہ ثم الحمدللہ۔۲۴؍نومبر کو نماز جمعہ کی تیاری کے باعث قبل دوپہرکی نشست مناظرہ منسوخ ہوکر صرف دوسری نشست ساڑھےتین تا سات بجے ہوئی۔

سہ روزہ مناظرہ صداقت مسیح موعود

(۲۵تا۲۷؍نومبر)

۲۵؍نومبر۱۹۹۴ء بروز ہفتہ مناظرے کے ساتویں دن تیسرے موضوع ’’صداقت مسیح موعود‘‘ پر گفتگو کا آغاز ہوا۔ ساڑھے تین بجےسہ پہر تا ساڑھے سات بجے شب تک چار گھنٹے کی نشست میں فریقین کی چار چار تقاریرہوئیں۔پہلی تقریر میں احمدی مناظر مولانا محمدعمر صاحب نے آیت فَقَدْ لَبِثْتُ فِيْكُمْ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِهٖ أَفَلَا تَعْقِلُونَ (يونس:۱۷)بیان کی جو رسول اللہ ﷺ نے اپنی صداقت کے معیار کےلیے پیش کرتے ہوئے کفار کو مخاطب ہوکر فرمایا تھاکہ میں تمہارے اندر اس (دعویٰ)سےپہلے ایک عمر گزار چکاہوں کیا تم عقل نہیں کرتے؟ مطلب یہ کہ نبی کی دعویٰ سےپہلے کی زندگی پر کسی مخالف کا کوئی اعتراض نہ کرنا بلکہ اس کی راستبازی کی گواہی دینا،مدعی نبوت کی سچائی کی ایک دلیل ہوتی ہے اسی معیار کےاصول کے مطابق حضرت بانئ جماعت احمدیہ کا یہ چیلنج اپنے مخالفین کےسامنے رکھا’’ کون تم میں ہے جو میری سوانح زندگی میں کوئی نکتہ چینی کر سکتا ہے؟ پس یہ خدا کا فضل ہے کہ جو اس نے ابتداسے مجھے تقویٰ پر قائم رکھا اور سوچنے والوں کے لیے یہ ایک دلیل ہے۔‘‘(تذکرة الشہادتین، روحانی خزائن جلد۲۰ صفحہ ۶۴)مخالف مناظر اپنی جوابی تقاریر میں اس چیلنج کا توکوئی جواب نہ دے سکا البتہ حضرت بانئ جماعت احمدیہ پر مختلف اعتراضات کا سلسلہ شروع کردیا۔

اعتراضات کے جواب:ان اعتراضات کی جوابی تقاریر مکرم مولوی محمدایوب صاحب نے کیں۔ وہ شیر کی طرح گرجتے رہےاور فَقَدْ لَبِثْتُ فِیْكُمْ عُمْرًا مِّنْ قَبْلِهٖ کی دلیل پر مخالف مناظر کو ایسے رگیداکہ خدا کی پناہ اور کہا اگر یہ شخص مسلمان نہ ہوتا تو آج رسول اللہؐ پر بھی اسی طرح اعتراض کرتا جن کی سچائی کامعیار یہ آیت ثابت کر رہی ہے۔ اپنی دوسری تقریر میں موصوف نے چند اعتراضوں کے جواب خود حضرت مرزا صاحب کے الفاظ میں دیے اورجملہ اعتراضات کی اصولی وضاحت کے بعد اپنے اس پُرزورمطالبہ پر ڈٹے رہے کہ اگر واقعی سچے ہو تو اس قرآنی آیت کے مطابق حضرت بانئ جماعت احمدیہ کی دعویٰ سے قبل زندگی پر کوئی اعتراض ثابت کرکے دکھاؤ جس میں مدّمقابل مکمل طور پر لاجواب رہے اوردعویٰ سے پہلے کی زندگی کی بجائے بعدکی زندگی پر اعتراض کیے۔

پہلا اعتراض یہ تھا کہ حضرت مرزا صاحب نے علماء کو مناظرے کے بجائے تفسیر نویسی کا چیلنج کیوں دیا ؟ اس کےجواب میں بتایا گیاکہ حضرت بانی جماعت احمدیہ نے مخالف علماء کی بڑھتی ہوئی مخالفت اور خصوصاً مباحثوں اور مناظروں میں شرارتوں اور شرانگیز کارروائیوں سےبچنے اور قیام امن کی خاطر نیز بعض قانونی وجوہات کی بنا پر ۱۸۹۶ء میں اپنی کتاب’’ انجام آتھم ‘‘ میں آئندہ مناظروں اور مباحثوں میں حصہ نہ لینے کا اعلان کیااور علماءکو مناظرے کےبجائے مباہلہ کا چیلنج دیا تھا اور گولڑوی صاحب نے مباہلہ سےفرار کی خاطر زبانی بحث کی شرط رکھ دی جو بیان کردہ حالات میں ناقابل قبول تھی کیونکہ حضرت بانئ سلسلہ احمدیہ اپنے معاہدہ کےمطابق مباحثہ کی بجائے تفسیر نویسی کے مقابلہ کےلیے تیار تھے۔مگر گولڑوی صاحب نے اس سے فرار اختیارکیا۔

