حضور انور کے ساتھ ملاقات

امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ احمدیہ مسلم ویمن سٹوڈنٹس ایسوسی ایشن(AMWSA)سویڈن کی طالبات کےایک وفد کی آن لائن ملاقات

جہاں دنیا کی راہنمائی کریں ، وہاں اپنی آئندہ نسلوں کی بھی راہنمائی کریں اور تربیت کریں، اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کی راہنمائی اور تربیت کریں اور اپنے ماحول کی راہنمائی کریں تاکہ اسلام کا حقیقی پیغام ہر جگہ تک پہنچ سکے۔ تو AMWSA کی کوشش یہ ہونی چاہیےکہ جہاں سیکولر ایجوکیشن کو بڑھانے میں ترقی کر رہی ہیں وہاں دینی علم کو بڑھانے میں بھی ترقی کریں

مورخہ ۸؍فروری ۲۰۲۶ء بروزاتوار امام جماعت احمدیہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ احمدیہ مسلم ویمن سٹوڈنٹس ایسوسی ایشن(AMWSA)سویڈن کی سکولز اور یونیورسٹیز میں زیرِ تعلیم طالبات کےبیاسی(۸۲) رکنی وفد کو آن لائن شرفِ ملاقات حاصل ہوا۔ حضورِ انور نےاسلام آباد (ٹِلفورڈ) میں واقع ایم ٹی اے سٹوڈیوز سے صدارت فرمائی جبکہ مذکورہ وفد اس ملاقات میں شرکت کی غرض سےمسجد ناصر گوتھن برگ، سویڈن میں جمع تھا۔

جب حضورِ انور مجلس میں رونق افروز ہوئے تو آپ نےتمام شاملینِ مجلس کو السلام علیکم کا تحفہ عنایت فرمایا۔ملاقات کا باقاعدہ آغاز تلاوتِ قرآنِ کریم مع اُردو ترجمہ سے ہوا۔

بعدازاں حضورِ انور نےصدر صاحبہ AMWSAسے مخاطب ہو تے ہوئے شرکائے مجلس کی بابت استفسار فرمایا کہ ان میں سے کتنی سیکنڈری یا پری یونیورسٹی اور یونیورسٹی میں زیرِ تعلیم ہیں۔ طالبات کے اپنے تعلیمی درجات کی نشاندہی کے لیے ہاتھ بلند کرنےپر یہ تصدیق ہوئی کہ ہال میں کُل حاضری ۸۲؍ہے۔

مزید برآں دورانِ ملاقات شاملینِ مجلس کو حضورانور کی خدمت میں مختلف سوالات پیش کرنے نیز ان کے جوابات کی روشنی میں حضورانور کی زبانِ مبارک سے پُرمعارف، بصیرت افروز اور قیمتی نصائح پر مشتمل راہنمائی حاصل کرنے کی سعادت بھی نصیب ہوئی۔

ایک طالبہ نے درخواست کی کہ برائے کرم راہنمائی فرمائیں کہ آئندہ آنے والے سالوں میں کس سمت میں AMWSAکو کام کرنا چاہیے اور کن باتوں پر توجہ دینی چاہیے تاکہ لجنہ دینی اور دنیاوی دونوں میدانوں میں ترقی کرسکیں اور جماعت کی ذمہ دار خادمہ بن سکیں؟

اس پر حضورِ انور نے طالبات کی ہمہ جہت ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلاتے ہوئے واضح فرمایا کہ جو نصیحتیں مردوں کے لیے ہیں وہ عورتوں کےلیے ہیں۔ جو کام مردوں نے کرنے ہیں وہ عورتوں نے کرنے ہیں اور جو AMSAسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن لڑکوں کی ہے اور وہ کام کر رہی ہے وہ آپ لوگوں نے کرنا ہے۔

حضورِ انور نے دنیاوی اور دینی تعلیم کے باہمی توازن کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے طالبات کو تلقین فرمائی کہ پہلے تو یہ ہے کہ جہاں دنیاوی علم حاصل کر رہے ہیں، جس جس subject میں آپ لوگ پڑھ رہے ہیں، یونیورسٹی میں گریجوایشن کر رہے ہیں یا پوسٹ گریجوایشن کر رہے ہیں یا پی ایچ ڈی کر رہے ہیں، اس میں آپ کو excel کرنا چاہیے۔زیادہ سے زیادہ کوشش کریں کہ آپ لوگ top پرجائیں تاکہ آپ لوگوں کا نام ہو اور جب نام ہو گاتو لوگ پوچھیں کہ تم مسلمان ہو اور پھر تم نے اتنی محنت کی ہے۔ تو بتاؤ کہ ہم مسلمان ہیں اور ہماری دینی تعلیم کا یہ حصّہ ہے کہ علم حاصل کریں اور آنحضرت صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ آدھا علم، جو دین کا علم ہے، تو وہ عائشہ رضی الله عنہا سے حاصل کرو۔ اس کا مطلب ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کوایک مقام دیا ، وہی مقام آپ لوگوں کو پیدا کرنا ہوگا کہ دنیاوی علم کے ساتھ ساتھ دینی علم حاصل کریں ۔

