حاصل مطالعہ

حضرت اقدس مسیح موعودؑ کی صداقت پرحضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کا ایمان

اس بارہ میں کسی شبہ کی گنجائش باقی نہیں رہتی کہ آپ کو اپنے عظیم باپ کی صداقت پر کتنا گہرا اور پختہ ایمان تھا۔ اور اس کے نتیجہ میں ایسی گہری محبت آپ کی ذات سے اور آپ کی ایسی عظمت آپ کے دل پر قائم تھی کہ اس کی مثال مشکل ہی سے ملے گی

حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب تحریر فرماتے ہیں:حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد کی آئندہ زندگی کا رُخ معیّن کرنے کے لیے بہت سے اسباب کار فرما تھے۔ جو ظاہری بھی تھے اور باطنی بھی، عمومی بھی تھے اور خصوصی بھی، ایسے عوامل میں سے جو عمومی حیثیت رکھتے ہیں اور بچے کی شخصیت کی تعمیر پر لازماً نہایت گہرے رنگ میں اثر انداز ہو تے ہیں ایک نہایت اہم عامل کا اب ہم جائزہ لیں گے جس نے آپ کی شخصیت کی تعمیر میں ایک نا قابلِ فرا موش اور نہایت اہم کردار ادا کیا ہے۔

سوائے اس کے کہ بچہ نہایت کُند ذہن ہو کوئی ماں باپ اپنے بچے سے اپنی اندرونی شخصیت کو چھپا نہیں سکتے۔ خواہ وہ شخصیتیں لاکھ جعل اور فریب کے پردوں میں لپٹی ہوئی کیوں نہ ہوں اور یہ امر بھی قطعی اور نا قابلِ تردید ہے کہ بچے کے خیالات کا رُخ معیّن کرنے اور اس کی اندرونی شخصیت کے خدوخال بنانے میں سب سے اہم کردار اس کے ماں باپ کی وہ اندرونی تصویر ادا کرتی ہے جو خود اس کے دل و ماغ پر بنتی چلی جاتی ہے۔ اس کے نتیجہ میں نفسیاتی الجھنیں بھی پیدا ہوتی ہیں ۔ اسی کے نتیجہ میں ذہنی بغاوتیں بھی جنم لیتی ہیں اور اسی کے نتیجہ میں اعلیٰ مقاصد کی پیروی میں سرتا پا وقف مخلص اور صادق القول شخصیتیں بھی اُ بھر تی ہیں۔ غرضیکہ نیکی اور بدی میں نمایاں کردار ادا کرنے والوں کے نفسیاتی پس منظر کا اگر تجزیہ کیا جائے تو یہ کہنا مبالغہ آمیز نہ ہوگا کہ اُن کے والدین کے متعلق اُن کی رائے کو ان کے کردار کے بگاڑنے یا بنانے میں گہرا دخل ہوتا ہے ، جو رائے غیر شعوری طور پر لمبے تجربات اور محسوسات کے نتیجہ میں از خود ان کے دل و دماغ میں قائم ہوتی چلی جاتی ہے اور اس رائے کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی منفی یا مثبت جذباتی تحریکات اس کی اپنی شخصیت کو اس طرح ڈھالتی چلی جاتی ہیں جیسے کمہار کے ہاتھ میں گُندھی ہوئی مٹی ڈھلتی ہے۔

ہمیں تسلیم ہے کہ یقیناً یہ شخصیتوں کی تعمیر و تخریب کا واحد سبب نہیں اور ہم با خبر ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے وسیع کار خانہ مشیّت میں اَن گنت اسباب اور محرکات نا معلوم طور پر اپنا کام کررہے ہیں جو کچھ انسان کے محدود علم کے احاطہ میں داخل ہے ، اُسے دیکھتے ہوئے ہم مذکورہ بالا ایک سبب کو اگر سب دوسرے ظاہری اسباب سے قوی تر قرار دیں تو ہر گز مبالغہ نہ ہو گا۔

