حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی قلمی،علمی اور ادبی خدمات
حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی ادبی خدمت کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ آپؓ نے ادبی مشاغل میں دلچسپی رکھنے والوں، خاص طور پر نوجوانوں کی مثبت راستوں کی طرف راہنمائی فرمائی ہے
خدائے علیم و حکیم نے حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کو غیر معمولی قابلیتوں اور صلاحیتوں سے نوازا تھا اور آپؓ ایک ہمہ گیر شخصیت کے مالک تھے، اس ہمہ گیری کا ایک پہلو آپؓ کا اردوعلم و ادب سے لگاؤ اور اس کے فروغ میں کوشش کرنابھی ہے۔ اردو ادب کے ساتھ اردو صحافت کی حوصلہ افزائی اور حمایت میں بھی آپ نے اپنا کردار ادا کیا۔
آغاز جوانی سے ہی آپ نے جہانِ سخن وری میں قدم رکھا اور اپنی پہلی نظم ’’اپنے کرم سے بخش دے میرے خدا مجھے‘‘ ۱۹۰۳ء میں محض چودہ سال کی عمر میں لکھی پھر ساری عمر وقتاً فوقتاً آپؓ کا کلام منظر عام پر آتا رہا۔ آپ کی نظموں میں محبت الٰہی، عشق رسولؐ، غیرت اسلام، جوش تبلیغ، ہمدردی مخلوق، تربیت جماعت وغیرہ کا رنگ عیاں ہے۔ آپ ایک مذہبی شخصیت تھے اس لحاظ سے آپ کے کلام میں ان مضامین کا ہونا ایک طبعی امر تھا لیکن ملت اسلامیہ کی خیر خواہی کے علاوہ آپ کی ادبی سوچ میں عظمت انسانی اور انسانیت کی بہبود و خدمت کا پہلو بھی نمایاں ہے، معاشرے کی سر بلندی اور قیام امن کے لیے بھی اپنے کلام کو آلہ کار بنایا۔ در اصل آپؓ کی شاعری بھی ’’اس ڈھب سے کوئی سمجھے بس مدعا یہی ہے‘‘ کا ایک اظہار ہے۔آپؓ خود فرماتے ہیں: ’’میرے نزدیک نظم قلب کے جوش کا اظہار ہوتا ہے لیکن جب یہ حالت بڑھا لی جائے تو ٹھیک نہیں ہوتی … میرے نزدیک شعر اس لیے کہنا کہ لوگ پسند کریں اور داد دیں درست نہیں۔ میں بھی شعر کہتا ہوں لیکن جب میں شعر کہتا ہوں تو نہیں معلوم ہوتا کہ کیا لکھ رہا ہوں، جب قلم ایک جگہ جاکر رک جاتا ہے تو پھر خواہ کتنا ہی زور لگاؤں آگے شعر نہیں کہا جاسکتا … وہ شعر جس کو انسان تلاش کر کے لاتا ہے وہ ناپسند ہے مگر جب طبیعت میں جوش اور بغیر خوض اور غور کے مضامین جاری ہوں تو وہ ایک قسم کا القاء اور الہام ہوتے ہیں۔‘‘(الفضل ۱۰؍اپریل ۱۹۲۲ء صفحہ ۶)

بشکریہ خاندان چودھری جمال الدین احمد صاحب مرحوم آف لاٹھیانوالہ۔ چودھری صاحب پیچھے پہرے پر کھڑے ہیں۔
ایک اَور جگہ فرماتے ہیں: ’’درحقیقت اگر دیکھا جائے تو میرے اشعار میں سے ایک کافی حصہ بلکہ میں سمجھتا ہوں ایک چوتھائی یا ایک ثلث حصہ ایسا نکلے گا جو درحقیقت قرآن شریف کی آیتوں کی تفسیر ہے یا حدیثوں کی تفسیر ہے لیکن ان میں بھی لفظ پھر مختصر ہی استعمال ہوئے ہیں ورنہ شعر نہیں بنتا۔ شعر کے چند لفظوں میں ایک بڑے مضمون کو بیان کرنا آسان نہیں ہوتا…‘‘ (الفضل ۲۵؍اکتوبر ۱۹۵۵ء صفحہ ۴۔ خطاب جلسہ سالانہ ۱۹۵۴ء)
یہ ایک حسین اتفاق ہے کہ خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو بھی علم و ادب اور شعر و شاعری کا ذوق تھا اور اس حوالے سے بھی اسلامی لٹریچر میں آپ کا تذکرہ موجود ہے۔ آپؓ کی زندگی کا واقعہ مشہور ہے کہ اپنے دَور خلافت میں ایک مرتبہ حضرت لبید بن ربیعہ العامریؓ کو فرمایا : ’’أنشدنی شیئًا مِن شعرک‘‘ اپنے اشعار میں سے مجھے کچھ سناؤ۔ (اسدالغابہ فی معرفۃ الصحابہ باب اللام ذکر لبید بن ربیعہؓ) اور اِس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلیفہ ثانی میں بھی شعر و ادب کا یہ ذوق دکھائی دیتا ہے۔ حضرت چودھری محمد ظفر اللہ خاں صاحبؓ بیان کرتے ہیں کہ سفر انگلستان ۱۹۲۴ء سے واپسی پر بحیرہ قلزم سے گذرتے ہوئے ایک چاندنی رات میں حضورؓمع رفقاء بحری جہاز کے اوپر کے عرشے پر تشریف فرما ہوئے۔ دوستوں نے اشعار سنائے اور حضورؓ سے بھی درخواست کی گئی۔چنانچہ حضورؓ نے غالب کی غزل ’’اے تازہ واردان بساط ہوائے دل‘‘ کچھ ایسے درد انگیز لہجہ میں سنائی کہ سب آنکھیں پُر نم ہوگئیں۔ (تحدیث نعمت صفحہ ۲۲۲، ۲۲۳)
