اداریہ

رمضان’’خدا کے فضلوں کا مہینہ ہےاس سے جس قدر ہو سکے فائدہ اٹھا لو‘‘

اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ ہمیں ایک مرتبہ پھر رمضان کا بابرکت مہینہ دیکھنا نصیب ہورہا ہے۔ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتےہیں کہ ‘‘یہ اللہ تعالیٰ کی عنایت ہی ہوتی ہے کہ وہ کسی کو نیکی کے کرنے کا موقع دیتا ہے۔ بہت سے لوگ تھے جو اس جگہ بیٹھے ہوئے لوگوں سے طاقتور اور قوی تھے۔ مگر گزشتہ رمضان کے بعد اور اس رمضان سے پہلے دنیا کو چھوڑ کر چلے گئے ہیں اور اس رمضان میں انہیں نیکی کرنے کا موقع نہیں ملا۔ پھر بہت سے لوگ ایسے ہوں گے جو باوجود یہ کہ زندہ ہیں لیکن اس مہینہ سے فائدہ اٹھانے کا انہیں موقع ہی نہیں ملا۔ کیوں؟ اس لئے کہ ان پر اس بات کی حقیقت ہی نہیں کھلی کہ خداتعالیٰ کے احکام کی تعمیل کرنے سے کیا فائدہ ہوتا ہے۔ پھر بہت سے ایسے ہیں جو قسم قسم کی بیماریوں کی وجہ سے رمضان کے مہینہ سے وہ فوائد نہیں اٹھا سکتے جو تندرست اٹھاتے ہیں۔

پس وہ لوگ جن پر خدا تعالیٰ نے فضل کیا ہے کہ اوّل تو انہیں مسلمان بنایا۔ دوسرے اتنی سمجھ دی کہ روزہ کی غرض کو سمجھیں۔ تیسرے اتنی صحت دی کہ روزہ رکھ سکیں۔ چوتھے اتنی عمر دی کہ ایک اور رمضان کی برکات حاصل کر سکیں۔ ان پر اللہ تعالیٰ کا بہت ہی شکر کرنا واجب ہے۔

یہ مہینہ اپنے ساتھ بڑی بڑی برکتیں لا یا کرتا ہے

پہلی عظیم الشان برکت تو یہی ہے کہ جن لوگوں کو سستی اور کاہلی کی وجہ سے سارا سال نماز تہجد نصیب نہیں ہوتی اس مہینہ میں نصیب ہو جاتی ہے اور وہ لوگ جو صبح کی نماز سورج چڑھنے کے قریب پڑھتے ہیں، ان کو بھی موقع مل جاتا ہے کہ رات کے وقت خدا تعالیٰ کی عبادت کریں اور تہجد پڑھیں۔ چونکہ سب لوگ سحری کو اُٹھتے ہیں اس لئے سست آدمی بھی اُٹھ کھڑے ہوتے ہیں، یوں اگر انہیں اٹھایا جائے تو کئی بہانے کریں۔ اصل بات یہ ہے کہ تجربہ سے معلوم ہوا ہے کہ شوروغل میں نیند پورے طور پر نہیں آتی۔ رمضان کے مہینہ میں چونکہ عام طور پر لوگ اٹھتے ہیں اس لئے کاہل بھی اُٹھ بیٹھتے ہیں اور تہجد پڑھنے کا انہیں موقع مل جاتا ہے۔ گو تہجد نوافل سے ہیں اور رمضان کے روزے فرائض سے۔ بہت سی طبائع ایسی ہوتی ہیں کہ فرائض تو ادا کر لیتی ہیں اور نوافل میں سستی کرتی ہیں۔ اور ایسا آج ہی نہیں کیا جاتا حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی ایسا کرنے والے موجود تھے۔ چنانچہ ایک حدیث میں آیا ہے کہ ایک شخص نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر سوال کیا۔ کہ یا رسول اللہ! کتنی نمازیں فرض ہیں۔ آپؐ نے فرمایا ایک دن رات میں پانچ۔ پھر اس نے پوچھا۔ زکوٰۃ۔ آپؐ نے فرمایا: سال میں ایک دفعہ۔ پھر اس نے روزہ کے متعلق پوچھا۔ آپؐ نے فرمایا سال میں ایک مہینہ۔ پھر حج کے متعلق پوچھا۔ فرمایا عمر میں ایک دفعہ۔ یہ سن کر اس نے کہا۔ خدا کی قسم! میں اسی طرح کروں گا نہ اسے کچھ بڑھاؤں گا اور نہ کم کروں گا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ بات جو اس نے کہی ہے اگر کر بھی لی تو جنت میں داخل ہو جائے گا۔ تو معلوم ہوا کہ اُس وقت بھی ایسے لوگ تھے اور ایسی طبائع ہمیشہ سے چلی آتی ہیں۔ تہجد چونکہ فرض نہیں اس لئے اس کے پڑھنے میں سستی کی جاتی ہے۔ روزہ چونکہ فرض ہے اس لئے اس کیلئے سحری کو اٹھنا پڑتا ہے اور ساتھ ہی نفل پڑھنے کی توفیق مل جاتی ہے۔ اور یہ ثو اب بھی حاصل ہو جاتا ہے۔ دوسری برکت روزہ کا ثواب ہے۔ اس کی نسبت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ روزہ دار کا اجر میں ہی ہوں۔ پھر اور بہت سے فوائد ہیں، انسان بہت سی ہلاکتوں اور تکلیفوں سے بچ جاتا ہے۔پس