اسی طرح حضورِ انور نے طالبات پر عائد ہونے والی وسیع ترذمہ داریوں کی جانب توجہ مبذول کرواتے ہوئے آئندہ نسلوں، خاندان اور معاشرے کی اصلاح و تربیت میں ان کے مؤثر کردار پر زور دیتے ہوئے فرمایا کہ پھر جہاں دنیا کی راہنمائی کریں ، وہاں اپنی آئندہ نسلوں کی بھی راہنمائی کریں اور تربیت کریں، اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کی راہنمائی اور تربیت کریں اور اپنے ماحول کی راہنمائی کریں تاکہ اسلام کا حقیقی پیغام ہر جگہ تک پہنچ سکے۔ تو AMWSA کی کوشش یہ ہونی چاہیےکہ جہاں سیکولر ایجوکیشن کو بڑھانے میں ترقی کر رہی ہیں وہاں دینی علم کو بڑھانے میں بھی ترقی کریں۔

اسی تسلسل میں حضورِ انور نے عصرِحاضر کے تقاضوں کے پیشِ نظر تبلیغ کے جدید اور حکیمانہ طریقوں کی طرف توجہ دلاتے ہوئے تلقین فرمائی کہ اس کے لیے پھر یہ بھی ہے کہ تبلیغ کے مختلف مواقع پیدا کرنے چاہئیں۔براہِ راست تبلیغ نہیں بھی کرنی ۔ آجکل لوگوں کو اس سے کوئی تعلق نہیں کہ مذہب کیا چیز ہے۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام کیا چیز ہیں۔ ان ملکوں میں تو دنیاداری زیادہ آگئی ہے۔ اس لیےسیمینار کریں، مختلف ٹاپک پر اپنی یونیورسٹیوں میں سیمینار آرگنائز کریں یا پھر اپنی کسی ایسی جگہ پرکریں کہ جہاں آپ لوگ اپنے غیر مسلموں کو بھی بلا سکیں، وہاں کوئی ٹاپک پر، جو دنیاوی ٹاپک ہے، سائنس کا کوئی ٹاپک ہے یا ہسٹری کا کوئی ٹاپک ہے، تو اس پر بات کریںتو لوگوں کو دلچسپی پیدا ہوگی۔ وہ آپ کی باتیں سنیں گے۔ پھر آگے بات سے بات نکلے گی۔ اس طرح آپ کاتعارف بھی بڑا ہوگا اور تبلیغ کے مواقع بھی پیدا ہوں گے اور یہی کام آپ لوگوں کا ہے کہ اپنی پہچان کرائیں اور اسلام کی حقیقی تصویر لوگوں کو دکھائیں کہ یہ صحیح اسلام کی تصویر ہے کہ جو ہم پیش کر رہے ہیں اور یہ اسلام کی تعلیم ہے۔

ایک شریکِ مجلس نے عرض کیا کہ ہم خلفاء کے خطبات میں سنتے ہیں کہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی صفات اپنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی کچھ صفات ایسی ہیں، جو صرف اس کی شان کے لائق ہیں جیسا کہ المتکبر ۔تو انسان کیسے سمجھے کہ کون سی صفات کے اثرات اپنائے اور کن کے سامنے عاجزی سے رُک جانا چاہیے؟

اس پر حضورِ انور نےقرآنِ کریم کی تعلیم کی روشنی میں انسان کے لیے اعلیٰ اخلاقی اوصاف اپنانے کی اہمیت بیان کرتے ہوئے توجہ دلائی کہ اللہ تعالیٰ نے تو قرآنِ شریف میں سورۂ بقرہ میں ہی کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے رنگ اختیار کرو۔ تو اس کا مطلب یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صفات کا حامل بننا چاہیے۔ انسان وہ تو نہیں بن سکتا کہ جو اللہ تعالیٰ کی اعلیٰ شان ہے۔

اسی ضمن میں حضورِ انور نے اللہ تعالیٰ کی صفات اور انسانی اوصاف کے باہمی فرق کو واضح کرتے ہوئے مثال کے طور پر صفتِ شکور کا ذکر کرتے ہوئے اس کے عملی مفہوم کی وضاحت فرمائی کہ اللہ تعالیٰ کی جو صفات ہیں، وہ انسانوں میں جب آتی ہیں، تو وہ بدل جاتی ہیں۔ مثلاً اللہ تعالیٰ شکور ہے۔ اللہ تعالیٰ تو کسی بندے کا شکر ادا نہیں کر سکتا۔ تووہاں شکور کا مطلب یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی قدر کرتا ہے جو اس کے حکموں کو مانتے ہیں۔ لیکن جہاں بندے کے معاملے میں شکور آئے گاتو وہاں یہ ہے کہ جب تمہارے ساتھ کوئی احسان کرے تو اس کا شکریہ ادا کرو ۔صفت تو ہو جاتی ہے لیکن مطلب بدل جاتا ہے ۔

