امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ جماعت احمدیہ جرمنی کی نیشنل مجلس عاملہ کے اراکین کی ملاقات
آپ لوگ صرف افسر بن کے بیٹھ جائیں گے تو کچھ بھی نہیں ہوگا۔ افسر نہ بنیں خادم بنیں۔ اور جب یہ احساس پیدا ہوگا کہ ہم خادم ہیں ، توتبھی آپ لوگ کام بھی کر سکیں گے اورتبھی آپ کے کاموں میں برکت بھی پڑے گی
مورخہ ۷؍ فروری ۲۰۲۶ء بروزہفتہ امام جماعت احمدیہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ جماعتِ احمدیہ جرمنی کی نیشنل مجلسِ عاملہ پر مشتمل اٹھائیس(۲۸) رکنی وفد کو بالمشافہ شرفِ ملاقات حاصل ہوا۔ یہ ملاقات اسلام آباد (ٹِلفورڈ) میں واقع ایم ٹی اے سٹوڈیو زمیں منعقد ہوئی۔ مذکورہ وفد نے خصوصی طور پر اس ملاقات میں شرکت کی غرض سے جرمنی سے برطانیہ کا سفر اختیار کیا۔
جب حضورِ انور مجلس میں رونق افروز ہوئے تو آپ نےتمام شاملینِ مجلس کو السلام علیکم کا تحفہ عنایت فرمایا۔
ملاقات کے آغاز میں حضورِ انور نے تمام شرکاء کو ماسک اُتارنے کی ہدایت فرمائی تاکہ ان کے چہرے واضح ہوں۔ پھر حضورِ انور نے فرداً فرداً حاضرین کی شناخت کی اور ان کے شعبہ جات بتائے۔

بعدازاں حضورِ انور نے فرمایا کہ وہ مجلس عاملہ کے اراکین کی باتیں سننے کی بجائے انہیں راہنمائی دینا چاہتے ہیں جس کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے۔ اس طرح سے اراکینِ عاملہ کو اپنی مفوّضہ ذمہ داریوں کو احسن رنگ میں سر انجام دینے کے حوالے سےحضورِ انور کی زبانِ مبارک سے پُرمعارف، بصیرت افروز اور قیمتی نصائح پر مشتمل راہنمائی حاصل کرنے کی توفیق حاصل ہوئی۔
سب سے پہلے حضورِ انور نے لائحۂ عمل کے جامع مطالعے اور اس کی روشنی میں اپنے فرائض کو سمجھنے کی اہمیت کو اُجاگر کرتے ہوئے توجہ دلائی کہ مجھے اُمید ہے کہ جو سیکرٹریان ہیں، انہوں نے وہ لائحہ عمل پڑھا ہوگا ، یاآپ نے اگراپنے شعبے کا نہیں پڑھا ، تو پڑھ لیں۔ آپ کو پتا ہونا چاہیے کہ آپ کے فرائض کیا ہیں۔ اس کے مطابق آپ کام کر رہے ہیں کہ نہیں کررہے۔اپنا جائزہ لیں۔
شعبہ رشتہ ناطہ کے حوالے سے حضورِ انور نے بیان فرمایا کہ مثلاً رشتہ ناطہ ہے۔ اب ماشاء الله چار پانچ سیکرٹری رشتہ ناطہ ہیں۔ رشتہ ناطہ پر جس طرح efficiently کام ہونا چاہیے یا صحیح طرح ہونا چاہیےہو رہا ہے کہ نہیں یا آپ لوگ اس کے لیےکیا کوشش کرتے ہیں۔
حضورِ انور نے اس اَمر کی جانب بھی توجہ دلائی کہ اکثر ایسی درخواستیں موصول ہوتی ہیں جن میں احمدیوں کی جانب سے جماعت سے باہر شادی کرنے کی اجازت طلب کی جاتی ہے۔ اس کے برعکس شعبہ رشتہ ناطہ کی جانب سے ایسی تفصیلی رپورٹس موصول نہیں ہوتیں کہ جن میں یہ بتایا گیا ہو کہ جماعت کے اندر احمدی لڑکوں اور لڑکیوں کے درمیان کتنے کامیاب رشتے طے کروائے گئے ہیں۔حضورِ انور نے وضاحت فرمائی کہ جب وہ اس نوعیت کی شادیوں کی اجازت دیتے ہیں تو عموماً اس کا مقصد متعلقہ افراد کو گناہ میں مبتلا ہونے سے بچانا ہوتا ہے، تاہم یہ اجازت ہمیشہ اس شرط کے ساتھ دی جاتی ہے کہ غیراز جماعت فریق مشرک نہ ہو۔
