حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کا بچپن
ہم بچپن میں وہ کہانیاں سُنا کرتے تو بڑے حیران ہوتے ۔ قسط۔۱وّل

حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے تفسیر کبیر میں بعض آیات کی تفسیر بیان کرتے ہوئے اپنے بچپن کے دلچسپ واقعات بیان فرمائے ہیں۔ حضور رضی اللہ عنہ کے بچپن کے واقعات اور متعلقہ آیات کی تفسیر کے کچھ حصے افادۂ عام کی غرض سے پیش کیے جارہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں فرمایا ہے :نیز وہ (یعنی یہودی) اس (طریق عمل) کے پیچھے پڑگئے جس کے پیچھے سلیمانؑ کی حکومت کے زمانہ میں (اس کی حکومت کے) باغی پڑے رہتے تھے۔ اور سلیمانؑ کافر نہ تھا بلکہ (اس کے) باغی کافر تھے۔ وہ لوگوں کو دھوکا دینے والی باتیں سکھاتے تھے اور(بزعم خود) اس بات کی (بھی نقل کرتے ہیں) جو بابل میں دو فرشتوں ہاروت وماروت پر اتاری گئی تھی۔ حالانکہ وہ دونوں (تو) جب تک یہ نہ کہہ لیتے تھے کہ ہم (خدا تعالیٰ کی طرف سے) آزمائش کے طورپر (مقررہوئے) ہیں۔ اس لیے (اے مخاطب! ہمارے احکام کا) انکار نہ کرنا۔ کسی کو کچھ نہیں سکھاتے تھے جس پر وہ (یعنی اس زمانے کے لوگ) ان (دونوں)سے وہ بات سیکھتے تھے جس کے ذریعہ سے وہ مرد اور اس کی بیوی کے درمیان تفریق کردیتے تھے اور وہ اللہ کے حکم کے سوا کسی کو بھی اس (بات) کے ذریعہ سے ضرر نہیں پہنچاتے تھے۔ اور (اس کے بالمقابل) یہ (یعنی رسول کریم صلعم کے دشمن) تو وہ بات سیکھ رہے ہیں جو انہیں ضرر دے گی اور نفع نہیں دے گی۔ اور یہ لوگ یقیناً جان چکے ہیں کہ جو اس (طریق) کو اختیار کرلے آخرت میں اس کا کوئی بھی حصہ نہیں اور وہ چیز جس کے بدلہ میں انہوں نے اپنے آپ کو بیچ رکھا ہے بہت ہی بُری ہے۔ کاش کہ یہ جانتے۔ (البقرۃ:۱۰۳،ترجمہ از تفسیر کبیرجلد۲،صفحہ۳۱۹-۳۲۰)
حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس آیت کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:”حضرت مسیح موعود علیہ السلام مئی ۱۹۰۸ء میں فوت ہوئے تھے۔ غالباً آپ کی وفات کے ایک ماہ بعد کی بات ہے کہ مجھے الہام ہوا:اِعْمَلُوْا اٰلَ دَاوٗدَ شُکْرًا۔ اے داؤد کی نسل شکر گزاری کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور اعمال بجالاؤ۔ اس الہام میں اللہ تعالیٰ نے لفظ سلیمان تو استعمال نہیں فرمایا مگر آل داؤد کہہ کر حضرت سلیمانؑکی بعض خصوصیات کا مجھ کو وعدہ دیا گیا ہے۔ مَیں سمجھتا ہوں اُن باتوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت جو ہمیشہ لوگوں کے لیے اضطراب کا موجب رہی ہے مجھ پر ابتدائی زمانہ ہی میں کھول دی تھی اور جہاں تک میں سمجھتا ہوں اس میں یہ پیشگوئی تھی کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بعد خلافت کے مقام پر مجھ کو کھڑا کیاجائے گا اور ان مشکلات کا بھی اس میں ذکر تھا جو میرے راستہ میں آنے والی تھیں۔چونکہ انسانی فطرت میں یہ بات داخل ہے کہ وہ تکالیف اور اعتراضات سے گھبراتا ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے مجھے بتایا کہ تکالیف اور اعتراضات کوئی بُری چیز نہیں ہیں بلکہ آل ِ داؤد ہونے کے لحاظ سے تمہیں ان کا منتظر رہنا چاہیے۔ اور ان سے گھبرانا نہیں چاہیے۔ آیت زیر تفسیر میں بھی حضرت سلیمان علیہ السلام کی بعض اُن مشکلات کا ذکر کیا گیا ہے جو اُن کو پیش آئیں۔ گو یہ آیت ہمارے نزدیک واضح ہے لیکن اس کے متعلق پہلے مفسرین کو بہت دقتیں پیش آئی ہیں اور آخروہ اس کے یہ معنے کرنے پر مجبور ہوئے ہیں کہ دنیا میں دو دفعہ سحر سیکھا گیا تھا۔ ایک دفعہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے زمانہ میں شیطان آدمیوں میں مِل جُل گئے تھے اور وہ اُن کو سحر سکھایا کرتے تھے اور دوسری دفعہ بابل میں دو فرشتے ہاروت اور ماروت خدا تعالیٰ کی طرف سے اُترے تھے اور وہ لوگوں کو سحر سکھاتے تھے۔ مگر وہ لوگوں کو یہ کہہ دیا کرتے تھے کہ ہمیں خدا تعالیٰ نے آزمائش کے لیےبھیجا ہے اِسی طرح جو لوگ اُن سے سحر سیکھنا چاہتے تھے اُن کو وہ یہ بھی کہہ دیا کرتے تھے کہ سحر سیکھنا کفر ہے لیکن اگر تم کفر کرنا چاہتے ہو تو ہم تم کو کفر سکھا دیتے ہیں۔ مفسرین کہتے ہیں کہ اس جگہ ان دونوں واقعات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔
عوام میں اس کے متعلق عجیب عجیب کہانیاں مشہور ہیں ہم بچپن میں وہ کہانیاں سُنا کرتے تو بڑے حیران ہوتے تھے۔ اب تو شاید ہی کبھی احمدی بچوں کے کانوں میں وہ کہانیاں پڑتی ہوں۔ وہ کہتے ہیں کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے پاس ایک انگوٹھی تھی جس کی برکت سے وہ سارے کام کیا کرتے تھے۔ اُس کو خَاتَمِ سلیمانی کہتے ہیں۔ وہ انگوٹھی شیطانوں نے کسی بہانے سے حضر ت سلیمان علیہ السلام سے لے لی جس کی وجہ سے سالہا سال تک حضرت سلیمان علیہ السلام بھٹکتے پھرے اور شیطان اُن کی صورت بن کر لوگوں پر حکومت کرتا رہا۔ ایک لمبے عرصہ کے بعد وہ انگوٹھی ایک شخص کو ملی اور اُس نے حضرت سلیمان علیہ السلام کو دی جس کی وجہ سے انہیں دوبارہ بادشاہت نصیب ہوئی۔
اسی طرح ہاروت وماروت کے متعلق بھی عوام میں یہ قصہ مشہور ہے کہ وہ دوفرشتے تھے جنہوں نے خدا تعالیٰ پر یہ اعتراض کیا تھا کہ آدم ؑ والے قصہ میں فرشتوں والی بات درست نکلی کہ انہوں نے کہا تھا کہ کیا تُو ایسی مخلوق بنائے گا جو زمین میں فساد کرے گی اور خون بہائے گی۔ اور خدا تعالیٰ نے کہا تھا کہ تم نہیں جانتے۔ مگر آخر اُن کی بات درست نکلی کہ آدم ؑ کی نسل دنیا میں شیطان کے قبضہ میں چلی گئی۔ اُن فرشتوں نے خدا تعالیٰ کو کہا کہ اگر ہم دنیامیں ہوتے تو یہ شرارتیں کیوں ہوتیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے ہاروت وماروت کو دنیا میں بھیج دیا۔ اور فرمایا کہ تم دنیا میں جاؤ ہم دیکھیں گے تم کیسے عمل کرتے ہو۔ وہ دنیا میں آگئے اور لوگوں میں رہے۔ ان کو اسم اعظم اور جادو آتا تھا۔ وہ لوگوں کو جادو سکھاتے رہے اور خدا تعالیٰ پر یہ ظاہر کرنے کے لیے کہ لوگ جان بُوجھ کر کفر اختیار کرتے ہیں وہ ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیتے کہ اس کا سیکھنا منع ہے۔ اس سے انسان کافر ہوجاتاہے۔ اب جس کی مرضی ہے سیکھ لے اور جس کی مرضی ہے نہ سیکھے مگر لوگ پھر بھی سیکھ لیتے تھے۔ وہ صرف مردوں کو سحر سکھایا کرتے تھے جس کے نتیجہ میں عورتوں سے جدائی ہوجاتی تھی۔ اِسی دوران زُہرہ نامی ایک کنچنی اُن سے اسم اعظم سیکھنے کے لیے آئی۔ وہ دونوں اُس پر عاشق ہوگئے۔ چنانچہ اُن دونوں نے اُسے ایک دن شراب پلائی اور اُس کے ساتھ بدکاری میں مبتلاہوئے۔ اس پر خدا تعالیٰ نے اُن سے پوچھا کہ اب بتاؤ اس کی سزا میں تم دنیا میں کنوئیں میں لٹکنا چاہتے ہو یا قیامت کے دن تم کو سزا ملے چونکہ انہوں نے خدا کا عذاب دیکھا ہوا تھا اس لئے انہوں نے کہا کہ دنیا میں ہی ہمیں عذاب دے دیا جائے۔ چنانچہ بابل میں ایک اندھے کنوئیں میں گرائے گئے اور وہ اُس میں اب تک لٹکے ہوئے ہیں۔ اور زُہرہ جس نے اسم اعظم سیکھا تھا عوام کے نزدیک ستارہ بن کر آسمان پر چلی گئی۔ (تفسیر محاسن التاویل للقاسمی زیر آیت ھٰذا) …میرے نزدیک یہ کہنا کہ دو فرشتے لوگوں کو جادو سکھاتے تھے۔ اور حضرت سلیمان علیہ السلام بھی جادو جانتے تھے اور لوگوں کو سحر سکھاتے تھے بالکل غلط ہے۔ کیونکہ اس سے انبیاء اور ملائکہ دونوں پر اعتراض پڑتا ہے۔ اور پھر یہ بات تاریخ کے بھی بالکل خلاف ہے۔ اس قسم کا سحر کوئی ہے ہی نہیں۔ مسمریزم بالکل اور چیز ہے۔ مگر یہ اِدھر کچھ پھونکا اور اُدھر کوئی عجیب چیز بن گئی بالکل غلط بات ہے۔ ایسا کبھی نہیں ہوتا۔
اصل بات یہ ہے کہ آیت زیرِ تفسیر میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے زمانہ کے یہود کی بعض خفیہ سازشوں اور شرارتوں کا ذکر کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے خلاف ویسا ہی طریق کار اختیار کررہے ہیں جیسے حضرت سلیمان ؑ کے ایامِ حکومت میں اُن کے مخالف ان کے خلاف کیا کرتے تھے اور جن کے ذریعہ سے وہ آپ کی حکومت کو توڑ دینا چاہتے تھے۔ اور بتایا گیا ہے کہ یہود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابل پر ان سازشوں میں ہرگز کامیاب نہیں ہوسکیں گے۔
اگر مفسرین کے بیان کردہ قصّے درست ہوں جن میں سے زوائد مَیں نے چھوڑ دیئے ہیں تو اس کا جوڑ پچھلی آیات سے کوئی نہیں بنتا۔ اور یہ آیت بے تعلق ہوجاتی ہے۔ لیکن میرے اس مضمون سے جو کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر کھولا ہے اس کاجوڑ پچھلی آیات سے قائم رہتا ہے اور ملائکہ پر بھی کوئی اعتراض نہیں پڑتا۔ اور حضرت سلیمان علیہ السلام کے زمانہ کے واقعات کے خلاف بھی کوئی بات نہیں رہتی۔ اور یہ آیت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کا ایک بہت بڑا ثبوت بن جاتی ہے۔“ (تفسیر کبیرجلد۲صفحہ ۳۲۶-۳۲۳،البقرۃ زیر آیت ۱۰۳، ایڈیشن ۲۰۲۳ء مطبوعہ یوکے)
مجھے پہلا روزہ رکھنے کی اجازت بارہ یا تیرہ سال کی عمر میں ملی تھی
اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں فرمایا ہے:(سو تم روزے رکھو) چند گنتی کے دن۔ اور تم میں سے جو شخص مریض ہو یا سفر میں ہوتو (اسے) اور دنوں میں تعداد (پوری کرنی) ہوگی۔ اور ان لوگوں پر جو اس کی (یعنی روزہ کی) طاقت نہ رکھتے ہوں ایک مسکین کا کھانا دینا (بطورفدیہ رمضان کے) واجب ہے۔ اورجو شخص پوری فرمانبرداری سے کوئی نیک کام کرے گا تو یہ اس کے لیے بہتر ہوگا۔ اور اگر تم علم رکھتے ہوتو (سمجھ سکتے ہوکہ) تمہارا روزے رکھنا تمہارے لیے بہتر ہے۔ (البقرۃ:۱۸۵)
حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ اس آیت کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:”یہ امر یاد رکھنا چاہیے کہ شریعت نے چھوٹی عمر کے بچوں کو روزہ رکھنے سے منع کیا ہے لیکن بلوغت کے قریب انہیں کچھ روزے رکھنے کی مشق ضرور کرانی چاہیے۔ مجھے جہاں تک یاد ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مجھے پہلا روزہ رکھنے کی اجازت بارہ یا تیرہ سال کی عمر میں دی تھی۔ لیکن بعض بے وقوف چھ سات سال کے بچوں سے روزے رکھواتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہمیں اس کا ثوب ہوگا۔ یہ ثواب کا کام نہیں بلکہ ظلم ہے۔ کیونکہ یہ عمر نشوونما کی ہوتی ہے۔ ہاں ایک عمر وہ ہوتی ہے کہ بلوغت کے دن قریب ہوتے ہیں اور روزہ فرض ہونے والا ہی ہوتا ہے اس وقت ان کو روزہ کی ضرور مشق کرانی چاہیے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی اجازت اور سنت کو اگر دیکھا جائے تو بارہ تیرہ سال کے قریب کچھ کچھ مشق کرانی چاہیے اور ہر سال چند روزے رکھوانے چاہئیں۔ یہاں تک کہ اٹھارہ سال کی عمر ہوجائے جو میرے نزدیک روزہ کی بلوغت کی عمر ہے۔ مجھے پہلے سال صرف ایک روزہ رکھنے کی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اجازت دی تھی۔ اس عمر میں تو صرف شوق ہوتا ہے۔ اس شوق کی وجہ سے بچے زیادہ روزے رکھنا چاہتے ہیں مگر یہ ماں باپ کا کام ہے کہ انہیں روکیں۔ پھر ایک عمر ایسی ہوتی ہے کہ اس میں چاہیے کہ بچوں کو جرأت دلائیں کہ وہ کچھ روزے ضرور رکھیں۔ اور ساتھ ہی یہ بھی دیکھتے رہیں کہ وہ زیادہ نہ رکھیں۔ اور دیکھنے والوں کو بھی اس پر اعتراض نہ کرنا چاہیے کہ یہ سارے روزے کیوں نہیں رکھتا کیونکہ اگر بچہ اس عمر میں سارے روزے رکھے گا تو آئندہ نہیں رکھ سکے گا۔ اسی طرح بعض بچے خلقی لحاظ سے کمزور ہوتے ہیں۔ میں نے دیکھا ہے بعض لوگ اپنے بچوں کو میرے پاس ملاقات کے لیے لاتے ہیں تو بتاتے ہیں کہ اس کی عمر پندرہ سال ہے حالانکہ وہ دیکھنے میں سات آٹھ سال کے معلوم ہوتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں ایسے بچے روزہ کے لیے شاید اکیس سال کی عمر میں بالغ ہوں۔ اس کے مقابلہ میں ایک مضبوط بچہ غالباً پندرہ سال کی عمر میں ہی اٹھارہ سال کے برابر ہوسکتا ہے۔ لیکن اگر وہ میرے ان الفاظ ہی کو پکڑ کر بیٹھ جائے کہ روزہ کی بلوغت کی عمر اٹھارہ سال ہے تو نہ وہ مجھ پر ظلم کرے گا اور نہ خدا تعالیٰ پر بلکہ اپنی جان پر آپ ظلم کرے گا۔ اسی طرح اگر کوئی چھوٹی عمر کا بچہ پورے روزے نہ رکھے اورلوگ اس پر طعن کریں تو وہ اپنی جان پر ظلم کریں گے۔