دوسرا اعتراض یہ تھا کہ مرزا صاحب نے حضرت موسیٰؑ کو زندہ کیوں تسلیم کیا ؟ جس کےجواب میں واضح کیا گیا کہ حضرت بانئ جماعت احمدیہ نے کتاب نور الحق میں جہاں حیات عیسٰیؑ کے الزامی جواب میں حضرت موسیٰ ؑکے بدرجہ اولیٰ زندہ ہونے کا ذکر کیا،اس سے اگلے صفحہ پر ہی حضرت بانی جماعت احمدیہ نےتمام نبیوں کی وفات بیان کرتے ہوئے لکھا: ’’ کوئی نبی ایسا نہیں جو فوت نہ ہوا ہو اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے پہلے جو نبی آئے وہ فوت ہو چکے ہیں۔‘‘ (نو رالحق۔روحانی خزائن جلد۸صفحہ ۶۹-۷۰)

حضرت بانی جماعت احمدیہ حضرت عیسیٰؑ کی وفات کےثبوت پیش کرنے کےبعد محض الزامی جواب کے طور پر حضرت موسیٰ ؑ کی زندگی کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:’’یہ تمام شہادتیں اگر ان (یعنی حضرت عیسیٰ ؑ۔ناقل )کے مرنے کو ثابت نہیں کرتیں تو پھر ہم کہہ سکتے ہیں کہ کوئی نبی بھی فوت نہیں ہوا۔ سب بجسم عنصری آسمان پر جا بیٹھے ہیں کیونکہ اس قدر شہادتیں اُن کی موت پر ہمارے پاس موجود نہیں بلکہ حضرت موسیٰؑ کی موت خود مشتبہ معلوم ہوتی ہے کیونکہ اُن کی زندگی پر یہ آیت قرآنی گواہ ہے یعنی یہ کہ فلَا تَكُنْ فِي مِرْيَةٍ مِّنْ لِّقَائِهٖ۔(السجدۃ:۲۴) (ترجمہ :پس توموسیٰؑ کے ساتھ ملاقات کے بارہ میں شک میں نہ رہ۔ناقل)‘‘ (تحفہ گولڑویہ۔روحانی خزائن جلد۱۷صفحہ۱۰۱)

تیسر ااعتراض یہ تھا کہ مرزا صاحب کا یہ دعویٰ ثابت کریں کہ قرآن میں طاعون کا ذکر ہے؟اس کےثبوت میں بتایا گیا کہ سورہ نمل آیت :۸۳ میں مذکور ’’دابۃ الارض‘‘ ہی طاعون کا کیڑاہے جس کی نسبت اس آیت میں وعدہ تھا کہ آخری زمانہ میں ہم اس کو نکالیں گے اور وہ لوگوں کو اس لیے کاٹے گا کہ وہ ہمارے نشانوں پر ایمان نہیں لاتے تھے۔(نزول مسیح۔ روحانی خزائن جلد۱۸ صفحہ ۴۱۵-۴۱۶)

مسلم کی حدیث نواس بن سمعانؓ میں بھی اسی کیڑے کے گردنوں میں کاٹنے کا ذکر ہے۔(مسلم جلد ۲ کتاب الفتن باب ذکر صفت الدجال وما معہ)

چوتھا اعتراض یہ تھا کہ مرزا صاحب نے شہادۃ القرآن میں حدیث خَلِیْفَۃُ اللّٰہِ الْمَہْدِیِّ (ابن ماجہ) کا غلط حوالہ بخاری کا دےدیاہےجو آپ کے کذب کی دلیل ہے ؟ اس کےجواب میں بتایا گیاکہ ’’سنن ابن ماجہ‘‘ کی اس حدیث خَلِیْفَۃُ اللّٰہِ الْمَہْدِیِّ(جو امام حاکم کے نزدیک بخاری و مسلم کی شرائط کے مطابق ہے)کا حوالہ اگر بخاری سےسہواًدرج ہوگیا تو اسے غلط بیانی قرار نہیں دیا جاسکتا۔کیونکہ یہ حدیث نہ صرف صحیح سنن ابن ماجہ میں ہے بلکہ بخاری اورمسلم کی شرائط کےمطابق ہے۔

