یادِ رفتگاں

میرے والد محترم محمد شفیق قیصر صاحب شہید

ابتدائی زندگی اور تعلیم: خاکسار کے والد محترم محمد شفیق قیصر صاحب شہید، مکرم منشی محمد صادق صاحب (سابق مختار عام حضرت مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ عنہ) کے فرزند تھے۔ آپ کی ولادت اکتوبر ۱۹۳۹ء میں محمود آباد، سندھ میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم قادیان میں حاصل کی، اور تقسیم ملک کے بعد آپ نے پہلے ایمن آباد پھر سلانوالی، چنیوٹ اور بعد ازاں ربوہ سے تعلیم حاصل کی۔ ۱۹۵۵ء میں میٹرک کا امتحان پاس کیا۔

جماعتی خدمات کا آغاز: میٹرک کے فوراً بعد اللہ تعالیٰ نے آپ کو سلسلہ عالیہ احمدیہ کی خدمت کی توفیق عطا فرمائی۔ پہلے دفتر خدمت درویشاں میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ کے ساتھ کچھ عرصہ کام کرنے کی سعادت حاصل ہوئی، بعد ازاں ۱۹۵۷ء میں جامعہ احمدیہ میں داخلہ لیا اور ۱۹۶۳ء میں شاہد کی ڈگری حاصل کی۔ اسی دوران آپ نے مولوی فاضل اور عربی کا امتحان بھی پاس کیا۔

مجلس خدام الاحمدیہ میں خدمات: اللہ تعالیٰ نے آپ کو مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ میں مختلف شعبہ جات میں خدمات کی توفیق عطا فرمائی۔ ۱۹۵۹ء میں آپ نے مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ میں نائب مہتمم اشاعت، نائب ایڈیٹر رسالہ خالد اور بعد ازاں نائب مہتمم تعلیم کے طور پر خدمت کی۔

آپ ۱۹۶۵-۶۶ء میں پہلی مرتبہ مہتمم تحریک جدید مقرر ہوئے۔ ۱۹۶۶ء میں تبلیغ کے لیے آپ کو یوگنڈا اور مشرقی افریقہ بھجوایا گیا، جہاں سے واپس آکر آپ دوبارہ مجلس خدام الاحمدیہ سے منسلک رہے۔ ۱۹۷۰ء میں مہتمم عمومی کے فرائض کے ساتھ مجلس خدام الاحمدیہ سے متعلق حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے خطبات ’’مشعل راہ‘‘ کی تدوین کا کام بھی کیا۔

ازدواجی زندگی اور خاندان: آپ کی شادی ۱۹۶۷ء میں محترم مرزا منور احمد صاحب درویش قادیان ابن حضرت مرزا برکت علی صاحبؓ صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سب سے بڑی صاحبزادی سے ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو تین بچوں سے نوازا: بڑی بیٹی سعدیہ وحید صاحبہ مقیم جرمنی، بڑا بیٹا خاکسار طارق حیدر اور چھوٹا بیٹا محمد لطیف قیصر مقیم کینیڈا ہیں۔

مجلس خدام الاحمدیہ، ماہنامہ ’’خالد‘‘ اور ’’تشحیذالاذہان‘‘: آپ ۱۹۷۰ء سے ۱۹۷۶ء تک مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ میں مختلف عہدوں پر خدمات انجام دیتے رہے، جن میں مہتمم تعلیم، مہتمم اشاعت، مہتمم عمومی، اور مہتمم مقامی شامل ہیں۔ ۱۹۷۶ء میں آپ کو نائب صدر مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ نامزد کیا گیا، اور آپ نے وفات تک اسی حیثیت سے اپنی خدمات جاری رکھیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو سعادت عطا فرمائی کہ آپ پہلی مرتبہ نومبر ۱۹۶۵ء تا نومبر ۱۹۶۷ء اور پھر نومبر۱۹۷۳ء تا جولائی ۱۹۷۶ء ماہنامہ ’’خالد‘‘ کے ایڈیٹر رہے۔ اسی طرح اکتوبر ۱۹۷۰ء تا نومبر ۱۹۷۳ء اور پھر جولائی ۱۹۷۶ء سے وفات تک ماہنامہ ’’تشحیذ الاذہان‘‘ کے ایڈیٹر رہے۔ آپ ۱۹۶۷ء سے وفات تک رسالہ خالد اور تشحیذ کے پبلشر کی حیثیت سے بھی خدمات سر انجام دیتے رہے۔