مزید برآں حضورِ انور نے صفتِ کبریائی پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی بہت زیادہ بڑائی ہے ۔ اللہ تعالیٰ بہت بڑا ہے اور اس تک کوئی پہنچ نہیں سکتا، تو تمہارے اندر بھی اتنا حوصلہ ہونا چاہیے اور اپنے اندر وہ بڑائی پیدا کرو کہ عاجزی کے ساتھ تمہارے اندر بڑائی پیدا ہو کہ ذرا سی چھوٹی چھوٹی باتوں پر رنج نہ پیدا ہو، لوگوں سے لڑائیاں نہ کرو، رنجشیں دل میں نہ رکھو۔ وسعتِ حوصلہ پیدا کرو، وسعت ِحوصلہ پیدا کرنا بھی ایک بڑائی ہے۔تو یہاں انسان کے لیے اَور رنگ پیدا ہو جائے گا۔

جواب کےآخر میں حضورِ انور نے اس بات پر زور دیا کہ سو اپنے آپ کو اپنے ماحول میں وہ ثابت کرنے کی کوشش کرو جو اللہ تعالیٰ کے اعلیٰ صفات ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے رنگ میں رنگین ہونے کا مطلب اللہ تعالیٰ کی بڑائی ہے۔

ایک لجنہ ممبر نے راہنمائی کی درخواست کی کہ یاجوج ماجوج سے متعلق پیشگوئیوں کو موجودہ سیاسی صورتحال کی روشنی میں خصوصاً ڈنمارک امریکہ اور گرین لینڈ کے حوالے سے احمدی مسلمان کس طرح سمجھیں ؟

اس پر حضورِ انور نے عالمی حالات کے تناظر میں مختلف خطّوں میں جاری تنازعات کا ذکر کرتے ہوئےفرمایا کہ سوال یہ ہے کہ چاہے گرین لینڈ کا معاملہ ہو یا فلسطین کا معاملہ ہو یا کسی اور اسلامی ملک کا معاملہ ہو یا ایران کا معاملہ ہو یا یوکرین کا معاملہ ہو یا کہیں کا بھی کوئی معاملہ ہو جہاں فساد پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، وہاں یہ لوگ بڑی طاقتیں جو ہیں وہ اپنے آپ کو سب کچھ سمجھتی ہیں۔ تو یہ تو دجّالی طاقتیں ہیں یہ پھیلاؤ پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔

اسی سلسلۂ کلام کو آگے بڑھاتے ہوئے حضورِ انور نے اسلامی دنیا کی کمزوریوں اور بیرونی طاقتوں پر انحصار کی نشاندہی کرتے ہوئے یاجوج ماجوج اور دجّال کے فتنے کے حوالے سے اسلامی پیشگوئیوں کا ذکر فرمایا کہ اسی طرح جس طرح عرب ملکوں میں اور عرب مسلمانوں کو ہوش نہیں آ رہی کہ کیا کریں، وہ ان سے ہی اسلحہ لیتے ہیں، ان ہی کی جھولی میں جاکے گرتے ہیں، ان سے ہی دوستیاں لگاتے ہیں اور وہ لوگ یاجوج ماجوج کی خود مدد کر رہے ہیں ۔ تو اس لیے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام آئے تھے اور اس دجل کو جو یاجوج ماجوج نے کرنا تھا ،یہی دجال ہے ، حدیثوں میں انہی کو دجّال کہا گیا ہے ، تو یہی دجّال ہے، جو دجل سے دنیا پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں اور دنیا میں اپنی supremacy قائم کرنا چاہتے ہیں ۔ اس کے لیے ہمیں دعا کرنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ان کے شرّ سے بچائے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰ ة والسلام جس مقصد کو لے کے آئے تھے اس کو ہم پھیلائیں۔

بعدازاں حضورِ انور نے موجودہ عالمی فتنہ و فساد کے مقابلے کے لیے جماعت کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلاتے ہوئے تبلیغِ اسلام اور عملی نمونہ پیش کرنے کی اہمیت پر زور دیا کہ یہ چیزیں دیکھ کر تو ہماری اس طرف زیادہ توجہ پیدا ہونی چاہیے کہ ہم اپنے تبلیغ کے کام کو پھیلائیں اور اسلام کی حقیقی تعلیم مسلمانوں میں بھی بتائیں اور غیر مسلموں کو بھی بتائیں تاکہ اس سے ہم بچ سکیں۔ اب یہ تو انتہا پرپہنچ چکے ہیں۔ اس حدّ تک اب یہ یاجوج ماجوج کی آپس کی لڑائیاں بھی ہیں اور دنیا پر قبضے کرنے کے لیےبھی ہیں، مسلمانوں کو زیرِ نگین کرنے کےلیے بھی ہیں ۔ سو یہ ایک فتنہ و فساد دنیا میں پیدا ہوا ہوا ہے۔ اس کے لیےہمیں کوشش کرنی چاہیے اور اس کا ردّ کس طرح ہم کر سکتے ہیں کہ ہم لوگوں کو زیادہ سے زیادہ اسلام کی تعلیم اپنے عمل سے بھی دکھائیں اور اسلام کاپیغام بھی پہنچائیں اور لوگوں کو کہیں کہ اگر دنیا میں امن چاہتے ہو، اگر دنیا کو فساد سے بچانا چاہتے ہو ، اگر اپنی اور اپنی نسلوں کو تباہی سے بچانا چاہتے ہو تو پھر ان چیزوں سے بچ کے رہو۔