اس بات میں تو کوئی شک نہیں کہ آپؓ کی اوّلین ترجیح دین تھا اور باقی علوم کی واقفیت میں اصل مقصد بھی ان کو دینی خدمت میں لگانا تھا، اس لحاظ سے شاعری کی اصناف کو بھی آپؓ جماعتی کلام میں دیکھنا پسند کرتے تھے۔ ستمبر ۱۹۲۰ء میں حضور رضی اللہ عنہ ڈلہوزی میں تھے کہ ایک شام کی ڈائری میں حضرت بھائی عبدالرحمٰن قادیانی رضی اللہ عنہ لکھتے ہیں: ’’مثنوی مولانا روم کے کلام کی خوبی کا تذکرہ ہوتا رہا اور حضور بار بار اس کی تعریف کرتے رہے، فرمایا کہ نہایت ہی لطیف، پُر مغز، پُر معانی اور معرفت سے پُر کلام ہے …بعد میں حضرت مسیح موعودؑ کے کلام کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ لوگ اپنے اپنے مذاق کی نظمیں چن لیتے ہیں اور اکثر ان کو پڑھتے رہتے ہیں مگر مجھے حضرت کی وہ مثنوی بہت ہی پسند ہے جو حضور نے براہین احمدیہ حصہ پنجم میں لکھی ہے اور جو یوں شروع ہوتی ہے ‘‘ہے شکر ربِّ عزّ و جلّ خارج از بیاں’’اس مثنوی کے 234شعر ہیں۔ اور پھر حضرت نے مولوی رحیم بخش صاحب کو اس کے پڑھنے کا حکم دیا، وہ پڑھتے تھے، حضور سرور اور مسرور تھے…‘‘ (الحکم ۲۱؍ستمبر ۱۹۲۰ء صفحہ ۳ کالم ۳)
ایک مرتبہ آپؓ نے فرمایا: ’’میرا دل چاہتا ہے کہ شعر کی ہر قسم میں سلسلہ کا کلام موجود ہو چنانچہ آپ نے فرمایا کہ آج تک مستزاد کسی نے نہیں لکھا۔‘‘ (الحکم ۲۱، ۲۸ فروری ۱۹۲۰ء صفحہ ۱۲)
سلطان القلم کا بیٹا ہونے کے لحاظ سے فطرتی طور پر آپؓ کو بھی قلم سے ایک تعلق تھااورنظم کے علاوہ تحریر میں بھی سلاست اور پختگی تھی۔ محض سترہ سال کی عمر میں ’’تشحیذالاذہان‘‘ جیسے مؤقر رسالہ کے ایڈیٹر بنے اور صحافت کی باقاعدہ تعلیم نہ ہونے کے باوجود نہایت قابلیت اور عمدگی سے اس کو چلایا۔ اس رسالے کے پہلے پرچے میں آپؓ نے رسالے کی غرض و غایت کے متعلق ایک چودہ صفحاتی تعارف لکھا۔ اس رسالے کے اجراء کو اپنوں اور غیروں نے سراہا۔ جناب مولوی محمد علی صاحب ایم اے ایڈیٹر رسالہ ریویو آف ریلیجنز نے رسالے پر ریویو کرتے ہوئے لکھا: ’’اس رسالہ کے ایڈیٹر مرزا بشیر الدین محمود احمد حضرت اقدس کے صاحبزادہ ہیں۔ پہلے نمبر میں چودہ صفحوں کا ایک انٹروڈکشن ان کے قلم سے لکھا ہوا ہے …اس وقت صاحبزادہ صاحب کی عمر اٹھارہ اُنیس سال کی ہے اور تمام دنیا جانتی ہے کہ اس عمر میں بچوں کا شوق اور امنگیں کیا ہوتی ہیں، زیادہ سے زیادہ اگر وہ کالجوں میں پڑھتے ہیں تو اعلیٰ تعلیم کا شوق اور آزادی کا خیال ان کے دلوں میں ہوگا مگر دین کی یہ ہمدردی اور اسلام کی حمایت کا یہ جوش جو اوپر کے بےتکلف الفاظ سے ظاہر ہو رہا ہے ایک خارق عادت بات ہے …‘‘ (رسالہ ریویو آف ریلیجنز قادیان (اردو) مارچ ۱۹۰۶ء صفحہ ۱۱۷، ۱۱۸)
اردو زبان کے مشہور شاعر اور اخبار نویس جناب محمد دین فوق صاحب نے ۱۹۰۶ء میں لاہور سے ایک ماہوار اخبار ’’کشمیری میگزین‘‘ نکالا۔ اکتوبر ۱۹۱۲ء کی اشاعت میں انہوں نے اردو رسائل و اخبارات کے ستائیس نامور مدیران کے تصویری خاکے شائع کیے جن میں سے ایک ’’صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب ایڈیٹر رسالہ تشحیذ الاذہان قادیان‘‘ بھی تھے۔ کشمیری میگزین میں ہی حضورؓ کا مضمون ’’مسلمانوں میں اسلامی روح کیونکر پیدا ہو سکتی ہے؟‘‘ شائع ہوا جہاں سے اخذ کر کے اخبار بدر نے ۱۳؍مارچ ۱۹۱۳ء میں صفحہ ۱۵، ۱۶ پر شائع کیا۔
بفضلہ تعالیٰ رسالہ تشحیذ الاذہان نے ایک طرف تو نہایت بلند پایہ علمی مضامین شائع کیے اور دوسری طرف مضمون نویسی اور علمی ترقی کا موقع فراہم کر کے نوجوان قلمکار تیار کیے۔ بہر کیف کچھ سالوں بعد حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی سخت ذہانت و فہم نے ایک اخبار جاری کرنے کا ارادہ فرمایا اور حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ کی اجازت سے ۱۹۱۳ء میں بے سر و سامانی کے باوجود توکلًا علی اللہ ’’الفضل‘‘ کے نام سے اس کا اجرا کردیا۔ تشحیذ الاذہان اور الفضل کلیۃً مذہبی اخبار تھے اور یہاں ان کے ذکر کرنے کا مقصد صرف یہ بتلانا ہے کہ ان کی وجہ سے قلمی خدمات کے علاوہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ اخبارات کے سرمایہ، طباعت اور خریداران وغیرہ کی دشواریوں میں خود صاحب تجربہ تھے۔
اس تمہید کے بعد اب حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی اردو ادب کی حوصلہ افزائی اور حمایت کی طرف بڑھتے ہیں۔ ویسے تو ہر زبان کی اپنی اہمیت ہے اور ان کی حفاظت اور ترویج کی ضرورت ہے۔ ہندوستان میں انگریزوں کی حکومت آجانے کی وجہ سے لوگوں کا رجحان بھی انگریزی زبان کی طرف زیادہ مائل ہونے لگا خاص طور پر تعلیمی میدان میں اور اس طرح مشرقی زبانوں کا زوال شروع ہوگیا۔ اس صورتحال کو دیکھ کر حضورؓ نے جولائی ۱۹۱۳ء میں ’’السنہ مشرقیہ کی بےقدری‘‘ کے عنوان سے ایک اداریہ لکھا جس میں عربی، فارسی اور سنسکرت تینوں زبانوں کی حمایت میں ایک مضمون تحریر فرمایا جس کے آخر میں لکھا: ’’موجودہ بالاوجوہ کی بنیاد پر اور اس لیے بھی کہ السنہ مشرقیہ کے علماء کے لیے پہلے ہی اور کوئی میدان ترقی باقی نہیں رہا اور رعایا کے ان حقوق کے لحاظ سے بھی ہم گورنمنٹ سے امید کرتے ہیں کہ وہ السنہ مشرقیہ کے علماء کا گریڈ بڑھا دے گی کیونکہ اس نقص کی وجہ سے خطرہ ہےکہ ان زبانوں کو نقصان پہنچے اور ایسا نہ ہو ہندوستان کے دونوں گروہوں یعنی مسلمانوں اور ہندوؤں کے لیے موجب افسوس ہوگا … ہمیں امید ہے افسران تعلیم سے جو اس معاملہ میں غلطی ہوئی ہے وہ اس کی اصلاح جلد کر دیں گے اور اس طرح پنجاب کے تمام مسلمانوں اور ہندوؤں کو شکر گزاری کا موقعہ دیں گے۔‘‘(الفضل ۲۳؍جولائی ۱۹۱۳ء صفحہ ۳)