قومی اسمبلی کی کارروائی میں کردار: آپ نے ۱۹۷۴ء میں قومی اسمبلی کی کارروائی کے دوران بطور مددگار کارکن نہایت فعال کردار ادا کیا۔ آپ اُس ٹیم کا حصہ تھے جس نے ’’محضرنامہ‘‘ کو بروقت چھاپ کر کے حضرت خلیفة المسیح الثالث رحمہ اللہ کی خدمت اقدس میں پیش کیا۔ اس سلسلے میں چودھری حمیداللہ صاحب سابق وکیل اعلیٰ تحریک جدید نے ایک بار بتایا کہ ۱۹۷۴ء کے دوران قیصر صاحب نے اللہ تعالیٰ کی مدد اور نصرت سے ایسے کام انجام دیے جو بظاہر بہت مشکل نظر آتے تھے۔ ان میں سے ایک اہم کام ’’محضرنامہ‘‘ کی انتہائی مختصر وقت میں تدوین، اشاعت اور ترسیل تھا، جسے آپ نے احسن طریقے سے مکمل کیا۔ حضرت خلیفة المسیح الثالث رحمہ اللہ آپ کی اس کاوش سے بہت خوش تھے۔

مجلس تحریک جدید اور قرآن پبلیکیشنز: مجلس تحریک جدید انجمن احمدیہ میں آپ ۱۹۶۵ء سے وفات تک وکالت تبشیر کے شعبہ تصنیف سے منسلک رہے اور قرآن پبلیکیشنز اور نصرت پرنٹرز لمیٹڈ کے انتظامی سربراہ کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے رہے۔ اسی حیثیت سے حضرت خلیفۃالمسیح الثالث رحمہ اللہ کی ہدایت پر جماعتی امور کی انجام دہی کے لیے ۱۹۷۸ء میں ہانگ کانگ، بنکاک، انڈونیشیا اور سنگاپور کا سفر کیا۔

قریبی دوست اور ہمسائے: ہمارے ساتھ دو ہمسایوں میں، کوارٹر نمبر ۱۹ میں میر غلام احمد نسیم صاحب اور کوارٹر نمبر۱۷ میں محترم محمد اعظم اکسیر صاحب رہائش پذیر تھے، جبکہ سامنے کے کوارٹر میں محترم حسن محمد خان عارف صاحب اور پچھلی جانب کے کوارٹر میں راجہ عبد العزیز صاحب کی رہائش تھی۔

والد مرحوم کے قریبی تعلقات والوں میں حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب (خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ)، محترم صاحبزادہ مرزا غلام احمد صاحب، محترم سید عبدالحئی شاہ صاحب، محترم مرزا حنیف احمد صاحب، محترم نواب منصور احمد خان صاحب، محترم حسن محمد خان عارف صاحب، محترم محمود احمدبنگالی صاحب، ابو المنیر نور الحق صاحب، منیر احمدبسمل صاحب، محمدعثمان چینی صاحب، ہدایت اللہ ہبش صاحب، عبدالوہاب آدم صاحب، سیدکمال یوسف صاحب، پیر معین الدین صاحب، میاں ظہیر الدین منصور صاحب، عبدالمغنی صاحب، محمود احمد بی ٹی صاحب، مغفور احمد منیب صاحب، ڈاکٹر مرزا لئیق احمد صاحب، عبداللطیف ستکوہی صاحب، مسعود احمد دہلوی صاحب، سعود احمد دہلوی صاحب، اور دیگر بہت سی محترم شخصیات شامل ہیں۔ پاکستان کے معروف صحافیوں اور سماجی کارکنوں میں بھی والد صاحب کے دوستوں کی ایک طویل فہرست ہے، جن کا ذکر اس مختصر مضمون میں ممکن نہیں۔

حکمت کے میدان میں خدمات: والد صاحب نے اپنی مختصر مگر نہایت مصروف زندگی میں یونانی حکمت کے میدان میں بھی خدمات انجام دیں اور کچھ ادویات بھی تیار کیں۔ اس سلسلے میں وہ محترم حکیم خورشید صاحب اور حکیم مبارک احمد صاحب ایمن آبادی (جو ماموں بھی تھے)سے بھی گاہے بگاہے ملاقات کرتے رہے۔

جامعہ کا مقالہ: آپ کا ’’شاہد‘‘ ( جامعہ احمدیہ کی ڈگری) والا مقالہ بعنوان ’’کتب خانے ‘‘ کتابی شکل میں موجود ہے۔

کار کا حادثہ اور شہادت: آپ کو ۱۹۷۹ء میں دوسری بار اشاعت قرآن کے سلسلے میں ہانگ کانگ بھیجا گیا۔ راستے میں جماعتی امور کی انجام دہی کے لیے آپ رنگون، برما؍میانمارمیں رکے، اور ۲۲ اور ۲۳؍مارچ ۱۹۷۹ء کی شب ایک کار کے حادثے میں شہید ہو گئے۔ انا للّٰہ و انا الیہ راجعون۔