مزید وضاحت کرتے ہوئے حضورِ انور نے بعض حالیہ عالمی سیاسی اقدامات کی مثال دیتے ہوئے خبردار فرمایا کہ اب ایک لحاظ سے تو گرین لینڈ پر امریکہ نے قبضہ کر لیا۔ ان کو کہہ دیا کہ وہاں ہم ایک ایئر بیس بنائیں گے ۔ اتنا حصّہ جو ہوگا وہاں ہماری حکومت ہوگی۔ اب ایک ٹکڑا دے دیا۔ دجّال نے تو ایک ٹکڑا اس کو دے دیا ، اگلا وہ قدم آپ ہی بڑھائے گا ، وہ پھیلتا جائے گا۔ تو وہ تو ان کے آپس میں فساد ہیں اور مسلمانوں کے خلاف بھی فساد ہیں۔ نیز یاد دلایاکہ ان فسادوں کو دُور کرنا اب آپ کا کام ہے۔ آپ ذوالقرنین کے ماننے والے ہیں۔حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام ذوالقرنین تھے، اس کو ماننے والے آپ ہیں، تو پھر اس کا پیغام پہنچائیں۔

پھرحضورِ انور نے احبابِ جماعت کو قرآنِ کریم، سیرتِ نبوی صلی الله علیہ وسلم اور دعا کے ساتھ مضبوط تعلق قائم کرنے کی تلقین کرتے ہوئے نیک اعمال کو اپنانے کی طرف خاص توجہ دلائی کہ قرآنِ کریم کی تعلیم بھی پڑھیں ،تفسیر بھی پڑھیں اور دعائیں بھی کریں۔اللہ سے تعلق بھی پیدا کریں۔ آجکل اس لیے مَیں خطبے بھی دے رہا ہوں ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت اس لیے تو بیان ہوتی ہے کہ ہم اس پر عمل کرنے والے ہوں کہ اللہ تعالیٰ سے محبّت کی طرف بھی توجہ ہو اور دعا کی طرف بھی توجہ ہو اور ہمارے عمل بھی نیک ہوں۔

جواب کےآخر میں حضورِ انور نے مستقبل میں اپنے خطبات اور خطابات کے سلسلے میں راہنمائی کی بابت عندیہ دیا کہ آئندہ ان شاء اللہ موقع ملے گا تو نیک عملوں کی طرف بھی توجہ دلائی جائے گی کہ ہر معاملے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کیا سیرت تھی اوراس پر اس طرح ہم نے عمل کرنا ہے۔

ایک طالبہ نے اظہارِ تشویش کرتے ہوئے عرض کیا کہ کچھ احمدی نوجوان تعلیم کے سلسلے میں بیرونِ ملک جاتے ہیں، لیکن ویزے کے مسائل یا مالی مشکلات کی وجہ سے اپنی تعلیم مکمل نہیں کر پاتے اور اکثر معمولی کاموں پر اکتفا کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں راہنمائی کی درخواست ہے کہ ایسے نوجوانوں کو اعلیٰ تعلیم کی طرف واپس آنے کی ترغیب دینے کے لیے کیا جاسکتا ہے؟

اس پرحضورِ انور نے پہلے اس معاملے کا سیاق و سباق واضح کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ مسئلہ عموماً کم آمدنی والے ممالک سے زیادہ ترقی یافتہ ممالک کی جانب تعلیم کے لیے ہجرت کرنے والے طلبہ سے متعلق ہے، نہ کہ وہ طلبہ جو پہلے ہی سویڈن میں مقیم ہیں۔ اسی طرح اس حقیقتِ حال پر بھی روشنی ڈالی کہ بعض طلبہ حقیقی مالی مشکلات کا سامنا کرتے ہیں جبکہ کچھ ایسے بھی ہیں جو سٹوڈنٹ ویزا کو ایک ذریعہ سمجھ کر آتے ہیں تاکہ پناہ لینے یا جلدی سے پیسہ کمانے کے مواقع تلاش کریں۔

مزید برآں حضورِ انور نے فرمایا کہ باصلاحیت اور مخلص طلبہ عموماً اپنی تعلیم جاری رکھنے کا راستہ تلاش کر لیتے ہیں، خواہ انہیں اس دوران پناہ کی درخواست کے عمل کے مکمل ہونے تک تعلیم میں توقف کرنا پڑے۔

جواب کے آخر میں حضورِ انور نے واضح فرمایا کہ جماعت بھی جہاں ممکن ہو، باصلاحیت طلبہ کی فیس میں مدد فراہم کرتی ہے۔ تاہم چونکہ کچھ لوگ صرف بیرونِ ملک مستقل رہائش کے لیے سٹوڈنٹ ویزے کا غلط استعمال کرتے ہیں اس لیے بعض حکومتوں نے سخت رکاوٹیں متعارف کرائی ہیں، جو بدقسمتی سے حقیقی اور مخلص طلبہ پر بھی اثر انداز ہوتی ہیں۔

ایک نویں جماعت کی طالبہ نے سوال کیا کہ ایک مسلمان ہونے کے ناطے ممکنہ تیسری جنگِ عظیم سے کیسے بچا جا سکتا ہے اور جب دنیا اتنی غیر مستحکم لگ رہی ہے تو مستقبل کے لیے منصوبہ بندی کرنا کس حد تک درست ہے؟