پس آپؓ زبان کی افادیت اور اس کی بقا کی جدوجہد میں کوشاں رہے۔ انگریزوں کی حکومت قائم ہونے کے بعد مشرقی زبانوں کے زوال کے ساتھ اردو ہندی کا قضیہ بھی سر اُٹھانے لگا، بعد ازاں جب ہندو مسلم حقوق کی آوازیں بلند ہونے لگیں تو اس کشمکش میں اردو کے خلاف بھی مورچہ بنا لیا گیا۔ پاکستان کے ماہر تعلیم جناب ڈاکٹر محمود حسین صاحب (وفات: ۱۹۷۵ء) اپنے ایک مضمون ’’پاکستان کی تحریک کا پس منظر‘‘ میں لکھتے ہیں: ’’اُردو جو ہندوؤں اور مسلمانوں کی مشترک زبان تھی، محض اس لیے قابل نفرت ٹھہری کہ وہ مسلمانوں کی آمد کے بعد پیدا ہوئی تھی اور قرآنی حروف میں لکھی جاتی تھی چنانچہ خود گاندھی جی کے الفاظ ہیں: ’’اُردو مسلمانوں کی مذہبی زبان ہے، قرآنی حروف میں لکھی جاتی ہے۔ مسلمان بادشاہوں نے اسے اپنے زمانۂ حکومت میں پھیلایا۔‘‘ (ماہنامہ ماہ نو کراچی۔ ستمبر ۱۹۵۱ء صفحہ ۱۲) اردو کے معروف شاعر اور محقق جناب ماہر القادری نے اپنے ایک مضمون ’’اردو ہندی کا قضیہ‘‘ میں لکھا: ’’… اردو کے جسم پر جب تک خراشیں پہنچائی جاتی رہیں، ہم خاموش رہے مگر اب جبکہ گلے پر چُھری رکھ دی گئی ہے، زبان فریاد کرنے سے کس طرح رُک سکتی ہے۔‘‘ (ماہنامہ ساقی دہلی، اگست ۱۹۳۶ء صفحہ ۲۸) اردو کے حق میں جو ہندو آوازیں کھڑی تھیں، خود انہوں نے اردو زبان کی اس ناقدری کا شکوہ کیا، کانپور سے نکلنے والے اردو ادب کے معروف رسالے ’’زمانہ‘‘ کے ایڈیٹر دیا نرائن نگم بی اے نے لکھا: ’’اردو کے بہترین انشاپردازوں کی اردو دان جماعت قدر کرے یا نہ کرے مگر ہندوستان کی دوسری زبانیں اُردو کی مدد سے اپنے سرمایہ میں بہت کافی اضافہ کر رہی ہیں منشی صاحب [منشی پریم چند] نے اردو میں دو ایک بڑے بڑے ناول لکھے تھے مگر ان کی اشاعت کا کوئی انتظام نہ ہو سکا لیکن انہیں ناولوں کو ہندی مطابع نے بڑے شوق کے ساتھ ہندی میں شائع کرا کے ان کی ہزاروں جلدیں فروخت کر ڈالیں …یہ خیال کیسا دلخراش ہے کہ اردو دان جماعت نے جس پر منشی پریم چند کے سب سے بڑے احسانات ہیں عملی حیثیت سے آپ کی کوئی قابل لحاظ قدردانی نہیں کی لیکن خالص ادبی خادمان اردو کا پوچھنے والا ہی کون ہے؟‘‘ (زمانہ، کانپور جون ۱۹۲۰ء صفحہ ۳۰۶، ۳۰۷۔ ایڈیٹر دیانرائن نگم بی اے)
اسی طرح لاہور سے نکلنے والے ادبی رسالے نیرنگ خیال نے لکھا: ’’موجودہ کساد بازاری میں اردو رسائل کی حالت نا گفتہ بہ ہو رہی ہے۔ علم، اور زبان کی حفاظت کرنا اور ملک کے لٹریچر کی حفاظت انسان کی سب سے بڑی ضرورت ہے، اس کے بل پر تمدن اور معاشرت کی تعمیر ہوتی ہے اور اسی سے انسان عقل و فہم کی تربیت حاصل کرتا ہے لیکن بد قسمتی سے ہمارے ملک میں رسائل پڑھنا یا خریدنا بعض لوگ ایک قسم کی فضول خرچی سمجھتے ہیں حالانکہ یہ اہم ترین ضرورت ہے۔ ہماری ہمسایہ اقوام کے رسائل جو گجراتی، ہندی اور بنگالی زبانوں میں شائع ہو رہے ہیں ان کی اشاعتیں تو بڑی سرعت سے بڑھ رہی ہیں مگر اردو رسائل کی اشاعتیں برابر گھٹتی چلی جاتی ہیں اس لیے اردو خواں طبقہ کو اس طبقہ کی طرف توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے …‘‘ (ماہنامہ نیرنگ خیال لاہور، اگست ۱۹۳۴ء صفحہ ۳، ۴۔ مدیر حکیم محمد یوسف حسن )
مجنوں گورکھپوری نے لکھا: ’’اس تمام دفتر شکایت کا حاصل یہ ہے کہ اردو زبان کی بساط ابھی بہت تنگ ہے اور اس کی توسیع و ترصیع کے لیے جہاں تک کوشش کی جائے، کم ہے۔‘‘ (ماہنامہ ’’ایوان‘‘ گورکھپور جلد نمبر ۱ شمارہ نمبر ۱، جنوری ۱۹۳۱ء صفحہ ۳۔ مدیر مجنوں گورکھپوری)