پانچواں اعتراض تھا کہ مرزا صاحب کے الہام اَنْتَ مِنِّیْ بِمَنْزِلَۃِ عَرْشِیْ وَوَلَدِیپر تھا؟ کہ تُو میرے نزدیک بمنزلہ میرےعرش اور میری اولاد کے ہے اس کےجواب میں بتایا گیا کہ اصل میں یہ الہام قرآنی اسلوب کےمطابق اللہ تعالیٰ کی مرزا صاحبؑ سے محبت کا اظہار ہےجیسے فرمایا: فَاذْكُرُوا اللّٰهَ كَذِكْرِكُمْ آبَاءَكُمْ أَوْ أَشَدَّ ذِكْرًا (البقرة:۲۰۱)کہ خداکو اس طرح یاد کرو جس طرح اپنے باپوں کو یاد کرتے ہو۔ اور رسول اللہﷺ نے بھی فرمایا:اَلْخَلْقُ عِيَالُ اللّٰهِ فَأَحَبُّ الْخَلْقِ إِلَى اللّٰهِ مَنْ أَحْسَنَ إِلَى عِيَالِهِ (مشکوٰۃ المصابیح کتاب الادب المخلوق عِيَالُ اللہِ)یعنی مخلوق اللہ کی عیال (زیر کفالت) ہے، اور مخلوق میں سے وہ شخص اللہ کو زیادہ پسند ہے جو اس کی عیال سے اچھا سلوک کرتا ہے۔

چھٹا اعتراض تھا کہ مرزا صاحب نے مہدی کےلیے چاند سورج گرہن کےنشان والی حدیث میں لفظ قمر کےبارے میں دعویٰ کیا کہ وہ پہلی تاریخ کے چاند پر استعمال نہیں ہوتا،جواباً بتایا گیاکہ یہی امر واقعہ ہے اور لغت کے مطابق پہلی کا چاند ہلال کہلاتا ہے اور قمر توچوتھی تاریخ کے بعد مہینہ کےآخر تک ہوتا ہے (اقرب الموارد زیر لفظ قمر)

ساتواں اعتراض یہ تھا کہ آیت وَ اِنَّا عَلٰى ذَهَابٍۭ بِهٖ لَقٰدِرُوْنَ (المومنون :۱۹)میں حضرت بانئ جماعت احمدیہ کاحُروف جمل کےلحاظ سے ۱۸۶۰؍کا زمانہ مراد لینا خلاف حقیقت ہے؟ اس اعتراض کا جواب دیا گیا کہ سورہ مومنون کی آیت ۱۹میں روحانی پانی کے وقت مقررہ پراٹھائے جانے کا ذکر ہے۔ اور خداتعالیٰ سنت متواترہ کے مطابق پیاسی مخلوق کے لیے قحط کے وقت تازہ پانی نازل کرتا ہے۔ اس آیت کے اعداد بحساب جمل ۱۲۷۴قمری بنتے ہیں جو عیسوی سن کے لحاظ سے ۱۸۵۷؍ہے اوریہی وہ زمانہ ہےجب اسلامی سلطنت کےآثار باقیہ ملک ہند سے ناپید ہوئے۔مسلمانوں کی عملی حالت کےباعث ضعف اسلام ہواگویاقرآن زمین سےاٹھایا گیا۔

دراصل اس آیت میں روحانی پانی (یعنی نبوت ) کے روئے زمین پر نازل ہوکر اس وقت تک موجود رہنے کا ذکر ہے جب تک خدا چاہتاہے پھر وہ اسے اٹھا لیتا ہے اور اپنی پیاسی مخلوق کےلیے تازہ پانی کا انتظام کرتا ہے ان معنی کی معقولیت مزید اس آیت کے اعداد بحساب جمل ہیں جو ۱۲۷۴؍بنتے ہیں جو ہجرت نبوی کے بعد کا زمانہ ہے جب تیرھویں صدی میں حضرت مرزا صاحب کو دنیا کی روحانی خدمت کےلیے تیار کیا جارہا تھا کیونکہ تقدیر الٰہی سے آپؑ کی ۱۲۵۰ھ میں پیدائش پر آپ کا نام ’’غلام احمد‘‘ رکھا گیا اور ’’غلام احمد قادیانی ‘‘کے اعداد ۱۳۰۰؍بنتے ہیں (جو تیرھویں صدی کی طرف اشارہ ہے۔)

اس نشست میں محسوس کیا گیا کہ احمدی مناظر کے دلائل کےسامنے مخالف مناظر کی تقاریر میں پہلے جیسا جوش و خروش نہ رہا۔ بلکہ وہ سہمے سہمے سے تھے اور دھیما پن نمایاں تھا۔جبکہ اس ہال میں صداقت مسیح موعود کا اعلان بڑی شان سے دو گھنٹے ہوتارہا۔جہاں تک مناظرہ سننے کے شوق کا تعلق ہےصرف آج کےدن ہی صوبہ کیرالہ سےدس سے زائداحباب مناظرہ سننے آئے تھےجو سب یہ کامیابی دیکھ کر بے حد خوش ہوئے تھے۔

(ابو احمد)

(جاری ہے)

مزید پڑھیں: ویلنٹائن ڈے کاپس منظراوراس کی مناسبت سےاسلامی تعلیمات

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button