مزید برآں حضورِ انور نے نشاندہی فرمائی کہ ایسی شادیوں کے بعد مناسبfollow-up کا فقدان پایا جاتا ہے۔اسی تناظر میں ہدایت فرمائی کہ رشتہ ناطہ، تربیت اور تبلیغ کے شعبہ جات باہمی تعاون اور ہم آہنگی کے ساتھ کام کریں اور ان جوڑوں سے مستقل رابطہ قائم رکھیں۔ اور احمدی شریکِ حیات کی راہنمائی کی جائے کہ وہ اعلیٰ اخلاق اور مثالی کردار کا مظاہرہ کرے تاکہ اپنے جیون ساتھی کو احمدیت کی طرف مائل کر سکے۔ نیز شعبہ تبلیغ کو بھی چاہیے کہ غیر احمدی شریکِ حیات کے ساتھ خوشگوار اور دوستانہ تعلق قائم کرے اور ابتدا ہی سے سختی اختیار کرنے کی بجائے نرمی اور حکمت کے ساتھ انہیں اسلامی تعلیمات سےروشناس کروائے۔
پھر حضورِ انور نے شعبہ تربیت کے غیر معمولی کردار کی اہمیت کو اُجاگر کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر تربیت کا کام صحیح ہوجائے تو بہت سارے مسائل جو آپ کی جماعت میں ہیںوہ حل ہو جائیں گے۔ آپ لوگ آنکھیں بند کر لیں تو اَور بات ہے، نہیں تو اگر باریکی سے جائزہ لیں تو خدام الاحمدیہ کے صدر کو بھی پتا ہونا چاہیے، لجنہ کی صدر کو بھی پتا ہونا چاہیے اور انصاراللہ کے صدر کو بھی پتا ہونا چاہیے کہ بہت ساری کمزوریاں اور سُقم ہیں، اور تربیت کے مختلف پہلو ہیں جن کو ہم نے دیکھنا ہے اور ان کے لیے کوئی لائحہ عمل بنانا ہے جو نہیں بنایا جا رہا جس طرح ہونا چاہیے۔
بعدازاں حضورِ انور نے محض کام کی انجام دہی کو ناکافی قرار دیتے ہوئے مرتّب شدہ نتائج کو ہمیشہ پیشِ نظر رکھنے کی بابت تلقین فرمائی کہ اس لیے صرف یہ کہہ دینا کہ ہمارے اتنے لوگ ہیں، انصار اللہ نے لکھ دیا ، خدام الاحمدیہ نے لکھ دیا یا جماعت کے سیکرٹری تربیت نے لکھ دیا کہ اتنے لوگ نماز پر آجاتے ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ کُل حاضری کتنی ہے اور کتنے فیصد لوگ آتے ہیں ۔ اور اس میں کیاimprovement ہوئی ہے۔ یہ کہناکہ ہم نے سرکولر بھیجا کہ فلاں وقت میں خطبہ آ رہا ہے یا فلاں تقریر آ رہی ہے تو اس کو سنیں۔ یا ہم نے اتنے لوگوں کو سرکولر کر دیا۔ اب سرکولر تو کر دیا ، اس کا نتیجہ کیا نکلا؟ یہ بھی دیکھنے والی بات ہے۔ اصل چیز یہ نہیں ہے کہ ہم نے کر دیابلکہ اصل چیز یہ ہے کہ بعد میں اس کا نتیجہ کیا نکلا ۔