ادبی رسائل کی اس فریاد میں اور بھی کئی آوازیں اٹھیں جنہوں نے ارباب اختیار کو اس حالتِ اسیری سے رَستگاری دلانے کی استدعا کی۔ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے باوجود گوناگوں مصروفیات کے ان درپیش حالات میں اردو کی سربلندی اور ترقی کے لیے خاص طور پر توجہ فرمائی اور اس کو فروغ دینے کے اقدامات میں ادبی مضامین کے علاوہ اپنی مدبّرانہ رائے سے بھی نوازا۔ اس سلسلے میں آپؓ نے ’’شعر‘‘ کے عنوان سے ایک اچھوتا مضمون لاہور سے شائع ہونے والے ایک رسالے ’’ادبی دنیا‘‘ کو بھجوایا جو اس رسالے کی اشاعت مئی ۱۹۳۰ء میں شائع ہوا۔ یہ مضمون اردو ادب کے متعلق آپؓ کی علمی وسعت کے علاوہ عربی، انگریزی اور جرمن ادب کی واقفیت کو بھی عیاں کرتا ہے۔ اس مضمون کے متعلق رسالہ ادبی دنیا کےآنریری ایڈیٹر جناب مولانا احسان اللہ خان تاجور نجیب آبادی نے اسی شمارہ کے آغاز میں لکھا: ’’ملک کے ایک مشہور مذہبی رہنما جن کی روحانی عظمت کا سکہ ان کے لاکھوں مریدوں ہی نہیں بلکہ امتیوں کے دلوں پر بیٹھا ہوا ہے اور جو اپنی مسند خلافت سے احکام الٰہی کی تبلیغ اور مذہبی تلقین ہی کو اپنا منصب خیال فرماتے ہیں، ادبی دنیا ان کی مقدس مصروفیتوں میں بھی خلل انداز ہوئے بغیر نہ رہا۔ اس نمبر میں ’’ابن الفارس‘‘ کے نام سے جو بلند و گراں مایہ مضمون شائع ہو رہا ہے، انہی کی خامہ تقدس چکاں کی تراوش ہے۔‘‘(ادبی دنیا لاہور، مئی ۱۹۳۰ء صفحہ ۳۲۳)
پھر مضمون کے اختتام پر نوٹ دیتے ہوئے لکھا: ’’مندرجہ بالا مضمون ایک ایسی شخصیت کے دل و دماغ کی تراوش ہے جو فی الحقیقت لاکھوں انسانوں کے قلوب پر حکمران ہے۔ ادبی دنیا کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کا اس سے زیادہ اور کیا ثبوت ہوگا کہ ایسے حضرات اپنے رشحات کرم سے اس کی آبیاری کرتے ہیں۔ فاضل مضمون نگار نے ہمیں ’’ابن الفارس‘‘ کے لطیف و نازک نقاب اٹھانے کی اجازت نہیں دی مگر ہم علامہ اقبال کے ہم نوا ہوکر کہہ سکتے ہیں
پرتو حسن تومے افتد بروں مانند رنگ
صورت مے پردہ از دیوار نیا ساختی‘‘
(ادبی دنیا لاہور، مئی ۱۹۳۰ء صفحہ ۳۴۱)
اس نوٹ سے ظاہر ہے کہ حضورؓ نے یہ مضمون اپنے قلمی نام ’’ابن الفارس‘‘ سے شائع کرایا۔ اس سے اگلے سال ادبی دنیا کے مارچ ۱۹۳۱ء کے شمارے میں ایک اور مدبّرانہ مضمون ’’اردو رسائل زبان کی کس طرح خدمت کر سکتے ہیں‘‘ کے عنوان سے تحریر فرمایا۔ مضمون کا عنوان ہی آپؓ کی ادبی وابستگی، توجہ اور خیال کو ظاہر کر رہا ہے۔ جناب مولانا تاجور نجیب آبادی صاحب نے ادارتی صفحے ’’حال و قال‘‘ میں لکھا:’’حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب امام جماعت احمدیہ کی توجہاتِ بیکراں کا مَیں سپاس گذار ہوں کہ وہ ادبی دنیا کی مشکلات میں ہماری عملی امداد فرماتے ہیں، مَیں نے اُن کی جناب میں امداد کی نہ کوئی درخواست کی تھی نہ مجھے احمدی ہونے کا شرف حاصل ہے اور نہ ادبی دنیا کوئی مذہبی پرچہ ہے مگر حضرت مرزا صاحب اپنی عزیز مصروفیتوں میں سے علم و ادب اور علم و ادب کے خدمتگذاروں پر توجہ فرمائی کے لئے بھی وقت نکال لیتے ہیں۔
ملکی زبان و ادب سے جناب موصوف کا یہ اعتنا اُن علماء کے لیے قابل توجہ ہے جو اردو ادب کی خدمت کو تضیع اوقات سمجھتے ہیں، آپ نے ادبی دنیا کی مالی مشکلات کی اطلاع سے متاثر ہو کر کچھ خریدار عنایت فرماتے ہوئے ایک تجویز بھی پیش کی ہے جو مَیں انھیں کے الفاظ میں درج کرتا ہوں: ’’میرے نزدیک تو کوئی حرج نہیں اگر آپ معاونوں کی کوئی تعداد مقرر کر کے اُن کے ذمہ کچھ رقم مقرر کر دیں، آخر خدمتِ ادب کے لیے آپ یہ روپیہ لیں گے نہ کہ اپنی ذات کے لیے۔ اگر یہ تجویز منظور ہو تو مَیں بہ خوشی حصہ لینے کے لئے تیار ہوں۔
…مختصر یہ کہ میاں صاحب قبلہ کی مربیانہ ہمدردی اور تجویز کا احترام کرتے ہوئےمَیں تو اُن سے صرف التماسِ دعا کرتا ہوں۔‘‘ (ادبی دنیا لاہور، مارچ ۱۹۳۱ء۔ ایڈیٹر منصور احمد۔ آنریری ایڈیٹر مولانا تاجور نجیب آبادی)
اس سے اگلے پرچے میں پھر حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کا دوبارہ ذکر کرتے ہوئے لکھا: ’’پچھلے نمبر میں حضرت امام جماعت احمدیہ قادیان کی توجہ بیکراں کا حال آپ نے پڑھ لیا ہوگا، امام جماعت احمدیہ مرزا غلام احمد صاحب مسیح موعود کے خلف الرشید اور اُن کے خلیفہ ہیں۔ مرزا صاحب مرحوم کی تصانیف اردو ادب کا ایک ذخیرۂ بیکراں ہیں۔ ’’الولد سِرّ لِاَبیہ‘‘ کے مطابق اُن کے نامور فرزند کے دل میں بھی اردو زبان کے لئے ایک لگن اور اردو کے خدمت گذاروں سے ایک لگاؤ موجود ہے۔‘‘(ادبی دنیا لاہور، اپریل ۱۹۳۱ء صفحہ ۱۹۹، ۲۰۰۔ ایڈیٹر منصور احمد۔ آنریری ایڈیٹر مولانا تاجور نجیب آبادی)
رسالہ ادبی دنیا میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کا اردو ادب کی ترویج کے متعلق مجوزہ لائحہ عمل پڑھ کر بھارتی صوبہ بہار کے شہر گیا (Gaya) سے تازہ نکلنے والے ادبی رسالہ ’’ندیم‘‘ کے معاون مدیر جناب سید عبدالقدوس ہاشمی ندوی نے مورخہ ۹؍اپریل ۱۹۳۱ء کو حضورؓ کی خدمت میں مکتوب لکھا:
محترم و معظم ادام اللہ سرورکم سلام و رحمت
