افریقہ کے سفید جنّ کا طلسم!
ان کنواری شہزادیوں کو سفید جن سے رہائی دلانےوالا شہزادہ حضرت مصلح موعودؓ اس طلسم کے توڑ کی بنا ڈال چکاہے
خدا نے ان افریقن ممالک کو احمدیت کےلیے محفوظ رکھا ہوا ہے
اور اسلام کی ترقی کے ساتھ ان کا نہایت گہرا تعلق ہے
یہ دنیا بھی کتنی عجیب ہے۔ ہم بچپن میں دیو مالائی قصوں میں سنتے یا پڑھتے تھے کہ جنّ یا دیو ایک سیاہ فام دیو ہیکل جسم کا مالک وجود ہوتا ہے۔ کہانیوں کے سر ورق پر سیاہ فام تصاویر یا ڈرائنگز بنی ہوتی تھیں۔ شہزادی یا ملکہ کو ایک سیاہ فام دیو اپنے قبضہ میں لےلیتا تھا جسے بادشاہ یا شہزادہ چھڑاتا تھا۔ پاکستان ٹیلی ویژن پر اس وقت کے واحد تفریحی پروگرام ’’عینک والا جنّ ‘‘ میں اسی قسم کے جنّ، چڑیل اور بھوتوں کی منظر کشی کی گئی۔ ماسوائے چند ایک انگریزی فلموں کے اکثر فلموں میں جنّ، دیو اور ممیز سیاہ فام بنا کر عوام الناس کے ذہنوں میں ایک شبیہ قائم کردی گئی ہے۔ جس سے دنیا کے اکثر حصہ میں یہی تصور کیا جاتا ہے کہ جن اور دیو سیاہ فام ہوتے ہیں۔
حضرت مصلح موعودؓ نے تفسیر کبیر میں جنّ اور دیو کے نظریہ کے متعلق بتایا ہے کہ ہندوستان کے لوگ جب تجارت کی غرض سے مغرب اور پھر شمال مغرب کے علاقوں میں پہنچے تو کوہِ قاف سے پرے برف پوش علاقوں میں رہنے والی دیوقامت قوم کو اپنے مقابل ایک مختلف قوم پایا۔ انہوں نے انہیں غیر مرئی مخلوق خیال کیا کیونکہ وہ اچانک اپنے برف پوش گھروں میں غائب ہوجاتی تھیں۔ جنوں، پریوں اور دیو کے نظریات نے جنم لیا اور یہ قصے کہانیاں بڑھتی گئیں۔ ہو سکتا ہے کہ وائیکنگ دور میں ان عظیم الجثہ اقوام کے حملوں کے باعث بھی یہ نظریات قائم ہو گئے ہوں۔ بہرحال ان سب باتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ڈر اور خوف کے سبب پیدا ہونے والا یہ نظریہ اتنا قوی ہوگیا کہ قرآن کریم میں مذکور جنّ و انس کی ترکیب سے انسانوں کے مقابل اعلیٰ طاقتوں کی مالک غیر مرئی مخلوق کو جنّ متصور کر لیا گیا۔
مکمل حوالہ بھی پیش ہے۔ حضور رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ’’جنّ چونکہ مخفی وجود کو کہتے ہیں اس لئے جنّ کالفظ قرآن کریم میں عربوں اوردوسری اقوام کے محاورہ کے مطابق ان اقوام کے لئے بھی بولاجاتاہے جوشمالی علاقوں میں اورسرد ممالک میں رہتی تھیں۔ چونکہ لوگ بوجہ شدت سردی کے ان کے ممالک کی طرف سفر نہیں کرتے تھے۔ اوروہ گرمی کی وجہ سے ادھر نہ آتے تھے۔ نیز چونکہ سرد علاقوں میں رہنے کے سبب سے وہ زیادہ سفید رنگ والے اورشراب کے استعمال کی وجہ سے زیادہ سرخ ہوتے تھے ایشیا کے لو گ انہیں کوئی الگ مخلوق سمجھتے تھے۔ اورانہیں جنّ اورپریاں کہتے تھے یہ ان کاعام نام تھا۔ چنانچہ جیساکہ میں اوپر لکھ آیاہوں یہود کایہ عقیدہ تھا کہ جنّ شمالی علاقہ میں رہتے ہیں۔ چنانچہ شرکی ربیّ الیعذرنے اپنی کتاب میں یہی لکھا ہے کہ جنّ زیادہ تردنیا کے شمالی علاقوں میں رہتے ہیں۔ ہندوقوم نے بھی اپنے شمال میں ہی جنّوں کامقام تجویز کیا ہے۔ چنانچہ جیسا کہ حوالہ گذر چکا ہے ہندوؤں کے نزدیک گندھروا لوگوں کاعلاقہ ہندوستان کے شمال مغرب میں تھااورٹیکسلا شہر جوعلاقہ ہزارہ میں تھا اسے وہ گندھروا کے علاقہ کا شہر کہتے تھے۔ اوردریائے سندھ کے شمال کے علاقہ کو ان کامسکن قرار دیتے تھے۔ یعنی ہزارہ افغانستان وغیرہ کو۔ مسلمانوں میں جو قصے کہانیاں مشہور ہیں ان میں جنّات کامسکن کوہ قاف اوراس کے پار کا علاقہ سمجھاجاتاہے۔ پس یہ بات ظاہر ہے کہ شمالی علاقوں کے سرخ و سفید لوگ جو تمدّنی حالات کے ماتحت قریباً ایشیا سے بالکل الگ ہوگئے تھے اوربہت کم ادھر آتے تھے اورمذہب اورطورطریق کے لحاظ سے بھی الگ تھے۔ ایشیا کے رہنے والوں کے نزدیک جواس وقت تمدن کے حامل تھے جنّ تھے۔ کیابلحاظ اپنی شکلوں کے اورکیا بلحاظ ایشیاسے دوررہنے کے (شائد ہندوؤں نے نہ صرف شمال مغربی علاقہ کے ساکنوں کی ظاہری شکل کی وجہ سے بلکہ ان کی قوت اورطاقت کی وجہ سے کہ وہ ہمیشہ ہندوستان پر حملہ کرتے رہتے تھے ان کو جنّ قرار دیا)
اسی محاورہ کے مطابق قرآن کریم میں بھی سورہ رحمٰن میں ان شمالی لوگوں کویعنی یورپ کے باشندوں کو جنّ کہا ہے۔ اس سورۃ میں آخر ی زمانہ کے تغیرات کا ذکر ہے اوربتایا گیا ہے کہ اس وقت دومشرق اوردومغرب ہوجائیں گے یعنی امریکہ کی دریافت سے دو علاقے مشرق اورمغرب کہلانے لگیں گے۔ اسی طرح نہر سویزکے ذریعہ دوسمندروں کے ملنے اوربڑے بڑے جہازوں کے چلنے کی خبردی گئی ہے اسی طرح بتایا ہے کہ اس وقت سائنس کی ترقی کے ساتھ لو گ آسمانی بادشاہت کو فتح کرنے کے خیال میں مشغول ہوں گے اورسمجھیں گے کہ وہ جلد کائنات کاراز دریافت کرنے والے ہیں۔ اس وقت آسمان سے آگ گرے گی۔ اوربم گریں گے اورسرخ روشنیاں آسمان پر چھوڑی جائیں گی اورآخر کفر اورشرک کو تباہ کرکے اسلام کو غلبہ دیاجائے گا۔ اس مضمون کے سلسلہ میں جنّ و انس کو بھی مخاطب کیاگیا ہے اورجنّ سے مراد وہی شمالی علاقوں کے لوگ یعنی یورپین مراد ہیں اوربتایا ہے کہ اس زمانہ میں یورپ اورایشیا کے لوگ باہم مل جائیں گے۔ اورسائنس کی بڑی ترقی ہوگی۔ مگر بے دینی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ عذاب نازل کریگا اورپھر اسلام کو قائم کرے گا۔ ثقلان اورجنّ اورالناس سے مراد ڈیما کریسی اورڈکٹیٹروں کی حکومت بھی ہوسکتی ہے۔ کیونکہ جنّ کے معنے عربی لغت میں اکثریت کے بھی ہیں اورالناس کے معنے خاص آدمیوں کے بھی ہوسکتے ہیں۔ پس جنّ سے مراد ڈیما کریسی ہے۔ اورالناس سے مراد وہ لوگ ہیں جواپنے آپ کو خاص قرار دے کر حکومت کو اپنے ہاتھ میں رکھتے ہیں۔ ثقل کے معنی اعلیٰ اورمحفوظ شے کے ہوتے ہیں۔ جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کریم اوراپنی اولاد کو ثقلان قراردیاہے۔ پس الثقلان سے مراد یہ دونوں گروہ ہیں جو اس وقت ساری دنیا پر غالب ہوں گے بعض ڈیماکریسی کے نام پر دنیاکومغلوب کریں گے اوربعض فاشزم اورناٹزم کے نام پردنیا کو سمیٹنا چاہیں گے۔ اور اپنے آپ کو سب دنیا سے بہتر قرار دیں گے۔ (تفسیر کبیر جلد ۵ صفحہ۲۸۸۔۲۹۰)
دوسرا رخ