اس زاویہ نگاہ سے حضرت صاحبزادہ صاحب کی شخصیت کا جائزہ لیں تو یہ تسلیم کیے بغیر چارہ نہیں کہ آپ اپنے والد کو گہرے اندرونی مشاہدہ کے بعد اور لمبے عرصہ پر پھیلے ہوئے ظاہر و باطن آثار کے مطالعہ کے نتیجہ میں مخلص ، صادق القول اور حق پرست یقین کرتے تھے اور اس یقین کے نتیجہ میں جس قسم کے مثبت اثرات آپ کی شخصیت پر مترتّب ہو نے چاہیے تھے وہ اسی طرح مترتب ہوئے۔

اسی کا نتیجہ تھا کہ آپ اسی مقصد کے لیے ہمہ تن وقف ہو گئے جس کے حصول کی خاطر آپ کے عظیم باپ کا ایک ایک لمحہ وقف تھا۔ آپ نے اس راہ میں اسی طرح جانی اور مالی اور جذباتی قربانیاں دیں جس طرح جلیل القدر باپ زندگی بھر دیتا رہا اور اسی طرح راہ میں دُکھ پر دکھ جھیلے اور مشقتوں پر مشقتیں اُ ٹھائیں ۔ غرضیکہ وہ تمام آثار اس کے فکر و عمل میں ظاہر ہوئے جو قوی یقین اور پختہ ایمان کے بغیر ظاہر نہیں ہو سکتے۔

ظاہر ہے کہ بچپن کا زمانہ جو کسی سوانحِ نگار کے دمِ تحریر سے ستّر برس پیچھے رہ چکا ہو۔ اس کے تمام خدّو خال تو کیا ، اُن کے ایک حصہ کو بھی از سرِ نو اُجاگر کرنا کوئی آسان امر نہیں۔ اگرچہ یہ درست ہے کہ مختلف راویوں اور مضمون لکھنے والوں نے جو آپ کے بچپن کے ساتھی تھے ، مختلف وقتوں میں مختلف واقعات پر روشنی ڈالی ہے لیکن نہ تو اُن کا حضرت مرزا محمود احمد سے ملاپ کا زمانہ آپ کے تمام بچپن پر حاوی ہو سکتا تھا نہ ہی اُن کی یاد داشت از سرِنو ہر نقش کو اُجاگر کر سکتی تھی۔ اس کی کمی کو پورا کرنے کے لیے ہمیں بار بار خود حضرت مرزا محمود احمد صاحب کے اُن بیانات اور فرمودات کا سہارا لینا پڑتا ہے جو آپ نے اپنی بڑی عمر کے زمانہ میں کسی مضمون کے تعلق میں بیان کئے۔ یہ بیانات چونکہ خود اپنی صداقت کی اندرونی شہادتیں لیے ہوئے ہیں ۔ لہٰذا کسی اہل بصیرت اور صاحبِ فراست انسان کے لیے اُن کی صداقت پر شک کرنے کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔ نمونہ کے طور پر دو واقعات پیش ہیں۔ ایک چھوٹا سا سادہ سا واقعہ ہے جو بہت بچپن کا معلوم ہوتا ہے اور دوسرا نسبتاً پختہ عمر یعنی عنفوانِ شباب کا واقعہ معلوم ہوتا ہے۔

پہلے کی اہمیت اس کی سادگی اور تصنّع سے پاک معصومانہ بیان میں ہے اور دوسرے کی اہمیت اِس بناء پر بڑی بھاری ہے کہ ایک خطرناک اور اچانک بحران کے وقت حضرت صاحبزادہ صاحب کے فوری اور بے ساختہ ردِّ عمل کا اس میں ذکر ہے اور اس سے بھی بڑھ کر قابلِ غور اور اَنمول وہ تبصرہ ہے جو آپ نے ایک عجیب محویت کے عالم میں ڈوب کر خود اس واقعہ پر کیا ہے۔