میں جناب سے پہلی بار شرف مخاطبت حاصل کرتا ہوں۔ امید کہ جناب والا شرف باریابی سے مشرف فرمائیں گے۔ میں نے جناب کی اسکیم رسالہ ’’ادبی دنیا‘‘ کے مارچ نمبر میں دیکھی۔اردو رسالہ کیونکر زبان کی خدمت کر سکتے ہیں؟ اس سکیم کو میں نے کئی بار پڑھا، مجھے یہ تحریک بہت پسند آئی۔ جناب والا کو غالبًا معلوم ہوگا کہ بہار سے اس وقت اردو کا کوئی رسالہ جاری نہیں ہے، گیا میں چند با ذوق اور دولت مند تاجر ایک لمیٹڈ سرمایہ سے ادبی رسالہ جاری کرنے والے ہیں۔ رسالہ کا نام ’’ندیم‘‘ ہوگا، ۷۲ صفحہ پر ہر ماہ نکلا کرے گا۔ مئی ۱۹۳۱ء میں اس کا پہلا پرچہ حاضر خدمت ہوگا۔
مجھے اس رسالہ کی ادارت کے لئے بلایا گیا۔ میں جناب والا کی اسکیم کو بروئے کار لانا چاہتا ہوں اور میں ان شاء اللہ ابتدائی دقتیں برداشت کر لوں گا۔ میں حضور کا بہت شکر گزار اگر اس بارے میں مجھے اور گرانقدر مشورہ اور طریق کار کی فہمائش سے سرفراز فرمایا جائے۔ میں عریضہ کے جواب کا انتظار کروں گا۔ والسلام
عریضہ ادب۔ سید عبدالقدوس ہاشمی ندوی (ایم اے) مدیر رسالہ ’’ندیم‘‘ گیا(تاریخ احمدیت جلد ۶ صفحہ ۲۰۸ ،۲۰۹)
۹؍جون ۱۹۲۹ء کو تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان کے میدان میں ایک شاندار مجلس مشاعرہ منعقد ہوئی جس میں جناب ابو الاثر حفیظ جالندھری صاحب نے بھی اپنی تازہ تصنیف ’’شاہنامہ اسلام‘‘ کے بعض حصے اپنے مخصوص طرز میں پڑھ کر سنائے۔ حضورؓ بھی اس مجلس میں موجود تھے۔ بعد ازاں ملاقات میں اس تازہ تصنیف کا کچھ حصہ حضورؓ کو بھی دکھایا۔ محترم ناظر اعلیٰ صاحب قادیان کی طرف سے ’’شاہنامہ اسلام‘‘ کی خریداری کی تحریک کا ایک اعلان اخبار الفضل میں یوں درج ہے: ’’شاہنامہ اسلام‘‘ مصنفہ ابو الاثر حفیظ صاحب جالندھری جو اصل میں اسلامی تاریخ کا خلاصہ ہے، نہایت آب و تاب سے شائع ہوا ہے۔ حفیظ صاحب نے گذشتہ مجلس مشاورت کے موقعہ پر کچھ حصہ اس کا حضرت خلیفۃ المسیح ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کو بھی دکھایا تھا۔ چونکہ طباعت کے لیے کچھ امداد کی ضرورت تھی، حضور نے پسند فرمایا کہ ایک سَو جلد کی پیشگی قیمت حفیظ صاحب کو بکڈپو دے کر ان سے سو جلدیں خرید لے چنانچہ … بک ڈپو نے خرید لیا ہے … چونکہ یہ کتاب واقعی شاعری کے اعتبار سے اور تاریخ کے اعتبار سے بہت اچھی ہے اس لیے احباب بہت جلد بکڈپو سے خرید لیں…‘‘ (الفضل ۱۲؍نومبر ۱۹۲۹ء صفحہ ۲)

اردو ادب کی دلی حمایت اور ادبی صحافت کی یہ خیر خواہی اور حوصلہ افزائی دیکھ کر ادبی دنیا کا معتدل طبقہ اپنے علمی و ادبی منصوبوں میں آپؓ کو بھی بطور محسن اور سرپرست دیکھتا اور آپؓ کی معاونت کا طلبگار ہوتا۔ محترم مولانا دوست محمد شاہد صاحب نے تاریخ احمدیت کی چھٹی جلد میں حضورؓ کے ساتھ بعض مایہ ناز ادیبوں کی خط و کتابت کا تذکرہ کیا ہے۔ مثلًا نامور شاعر سیماب اکبر آبادی نے حضورؓ کے نام اپنے ایک مکتوب محررہ ۸؍مئی ۱۹۳۵ء میں لکھا: ’’… بار بار اجازت حاضری طلب کرنے کا مدعا بجز اس کے کچھ نہیں کہ ادبی پیرائے میں آپ کی کوئی خدمت کر سکوں اور آپ سے استعانت کر کے آگرہ کے ادبی سکول کی بقاء و احیاء کا انتظام کروں …میں اس عنایت کے لئے آپ کا ہمیشہ ممنون و شاکر رہوں گا۔طالب جواب عقیدت مند سیماب اکبرآبادی۔‘‘
جلال پور جٹاں ضلع گجرات میں جنم لینے والے اردو کے مشہور اخبار نویس جناب سید حبیب(وفات: ۱۹۵۱ء) ایڈیٹر سیاست لاہور نے ستمبر ۱۹۳۵ء میں حضورؓ کی خدمت میں لکھا: ’’مخدومی الاکرم سلام علیکم طبتم۔ آپ کو مبارک ہو میں آج آزاد کر دیا گیا ہوں البتہ مزید کام کرنے کی صورت میں تنبیہ بھی کر دی گئی ہے۔ آپ کے احسانات کے بار گراں سے سبکدوش ہونا خارج از امکان ہے، تشکر سے میرا دل لبریز ہے۔ دعائیں کرتا ہوں، چاہتا ہوں کہ آپ سے جلد ملوں… آپ کا حبیب ‘‘
اردو ادب کے مشہور مزاح نگار جناب شوکت تھانوی صاحب نے اگست ۱۹۳۷ء میں حضورؓ کے نام اپنے ایک مکتوب میں لکھا: ’’…میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ بزرگی اور خوردی کے یہی تعلقات ہو سکتے ہیں جو آنحضور اور اس کفش بردار کے درمیان ہیں۔ بیٹا باپ کی سرپرستی کا شکریہ ادا نہیں کرتا لہٰذا میں بھی شکریہ کو درمیان میں لاکر بیگانگی کو اس طرح نشو و نما دینا نہیں چاہتا۔ البتہ یہ جانتا ہوں کہ کوئی خرید رہا ہے اور کوئی بک رہا ہے مجھ جنس ارزاں کی آپ نے قیمت بڑھائی تو یہ بھی کہنے دیجیے کہ ع۔ نرخ بالا کن کہ ارزانی ہنوز۔ کفش بردار شوکت تھانوی۔ ۱۱؍اگست۱۹۳۷ء۔‘‘

