نماز جنازہ حاضر و غائب

نمازِ جنازہ حاضر و غائب

مکرم منیر احمد جاوید صاحب پرائیویٹ سیکرٹری حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز تحریر کرتے ہیں کہ حضورِ انور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ۲۴؍فروری ۲۰۲۶ء بروز منگل بارہ بجے بعد دوپہر اسلام آباد (ٹلفورڈ) میں اپنے دفتر سے باہر تشریف لاکر مکرم جمال دین چودھری صاحب (Bromley & Lewisham۔یوکے) کی نماز جنازہ حاضر اور چھ مرحومین کی نمازِ جنازہ غائب پڑھائی۔

نماز جنازہ حاضر

مکرم جمال دین چودھری صاحب (Bromley & Lewisham۔یوکے)

20؍فروری 2026ء کو 70 سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔مرحوم کا تعلق تتّہ پانی ضلع کوٹلی آزادکشمیر سے تھا۔ آپ کی فیملی نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی حضرت قاضی محبوب عالم صاحب رضی اللہ عنہ کی تبلیغ سے احمدیت میں شمولیت اختیار کی۔ مرحوم 1980ء کی دہائی میں جرمنی گئے جہاں پر Soest شہر میں جماعت قائم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ آپ کو وہاں زعیم انصاراللہ اور لوکل نماز سنٹر میں امام الصلوٰۃ کے طورپر خدمت کی توفیق ملی۔ 2011ء میں یوکے شفٹ ہونے کے بعد بروملے اینڈ لیوشم جماعت کے سیکرٹری تحریک جدید کے طور پر خدمت کی توفیق پائی۔ مرحوم صوم وصلوٰۃ کے پابند، قرآن کریم کی تلاوت باقاعدگی سے کرنے والے، مالی قربانی کے جذبہ سے سرشار، خلافت سے عقیدت کا تعلق رکھنے والے ایک مخلص انسان تھے۔ لمباسفر کرکے نماز ظہر و عصر مسجد جا کر ادا کرتے اور عموماً مغرب اور فجر کے وقت مسجد کھولنے کی ڈیوٹی بھی دیتے رہے۔ مرحوم موصی تھے۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ 2 بیٹے اور 3 بیٹیاں شامل ہیں۔ آپ کے داماد مکرم حارث احمد صاحب (مربی سلسلہ) اس وقت آکسفورڈ میں خدمت کی توفیق پارہے ہیں۔ آپ کے بیٹے مکرم اظہر چودھری صاحب جماعت یوکے کے شعبہ امورخارجہ کی ٹیم کے سرگرم رکن ہیں۔

نماز جنازہ غائب

۱۔مکرمہ فرزانہ جمال صاحبہ اہلیہ مکرم جمال احمد قریشی صاحب (ربوہ)

15؍اپریل 2025 کو 59سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ مکرم حبیب الرحمن صاحب (کا رکن دفتر تحریک جدید ربوہ )کی بیٹی تھیں۔ شادی کے بعد کراچی آگئیں اور 23 سال تک وہاں مقامی لجنہ میں بطور جنرل سیکرٹری، سیکرٹری دعوت الی اللہ اور صدر لجنہ کے طورپر خدمت کی توفیق پائی۔ لجنہ ضلع کراچی کے تحت ترجمۃ القرآن،روحانی خزائن اور ملفوظات کے پیپر دے کرخوشنودی کی اسناد حاصل کرتی رہیں۔ اپنی مجلس کی ایک ناخوانده ممبر کو اردولکھنی پڑھنی بھی سکھائی جنہوں نے بعد میں ترجمۃالقرآن کے پیپر دیے اور وہ احمد نگر ضلع عمرکوٹ کی صدر بھی رہیں۔ آپ دو سال سے ربوہ شفٹ ہو گئی تھیں۔ خلافت کی شیدائی، بڑی شفیق، مہربان، غریبوں کی مدد کرنے والی ایک مخلص اور با وفا خاتون تھیں۔مرحومہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے موصیہ تھیں۔ پسماندگان میں شوہر کے علاوہ تین بیٹے اور پوتے پوتیاں شامل ہیں۔

