نظم
علامات المقرّبین
خدا سے وہی لوگ کرتے ہیں پیار
جو سب کچھ ہی کرتے ہیں اُس پر نثار
اِسی فکر میں رہتے ہیں روز و شب
کہ راضی وہ دلدار ہوتا ہے کب
اُسے دے چکے مال و جان بار بار
ابھی خوف دل میں کہ ہیں نابکار
لگاتے ہیں دل اپنا اُس پاک سے
وہی پاک جاتے ہیں اس خاک سے