آپ کا جسد خاکی تقریباً ایک ہفتہ بعد ربوہ پہنچا، اس دوران محلہ داروں اور جماعت کے کارکنان نے بہت خلوص اور محبت سے ہم سب گھر والوں اور آنے والے مہمانوں کا خیال رکھا۔ اللہ تعالیٰ ان کو جزائے خیر عطا فرمائے۔

آپ کی شخصیت: خاکسار محترم محمد شفیق قیصر مرحوم کا بڑا بیٹا ہے اور ان کی شہادت کے وقت خاکسار آٹھ برس کا تھا۔ بچپن کی چند دھندلائی ہوئی مگر خوبصورت یادوں میں آپ کی زندگی کے بعض پہلو بہت نمایاں تھے، جن میں ہم تینوں بہن بھائیوں اور ہماری والدہ سے ان کا حسن سلوک تھا۔ خاکسار نے کبھی انہیں ایک دوسرے سے یا ہم بچوں کے ساتھ اونچی آواز میں بات کرتے نہیں سنا۔آپ اپنی والدہ، والد اور بہن بھائیوں سے بہت محبت اور صلہ رحمی سے ملتے۔ ۱۹۷۹ء میں جب شہادت سے قبل آپ لاہور ہوائی اڈے جانے لگے تو آپ کی والدہ نے ہوائی اڈے ساتھ جانے کی خواہش کا اظہار کیا اور بہت محبت سے رخصت کیا۔ آپ علم دوست اور انسان دوست شخصیت کے مالک تھے۔ اس بات کا اندازہ اس سے کیا جاسکتا ہے کہ آپ کی وفات کے بعد آپ کی ہزارہا کتب خلافت لائبریری کو دی گئیں، جن میں بعض بہت نادر اور ہاتھ سے لکھی گئی کتب (قلمی نسخے) بھی شامل ہیں۔

ہمارے کوارٹر میں والد مرحوم کی کتب کے شوق کے پیش نظر حضرت مرزا طاہر احمد صاحب خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ کی تجویز پر ایک اضافی کمرہ بنایا گیا، جو کتب سے بھرا ہوا تھا۔ اس کمرے میں حضرت مرزا طاہر احمد صاحب ؒکے علاوہ افراد خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور بزرگان احمدیت گاہے بگاہے تشریف لاتے اور یوں ہم بچوں کو بچپن سے احمدیت کے ان درخشنده ستاروں کے ساتھ وقت گزارنے کی توفیق ملی۔ الحمد للہ

والد مرحوم ایک سادہ لوح انسان تھے، بہت محنتی اور احمدیت کی خدمت کے لیے ہر دم تیار۔ کئی مرتبہ ایسا ہوتا کہ رات کو کسی سفر سے آئے اور صبح دو تین بجے پھر کسی سفر کے لیے روانہ ہوگئے۔ آپ اپنے نام کی طرح ہر کس و ناکس سے بہت شفقت سے ملتے اور اسی بنا پر ایک وسیع حلقہ احباب رکھتے تھے۔ خلیفہ وقت سے محبت اور خلیفہ وقت کی آپ سے محبت کوئی ڈھکی چھپی بات نہ تھی۔

محترم مرزا غلام احمد صاحب (سابق صدر مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ) نے ایک واقعہ بیان کیا ہے کہ ایک بار حضرت خلیفة المسیح الثالث رحمہ اللہ نے شفیق قیصر صاحب کو ایک ضروری کام کے لیے لاہور سے کراچی ہوائی جہاز کے ذریعے جانے کا حکم دیا۔ مرزا غلام احمد صاحب فرماتے ہیں کہ میں انہیں لاہور ہوئی اڈے چھوڑنے گیا تو معلوم ہوا کہ جہاز مکمل طور پر بک ہوچکا تھا اور کوئی نشست خالی نہیں تھی۔ میں نے کہا کہ قیصر صاحب، آج جانا ممکن نہیں ہوگا۔ اس پر شفیق قیصر صاحب نے جواب دیا: ’’حضور کا حکم ہے اور میں ان شاءاللہ اسی جہاز سے جاؤں گا۔‘‘ کچھ دیر بعد جہاز کے گیٹ بند ہوگئے اور جہاز اڑنے کے لیے تیار تھا۔ میں نے پھر کہا کہ اب تو واپس چلیں، اس پر انہوں نے مسکرا کر کہا ’’جانا تو اسی جہاز پر ہے‘‘۔ مرزا غلام احمد صاحب بیان کرتے ہیں کہ تقریباً دس پندرہ منٹ بعد اسپیکر پر اعلان ہوا کہ ایک مسافر کی طبیعت خراب ہونے کے باعث ایک سیٹ خالی ہوگئی ہے۔ تب شفیق صاحب اٹھے اور کہنے لگے، میں نے کہا تھا ناں کہ خلیفہ وقت کا حکم ہے اور اسی جہاز میں جانا ہے۔مرزا غلام احمد صاحب مزید کہتے ہیں کہ مرحوم کا اللہ تعالیٰ پر کامل یقین تھا اور میں نے کبھی انہیں کسی مشکل میں گھبراتے ہوئے نہیں دیکھا۔