پہلا واقعہ یوں ہے : ’’ میری عمر جب نو یا دس برس کی تھی۔ مَیں اور ایک اور طالب علم گھر میں کھیل رہے تھے۔ وہیں الماری میں ایک کتاب پڑی ہوئی تھی جس پر نیلا جُزدان تھا اور وہ ہمارے دادا صاحب کے وقت کی تھی۔ نئے نئے علوم ہم پڑھنے لگے تھے اس کتاب کو جو کھولا تو اس میں لکھا تھا کہ اب جبرائیل نازل نہیں ہوتا۔ میں نے کہا یہ غلط ہے۔ میرے ابا پر تو نازل ہوتا ہے۔ اس لڑکے نے کہا جبرا ئیل نہیں آتا ، کتاب میں لکھا ہے۔ ہم میں بحث ہو گئی۔ آخر ہم دونوں حضرت صاحبؑ کے پاس گئے اور دونوں نے اپنا اپنا بیان پیش کیا۔ آپؑ نے فرمایا۔ کتاب میں غلط لکھا ہے۔ جبرائیل اب بھی آتا ہے۔‘‘(الحکم جوبلی نمبر دسمبر ۱۹۳۹ء صفحہ ۶۶)

دوسرا واقعہ یوں ہے:’’بیوقوفی کے واقعات میں مجھے بھی اپنا ایک واقعہ یاد ہے۔ کئی دفعہ اس واقعہ کو یاد کر کے ہنسا بھی ہوں اور بسا اوقات میری آ نکھوں میں آنسو بھی آ گئے ہیں۔ مگر مَیں اسے بڑی قدر کی نگاہ سے بھی دیکھا کرتا ہوں اور مجھے اپنی زندگی کے جن واقعات پر ناز ہے ، اُن میں وہ ایک حماقت کا واقعہ بھی ہے۔ وہ واقعہ یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے میں ایک رات ہم سب صحن میں سو رہے تھے۔ گرمی کا موسم تھا کہ آسمان پر بادل آیا ۔ اور زور سے گرجنے لگا۔ اسی دوران میں قادیان کے قریب ہی کہیں بجلی گر گئی۔ مگر اس کی کڑک اس زور کی تھی کہ قادیان کے ہر گھر کے لوگوں نے سمجھا کہ یہ بجلی شاید اُن کے گھر میں ہی گری ہے … اس کڑک اور کچھ بادلوں کی وجہ سے تمام لوگ کمروں میں چلے گئے۔ جس وقت بجلی کی یہ کڑک ہوئی ، اس وقت ہم بھی صحن میں سو رہے تھے ، اُٹھ کر اندر چلے گئے۔ مجھے آج تک وہ نظارہ یاد ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام جب اندر کی طرف جانے لگے تو میں نے اپنے دونوں ہاتھ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سر پر رکھ دئیے کہ اگر بجلی گرے تو مجھ پر گرے ، ان پر نہ گرے۔ بعد میں جب میرے ہوش ٹھکانے آئے تو مجھے اپنی اس حرکت پر ہنسی آئی کہ ان کی وجہ سے تو ہم نے بچنا تھا نہ کہ ہماری وجہ سے محفوظ رہتے۔

مَیں سمجھتا ہوں میری وہ حرکت ایک مجنون کی حرکت سے کم نہیں تھی ۔ مگر مجھےخوشی ہوا کرتی ہے کہ اس واقعہ نے مجھ پر بھی اس محبت کو ظاہر کر دیا جو مجھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے تھی۔ بسا اوقات انسان خود بھی نہیں جانتا کہ مجھے دوسرے سے کتنی محبت ہے جب اس قسم کا کوئی واقعہ ہو تو اسے بھی اپنی محبت کی وسعت اور اس کی گہرائی کا اندازہ ہو جاتا ہے تو جس وقت محبت کا انتہائی جوش اُٹھتا ہے عقل اس وقت کام نہیں کرتی ، محبت پرے پھینک دیتی ہے عقل کو اور محبت پرے پھینک دیتی ہے فکر کو اور وہ آپ سامنے آ جاتی ہے۔‘‘ (الفضل ۲۵؍جنوری۱۹۴۰ء)