ان کے علاوہ مولانا شوکت علی صاحب،مولانا عبدالمجید سالک صاحب، مولانا صلاح الدین احمد صاحب، خان بہادر میرزا عبدالرحمٰن چغتائی صاحب کے خطوط بھی مع عکس تاریخ احمدیت میں محفوظ ہیں۔ یہ تو وہ مکتوبات ہیں جو تاریخ احمدیت نے محفوظ کر لیے ہیں وگرنہ بر صغیر کے بعض اور بڑے ادبی نام بھی حضور رضی اللہ عنہ سے خط و کتابت رکھتے تھے بلکہ ان میں سے بعض نے قادیان میں شرف ملاقات بھی پایا تھا۔ اسی طرح حضور رضی اللہ عنہ جب کسی شہر میں نزیل ہوتے تو وہاں آنے والے ملاقاتیوں میں ادب و صحافت کی شخصیات بھی شامل ہوتیں۔ فروری ۱۹۲۷ء کے آخر میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ لاہور تشریف لے گئے۔اسی سفر میں حضورؓ نے علامہ اقبال کی صدارت میں ’’مذہب اور سائنس‘‘ پر لیکچر بھی دیا۔ حضورؓ کے اس قیام لاہور کے دوران علاوہ دیگر شخصیات کے جناب مولوی سید ممتاز علی صاحب مینجر رسالہ ’’تہذیب نسواں‘‘ لاہور اور جناب مولوی محبوب عالم صاحب ایڈیٹر پیسہ اخبار لاہوربھی ملاقات کے لیے آئے اور اپنے مطلوبہ معاملات میں رہنمائی لی۔ (الفضل ۸؍مارچ ۱۹۲۷ء صفحہ ۲)
۱۹۲۴ء میں حکیم محمد یوسف حسن صاحب (وفات: جنوری ۱۹۸۱ء راولپنڈی) کی ادارت میں لاہور سے جاری ہونے والے عہد ساز جریدے ’’نیرنگ خیال‘‘نے بہت جلد علمی حلقوں میں اپنا مقام بنایا۔ اس رسالےنے ۱۹۳۲ء میں عید نمبر شائع کیا تو عرض حال میں لکھا: ’’نیرنگ خیال کے عید نمبر میں تین مشہور علمائے ملت کے مضامین بھی شائع کیے جا رہے ہیں … جناب مولانا محمود احمد صاحب امیر جماعت احمدیہ۔ امید ہے کہ ایک ادبی رسالہ کے صفحات پر ان پاکیزہ خیالات کو اُسی جذبہ سے پڑھا جائے گا جس کے ماتحت یہ مضامین لکھے گئے ہیں۔‘‘ (صفحہ ۶) چنانچہ اسی عید نمبر کے صفحہ نمبر ۳۳ تا ۳۸ پر حضرت مصلح موعودؓ کا مضمون ’’قربانیوں کی عید‘‘ شائع شدہ ہے۔ اسی طرح دسمبر ۱۹۳۴ء میں اس رسالے نے اپنا ایک اور سالنامہ شائع کیا جس کے صفحہ نمبر ۲۵۱ تا ۲۵۷ پر بھی حضورؓ کا مضمون ’’علم الالسنہ اور اردو‘‘شائع شدہ ہے۔
جناب خواجہ حسن نظامی کے زیر انتظام ایک ماہوار رسالہ ’’کامیابی‘‘ دہلی سے جاری ہوا جس کے ایڈیٹر جناب ڈاکٹر سعید احمدبریلوی صاحب تھے۔ اس رسالے کا پہلا شمارہ جون ۱۹۲۹ء میں شائع ہوا جس میں حضرت مصلح موعودؓ سے بھی ایک مضمون’’کامیابی‘‘ حاصل کر کے شامل کیا گیا تھا، اس مضمون کی نقل اخبار الفضل نے اپنی اشاعت ۱۲؍جولائی ۱۹۲۹ء کے صفحہ ۷ پر شائع کی۔
ادبی دنیا لاہور کے نو روز نمبر ۱۹۳۲ء میں صفحہ نمبر ۱۵۴ تا ۱۵۶ پر حضور رضی اللہ عنہ کا مضمون ’’ہندو مسلم اتحاد کی ضرورت اور اس کی تدبیر‘‘ شائع ہوا جس کے آغاز میں تحریر فرمایا: ’’وہی اختلاف جو موجب برکت و ترقی ہوا کرتا ہے ہمارے ملک میں موجب ایذاء و تنزل ہو رہا ہے۔ دو جداگانہ تمدن اگر اپنے اپنے دائرہ عمل میں ترقی کرتے ہوئے انسانی اخلاق کے مخفی خزانوں اور اس کے طبعی میلانوں کی پوشیدہ خصوصیتوں کو اپنے گرد و پیش کے حالات کے اثرات کے نیچے خوشنما شکلوں اور دلکش صورتوں میں ظاہر کرتے تو یہ ہمارے ملک کے لیے ایک بہترین نعمت ہوتی لیکن افسوس یہاں اپنے دماغ کی ترقی دوسرے کے دماغ کے پودے اکھاڑنے میں سمجھی جا رہی ہے اور قانون قدرت سے جو پہلے ہی سے بقائے انسب کے قانون پر نہایت سختی سے عمل کر رہا ہے، دو قدم آگے رہنے کی کوشش کی جا رہی ہے…‘‘
قیام پاکستان کے بعد بھی علم و ادب کے ساتھ یہ وابستگی قائم رہی۔ ۲۶؍مارچ ۱۹۴۸ء کو پنجاب یونیورسٹی کی اردو کانفرنس ہوئی جس کے افتتاحی اجلاس میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کا پیغام پاکستان کے نامور ادیب جناب سید عابد علی عابد صاحب نے پڑھ کر سنایا جس میں حضورؓ نے اردو کی بہتری اور فروغ کے لیے تین بنیادی تجاویز پیش فرمائیں۔ (الفضل ۲۷؍مارچ ۱۹۴۸ء صفحہ۱ ،۸)
جناب رئیس احمد جعفری صاحب نے کراچی سے ماہنامہ ریاض نکالا اور اس کے ’’مولانا شوکت علی نمبر‘‘ کے لیے حضورؓ سے بھی مضمون کی درخواست کی۔ حضورؓ نے حسب فرمائش ایک مضمون ’’مولانا شوکت علی کی یاد‘‘ ارسال فرمایا جو اسی نمبر کے صفحہ ۲۳ تا ۲۵ پر زینت بنا۔ حضورؓ نے محترم رئیس جعفری صاحب کے نام مکتوب میں لکھا:
’’بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم ھو الناصر نحمدہٗ و نصلی علیٰ رسولہ الکریم
ربوہ ۵۳/۱۱/۲۸
مکرمی! السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہٗ
آپ کا خط مورخہ ۱۲؍اکتوبر ۱۹۵۳ء موصول ہوا۔ مجھے پہلے آپ کی شخصیت کے متعلق واقفیت نہیں تھی کیونکہ جعفری جن لوگوں کے نام کے پیچھے لگا ہے، وہ کئی ہیں۔ آپ کا نام مجھے یاد نہیں تھا۔ یہ میں واقف تھا کہ آپ نے ایک کتاب قائد اعظم کے سوانح عمری کے متعلق لکھی ہے …بہرحال حیات محمد علی کی وجہ سے مجھے زیادہ شناخت آپ کی ہی ہے۔ اگر پھر کبھی کراچی آنا ہوا تو میں آنے سے پہلے دفتر کو ہدایت کر دوں گا کہ وہ آپ کو اطلاع کردیں۔ مہربانی کر کے اپنا پرچہ ’’ریاض‘‘ انچارج خلافت لائبریری ربوہ ضلع جھنگ کے نام ایک سال کے لیے وی پی کرا دیں۔ فقط والسلام مرزا محمود احمد۔‘‘(ماہنامہ ریاض کراچی، جنوری ۱۹۵۴ء صفحہ ۱۶)
حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی علم و ادب کے ان خادمان سے شفقت اور نظر عنایت کو دیکھ کر شاید کوئی یہ گمان کرے کہ اس ساری کارروائی کا اصل ہدف در پردہ احمدیت کی تبلیغ تھا۔ ایسے گمان کا جواب خود وہ ادباء و فضلاء تھے جو آپؓ سے مراسم رکھتے تھے، اگر اس امر کی ذرا بھی بھنک اُن کو ہوتی تو وہ یہ سلسلۂ ربط استوار نہ رکھتے۔ جناب شوکت تھانوی اپنی خود نوشت میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ سے اپنی ایک ملاقات کا احوال بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’خیال تھا کہ ہم کو دیکھتے ہی احمدیت کی تبلیغ شروع کر دیں گے ہم کو بیعت کی دعوت دی جائے گی اور ہم جب انکار کریں گے تو ڈاکٹر صاحب کو ہدایت دی جائے گی کہ ان کو جماعت کا لٹریچر پڑھنے کو دیا جائے مگر نہ وہاں احمدیت کا کوئی ذکر تھا نہ بیعت کا کوئی سوال، نہ کوئی ایسی بات جس سے یہ اندازہ ہو سکے کہ ہم کو غیر احمدی سمجھا جا رہا ہے اور احمدی بنانے کی تحریک ہو رہی ہے بلکہ بجائے اس کے حضرت صاحب نے کچھ ادبی اور کچھ شاعرانہ گفتگو چھیڑ دی تا کہ ہم کو دلچسپی ہو سکے۔ سب نے مل کر ریفریشمنٹ روم میں ہندوستانی کھانا کھایا اور اس کے بعد حضرت صاحب شملہ کی طرف روانہ ہوگئے۔ اس پہلی ملاقات میں ان کی گفتگو کا رخ زیادہ تر سیاسیات کی طرف تھا اور ہم صرف یہ اندازہ کر سکے کہ ان کی مذہبی حیثیت تو درکنار ان کی سیاسی حیثیت بھی نہایت بلند ہونا چاہیے جو عمیق نظر ان کی سیاست کی باریکیوں پر پڑ رہی تھی وہ صرف ایک مشاق ماہر سیاست کی ہو سکتی تھی، ادبی معاملات میں جو گفتگو آپ نے فرمائی وہ خالص ادبی رنگ لیے ہوئے تھی اور معلوم ہوتا تھا کہ ایک منجھا ہوا ادیب یہ باتیں کر رہا ہے۔ ان باتوں کے علاوہ نگاہیں نیچی، لبوں پر تبسم اور آواز میں ایک دلکشی غالبًا ان ہی باتوں کو غیر احمدی قادیانیوں کی جادوگری کہتے ہوں گے۔‘‘ (ما بدولت، خود نوشت شوکت تھانوی صفحہ ۱۳۵ تا ۱۳۷۔ مطبوعہ ۱۹۴۵ء)

ادب کے نام پر عشقیہ ناولوں، دلفریب عشقیہ شاعری اور تیسرے درجہ کی کہانیوں نے نوجوان نسل کو اپنے دام تزویر میں پھنسایاہے۔ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی ادبی خدمت کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ آپؓ نے ادبی مشاغل میں دلچسپی رکھنے والوں، خاص طور پر نوجوانوں کی مثبت راستوں کی طرف راہنمائی فرمائی ہے۔ آپؓ نے شروع زندگی سے ہی آئندہ آنے والی نسل کی تعلیم و تربیت میں خاص دھیان دیا۔ آپؓ کا یہ حقیقت پسندانہ مشہور فرمان کہ ’’قوموں کی اصلاح نوجوانوں کی اصلاح کے بغیر نہیں ہوسکتی‘‘ آپ کی تعمیری سوچ اور بہبودی ملت کا ترجمان ہے۔ ادب کے نام پر ان پُر خطر راستوں کی نشاندہی کرتے ہوئے آپؓ ایک جگہ فرماتے ہیں: ’’…ہماری پرانی شاعری میں اس کے سوا اور ہے ہی کیا! یہی اس میں ذکر آتا ہے کہ اگر کوئی مرد کسی لڑکی کو اپنے قابو میں لانا چاہے اور وہ اس کا کہا مان لے تو وہ باوفا ہے ورنہ بے وفا اور ظالم ہے …جب تک ان اشعار کی جگہ ایسے اشعار نہیں پڑھائے جاتے جو اخلاق کے لیے مفید ہوں، اس وقت تک اصلاح کسی طرح نہیں ہو سکتی۔‘‘ (خطبہ جمعہ فرمودہ ۱۰؍جولائی ۱۹۳۶ء۔ خطبات محمود جلد ۱۷صفحہ ۴۵۴)
شعر و شاعری میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے اپنے ایک نہ ہوسکنے والے استاد کی نصیحت سے بہت فائدہ اٹھایا۔ وہ یوں کہ ابتدائی عمر میں حضورؓ کو شعر و شاعری کا شوق پیدا ہوا تو حضورؓ کے دل میں کسی استاد کی شاگردی اختیار کرنے کا خیال آیا، نظر انتخاب مولانا الطاف حسین حالؔی پر پڑی اور اپنا مدعیٰ بذریعہ خط لکھ دیا۔ مولانا حاؔلی نے جوابًا لکھا: ’’میاں صاحبزادے! اپنی قیمتی عمر کو اس فضول مشغلے میں ضائع نہ کرو۔ یہ عمر تحصیلِ علم کی ہے۔ پس دل لگا کر علم حاصل کرو۔ جب بڑے ہوگے اور تحصیل علم کر چکو گے اور فراغت بھی میسّر ہوگی، اُس وقت شاعری بھی کر لینا۔‘‘ (تذکرہ حالی مؤلفہ شیخ محمد اسماعیل پانی پتی صاحب جلد اول صفحہ ۱۸۹ ،۱۹۰۔ حالی بک ڈپو پانی پت۔ ۱۹۳۵ء) یہی سبق حضورؓ نے آگے نوجوانوں کو بھی پہنچایا۔ حضورؓ اپنے مضمون ’’علم الالسنہ اور اردو‘‘ میں نوجوانوں کو تحقیق کے میدان میں اترنے کی تحریک کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’خلاصہ یہ کہ اُردو زبان بوجہ نہایت کم عمر ہونے کے علم الالسنہ کی ترقی میں بہت ممدّ ہو سکتی ہے۔ اگر بعض نوجوان اپنے اوقات بجائے فضول غزل گوئی میں صرف کرنے کے جس میں وہ کسی صورت میں نام نہیں پیدا کر سکتے اور نہ ملک کو حقیقی فائدہ پہنچا سکتے ہیں، اس علم کی طرف توجہ کریں تو وہ نہ صرف ایک مفید کام کریں گے بلکہ دنیا میں ان کا نیک نام بھی باقی رہے گا …‘‘ (نیرنگ خیال لاہور، سالنامہ ۱۹۳۴ء صفحہ ۲۵۷)
