ربوہ کا موسم(۱۳تا ۱۹؍فروری ۲۰۲۶ء)
۱۳؍فروری جمعۃ المبارک کی فجر کے وقت آسمان بالکل صاف تھا اور ہلکی ہوا چل رہی تھی ،مطلع صاف ہونے کی وجہ سے نماز فجر کےبعد فوراً روشنی پھیل گئی۔ دن کا تمام وقت لوگوں نے باہر دھوپ میں بیٹھ کر گزارا ، جمعہ کی نماز کے بعد مطلع جزوی طور پر ابر آلود ہوگیا۔ہفتہ کو صبح کے وقت ہلکی ہوا چل رہی تھی ، آسمان صاف تھا ، جس کی وجہ سے دھوپ تیز محسوس ہوتی تھی ۔شام کے وقت اس کی تپش میں کمی آ گئی۔ اتوار کو صبح کے وقت مطلع صاف تھا دھوپ خوب چمک رہی تھی، ساتھ ٹھنڈی ہوا بھی چلتی رہی ۔ سوموار کو فجر کے وقت موسم صاف تھا ، دن کے وقت سورج خوب چمک رہا تھا ، جس کی وجہ سے کچھ گرمی محسو س ہوتی تھی ، ہلکی ٹھنڈی ہوا اس کو خوشگوار بنا دیتی ۔
آجکل موسم بہار اپنے پورے جوبن پر جاری ہے ۔ موسمِ بہار سال کا وہ خوبصورت اور دلکش موسم ہوتا ہے جو اپنے ساتھ تازگی، خوشبو اور رنگوں کی بہار لے کر آتا ہے۔ اس موسم میں درختوں پر نئے پتے اور پھول کھلنے لگتے ہیں، گھروں کے باغیچے ، دفاتر کے سبزہ زار اور جا بجا بکھرے باغات مہکتے ہیں اور فضا میں خوشگوار نرمی اور متنوع رنگوں کی قوس قزح پیدا ہو جاتی ہے۔ پرندوں کی چہچہاہٹ دل کو مسرور کرتی ہے اور ہر طرف زندگی کی نئی لہر محسوس ہوتی ہے۔ اس موسم میں نہ زیادہ سردی ہوتی ہے اور نہ شدید گرمی، اس لیے لوگ سیر و تفریح سے خوب لطف اندوز ہوتے ہیں۔ بہار امید، خوشی اور نئے آغاز کی علامت سمجھی جاتی ہے جو انسان کے دل و دماغ کو تازہ اور پرجوش بنا دیتی ہے۔
موسم کے احوال کی طرف واپس آتے ہیں، منگل کو ہلکے بادل چھائے رہے ، تاہم ان میں سے سورج بعض اوقات جھانکنے میں کامیاب ہوجاتا ۔ عصر کے وقت تیز اور ٹھنڈی ہوا بھی جاری تھی جو شام تک چلتی رہی ، بعد میں ہلکی ہوگئی ۔سردی نے کسی حد تک اپنا رنگ جمائے رکھا۔
بدھ کو آسمان صاف تھا ، دھوپ نکلی ہوئی تھی ، آہستہ آہستہ سورج کی تپش میں بھی اضافہ ہورہا ہے ۔ جب ہلکی ہوا چلتی ہے تو موسم خوشگواربن جاتا ہے۔جمعرات کو رمضان المبارک کا پہلا روزہ تھا اور صبح کے وقت دُھند بھی چھائی ہوئی تھی۔ موسم میں صبح اور رات کو خنکی موجود تھی اور دن بھر چمکتے سورج نے اپنے ڈیرے ڈالے رکھے جس کی وجہ سے اب دھوپ کی تمازت محسوس ہوتی ہے ۔ پہلے روزے میں موسم کے اثرات کے حوالے سے لوگوں کے ملےجلے تاثرات تھے،بعض کو روزے کے دوران پیاس زیادہ نہیں لگی صرف بھوک محسوس ہوئی اور بعض لوگو ں کو پیاس لگتی رہی۔اس ہفتہ میں اوسط ٹمپریچر زیادہ سے زیادہ ۲۷؍اور کم سے کم ۱۲؍درجہ سینٹی گریڈ رہا۔ (ابو سدید)