اس پر حضورِ انور نے حقیقی ایمان اور الله تعالیٰ سے محبّت رکھنے والوں کے لیے ہر آزمائش اور خطرے میں الله تعالیٰ کے فضل کی بدولت محفوظ رہنے کی بابت اصولی راہنمائی عطا فرمائی کہ چاہے وہ مسلمان ہو یا غیر مسلم، یہاں جب بم پڑنا ہے تو اس نے یہ تو نہیں دیکھنا کہ کون مسلمان ہے اور کون نہیں ہے۔ ہاں! کم نقصان ہوگا، جو حقیقی مسلمان ہیں، جو احمدی ہیں ، جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام نے جنگوں کے بارے میں فرمایا ہے ؂

آ گ ہے پر آگ سے وہ سب بچائے جائیں گے

جو کہ رکھتے ہیں خدائے ذوالعجائب سے پیار

اگر اللہ تعالیٰ سے پیار ہےتو اس آگ سے اللہ میاں تم لوگوں کو بچا لے گا۔ اور اگر نہیں تو جس طرح باقی یہ پس رہے ہیںہم لوگ بھی اس میں پس جائیں گے۔

اسی طرح حضورِ انور نے تعلق بالله میں ترقی کرنے اور الله تعالیٰ کے فضلوں کے حصول کے ضمن میں توجہ دلائی کہ اس لیےہمیں اللہ تعالیٰ سے تعلق زیادہ پیدا کرنا چاہیے تاکہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو حاصل کرنے والے بنیں۔ من حیث الجماعت اللہ تعالیٰ ان شاءاللہ بچائے گا ، لیکن انفرادی طور پر بعض نقصان بھی ہو سکتے ہیں۔ سو اس کے لیے ہمیں اللہ تعالیٰ سے تعلق پیدا کرنا چاہیے تاکہ اللہ تعالیٰ اوّل تو ہمیں بچائے ۔ نہیں تو کم از کم اگر کوئی ایسا موقع آئے بھی تو پھر اللہ تعالیٰ ہم سے راضی ہو ۔

مزید برآں حضورِ انور نے دنیاوی بے چینی اور غیر یقینی حالات کے باوجود حقیقی مقصدِ زندگی کی طرف راہنمائی فرمائی کہ اور اگر یہ دنیا unstable ہو رہی ہےتو دنیا سے پھر دنیا والے تو محبّت کرتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثیں ابھی پچھلے دنوں مَیں نے خُطبوں میں سنائیں کہ آپؐ نے کہا کہ میرا دنیا سے کیا لینا دینا۔ ہاں! دنیا کو اللہ تعالیٰ نے نعمتیں دی ہیںان سے فائدہ اُٹھانا چاہیے اور اس کے مطابق پلان کرنا چاہیے۔اور دنیا میں انسان کا جو مقصد ہے، احمدی مسلمان جو ہیں ، ہمیں اس مقصد کو سمجھنا چاہیے اور پورا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے، اور وہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا اس کا شکر گزار بندہ بننا اور اس کی باتوں پر عمل کرنا، اس کے بندوں کے حق ادا کرنا۔ یہ ساری چیزیں اگر ہم کریں گے تو ہم اس سے بچ کے بھی رہیں گے اور اسی نظریے سے ہم پلاننگ بھی کرتے رہیں گے۔

اسی تسلسل میں حضورِ انور نے زندگی کی غیر یقینی صورتحال میں مایوسی سے بچنے اور ہر لمحے کو مثبت جدوجہد اور محنت میں صَرف کرنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے تلقین فرمائی کہ اگر اس بات پر ہم بیٹھ جائیں کہ پتا نہیں دنیا نے رہنا بھی ہے کہ نہیں تو پھر یہ تو ڈپریشن کی بیماری شروع ہو جائے گی اور آپ ڈپریس ہو جائیں گے۔ اس لیے جب تک زندگی ہے کوشش اور struggleکرو ۔اور جتنی اللہ تعالیٰ نے زندگی دی ہے، اللہ تعالیٰ سے مدد مانگتے ہوئے، اس کے لیے اچھی پلاننگ کرو اور ہر اپنی جو فیلڈ ہے اس میں excelکرنے کی کوشش کرو۔مایوس ہونے کی ضرورت کوئی نہیں ہے۔جب تک زندگی ہے تو سخت struggleاور محنت کرو۔ یہ کہنا کہ زندگی ہے کہ نہیں، آدمی کو تو ویسے ہی نہیں پتا، چاہےجنگ ہو یا نہ ہو کہ کیا پتا اگلا سانس آنا بھی ہے کہ نہیں آنا ۔ کوئی گارنٹی تو نہیں دی ہوئی کہ جو پندرہ سال کا ہے وہ ضرور زندہ رہے گا اور جو چالیس سال کا ہے وہ ضرور مر جائے گا یا اسّی سال کا ضرور مر جائے گا۔