حضورِ انور نے شعبہ مال کے مسائل کے مؤثر حل کے لیے شعبہ تربیت، مبلغین سلسلہ اور دیگر جماعتی شعبہ جات میں ہم آہنگی اور احبابِ جماعت سےمضبوط رابطے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اسی طرح اگر سیکرٹری تربیت کا کام صحیح ہو، مربیان کا کام صحیح ہو، جو دوسرے متعلقہ شعبے ہیں ان کا کام صحیح ہو تو مال کا مسئلہ بھی حل ہو جائے گا۔ ان کو بھی ہر وقت شکوہ رہتا ہے ،امیر صاحب کو بھی اور سیکرٹری مال کو بھی ،کہ لوگ توجہ نہیں دیتے۔ توجہ اس لیےنہیں دیتے کہ سیکرٹری مال صاحب بھی اس وقت ان کے پاس جاتے ہیں یا ان کے متعلقہ سیکرٹری مال اس وقت جاتے ہیں کہ جب چندہ لینا ہو۔ لوگوں سے ہر ایک کام میں تعلق قائم رکھناہے۔ یہ آپ کا کام نہیں کہ انتظامی لحاظ سے ہم نے جب چندہ لینا ہے تو ان کے پاس پہنچ گئے۔ ویسے بھی آپ کا ایک دوستانہ ماحول ہونا چاہیے اور ہر جماعت میں آپ کیapproach ہونی چاہیے۔ آپ کو پتا ہونا چاہیے کہ فلاں جماعت میں اتنے لوگ ہیں، اتنے لوگ اچھے کھاتے پیتے ہیں، اتنے لوگ صحیح شرح سے چندہ دینے والے ہیں، اتنے لوگ نہیں دینے والے اور اگر نہیں دینے والے تو ان کی وجوہات کیا ہیں۔ جائز مجبوریاں ہیں یا صرف بہانے ہیں۔ جائز مجبوریاں ہیں تو ہم نے ان سے کس طرح ہمدردی کرنی ہے۔ اگر بہانے ہیں تو ان کو کس طرح سمجھانا ہے۔ یہ ساری چیزیں کرنا سیکرٹری مال کا بھی کام ہے اور تربیت کا کام بھی ہے۔
مزید برآں حضورِ انور نے وقفِ جدید اور تحریکِ جدید کے شعبہ جات کی جانب سے سال کے اختتام پر اضافی وصولی کے ضمن میں مساعی کو قابلِ تحسین قرار دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ تحریک جدید ہے، وقف ِجدید ہے، وہ اس وقت لوگوں کے پاس جاتے ہیں کہ جب سال کے آخر میں آپ نے اپنا چندہ پورا کرنا ہوتا ہے یا بجٹ پورا کرنا ہے کہ آپ نے اتنا ادا کر دیا ہے، بڑی اچھی بات ہے ، اب میرا خیال ہے آپ کے پاس توفیق ہے اورآپ مزید اب دے دیں، تو وہ مزید آپ کو دے دیتے ہیں۔
اسی پسِ منظر میں حضورِ انور نے توجہ دلائی کہ سیکرٹری مال صاحب کاکام ہے کہ وہ اتنےefficient ہوں کہ جس طرح تحریکِ جدید اور وقف ِجدید والے لوگوں کے پاس چندہ بڑھانے کے لیے approachکرتے ہیں ، اس طرح آپ لوگ بھی approach کریں۔ آپ کے مختلف جماعتوں میں جو respective سیکرٹری مال ہیں ان سے آپ کا ذاتی رابطہ ہو، پتا ہو کہ کیا کیا انہوں نے کام کیے ہیں اور ہر مہینے ان کی رپورٹ آرہی ہو۔
پھر حضورِ انور نے سیکرٹری مال آمد سے مخاطب ہوتے ہوئے وقفِ جدید اور تحریکِ جدید کے شعبہ جات کی طرز پر مؤثر اور منظّم انداز میں کام کرنے کی ضرورت کی جانب توجہ دلائی کہ آپ کا کام ہے کہ ہر ایک تک جائیں۔ جس طرح وقفِ جدید والے اور تحریکِ جدید والے دَورے کرتے ہیں اس طرح آپ لوگوں کو بھی پتا ہونا چاہیے۔ آپ لوگوں کو ہر ایک کے بارے میں معلومات ہونی چاہئیں، ان سے واقفیت ہونی چاہیے اور ان کو چندے کی اہمیت بتانی چاہیے۔
