نماز جنازہ حاضر و غائب

نمازِ جنازہ حاضر و غائب

مکرم منیر احمد جاوید صاحب پرائیویٹ سیکرٹری حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز تحریر کرتے ہیں کہ حضورِ انور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ۷؍فروری ۲۰۲۶ء بروز ہفتہ بارہ بجے بعد دوپہر اسلام آباد (ٹلفورڈ) میں اپنے دفتر سے باہر تشریف لاکر مکرم ریاض احمد صاحب ابن مکرم محمد شریف صاحب(آف وانڈز ورتھ۔یوکے)کی نماز جنازہ حاضر اور چھ مرحومین کی نمازِ جنازہ غائب پڑھائی۔

نماز جنازہ حاضر

مکرم ریاض احمد صاحب ابن مکرم محمد شریف صاحب (آف وانڈز ورتھ۔ یوکے)

یکم فروری۲۰۲۶ء کو اچانک ہارٹ اٹیک کے باعث ۶۰ سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔آپ حضرت چودھری حاکم علی خان صاحب رضی اللہ عنہ صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نسل سے تھے۔ مرحوم صوم وصلوٰۃ کے پابند، نیک اور دعا گو انسان تھے۔ عزیز و اقارب کے ساتھ حسن سلوک اور مہمان نوازی آپ کے نمایاں اوصاف تھے۔ مرحوم وانڈز ور تھ جماعت میں بطور سیکرٹری زراعت وسیکرٹری ضیافت خدمت کی توفیق پارہے تھے۔ مرحوم اللہ تعالیٰ کے فضل سے موصی تھے۔پسماندگان میں ایک بیٹا اور تین بیٹیاں شامل ہیں۔

نماز جناز ہ غائب

۱۔مکرم ظہیر عالم صاحب امروہی (ریٹائرڈ معلم سلسلہ۔ قادیان)

۳۰؍دسمبر ۲۰۲۵ء کو ۶۸ سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحوم کو صوبہ یوپی کی مختلف جماعتوں میں تقریباً ۲۶ سال تک بطور معلم سلسلہ خدمت کی توفیق ملی اور ۲۰۰۸ء میں ریٹائر ہوئے۔ مرحوم صوم و صلوٰۃ کے پابند ، تہجد گزار، بڑے محنتی اور کئی خوبیوں کے حامل ایک نیک اور باوفا خادم سلسلہ تھے۔ تبلیغ کا کام بڑے شوق اور جذبہ سے کیا کرتے تھے۔ جماعتی پروگراموں میں بڑھ چڑھ کر اور شوق سے شامل ہوتے۔ چندوں میں بڑے با قاعدہ تھے۔ تلاوت قرآن مجیدبا ترجمہ کی عادت تھی۔

خلافت احمدیہ سے وفا اور اخلاص کا تعلق تھا۔ مرحوم موصی تھے۔پسماندگان میں دو بیٹے اور تین بیٹیاں شامل ہیں۔ آپ کے دونوں بیٹے خادم سلسلہ ہیں اور دو داماد بھی واقفینِ زندگی ہیں۔ آپ مکرم فرید احمد ناصر صاحب (انسپکٹر وقف جدید مال) کے والد تھے۔

۲۔مکرم اجیت محمد صاحب( معلم سلسلہ) ابن مکرم جلال دین صاحب مرحوم (آف ڈنگوہ صوبہ ہماچل۔انڈیا)

۹؍جنوری ۲۰۲۶ء کو ۵۸ سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحوم ۱۹۹۵ء میں محترم صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب مرحوم کے ذریعہ فیملی سمیت بیعت کر کے احمدیت میں داخل ہوئے تھے۔ ۲۰۰۱ء میں جامعۃ المبشرین قادیان سے فارغ التحصیل ہوکر فیلڈ میں گئے اور صوبہ ہماچل ،صوبہ پنجاب، صوبہ ہریانہ کی مختلف جماعتوں میں خدمت کی توفیق پائی۔مرحوم کو تبلیغ کا بےحد شوق تھا اور صوبہ ہماچل کی اکثر جماعتوں کے قیام میں آپ کا اہم کردار رہا ہے۔ مرحوم میں دیانتداری کا وصف اعلیٰ معیار کا تھا۔ جب تک صوبہ ہماچل میں جماعت کی رجسٹریشن نہیں ہو ئی تب تک جماعت کی تمام جائیدادیں آپ ہی کے نام رجسٹر ڈ تھیں اور جب جماعت کی رجسٹریشن کی کارروائی مکمل ہو گئی تو مرحوم نے بڑی دیانتداری کے ساتھ صوبہ ہماچل کی تمام جائیدادیں جماعت کے نام ٹرانسفر کروا دیں۔بڑے مہمان نواز، عبادت گزار اور صوم و صلوٰۃ کے پابند تھے۔ مالی قربانیوں میں بھی ہمیشہ پیش پیش رہے۔ خلافت کے ساتھ گہرا عقیدت کا تعلق تھا۔مرحوم موصی تھے۔ پسماندگان میں ایک بیٹی اوردو بیٹے شامل ہیں۔