اس واقعہ اور اس سے متعلق آپ کے تاثرات کو پڑھ کر اس بارہ میں کسی شبہ کی گنجائش باقی نہیں رہتی کہ آپ کو اپنے عظیم باپ کی صداقت پر کتنا گہرا اور پختہ ایمان تھا۔ اور اس کے نتیجہ میں ایسی گہری محبت آپ کی ذات سے اور آپ کی ایسی عظمت آپ کے دل پر قائم تھی کہ اس کی مثال مشکل ہی سے ملے گی۔ گو محبت بھی بچوں کو اپنے باپ سے ہوتی ہے اور بعض والدین کی عظمت کا احساس بھی اُن کے بعض بچوں کے دل میں ہوتا ہے ، لیکن بیک وقت ایسی شدید محبت اور تقدیس اور عظمت کے ایسے قوی احساس کا امتزاج یقیناً انسانی تجربات میں آئے دِن کا مشاہدہ نہیں ہے۔

اس گہرے ایمان اور محبت کا لازمی نتیجہ یہ نکلا کہ آپ اسی راہ پر دلی وابستگی اور کامل خلوص کے ساتھ چل پڑے جو غلبۂ اسلام کے جلد تر ظہور کے لیے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خود اختیار فر مائی تھی اور اپنی تمام طاقتیں بچپن ہی سے اس راہ میں وقف کر دیں۔ دنیا وی علم کے مقابل پر دینی علم کے حصول میں امتیازی رغبت اسی یقین کامل کا ایک نتیجہ تھا۔ حالا نکہ جہاں تک حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ذاتی توجہ کا تعلق تھا۔ آپ اپنی شبانہ روز شدید مصروفیات کے باعث اپنے کسی بھی بچے کی تعلیم کی طرف ذاتی توجہ نہیں دے سکتے تھے۔ دوسرا گہرا اثر اس ایمان کا یہ ظاہر ہوا کہ بچپن ہی سے آپ کو عبادت الٰہی کا ذوق و شوق پیدا ہوا اور کم سنِی ہی میں آپ نیم شبی عبادتوں کے عادی ہو گئے۔ متعدّد روایات سے پتہ چلتا ہے کہ آپ نماز پنچ وقتہ کے علاوہ تہجد کی نماز بھی بالالتزام ادا کرتے تھے اور نماز کی ادائیگی محض رسمی اور ظاہری نہ تھی بلکہ بڑے خشوع و خضوع اور سوزو گداز کی حامل ہوا کرتی تھی۔ ایک بچے یا نوجوان کا نمازوں میں گریہ و زاری کرنا سجدوں میں دیر تک پڑے رہنا یقیناً بڑوں کے کیے باعث تعجب ہوتا ہے۔ خصوصاً اس وقت جبکہ ایسے بچے کو کوئی ظاہری صدمہ نہ پہنچا ہو اور فکر کی کوئی دوسری وجہ بھی نظر نہ آئے یہ تعجب اور بھی بڑھ جاتا ہے اور دل میں سوال اٹھتا ہے کہ آخر اس بچے پر کیا بیتی ہے جو راتوں کو چُھپ چُھپ کر اُٹھتا اور بِلک بِلک کر اپنے ربّ کے حضور روتے ہوئے اپنے معصوم آنسوؤں سے سجدہ گاہ کو تر کر دیتا ہے!