جواب کے آخر میں حضورِ انور نے توکّل علی الله کی روشنی میں ہمت، مسلسل کوشش اور اپنی فیلڈ میں مہارت حاصل کرنے کی تاکید فرمائی کہ اس لیے یہ کہنا کہ ہم تھک گئے ، ہم کچھ نہ کریں ، کوئی پلاننگ نہ کریں کہ کیا بننا ہے یا کیا نہیں بننا۔ تو یہ تو تھکے ہوئے لوگوں کی باتیں ہیں، اللہ پر توکّل کرنے والوں کی تو یہ باتیں نہیں ہوتیں، اللہ پر توکّل کرنے والے لوگ اللہ کی باتیں بھی مانتے ہیں، لوگوں کی خدمت بھی کرتے ہیں اور اپنی صحیح پلاننگ بھی کرتے ہیں اور اپنی فیلڈ میں جہاں جہاں انہوں نے excelکرنا ہوتا ہے وہ اس میں جانے کی کوشش کرتے ہیں۔

ایک لجنہ ممبر نے سوال کیا کہ بحیثیت احمدی مجھے اپنے ملک اور علاقے کی تہذیب اور وہاں کے ماحول سے کس حد تک متأثر ہونا چاہیے اور ہمارے ظاہر اور باطن پر اس کا اثر کس حد تک قابلِ قبول ہے؟

اس پر حضورِ انور نے مذہبی تعلیم کے تحت ان بنیادی اُمور کی پابندی کی جانب توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ اپنا جومذہب ہے، اس پر عمل کرو۔نمازوں کی پابندی کرو، اللہ تعالیٰ کے حکموں کو یاد رکھو، لوگوں کی خدمت کرو اور جو اپنی حیا ہے اس کو قائم رکھو ۔ اللہ تعالیٰ نے حجاب کا حکم دیا ہے،سر کو ڈھانکنا، چہرے کو ایک حد تک ڈھانکنا ہےیا ننگا بھی رکھنا ہے تو پڑھائی کے معاملے میں جسم کو اچھی طرح ڈھانکنا ہے وہ قائم رکھو اور جو مذہب کی تعلیم ہے اس کو قائم رکھو ۔

اسی طرح غیر مسلم تہذیب یا کلچر میں محض اسلام کے مطابق چیزوں پر عمل پیرا ہونے اور دین کے خلاف سرگرمیوں سے بچنے کی بابت تلقین کرتے ہوئے حضورِ انور نے واضح فرمایا کہ باقی جو علاقے کا تہذیب اور کلچر ہے وہ کیا ہے۔ اگر وہاں تہذیب یہ ہے کہ فلاں فیسٹیول ہو رہا ہے، وہاں ڈانس ہو رہا ہے اور باجے بج رہے ہیںتو ٹھیک ہے کہ دیکھنے کی حد تک کبھی جانا ہو تو دیکھ لیا۔ لیکن ڈانس میں شامل ہونا غلط ہے کیونکہ مذہب کے خلاف ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ناچ گانے سے منع فرمایا ہے۔ اس لیے ناچنا نہیں ہے، اس تہذیب میں شامل نہیں ہونا، شراب پینا ان کی تہذیب میں شامل ہے۔ اب تو بلکہ اس کے خلاف بولنے لگ گئے ہیں اور کہتے ہیں ایک گلاس روز کا پینا بھی نقصان دیتا ہے اوراس پر اب ریسرچ آنے لگ گئی ہے۔ اس سے بچ کے رہنا ہے، اس سے متأثر نہیں ہونا۔ اور کوئی ایسی تہذیب، ایسا کلچر، ایسا ان کا ٹریڈیشن جو اسلامی تعلیم سے ٹکراتا ہے اس کو نہیں کرنا ، جو اسلام کی تعلیم سے نہیں ٹکراتیں اس کو اختیار کر سکتے ہیں ۔

مزید برآں حضورِ انور نے کسی کلچر میں شامل ہونے کی اصل پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ جو سویڈن نیشنل ہیں، ان کو یہ کہنا چاہیے کہ ہم سویڈش نیشنل ہیں اورہم ملک کی وفادار ہیں اور اس کےلیے ہر قربانی کے لیے تیار ہیں اور اس کی بہتری کے لیےہم کوشش کرنے والے ہیں اور ہم کرتے ہیں۔ یہ ہے اصل میں absorb ہونا، اس ملک کی بہتری کے لیے، اس کے کلچر میں شامل ہونا اور اس کی بہتری کےلیے شامل ہونا۔ کلچر یہ نہیں ہے کہ ان کی گندی باتیں سیکھ لیں۔ کلچر جو اسلام سے نہیں ٹکراتا اس کو کرنے میں ہرج کوئی نہیں۔

جواب کے آخر میں حضورِ انور نے کسی تہذیب کی اچھی اور نیک باتیں اپنانے اور ظاہر و باطن پر اس کے اثر کی تاثیر کی بابت نہایت دلنشین انداز میں سمجھایا کہ یہاں بھی تو ان کی روایات میں اچھی باتیں ہوں گی، ان کی ٹریڈیشن میں نیک باتیں ہوں گی، تو وہ آپ کر سکتے ہیں اور جب آپ نیکی کی باتیں کریں گے تو آپ کے ظاہر اور باطن پر اس کا اثر ہو رہا ہوگا اور اس وجہ سے کہ آپ اسلامی تعلیم پرعمل کر رہی ہیں، اللہ تعالیٰ کا خوف آپ کے دل میں ہے ، لوگوں کی خدمت آپ کا جذبہ ہے اور اچھے اخلاق آپ کے ہیں، اگر دل میں یہ جذبہ ہے، تو اس کا اثر ظاہر پر بھی ہوگا اور جب ظاہر میں ہوگا تو لوگوں پر بھی اثر ہوگا اور کوئی آپ کو پھر بُرا نہیں کہے گا اور یہ نہیں کہے گا تم شراب کیوں نہیں پیتی اور تم ڈانس کیوں نہیں کرتی؟