حضورِ انور نے یاد دلایا کہ مَیں نے پچھلی دفعہ بھی کسی میٹنگ میں کہا تھا کہ اگر چندہ صحیح طور پر ادا ہو رہا ہو تو بہت ساری تحریکات جاری کرنے کی ضرورت ہی نہیں ۔
جرمنی میں حالیہ بینکاری مسائل کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے حضورِ انور نے اراکینِ مجلس عاملہ کو متنبہ فرمایا کہ وہ محض بینکوں کو موردِ الزام نہ ٹھہرائیں بلکہ اپنی کمزوریوں کو بھی پہچانیں اور ان کی اصلاح کی طرف توجہ دیں۔ حضورِ انور نے انتظامی نظم و ضبط اور طریقہ کار کی مکمل پابندی پر غیر معمولی توجہ دینے کی ہدایت فرماتے ہوئے اس اَمر پر زور دیا کہ تمام ذمہ داریاں مقررہ عہدیداران کے ذریعے ہی ادا کی جائیں، جبکہ کسی بھی قسم کے شارٹ کٹ یا غیر رسمی انتظامات سے گریز کیا جائے۔نیز توجہ دلائی کہ جب نظام منظّم انداز میں نہیں چلایا جاتا تو غلط فہمیاں پیدا ہو سکتی ہیں اور اعتماد متاثر ہو سکتا ہے۔ اس لیے عاملہ کو شفافیت، مؤثر نگرانی اور تسلسل کو یقینی بنانا چاہیے۔
اسی طرح حضورِ انور نے توجہ دلائی کہ احبابِ جماعت کی راہنمائی کی جائے کہ وہ تمام تحریکات میں مالی قربانی کی اہمیت کو سمجھیں اور نظامِ وصیت میں مالی قربانی کے معیار کو بھی بہتر بنایا جائے۔
خدمت کے جذبے کی اہمیت اور افسرانہ طرزِ عمل سے اجتناب کی بابت حضورِ انور نے تاکیدی ارشاد فرمایا کہ آپ لوگ صرف افسر بن کے بیٹھ جائیں گے تو کچھ بھی نہیں ہوگا۔ افسر نہ بنیں خادم بنیں۔ اور جب یہ احساس پیدا ہوگا کہ ہم خادم ہیں ، توتبھی آپ لوگ کام بھی کر سکیں گے اورتبھی آپ کے کاموں میں برکت بھی پڑے گی۔
حضورِ انور نے شعبہ امور عامہ کو محض معمولی کیسز تک محدود نہ رہنے اور اپنی وسیع ذمہ داریوں کے شعور کو ہمیشہ پیشِ نظر رکھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے توجہ دلائی کہ امور عامہ ہے۔امور عامہ کےشعبے میں صرف یہ کہہ دینا کہ کیس آگئے اور ہم نے نپٹا دیے، یہ تو کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ امور عامہ کاکام یہ ہے کہ آج کل بہت سارے اسائلم سیکر آ رہے ہیں، ان کے کیس پاس ہوتے ہیں یا نہیں ہوتے۔ قانون کے اندر رہتے ہوئے امور عامہ کا کام ہے، ان کو پتا ہونا چاہیے ، ان کالوگوں سے اگر رابطہ ہو کہ کس طرح ان لوگوں کی مدد کی جا سکتی ہے۔ پھر اس اَمر کا اعادہ فرمایا کہ صرف کوئی خاص کیس آ جانا اور اس کے جھگڑوں کو نپٹا دینا یا فیصلے کروا دینا یا کسی کی سزا کے لیے تعزیر کے لیے سفارش کر دینا یہی تو امورعامہ کا کام نہیں ہوتا۔ نیز حضورِ انور نے یاد دلایا کہ یہ تربیت کا بھی کام ہے۔ اگر تربیت کا شعبہ فعّال ہو، مربیان فعّال ہوں تو پھر امور عامہ کے یہ مسائل بھی حل ہو جائیں گے، مال کے مسائل بھی حل ہو جائیں گے۔ ہر سیکرٹری جو ہے وہ اپنی ذمہ داری کو سمجھے۔