بہرحال ان باتوں میں بہت احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے جہاں شریعت روکتی ہے وہاں رُک جانا چاہیے اور جہاں حکم دیتی ہے وہاں عمل کرنا چاہیے مگر مسلمان اس وقت اعتدال کو ترک کر بیٹھے ہیں ان میں یا تو وہ لوگ ہیں جو روزہ ہی نہیں رکھتے اور یا وہ لوگ ہیں جو روزہ کے ایسے پابند ہیں کہ بیماری اور سفر میں بھی اسے ضروری سمجھتے ہیں۔ اور بعض تو اس میں اس قدر شدت اختیار کرلیتے ہیں کہ وہ چھوٹے بچوں سے بھی روزے رکھواتے ہیں اور اگر وہ توڑنا چاہیں تو توڑنے نہیں دیتے۔ ایسے کئی واقعات ہوئے ہیں کہ سات سات آٹھ آٹھ سال کے بچوں نے روزے رکھے تو ماں باپ نے ان کی نگرانی کی کہ وہ روزہ توڑ نہ دیں یہاں تک کہ وہ مرگئے۔ بے شک روزہ کا ادب واحترام ان کے دلوں میں پیدا کرنا ضروری ہے اور انہیں بتانا چاہیے کہ اگر وہ سارا دن روزہ نہیں رکھ سکتے تو روزہ رکھیں ہی نہیں۔ لیکن یہ کہ اگر وہ رکھ لیں تو پھر توڑیں نہیں خواہ مرنے لگیں نہایت ظالمانہ فعل ہے اور اسلام کی تعلیم کے سراسر خلاف ہے۔
غرض ایک طرف تو مسلمانوں میں ایسے لوگ ہیں جو روزہ کے بارہ میں اس قدر سختی کرتے ہیں اور دوسری طرف ایسے لوگ ہیں جو روزوں کی ضرورت ہی کے قائل نہیں بالخصوص تعلیم یافتہ طبقہ اسی خیال کا ہے …بہر حال روزہ کے بارہ میں شریعت نے نہایت تاکید کی ہے۔ اور جہاں اس کے متعلق حد سے زیادہ تشدد ناجائز ہے وہاں حد سے زیادہ نرمی بھی ناجائز ہے۔ پس نہ تو اتنی سختی کرنی چاہیے کہ جان تک چلی جائے اور نہ اتنی نرمی اختیار کرنی چاہیے کہ شریعت کے احکام کی ہتک ہو اور ذمہ داری کو بہانوں سے ٹال دیا جائے۔ مَیں نے دیکھا ہے کئی لوگ محض کمزوری کے بہانہ کی وجہ سے روزے نہیں رکھتے اور بعض تو کہہ دیتے ہیں کہ اگر روزہ رکھا جائے تو پیچش ہو جاتی ہے۔ حالانکہ روزہ چھوڑنے کے لئے یہ کوئی کافی وجہ نہیں کہ پیچش ہو جایا کرتی ہے۔ جب تک پیچش نہ ہو انسان کے لیے روزہ رکھنا ضروری ہے۔ جب پیچش ہو جائے تو پھر بے شک چھوڑ دے۔ اسی طرح بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہمیں روزہ رکھنے سے ضعف ہو جاتا ہے مگر یہ بھی کوئی دلیل نہیں۔ صرف اس ضعف کی وجہ سے روزہ چھوڑنا جائز ہے جس میں ڈاکٹر روزہ رکھنے سے منع کرے۔ ورنہ یوں تو بعض لوگ ہمیشہ ہی کمزور رہتے ہیں تو کیا وہ کبھی بھی روزہ نہ رکھیں۔ میں اڑھائی تین سال کا تھا جب مجھے کالی کھانسی ہوئی تھی۔ اس وقت سے میر ی صحت خراب ہے۔ اگر ایسے ضعف کو بہانہ بنانا جائز ہو تومیرے لیے تو شاید ساری عمر میں ایک روزہ بھی رکھنے کا موقع نہیں تھا۔ضعف وغیرہ جسے روزہ چھوڑنے کا بہانا بنایا جاتا ہے اسی کی برداشت کی عادت ڈالنے کے لیے تو روزہ رکھایا جاتا ہے۔ یہ تو ایسی ہی بات ہے جیسے قرآن کریم میں آتا ہے کہ نماز بدی اور بے حیائی سے روکتی ہے۔ اس پر کوئی شخص کہے کہ میں نماز اس لیے نہیں پڑھتا کہ اس کی وجہ سے بدی کرنے سے رک جاتا ہوں۔ پس روزہ کی تو غرض ہی یہی ہے کہ کمزوری کو برداشت کرنے کی عادت پیدا ہو۔ (تفسیر کبیرجلد۳صفحہ ۱۸۲-۱۸۰، ایڈیشن ۲۰۲۳ء مطبوعہ یوکے)