۳۔مکرم الطاف حسین صاحب ابن مکرم ملک محمد حسین صاحب (امریکہ)

۲۰؍اکتوبر۲۰۲۵ءکو بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔آپ کے خاندان میں احمدیت کا نفوذ آپ کے دادا مکرم ملک شیر بہادر صاحب کے ذریعہ ہوا۔ مرحوم نمازوں اور تلاوت قرآن کریم کے پابند تھے۔ صدقات اور مالی قربانی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔اپنے ہمسایوں،رشتہ داروں، دوستوں اور ساتھ کام کرنے والوں کا بے حد خیال رکھنے والے ، بڑے خوش اخلاق ، باوفا، عاجز اور مخلص انسان تھے۔ احباب جماعت اور غیر از جماعت افراد کو مفت ہومیوپیتھک ادویات فراہم کرتے اور اکثر خود گھروں تک بھی پہنچا دیا کرتے تھے۔ مرحوم نے اپنے والدین کی خدمت اور دیکھ بھال کا خاص خیال رکھا۔ آپ اللہ تعالیٰ کے فضل سے موصی تھے۔ پسماندگان میں دو بیٹیاں شامل ہیں۔

۴۔مکرم مصطفیٰ کمال الدین بھوئیاں صاحب(آف امریکہ)

۶؍ستمبر ۲۰۲۵ءکو بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔مرحوم کو ۱۹۹۶ء میں ڈھاکہ( بنگلہ دیش) میں بیعت کرنے کی سعادت حاصل ہوئی۔ جماعت کے مخلص اور فعال ممبر تھے۔ مرحوم کے والدین، بھائی، اہلیہ اور دونوں بیٹے جماعت کے سخت مخالف تھے لیکن اس کے باوجود آپ نے جماعت کے ساتھ ہمیشہ اخلاص اور وفا کا تعلق قائم رکھا۔ باقاعدگی سے چندہ ادا کیا کرتے تھے۔ مرحوم بہت مہمان نواز شخصیت کے حامل تھے۔ آپ کو فریضہ حج ادا کرنے کی بھی توفیق ملی۔ نمازوں کی ادائیگی میں با قاعدہ اور حضور انور کے خطبات بھی بڑی باقاعدگی سے سنتے تھے۔ آپ کو بطور لوکل سیکرٹری تربیت اور زعیم مجلس انصاراللہ خدمت کی توفیق ملی۔ مرحوم موصی تھے۔پسماندگان میں غیر از جماعت اہلیہ اور بچوں کے علاوہ ایک احمدی بیٹی شامل ہیں۔

۵۔مکرم عبدالمجید امجد لون صاحب ( آف مالمو۔ سویڈن)

۱۸؍دسمبر ۲۰۲۵ءکو بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ حضرت ٹھیکیدار عبدالرحمٰن صاحب رضی اللہ عنہ صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بیٹے تھے۔ مرحوم ایئر فورس میں انجینئر بھرتی ہوئے اور ریٹائرمنٹ کے بعد اپنے بھائی کے پاس رحیم یارخان چلے گئے۔ ۱۹۹۰ء سے ۱۹۹۳ءتک آپ نے امیر ضلع رحیم یار خان کےطور پر خدمت کی توفیق پائی۔ ایک مرتبہ مخالفین کی طرف سے حملے میں شدید زخمی ہوئے مگر اللہ تعالیٰ نے معجزانہ طور پر آپ کی جان بچائی۔آپ اسیر راہ مولیٰ بھی رہے۔ ۲۰۰۹ء میں سویڈن شفٹ ہو گئے تھے۔مرحوم صوم وصلوٰۃ کے پابند ، خلافت کے ساتھ گہری محبت رکھنے والے ایک مخلص اور باوفا انسان تھے۔واقفین اور مربیان کی بہت عزت اور احترام کرتے تھے۔ مرحوم موصی تھے۔پسماندگان میں ایک بیٹا اور چار بیٹیاں شامل ہیں۔

۶۔ مکرم حارث احمد صاحب ابن مکرم سیٹھ محمد رزاق صاحب مرحوم (ہڈرزفیلڈ ساؤتھ۔ یوکے)

۲۲؍دسمبر ۲۰۲۵ءکو۳۰سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔آپ حضرت سیٹھ محمد اسماعیل صاحب امینی بنگوی رضی اللہ عنہ صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پڑپوتے تھے۔ مرحوم ۲۰۱۵ءمیں یوکے آئے اور Take Away کا بزنس شروع کیا۔ جماعت کی خدمت میں پیش پیش رہنے والے بڑے مخلص اور فرمانبردار نوجوان تھے۔ پسماندگان میں والدہ کے علاوہ دو بھائی اور چار بہنیں شامل ہیں۔

اللہ تعالیٰ تمام مرحومین سے مغفرت کا سلوک فرمائے اور انہیں اپنے پیاروں کے قرب میں جگہ دے۔ اللہ تعالیٰ ان کے لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے اور ان کی خوبیوں کو زندہ رکھنے کی توفیق دے۔آمین

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button