بعد ازاں تمام شرکائے مجلس کو اپنے محبوب آقا کے ساتھ گروپ تصویر بنوانے کی توفیق بھی ملی۔
گروپ تصویر کے بعد حضورِ انور نے نیشنل سیکرٹری تبلیغ سے مخاطب ہو کر محض ظاہری رپورٹنگ کی بجائے حقیقی نتائج کے حصول کے لیے ٹیم کی وسعت اور مؤثر تبلیغ کی بابت عملی راہنمائی عطا فرمائی کہ صرف یہ کہ ہم نے تبلیغ کر لی ، ہمارے شعبہ تبلیغ کی رپورٹ بن گئی اورایک کریڈٹ بن گیا۔ کریڈٹ نہیں ہے، کریڈٹ وہ ہے کہ آپ نے اس کا کتنا نتیجہ حاصل کیا ہے ۔ پھر یہ کہ اپنی ٹیم کو وسیع کریں۔چند ایک کو لے کے تبلیغ نہیں ہو سکتی۔ ہر جگہ یہ پھیلائیں۔ آپ نے یہ کہا تھا کہ یہ کرو ، توہم نے کام شروع کر دیا اور ہم نے لوگوں میںawareness شروع کر دی اور یہ پیغام پہنچانا شروع کر دیا ۔ اس میں کتنے لوگ involve کیے اور اس کے نتائج کیا نکل رہے ہیں؟ یہ بھی دیکھنے والی چیز ہے۔
حضورِ انور نے موجودہ عالمی حالات کی روشنی میں خبردار کرتے ہوئے فرمایا کہ جو آجکل دنیا کے حالات ہیں وہ یہی ظاہر کر رہے ہیں کہ آپ لوگوں کو آگے آسانیاں نہیں آنی، مشکلات ہی آنی ہیں، کیونکہ جس جس طرح لوگوں کے دنیاوی حالات خراب ہوں گے، جو لوکل لوگ ہیں وہ immigrants کے بھی خلاف ہوں گے ، مذہب کے بھی خلاف ہوں گے اور خلاف ہونے کی وجہ سے جو ان کے جذبات ہیں وہ اَور زیادہ بھڑکیں گے اور اس کی وجہ سے آپ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کریں گے۔
اسی تناظر میں حضورِ انور نےمستقبل کےتقاضوں سے نمٹنے کے لیے ایک جامع حکمتِ عملی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے فرمایا کہ اس لیے آپ لوگ یہ نہ سمجھیں کہ آگے حالات بہتر ہونے ہیں، حالات خراب ہی ہونے ہیں۔اس کےلیے آپ نے کیا لائحہ عمل بنایا ہے؟ یہ امور ِعامہ کابھی کام ہے ، تربیت کا بھی کام ہے ، تبلیغ کا بھی کام ہے کہ سارے دیکھیں کہ ہم نے کیا لائحہ عمل بنایا ہے اور کس طرح ہم نے غیروں کو بھی satisfyکرنا ہے، کس طرح ہم نے اپنے لوگوں کو بھی protection دینی ہے ۔نیز ہدایت فرمائی کہ ان تمام اُمور پر عاملہ میں غور و فکر کیا جائے اور پھر امیر صاحب کو چاہیے کہ ایک پالیسی وضع کریں۔
مزید برآں حضورِ انور نے یاد دلایا کہ اگر آپ قواعد پڑھیںتو ان میں ساری باتیں لکھی ہوئی ہیں کہ ہر ایک سیکرٹری کو پتا ہونا چاہیے کہ کس کس کے کیا قواعد ہیں ، تو ان کو پتا ہو اوراس کے مطابق کام کر رہے ہوں تو بڑے مسائل حل ہوسکتے ہیں۔