والد مرحوم کی کتاب دوستی اور بہترین یادداشت کا ذکر ان کے اکثر دوست کیا کرتے تھے۔

جسد خاکی کی آمد اور خلیفہ وقت کی شفقت: جب جسدخاکی ربوہ پہنچا تو حضرت خلیفة المسیح الثالث رحمہ اللہ اور آپ کی اہلیہ ہمارے کوارٹرنمبر ۱۸ میں تشریف لائے۔ اس روز روحانی باپ کو اپنے پاس پا کر ہم سب کا بے انتہا جذباتی ہونا ایک فطری عمل تھا۔ اس سے قبل خاکسار کی والدہ صدمے کی شدت کی وجہ سے رو نہ سکیں، مگر خلیفہ وقت کی شفقت نے وہ بند بھی توڑ دیے۔

خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی شفقت: وفات سے لے کر جنازہ آنے تک، خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے افراد، خاص طور پر محترم صاحبزادہ مرزا غلام احمد صاحب (صدر مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ) اور آپ کی اہلیہ، اسی طرح ڈاکٹر لطیف قریشی صاحب اور ان کی اہلیہ، ڈاکٹر مرزا مبشر احمد صاحب، صاحبزادہ مرزا خورشید احمد صاحب اور ان کی بہن قابل ذکر ہیں، جو صبح سے شام تک اور بعض خواتین رات بھر ہماری والدہ کے ساتھ رہتی تھیں۔ ان سب لوگوں کو جنہوں نے ہمارے ساتھ اس مشکل وقت میں احسان کا سلوک کیا، اللہ تعالیٰ ان کے اور ان کی آنے والی نسلوں کے ساتھ بہترین معاملہ فرمائے۔ آمین۔

تعزیت اور نماز جنازہ: والد صاحب کی وفات پر پاکستان بھر کی جماعتوں، خاص طور پر جماعت احمدیہ لاہور، کراچی اور فیصل آباد نے تعزیتی قراردادیں بھجوائیں۔ محترم محمد شفیق قیصر شہید موصی تھے، حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی اور بہشتی مقبرہ ربوہ میں بعد از تدفین دعا کروائی۔ آپ کے جنازے میں پاکستان بھر سے احمدی اور غیراز جماعت دوستوں نے شرکت کی، گھانا سے محترم عبدالوہاب آدم صاحب (جو والد مرحوم کے جامعہ میں ہم مکتب تھے) بھی موجود تھے۔

خطبہ جمعہ فرمودہ ۲۸؍مئی ۱۹۹۹ء میں حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ نے شہداء احمدیت کا تذکرہ کرتے ہوئے محترم محمد شفیق قیصر شہید کا نہایت عمدہ الفاظ میں تذکرہ فرمایا۔

دعاؤں کی درخواست: اس مضمون کو لکھنے اور شائع کرنے کا مقصد یہ ہے کہ والد محترم محمد شفیق قیصر شہید کا ذکر خیر دنیا کے مختلف حصوں میں بسنے والے ان احباب اور ان کی اولاد تک پہنچایا جائے، جو ان کو جانتے تھے اور جو کچھ عرصہ سے خاکسار سے والد مرحوم کے بارے میں کچھ لکھنے کی درخواست کر رہے تھے۔ یہ کوشش ان کی خواہش کی ایک ادنیٰ سی تعمیل ہے، اور اس سے بڑھ کر یہ کہ والد مرحوم کا ذکر خير کرتے ہوئے آپ تمام قارئین سے والد محترم محمد شفیق قیصر شہید اور ان کی اولاد کے حق میں دعا کی درخواست کی جاتی ہے۔

اللہ تعالیٰ والد مرحوم کو اپنے جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے اور ان کو اپنے پیاروں کے ساتھ شامل کرے۔ ان کی آئندہ نسلوں کو ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق دے، اور ہمیں احمدیت اور خلافت کی لازوال محبت عطا فرمائے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ہمیشہ احمدیت کے خادموں میں صفِ اول میں شامل رہنے کی سعادت بخشے۔ آمین

(طارق حیدر، ونڈسر ۔ کینیڈا)

مزید پڑھیں: آنکھ سے دور سہی دل سے کہاں جائے گا

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button