ایک شریکِ مجلس نے عرض کیا کہ مَیں سوال کرنا چاہتی ہوں کہ جب ہم پاکستان میں سکولوں اور کالجوں میں تعلیم حاصل کرتے تھے تو ہمیں احمدی ہونے کی وجہ سے مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا تھا اور اب سویڈن میں مسلمان اور غیر ملکی ہونے کے باعث بعض اوقات منفی رویے دیکھنے کو ملتے ہیں۔ایسے حالات میں کبھی کبھی یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ ہمارا کوئی وطن نہیں۔ پیارے حضور! ہم اس احساس بے وطنی کو کس طرح مثبت سوچ میں بدل سکتے ہیں ؟

اس پر حضورِ انور نے حضرت سیّدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ رضی اللہ عنہا کے منظوم کلام سے ایک خوبصورت شعر پیش کرتے ہوئے مایوسی سے بچنے کی تلقین فرمائی ؂

مایوس و غم زدہ کوئی اس کے سوا نہیں

قبضے میں جس کے قبضۂ سیفِ خدا نہیں

کہ مایوس ہونے کا کوئی تُک نہیں ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ پر ایمان ہے تو اس سے دعا کرو ، تواللہ تعالیٰ حالات بہتر کرے گا۔

بعد ازاں حضورِ انور نے پاکستان اور سویڈن کے حالات کا تقابلی جائزہ پیش کیا اور مایوسی و تھکی ہوئی سوچ کو ذہن سے نکالنے کی اہمیت کو اُجاگر فرمایا کہ بہرحال پاکستان کی طرح تو نہیں ، پاکستان میں تومولوی کہتا تھا کہ اذان نہیں دے سکتے، نماز نہیں پڑھ سکتے ، قرآن نہیں پڑھ سکتے اورالسلام علیکم نہیں کہہ سکتے ۔ یونیورسٹی میں آپ کسی کو سلام کر دیں تو آپ کے پیچھے پڑجائے گا، پٹائی بھی کر دے گا ۔یہاں مخالفت تو ہے لیکن چھپی ہوئی مخالفت ہے۔ آپ کو نہ نماز پڑھنے سے کوئی روک رہا ہے، نہ قرآن ِکریم پڑھنے سے کوئی روک رہا ہے، نہ اذان دینے سے بھی کوئی روک رہا ہے اور نہ ہی کلمہ پڑھنے سے کوئی روکتا ہے، تو اس لیے یہاں آپ کو ایک حدّ تک تو آزادی ہے۔اس لیے اس کو اس کے ساتھ ملا دینا کہ اتنی مایوسی ہے اور مایوس ہو جانا ، پنجابی میں اسے تھکی ہوئی سوچ کہتے ہیں، تو تھکی ہوئی سوچ کو اپنے ذہن سے نکالیں اور اللہ تعالیٰ کا یہ شکر کریں کہ یہاں یہ حالات پیدا ہو گئے۔

اسی طرح حضورِ انور نے مایوسی کی بجائے مثبت رویّہ اپنانے، اچھے اخلاق دکھانے اور معاشرتی تعلقات میں بہتری لانے کی بابت عملی راہنمائی عطا فرمائی کہ باقی جس طرح کہ مَیں نے پہلے بھی کہا ہے کہ لوگوں کو اپنے اخلاق دکھائیں ، لوگوں کے سامنے اچھے پیش ہوں، لوگوں کے ساتھ انٹریکشن ہو، ان کو اچھی باتیں بتائیں تو آپ کے عمل دیکھ کے خود وہ آپ کی طرف توجہ کریں۔ تو یہ جو ایک ماحول آہستہ آہستہ آپ کا پیدا ہو جائے گا، جو بڑھتا جائے گا اورآپ کا دوستانہ ماحول پیدا ہو جائے گا۔ اور آپ کی ہمدرد کئی لڑکیاں یہاں ہوں گی جن کی لوکل سویڈش لڑکیاں دوست ہیں اور وہ ان کو اچھا بھی سمجھتی ہیں، ان کے گھر آنا جانا بھی ہے،مَیں بھی بعضوں کو جانتا ہوں اور ان کے اچھے تعلقات بھی ہیں تو اس طرح آپ لوگ تعلقات رکھیں تو ماحول بہتر ہو سکتا ہے۔

جواب کے آخر میں حضورِ انور نے مایوسی پر مبنی منفی سوچ سے احتراز برتتے ہوئے ہر حال میں ہمت اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا کہ یہ کہنا کہ بے وطنی کی حالت ہو گئی، ہم مر گئے ، کیا کریں؟ یہ مایوسی کی باتیں ہیں، یہ ایک مومنہ کے لیےزیب نہیں دیتا، تو مایوس بالکل نہیں ہونا اور ڈٹ کے رہو۔