حضورِ انور نے مشنری انچارج صاحب سے مخاطب ہوتے ہوئے مبلغین کے جرأت مندی، انکساری اور اخلاص کے ساتھ اپنی خدمت انجام دینے کی بابت ہدایت فرمائی کہ کسی مخصوص جگہ پر اگر کوئی مربی بہت اچھا کام کر رہا ہے تویہی کام دیگر جگہوں پر بھی ہونا چاہیے۔ یہ مشنری انچارج کی ذمہ داری ہے کہ وہ دیگر مربیان کو بھی اتنی جرأت پیدا کروائیں کہ وہ بھی جرأت پیدا کریں ۔ ان کا علم بھی ہو ، پھر یہ بھی نہیں ہے کہ مربیوں کے اس پر دماغ بڑے اُونچے ہو جائیں۔ ان کو یہ ہوجائے کہ ہم نے خدمت کرنی ہے، ہمیں اللہ تعالیٰ خدمت کا موقع دے رہا ہے تو اس کے لیے ہم نے کوشش یہ کرنی ہے کہ بہتر نتائج حاصل کریں اور لوگوں سے تعاون کریں۔
حضورِ انور نے تاکید فرمائی کہ مزید لوگوں کو اپنی ٹیم میں شامل کریں اور لوگوں سے تعاون لیں۔یہ جو ہوتا ہے کہ صرف میرا نام آ جائے دوسرے کا نام نہ آئے یہ بھی غلط ہے۔ ایسے مربیان بھی بڑھائیں۔
ایک مرتبہ پھر سیکرٹری تبلیغ سے مخاطب ہوتے ہوئے، حضورِ انور نے محض ایک ہی پہلو پر توجہ مرکوز کرنے کی بجائے تبلیغی کام میں وسعت پیدا کرنے، ہر علاقے میں ٹیم کو بڑھانےاور خدمت کے مختلف طریقوں کو مدنظر رکھنے کی بابت ہدایت فرمائی کہ آپ اپنی تبلیغ کی ٹیم بڑھائیں اور ہر علاقے میں بڑھائیں۔ ایسٹ، ویسٹ جرمنی میں مختلف سوچ کے لوگ رہتے ہیں۔ویسٹ میں مختلف لوگ رہتے ہیں ، سینٹر میں مختلف لوگ رہتے ہیں، ہر ایک کی سوچ کے مطابق ٹیمیں ہوں اور لائحہ عمل ہو ۔ یہ نہیں کہ ایک چیز کو آپ نے پکڑ لیاکہ آپ کا یہ حکم تھا کہ اس طرح پیغام پھیلاؤ اور تبلیغ کرو تو اس کو لے کے ہم نے اتنے پمفلٹ دے دیے۔ یہ تو کوئی بات نہیں ہے، مختلف طریقے ہوتے ہیں ، خدمت کے بھی طریقے ہیں۔
ہنگامی حالات میں خدمات پیش کرنے اور تبلیغی مواقع سے بھرپور فائدہ اُٹھا کر زیادہ سے زیادہ نتائج حاصل کرنے کی بابت حضورِ انور نے ایک حالیہ واقعے کی روشنی میں توجہ دلائی کہ اب برلن میں بجلی فیل ہو گئی ۔ پینتالیس ہزار بندہ متأثر ہو گیا۔ اس پر ہیومینٹی فرسٹ نے کچھ کام کیا ، روٹی کھلائی اور لوگوں نے اس کو بڑاappreciateکیا۔ انہوں نے یہ کام کیا، تو وہاں امور ِعامہ کا اور آپ لوگوں کا کام بھی تھا کہ وہاں آپ کی ٹیم بھی جاتی یا ان کے ساتھ مل کر کام کرتی یا اپنے طور پر ان کی مدد کرتی یا بتاتے کہ ہم سارے احمدی ہیں اور احمدیت کی وجہ سے یہ کام ہو رہے ہیں۔
اسی حوالے سےمختلف شعبہ جات کی مشترکہ ذمہ داری اور فعّال کردار ادا کرنے کے ضمن میں مزید فرمایا کہ تو مشنری انچارج کا بھی کام ہے، مبلغین کا بھی کام ہے، تبلیغ کا بھی کام ہے اور اُمور عامہ کا بھی کام ہے۔ ایسے موقعوں سے فائدہ اُٹھایا کرتے ہیں تاکہ آپ زیادہ سے زیادہ بہتر نتائج حاصل کرسکیں۔اگر دنیا والے ان کوappreciateکر سکتے ہیں تواس کا مطلب ہے کہ لوگوں میں ابھی اس طرف ایک رجحان ہے کہ اگر ہماری کوئی مدد کرے گا توہم نے appreciateکرنا ہے۔ تو مواقع کی تلاش میں ہونا اور اس کو موقع پر استعمال کرنا اور پھر ایک وقف کی روح کے ساتھ اور خدمت کے جذبے کے ساتھ کام کرنا ، توپھر کام ہوتے ہیں اور نتائج پیدا کرتے ہیں۔