لیکن تصویر کے اس دوسرے رخ کی حقیقت افریقہ آکر معلوم ہوئی کہ یہاں کے جنّ اور دیو حقیقتاً سفید فام ہوتے ہیں۔ فری ٹاؤن میں تو شاذ و نادر لیکن اَپ لائن یعنی اندرون صوبہ جات میں بعض اوقات بچے کسی سفید فام کو دیکھتے ہی دھاڑیں مار مار کررونا شروع کر دیتے ہیں۔ یا ڈر کر یا روتے ہوئے بھاگ کر گھر کے اندر یا کسی بڑےکے پیچھے چھپ جاتے ہیں۔ طُرفہ یہ کہ ہم بھی یہاں کے جنّ ہی متصور ہوئے۔ بڑے تو اس نظریہ سے دورہوتے جاتے ہیں لیکن معصوم بچوں کے ذہنوں پر فطرتاً وہ چھاپ پڑی ہوتی ہے۔
یہاں سیرالیون کے شمالی علاقوں میں سفید فام کو اوپوتو (Opotu جو شاید from Portugal کا مخفف ہے) کہا جاتا ہے جبکہ جنوب میں پومئی کہا جاتا ہے۔ ’’اوپوتو ‘‘یہ نام ان پرتگالی لوگوں کی وجہ سے دیا گیا جنہوں نے یہاں کے باسیوں پر ظلم ڈھائے۔ کہا جاتا ہے کہ وہ ان کے بچوں یا ان پر بڑے بڑے ظلم کیا کرتے تھے جس وجہ سے وہ لوگ دیو مالائی ٹھہرے۔ اس مظلوم قوم کے دل کے کسی کنارے میں ابھی تک اسیری اور غلامی کے وہ اثرات قائم ہیں جو انہیں دوسروں کی اپنے اوپر برتری کے خوف میں مبتلا رکھتے ہیں۔ عام غریب طبقہ سفید فام کو دیکھ کر عجیب خوف میں مبتلا ہو جاتا ہے ان کے نزدیک ہر سفیدفام امیر کبیر انسان ہے اور بچوں کے مطابق ظلم و سفاک انسان ہے۔
ان دو الفاظ کے مقابل وائٹ مین کی اصطلاح کا اطلاق ہر غیر ملکی پر کیا جاتا ہے۔ اس میں ہم ایشیائی گندمی رنگ والے بھی شامل ہیں۔ اگر غور کیا جائے تو یہی وائٹ مین وہ جنّ اور دیو ہیں جو ان اقوام پر حملہ آور ہوئے۔ انہیں اسیری کی زنجیروں میں جکڑا۔ انہیں ظلم و ستم کی چکی میں پیسا۔ جانوروں کی طرح سلوک کیا۔ اب اسیری کی دو صدیاں گزرنے کے بعد بھی اس قوم کے دلوں سے مغربی اقوام کا خوف نہیں گیا۔ یہاں کے بچے اس خوف کو لیے پیدا ہوتے ہیں۔ انہیں جو دنیا کی ادنیٰ قوم سمجھا گیا اس تاثر کے بادل ان پر ابھی تک منڈلا رہے ہیں۔ اور شاید یہی وجہ ہے کہ ان مغربی اقوام نے انہیں ابھی تک اپنے زیرِ تسلّط رکھاہوا ہے۔ ان کے وسائل پر قبضہ اور نجانے کتنے معاہدوں اور قرض تلے دبا رکھا ہے کہ یہ اقوام ابھی تک مغرب کی طرف نظرِ امداد ڈالے رکھتی ہیں۔
ہماری ان کہانیوں میں کی جانے والی منظر کشی میں جنّ ظالم ہوتا تھا۔ اور یہی ظلم یہاں سیاہ فام پر نہ صرف ڈھایا گیا بلکہ اب بھی سیاسی طور پر جاری ہے۔ ان طلسماتی کہانیوں میں جہاں دوشیزاؤں کو اغوا کیا جاتا تھا اور جن کا طلسم پورے راج پر پھیل جاتا تھا۔ اداسی و ویرانی ہر سو نظر آتی تھی۔ اور کوئی شہزادہ اس طلسم کو توڑ کر اپنی شہزادی کو چھڑا لاتا تھا۔ تو اس زمانے میں حقیقتاً سفید فام مغربی طاقتوں نے ہر سو اپنا طلسم پھیلایا ہوا ہے۔ حقوق کے رواج پانے کے سبب ان دوشیزاؤں کو تو نہیں اٹھایا جاتا مگر ان کی لکشمی(دولت )کو خوب سمیٹ لیا جاتا ہے۔ ان اقوام میں ویرانی اور مایوسی پھیلائی جاتی ہے۔
یہ اقوام بھی اپنےاُس شہزادے کی منتظر ہیں جو اس طلسم کو توڑ کر ان کا خوف اور مایوسی دور کرے گا۔