یہی تعجّب شیخ غلام احمد صاحب واعظ رضی اللہ عنہ کے دل میں بھی پیدا ہوا جو ایک نو مسلم تھے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہاتھ پر اسلام میں داخل ہوئے تھے اور اخلاص اور ایمان میں ایسی ترقی کی کہ نہایت عابد و زاہد اور صاحبِ کشف و الہام بزرگوں میں ان کا شمار ہوتا ہے۔ آپ فرمایا کرتے تھے کہ ’’ ایک دفعہ میں نے یہ ارادہ کیا کہ آج کی رات مسجد مبارک میں گزاروں گا ، اور تنہائی میں اپنے مولا سے جو چاہوں گا مانگوں گا۔ مگر جب مسجد میں پہنچا تو کیا دیکھتا ہوں کہ کوئی شخص سجدے میں پڑا ہوا ہے اور الحاح سے دعا کر رہا ہے۔ اس کے اس الحاح کی وجہ سے میں نماز بھی نہ پڑھ سکا۔ اور اس شخص کی دعا کا اثر مجھ پر بھی طاری ہو گیا۔ اور میں بھی دُعا میں محو ہو گیا اور میں نے دعا کی کہ یا الٰہی ! یہ شخص تیرے حضور سے جو کچھ مانگ رہا ہے وہ اس کو دے دے اور میں کھڑا کھڑا تھک گیا کہ یہ شخص سر اُٹھائے تو معلوم کروں کہ کون ہے۔ میں نہیں کہہ سکتا کہ مجھ سے پہلے وہ کتنی دیر سے آئے ہوئے تھے مگر جب آپ نے سَر اُٹھایا تو کیا دیکھتا ہوں کہ حضرت میاں محمود احمد صاحب ہیں ۔ میں نے السلام علیکم کہا اور مصافحہ کیا اور پوچھا میاں ! آج اللہ تعالیٰ سے کیا کچھ لے لیا ؟ تو آپ نے فر مایا کہ میں نے تو یہی مانگا ہے کہ الٰہی ! مجھے میری آنکھوں سے اسلام کو زندہ کر کے دِکھا اور یہ کہہ کر آپ اندر تشریف لے گئے۔‘‘ (الفضل ۱۶؍فروری ۱۹۶۸ء)

اسلام کی فتح کا دن دیکھنے کی یہ بے قرار تمنا جو اس نو عمری میں آپ کے دل میں پیدا ہوئی نو عمری ہی میں پھل بھی لانے لگی۔ چنانچہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے معصوم دِل سے اُٹھنے والی پا کیزہ دعاؤں کو رحمت اور شفقت کی نظر سے دیکھا اور اس دِل کی تسلی کے خود انتظامات فر مائے۔ یہ تسلی رویائے مبشرہ کی صورت میں بھی دی گئی اور الہام کی زبان میں بھی اور کشفی رویت کے ذریعے بھی۔

حضرت سیّد سرور شاہ صاحب ؓ جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک جلیل القدر صحابی اور جیّد عالم تھے اور جن کے علم و فضل کا شہرہ دُور دُور تک پھیلا ہؤا تھا اور حضرت صاحبزادہ صاحب کے اساتذہ میں سے تھے ، بیان فرماتے ہیں: ’’حضرت خلیفہ المسیح الثانی ؓ مجھ سے پڑھا کرتے تھے تو ایک دن میں نے کہا میاں ! آپ کے والد صاحب کو تو کثرت سے الہام ہوتے ہیں کیا آپ کو بھی الہام ہوتا اور خوابیں وغیرہ آتی ہیں؟ تو میاں صاحب نے فر مایا کہ مولوی صاحب ! خوابیں تو بہت آتی ہیں اور میں ایک خواب تو تقریباً روز ہی دیکھتا ہوں اور جو نہی میں تکیہ پر سر رکھتا ہوں اس وقت سے لے کر صبح کو اُ ٹھنے تک یہ نظارہ دیکھتا ہوں کہ ایک فوج ہے جس کی میں کمان کر رہا ہوں اور بعض اوقات ایسا دیکھتا ہوں کہ سمندروں سے گزر کر آگے جا کر حریف کا مقابلہ کر رہے ہیں اور کئی بار ایسا ہوا ہے کہ اگر میں نے پار گزرنے کے لیے کوئی چیز نہیں پائی تو سر کنڈے وغیرہ سے کشتی بنا کر اور اس کے ذریعہ پار ہو کر حملہ آور ہو گیا ہوں ۔ میں نے جس وقت یہ خواب آپ سے سنا اسی وقت سے میرے دل میں یہ بات گڑی ہوئی ہے کہ یہ شخص کسی وقت یقیناً جماعت کی قیادت کرے گا اور میں نے اسی وجہ سے کلاس میں بیٹھ کر آپ کو پڑھانا چھوڑ دیا۔ آپ کو اپنی کرسی پر بٹھاتا اور خود آپ کی جگہ بیٹھ کر آپ کو پڑھاتا۔ اور میں نے خواب سُن کر آپ سے یہ بھی عرض کر دیا تھا کہ میاں ! آپ بڑے ہو کر مجھے بُھلانہ دیں اور مجھ پر بھی نظرِ شفقت رکھیں ‘‘۔( الفضل ۱۶ فروری۱۹۶۸ء)