ناول کے متعلق حضورؓ ایک جگہ فرماتے ہیں: ’’میں غیر زبانوں کے ناولوں کو برا نہیں سمجھتا ہاں ان میں توغل کو بُرا سمجھتا ہوں بلکہ میرا تو خیال ہے کہ اصل زبان ہی ناولوں کے پڑھنے سے آ سکتی ہے کیونکہ اس میں قریباً قریباً ایسی باتیں ہوتی ہیں اور ایسے الفاظ ہوتے ہیں جن کی ضرورت روزمرہ کے کاروبار میں پڑتی ہے۔ ہاں عشقیہ ناول کو میں بہت برا سمجھتا ہوں، باقی زبان دانی کے لیے میں خود بھی کبھی کبھی کوئی ناول پڑھ لیا کرتا ہوں…ناول لکھنے والے جو قصہ کا رنگ اختیار کرتے ہیں اس سے بہتر ہے کہ وہ مکالمہ کا رنگ اختیار کیا کریں۔ اس موجودہ طریق میں جھوٹ کا ایک شائبہ پایا جاتا ہے اور اس سے انسان کو دھوکہ لگ جاتا ہے …‘‘ (الحکم ۲۸؍مارچ ۱۹۲۰ء صفحہ ۲)
حضورؓ کی تقاریر اور تحریرات میں کئی جگہوں پرعلم و ادب کی تعمیری اور مفید سمت بندی موجود ہے۔ علم و ادب کے میدان میں حضور رضی اللہ عنہ نے نہ صرف مردوں کی پذیرائی فرمائی بلکہ خواتین کی بھی علمی میدان میں آگے آنے کی حوصلہ افزائی کی۔ محترمہ بشارت خاتون صاحبہ (وفات: ۱۶؍جون ۱۹۸۶ء مدفون بہشتی مقبرہ ربوہ) اہلیہ حضرت بابو عبدالمجید صاحب انبالویؓ ایک اچھی قلم کار خاتون تھیں اور لاہور کے مشہور رسالہ ’’تہذیب نسواں‘‘ میں وقتاً فوقتاً لکھتی رہتی تھیں، اپریل ۱۹۲۶ء میں حضورؓ نے ان کا نکاح پڑھایا اور خطبہ نکاح میں فرمایا: ’’سال کے قریب عرصہ ہوا مَیں نے عورتوں کے اخبار تہذیب نسواں لاہور میں ایک مضمون پڑھا… مجھے خوشی ہوئی کہ ایک احمدی عورت نے مضمون لکھنے شروع کیے ہیں … اب مجھے اس تقریب پر معلوم ہوا ہے کہ وہ یہی احمدی عورت تھیں جن کا مَیں اب نکاح پڑھنے لگا ہوں … اگر کچھ عورتیں ایسی نکلیں جو مثال قائم کر دیں تو اور بھی کئی عورتیں مضامین لکھنے لگ جائیں گی۔ اس لیے وہ عورتیں جن میں مضمون نویسی کا ملکہ ہو ان کی ہمت بڑھانی چاہیے اور ان کو مدد دینی چاہیے۔‘‘ (الفضل ۲۳؍اپریل ۱۹۲۶ء صفحہ ۸)
اردو ادب کو بفضلہ تعالیٰ نہایت ہی اعلیٰ اور زرخیز ذہن ملے ہیں اور اس کے فروغ اور ترقی میں بہتوں نے اپنا کردار نبھایا ہے۔ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ ایک عالمگیر جماعت کے امام تھے، تحریر و تقریر دونوں کے لیے جماعت احمدیہ کا اپنا میدان بہت وسیع تھا لیکن اردو علم و ادب کی بہتری اور اشاعت میں حضورؓ نے باوجود شدید مصروفیات کے اس کے معماروں کے ساتھ مل کر جتنا ہو سکا کام کیا اور مزید کسی تعاون اور حمایت کے لیے اپنے دروازے ہمیشہ کھلے رکھے۔ حضورؓ کی وفات کے بعد جن غیر از جماعت دوستوں نے مضامین لکھے اُن میں حکیم محمد یوسف حسن صاحب ایڈیٹر نیرنگ خیال لاہور اور سید ابو ظفر نازش رضوی صاحب نے خاص طور اپنے مضمون ادارہ الفضل کو بھجوائے جس میں دونوں نے قادیان اور ربوہ میں حضورؓ کی شفقت بھری ملاقاتوں کا تذکرہ کیا۔ نازش رضوی نے ایک ملاقات کا حال بیان کرتے ہوئے لکھا: ’’پھر ادبیات پر گفتگو شروع ہوئی۔ مجھے اس بات سے سخت حیرت ہوئی کہ حضرت صاحب کا ادبی ذوق نہایت منجھا ہوا اور انتہائی دقیقہ رس ہے۔ ادب کی نازک لطافتوں کا ذکر آیا تو معلوم ہوا کہ حضرت صاحب کو اِن پر صرف عبور ہی حاصل نہیں بلکہ یہ خود اُن کی طبیعت کا حصہ ہیں۔ کسی نظام کا سربراہ یا کسی قوم کا پیشوا ہونا جُدا بات ہے اور انتہائی لطیف ادبی ذوق کا حامل ہونا قطعی طور پر دوسری چیز ہے۔ پھر آپ کا اپنا کلام بھی بہت ہی بلند پایہ ہے۔‘‘ (الفضل ۱۴؍اپریل ۱۹۶۶ء صفحہ ۴)
(اس مضمون کا بنیادی خیال محترم مولانا دوست محمد شاہد صاحب مرحوم کے تاریخ احمدیت جلد پنجم اور ششم میں اردو ادب کے متعلق ابواب سے لیا گیا ہے۔ فانہٗ یقال: من برکۃ العلم أن یضاف القولُ الی قائلہٖ۔ نیز اس مضمون میں دیے گئے رسائل کے عکس ریختہ ویب سائٹ سے لیے گئے ہیں۔)
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: محض اپنے خیالات اور آرزو کے مطابق مذہب پر عمل کرنا اطاعت نہیں