اتفاق کہیے یا اللہ تعالیٰ کی قدرت۔ پیشگوئی مصلح موعود کے دعویٰ کو ثابت کرتی کتاب الموعود میں حضرت مصلح موعودؓ نے بائبل متی باب ۲۵ آیت ۱ تا۱۲ میں موجود دلہا اور کنواری شہزادیوں والی پیشگوئی کو اپنے اوپر بھی چسپاں فرمایا ہے۔
جنوری ۱۹۴۴ء کے آغاز میں اللہ تعالیٰ نے آپؓ پر ایک رؤیا کے ذریعے یہ انکشاف فرمایا کہ آپؓ ہی مصلح موعود ہیں۔ اس رؤیا میں آپؓ نے فرمایا:اَنَا الْمَسِیْحُ الْمَوْعُوْدُ مَثِیْلُہٗ وَ خَلِیْفَتُہٗ۔ کہ میں بھی مسیح موعود ہی ہوں یعنی اس کا مشابہ نظیر اور خلیفہ۔
اسی رؤیا میں آگے چل کر حضورؓ نے فرمایا کہ میں تقریر کرتے ہوئے کہتا ہوں میں وہ ہوں جس کے ظہور کے لئے اُنیس سو سال سے کنواریاں منتظر بیٹھی تھیں۔ اور جب میں کہتا ہوں۔ میں وہ ہوں جس کے لئے اُنیس سو سال سے کنواریاں اس سمندر کے کنارے پر انتظار کر رہی تھیں تو میں نے دیکھا کہ کچھ نوجوان عورتیں اور جو سات یا ۹ ہیں جن کے لباس صاف ستھرے ہیں دوڑتی ہوئی میری طرف آتی ہیں۔ مجھے السَّلَامُ عَلَيْكُمْ کہتی اور ان میں سے بعض برکت حاصل کرنے کے لئے میرے کپڑوں پر ہاتھ پھیرتی جاتی ہیں اور کہتی ہیں ہاں ہاں ہم تصدیق کرتی ہیں کہ ہم اُنیس سو سال سے آپ کا انتظار کر رہی تھیں۔ (الموعود انوار العلوم جلد ۱۷ صفحہ۵۲۵)
اس رؤیا کی تعبیر حضورؓ یوں فرماتے ہیں : رؤیا میں مَیں نے جو یہ کہا کہ میں وہ ہوں جس کے لیے انیس سو سال سے کنواریاں اس سمندر کے کنارے پر انتظار کر رہی تھیں اس سے میں یہ سمجھتا ہوں کہ خداتعالیٰ میرے زمانہ میں یا میری تبلیغ سے یا ان علوم کے ذریعہ سے جو اللہ تعالیٰ نے میری زبان اور قلم سے ظاہر فرمائے ہیں۔ ان قوموں کو جن کے لیے حضرت مسیح موعودؑ پر ایمان لانا مقدر ہے اورجو حضرت مسیح ناصری کی زبان میں کنواریاں قرار دی گئی ہیں ہدایت عطا فرمائے گا اور اس طرح خداتعالیٰ کے فضل سے وہ میرے ہی ذریعہ ایمان لانے والی سمجھی جائیں گی۔ (الفضل یکم فروری ۱۹۴۴ء)
حضرت مصلح موعودؓ کے لیے پیشگوئی مصلح موعود میں ’’اسیروں کی رستگاری کا موجب‘‘ کے الفاظ موجود ہیں۔ اگر یکجائی طور پر اس نہج سے دیکھا جائے تو حضرت مصلح موعودؓ کے دور میں سمندر کے کناروں پر قائم افریقن ممالک میں احمدیت کا قیام، استحکام اور اشاعت و ترویج اس پیشگوئی کی صداقت پر مہر ثبت کرتی ہے کہ اسیروں کی رستگاری کرنے والا اور ان کنواری اقوام کا شہزادہ حضرت مصلح موعودؓ ہیں۔
حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ فرماتے ہیں:’’خدا نے ان افریقن ممالک کو احمدیت کےلیے محفوظ رکھا ہوا ہے اور اسلام کی ترقی کے ساتھ ان کا نہایت گہرا تعلق ہے۔ ہمارا مستقبل افریقہ کے ساتھ وابستہ ہے۔ ‘‘ (زریں ہدایات برائے مبلغین جلد ۲ صفحہ ۲۶۹)
توان کنواری شہزادیوں کو سفید جن سے رہائی دلانے والا شہزادہ حضرت مصلح موعودؓ اس طلسم کے توڑ کی بنا ڈال چکا ہے۔ اور ان کنواری اقوام کی عزت و اموال اور نفوس کی حفاظت کا بیڑا اب جماعت احمدیہ نے اٹھایا ہے۔ نظامِ نو کے ذریعہ ان اقوام پر سے جلد یہ طلسم ٹوٹے گا اور یہاں امن و امان قائم ہوگا اور مایوسی دور ہونے اور فتح اور ظفر کی کلید عطا ہوگی۔ ان شاء اللہ
٭…٭…٭