ایک طالبہ نے سوال کیا کہ جب مستقبل کا پیشہ ورانہ راستہ غیر یقینی محسوس ہو توہم سٹوڈنٹس اللہ تعالیٰ پر اپنا اعتماد کیسے مضبوط رکھ سکتے ہیں؟

اس پر حضورِ انور نے کیریئر کے انتخاب میں غیر یقینی پن کی بابت ممکنہ اسباب پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ یا توآپ کو اس subjectسے interest نہیں ہےکہ جو کیریئر آپ لینا چاہتی ہیں یا آپ میںconfidenceنہیں ہے یا آپ محنت کرنے والی نہیں ہو۔میڈیسن کرنا ہے تو اس نے محنت نہیں کی کہ وہاں میڈیکل کالج میں داخلہ ملے۔ سوال یہ ہے کہ اگر انسان محنتی ہو اور ایک ارادہ ہو کہ مَیں نے یہ بننا ہے تو پھر ہوجاتا ہے۔ باقی دنیا میں ہر جگہ یہی ہوتا ہے کہ اگر ساری دنیا اپنی جو ان کی خواہشات ہوتی ہیں اور جو پلان ہوتا ہے اس کے مطابق وہ بن جائے تو ساری دنیا تو خوش ہی خوش ہو اور مسائل پیدا ہی نہ ہوں۔

حضورِ انور نے ذاتی دلچسپی اور سوچ کر کیریئر کا انتخاب کرنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے تلقین فرمائی کہ انسان بعض دفعہ ایک کیریئر چنتا ہےلیکن اس کا پوٹینشل اس میں نہیں ہوتا اور اس میں اس کاaptitudeنہیں ہوتا اور وہ اس کو پڑھ نہیں سکتا۔ اس لیے بہتر یہی ہے کہ پہلے ہی سوچ سمجھ کے فیصلہ ہو۔ یہ نہیں ہے کہ میرا کزن، میرا بھائی، میری فلاں سہیلی ڈاکٹر بن گئی تو مَیں نے بھی ڈاکٹر بننا ہے یا میرا فلاں رشتہ دار انجینئر بن گیا ،تو مَیں نے بھی انجینئر بننا ہے یا فلاں نے یہ کر لیا تو مَیں نے بھی وہ کرنا ہے۔ یہ دیکھو کہ میرا اپنا کیا interestہے۔غور سے دیکھو اور سوچو۔ بہت سارے سوچنے والے ہیں، اپنے ٹیچر ہیں، ان سےconsultکرو۔ اوران سے پوچھو کہ آپ مجھے پڑھا رہے ہو یا پڑھا رہی ہو، مرد یا عورت جو بھی ٹیچر ہے کہ اب میرے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے کہ مجھے آپ نے کس طرحassessکیا ہے کہ مجھے کون سےsubjectمیں آگےstudyکرنی چاہیے اور پھر اس میںstudyکرو ۔ پھر حضورِ انور نے مسکراتے ہوئے فرمایا کہ یہ نہیں ہے کہ بھیڑ چال، امّاں ابّا نے کہہ دیا کہ بچے تم نے ڈاکٹر بننا ہے توتم نے ڈاکٹر بننا ہے۔تم نے ٹیچر بننا ہے یا تم نےlawyerبننا ہے یا تم نے فلاں کام کرنا ہے۔ نہیں! بلکہ جو تمہاری دلچسپی ہے وہ کرو۔ خود سوچو اور اپنے ٹیچر سے مشورہ لو۔

حضورِ انور نے یاد دلایا کہ مَیں نے جماعتوں کو بھی اسی لیےکہا ہوا ہے کہ گائیڈنس کے لیےایک کمیٹی ہونی چاہیے کہ جو اس میں کیریئر پلاننگ اورگائیڈنس ہو تا کہ وہ تم لوگوں کو بتا سکیں کہ تم لوگ کیا کر سکتے ہو، تمہاراaptitudeکیا ہے اور پھرتم اس کے مطابق کام کرو۔

جواب کے آخر میں حضورِ انور نے مایوسی سے بچنے کی ترغیب دلاتے ہوئےمحنت اور دعا کو کامیابی کا زینہ قرار دیا کہ مایوس ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔اور جب تم نےایک subject چن لیا توپھر اس پر محنت کرو تو کامیاب ہو جاؤ گی۔ اللہ تعالیٰ کسی کی محنت کو ضائع نہیں کرتا۔ محنت کرو، اللہ تعالیٰ سے دعا کرو تو تم کامیاب ہو جاؤ گی۔

آخر پر حضورِ انور نے صدر صاحبہ لجنہ اماء الله اور صدر صاحبہ AMWSA سے مختصر گفتگو بھی فرمائی۔

اس نشست کا اختتام حضورِ انور کے دعائیہ کلمات ’’چلو پھر اللہ حافظ ہو۔ السلام علیکم ورحمة اللہ‘‘پر ہوا ۔

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ جماعتِ احمدیہ برطانیہ کے مبلغین کی ملاقات

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button