یہ مہینہ خدا کے فضلوں کا مہینہ ہے اس سے جس قدر ہو سکے فائدہ اٹھا لو۔ جس طرح بہت سے ایسے انسان ہیں جن کو یہ رمضان دیکھنا نصیب نہیں ہوا اسی طرح بہت ایسے ہوں گے جنہیں اگلا رمضان دیکھنا نصیب نہ ہوگا

اور کون جانتا ہے کہ مَیں ان لوگوں میں سے نہیں ہوں جنہوں نے نہیں دیکھنا اس لئے

ہر ایک کو اس رمضان میں خیر حاصل کرنے کی خوب کوشش کرنی چاہیے۔

(خطبہ جمعہ ۱۶؍ جولائی ۱۹۱۵ء، خطباتِ محمود جلد۴صفحہ ۳۹۵تا ۳۹۷)

حضرت امیرالمومنین خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتےہیں: ‘‘اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے اس سال پھر ہمیں موقع دیا کہ اس نے ہماری روحانی ترقی کے لئے جو بہترین انتظام فرمایا ہوا ہے اس میں شامل ہو رہے ہیں۔ …پس اللہ تعالیٰ کے فرمان کے مطابق اگر ہم نے تقویٰ میں ترقی کرنی ہے، اللہ تعالیٰ کا قرب پانا ہے، اپنی دعاؤں کو قبولیت کا درجہ دلوانا ہے، اپنی دینی، اخلاقی اور روحانی حالت بہتر کرنی ہے تو ان دنوں سے بھر پور فائدہ اٹھانے کی ہر احمدی کو کوشش کرنی چاہئے ۔…’’

حضورِانور ایّدہ اللہ ہمیں رمضان سے فائدہ اٹھانے کی نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ‘‘رمضان آیا ہے تو اپنی عبادتوں کے معیار بھی ہمیں بلند کرنے کی ضرورت ہے اور اپنے اعمال پر نظر رکھتے ہوئے ان کو اللہ تعالیٰ کے احکامات کے مطابق ڈھالنے کی ضرورت ہے۔ ایک طالب علم کی طرح جو امتحان کی تیاری کے لئے محنت کرتے ہوئے راتوں کو دن کر دیتا ہے۔ جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ہم بھی اپنی راتوں کو ان دنوں میں اللہ تعالیٰ کی خاطر گزارنے کی کوشش کریں گے تو وہ رحیم و کریم خدا ، وہ مستجاب الدعوات خدا اپنے وعدے کے مطابق ہمیں اپنی رضا کی راہوں پر ڈالے گا۔ ہمیں ان راستوں کی طرف لائے گا جو اس کی رضا کے راستے ہیں۔ ہمیں ان انعامات سے نوازے گا جن سے وہ اپنے خاص بندوں کو نوازتا ہے۔ ہمارے تقویٰ کے معیاروں کو وہاں تک لے جائے گا جہاں اس کا قرب حاصل ہوتا ہے۔…

اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ خدا کی رضا کا حصول اپنا مقصد بناتے ہوئے اس رمضان میں سے گزریں

اور ہمارے روزے خالصۃً اللہ تعالیٰ کے لئے ہوں اور تقویٰ میں بڑھانے والے ہوں ۔ خدا کی معرفت بھی ہمیں حاصل ہو جو مستقل ہماری زندگیوں کا حصہ بن جائے اور ہمیں ہر آن تقویٰ میں بڑھانے والی رہے۔’’ آمین

(خطبہ جمعہ ۱۴؍ ستمبر ۲۰۰۷ءخطبات مسرور جلد پنجم صفحہ ۳۷۳تا۳۷۹)

مزید پڑھیں: دنیا کی کوئی طاقت ہزار کوششوں کے باوجود بھی جماعت کو پھلنے پھولنے اور بڑھنے سے نہیں روک سکتی

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button