علاوہ ازیں حضورِ انور نے فرمایا کہ آپ کے پاس تو پوری جماعت کی ٹیم ہے ، آپ لوگ وہاں کیوں نہیں گئے؟ اگر کیا ہے تو بڑی اچھی بات ہے ۔ لیکن جس طرح کرنا چاہیے تھا ، میری رپورٹ کے مطابق اس طرح نہیں کیا۔اس سے بہت بہتر آپ کر سکتے تھے۔ اسی طرح یاد دلایا کہ آپ کو اسمبلی میں بھی بلایا گیا، ممبر آف پارلیمنٹ ہیں، کونسلرز ہیں ، انہوں نےappreciateکیا ، اورلوگوں نے بھیappreciateکیا۔ اپنی طرف سے جو بھی ان کا طریقہ ہے، اس طرح سےانہوں نے آپ کام کرنے والوں کو دعائیں بھی دیں ۔
آخر میں مختصر وقت میں مؤثر نتائج حاصل کرنے کی بابت حضورِ انور نےفرمایا کہ سو اس میں اگر آپ زیادہ حصّہ ڈالتے تو کام اَور وسیع ہو جاتا اور تھوڑے وقت میں زیادہ کام ہو جاتا اور اس کو آپ وسعت دے سکتے تھے۔
سیکرٹری تعلیم القرآن و وقفِ عارضی سے حضورِ انور نے مختصر گفتگو کرتے ہوئے انہیں باقاعدگی سے قرآنِ مجید کی تلاوت کرنے اور وقفِ عارضی میں حصّہ لینے والوں کی تعداد بڑھانے کی بابت توجہ دلائی۔
حضورِ انور نے سیکرٹری وقفِ نَو سے بات کرتے ہوئے ہدایت فرمائی کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کی عمریں پندرہ اور اکیس سال تک پہنچنے پر ان کے وقف کی باضابطہ تجدید کروائی جائے۔ واقفینِ نَو کے لیے بھی ان کو آرگنائز کریں۔اس کی مزید ضرورت ہے اور ان کی تربیت کی طرف بھی توجہ دیں۔ پچھلی دفعہ بھی مَیں نے کسی اور کو کہا تھا کہ وقفِ نَوصرف ٹائٹل نہیں ہے، وقفِ نَو کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ وقفِ نَو کی طرف توجہ ہوگی تو بہت سارے آپ کے تربیت کے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ اگرآپ جائزہ لیں تو عام طور پر وقفِ نَوکے اخلاقی اور دینی ، روحانی، علمی معیار کا اور دوسرے لوگوں کا کوئی خاص فرق نہیں، بلکہ بعض دوسرے ان سے بہتر ہیں حالانکہ آپ لوگوں کے وقفِ نَو زیادہ بہتر ہونے چاہئیں۔تواس طرف توجہ دیں۔ اب نئے سیکرٹری وقفِ نَو بنے ہیں تو ایک نئی روح کے ساتھ کام شروع کریں ۔
آخر میں حضورِ انور نے سیکرٹری اُمور خارجہ سے بات کرتے ہوئے اِن کی جانب سے ۱۴۲؍ اراکینِ پارلیمنٹ سے ملاقاتوں کے تناظر میں ،اُن سب کے ساتھ جامع تعلقات اُستوار کرنے کی ترغیب دلائی۔
ملاقات کے اختتام پر تمام شرکائے مجلس کو حضورانور کے دستِ مبارک سے قلم بطورتبرک حاصل کرنے کی سعادت بھی نصیب ہوئی۔ یہ روح پرور نشست حضورانور کے دعائیہ کلمات ’’السلام علیکم‘‘پر بخیر و خوبی اختتام پذیر ہوئی۔
٭…٭…٭