بچپن میں آپ کے الہام کے بارہ میں آپ کے ساتھ کھیلے ہوئے پُرانے دوست جو بفضلہ تعالیٰ تادمِ تحریر موجود ہیں ، بیان فر ماتے ہیں: ’’شاید یہ امر کسی دوسری جگہ شائع شدہ ریکارڈ میں آچکا ہو، لیکن میں اس کا تذکرہ ضروری سمجھتا ہوں کہ آپ کو بچپن کے زمانہ میں جب کہ وہ مدرسہ تعلیم الاسلام میں میرے ساتھ پڑھتے تھے۔ آپ نے ذکر فر مایا کہ اُن کو یہ آیت الہام ہوئی ہے۔ ’’جَاعِلُ الَّذِیْنَ ا تَّبِعُو کَ فَوْقَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا اِ لیٰ یَوْ مِ الْقِیَا مَةِ ‘‘ اور یہ بھی فر مایا کہ انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں عرض کر دیا تھا کہ یہ الہام مجھے ہوا ہے۔‘‘ (روایت حضرت مرزا احمد بیگ صاحب )

نو عمری ہی کے عالم میں اللہ تعالیٰ کی رویت کا شرف بھی آپ کو نصیب ہوا۔ چنانچہ مسجد احمدیہ لنڈن کی تعمیر کے لیے چندہ کی تحریک کرتے ہوئے ایک خطبہ کے دوران اس رویتِ الٰہی کا ذکر کرتے ہوئے فر ماتے ہیں: ’’مجھے آج تک اہم معاملات میں خدا تعالیٰ کی رویت ہوئی ہے۔ پہلے پہل اس وقت کہ ابھی میرا بچپن کا زمانہ تھا۔ اس وقت میری توجہ کو دین کے سیکھنے اور دین کی خدمت کی طرف پھیرا گیا اس وقت مجھے خدا نظر آیا اور مجھے تمام نظارہ حشر و نشر کا دکھایا گیا۔ یہ میری زندگی میں بہت بڑا انقلاب تھا‘‘۔ ( الفضل ۲۲ جنوری ۱۹۲۰ء)

معلوم ہوتا ہے کہ خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھی یہ احساس تھا کہ اس بچے کے ساتھ خدا تعالیٰ کا خاص تعلق اس کم عمری کے زمانہ ہی میں شروع ہو چکا ہے چنانچہ خود حضرت مرزا محمود احمد صاحب بیان فر ماتے ہیں کہ ’’جن دِنوں کلارک کا مقدمہ تھا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اوروں کو دعا کے لیے کہا تو مجھے بھی کہا کہ دعا اور استخارہ کرو۔ میں نے اُس وقت رؤیا میں دیکھا کہ ہمارے گھر کے ارد گرد پہرے لگے ہوئے ہیں۔ میں اندر گیا جہاں سیڑھیاں ہیں وہاں ایک تہ خانہ ہوتا تھا۔ میں نے دیکھا کہ حضرت صاحبؑ کو وہاں کھڑا کر کے آگے اُپلے چن دئیے گئے ہیں اور اُن پر مٹی کا تیل ڈال کر کوشش کی جارہی ہے کہ آگ لگا دیں ۔ مگر جب دیا سلائی سے آگ لگاتے ہیں تو آگ نہیں لگتی۔ وہ بار بار آگ لگانے کی کوشش کرتے ہیں مگر کامیاب نہیں ہوتے۔ میں اس سے بہت گھبرایا۔ لیکن جب میں نے اس دروازے کی چوکھٹ کی طرف دیکھا تو وہاں لکھا تھا کہ ’’ جو اللہ کے بندے ہوتے ہیں ، اُن کو کوئی آگ نہیں جلا سکتی۔‘‘ ( الفضل ۱۶؍فروری ۱۹۶۸ء) (سوانح فضل عمر جلد اوّل صفحات ۱۴۷ تا ۱۵۴)

(مرسلہ: امۃ الباری ناصر۔ امریکہ)

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: ڈھونڈوگے اگر ملکوں ملکوں ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button