۲۔مکرم ڈاکٹر محمود احمد صاحب ابن مکرم الحاج محمد یوسف صاحب (لاہور)

23؍ستمبر 2025ء کو 85سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ کےوالد خاندان میں اکیلے احمدی تھے اور آپ مکرم شیخ محمد حنیف صاحب (امیر جماعت کوئٹہ) کے بھانجے تھے۔ مرحوم ابوظہبی کے ڈیفنس ہسپتال میں 22 سال تک طبی خدمات سرانجام دیتے رہے اور لیفٹیننٹ کرنل کے عہدے تک ترقی پائی۔ جماعتی مخالفت کی وجہ سے1986ء میں پاکستان واپس آنے کے بعد اپنا ذاتی کلینک کھولا اور لاہور کے بہت سے میڈیکل کالجوں میں بطور استادفزیالوجی بھی پڑھاتے رہے۔ آپ کو مختلف اوقات میں چار مرتبہ حضور انور سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا اور ہر ملاقات کے بعد آپ اس بات کا اظہار کرتے کہ مجھے نئی زندگی مل گئی ہے۔ آپ کودومرتبہ عمرہ کی سعادت بھی حاصل ہوئی۔ مرحوم نے ہمیشہ بڑی فعال، باوقاراور با مقصد زندگی گزاری۔مرحوم موصی تھے۔آپ نے دو شادیاں کیں۔آپ کی پہلی بیوی وفات پاچکی ہیں۔پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ ایک بیٹی اور چاربیٹے شامل ہیں۔آپ کی اہلیہ مکرمہ فرخندہ محمود صاحبہ نے لجنہ اماء اللہ ضلع لاہور کی عاملہ میں محترمہ بی بی فوزیہ شمیم صاحبہ کے ساتھ 26سال خدمت کی توفیق پائی۔

۳۔ مکرمہ شمع نسرین صاحبہ اہلیہ مکرم چودھری ناصر احمد صاحب (اسیر راه مولیٰ، چک سکندر۔ حال جرمنی)

23؍دسمبر 2025ء کو 67 سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔آپ نے چک سکندر میں لمبا عرصہ صدر لجنہ کی حیثیت سے خدمت کی توفیق پائی۔ وہاں جماعت کو در پیش سخت اور مخالفانہ حالات میں نہ صرف خود ثابت قدم رہیں بلکہ جماعت کے دیگر افراد کے لیے بھی حوصلہ اور تقویت کا ذریعہ بنتی رہیں۔ میاں کی آٹھ سالہ اسیری کے دوران بھی آپ نے بڑی ہمت، صبر اور بہادری کا مظاہرہ کیا۔ آپ نے اس عرصے میں اکیلے گھر کی تمام ذمہ داریاں بخوبی ادا کیں اور کبھی کسی قسم کا شکوہ نہیں کیا۔ آپ پنجوقتہ نمازوں اور تلاوت قرآن کریم کی پابند،عبادت سےگہرا شغف رکھنے والی ایک مخلص اور باوفا خاتون تھیں۔گو آپ کی اپنی اولاد نہ تھی لیکن خاندان کے تمام بچوں کو اپنی اولاد کی طرح پیار کرتیں اور بڑی باریک بینی سے ان کی دینی اور اخلاقی تربیت کا خیال رکھتی تھیں۔ آپ کے پاس گاؤں کے بچے قرآن کریم پڑھنے کے لیے بھی آتے جنہیں آپ دعائیں اور جماعتی تعلیم بھی سکھایا کرتی تھیں۔ مرحومہ موصیہ تھیں۔پسماندگان میں میاں شامل ہیں۔

۴۔مکرم چودھری محمد داؤد صاحب ابن مکرم چودھری محمد اسحاق صاحب (کراچی)

26؍ دسمبر 2025ء کو 79 سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحوم پنجوقتہ نمازوں اور تلاوت قرآن کریم کے پابند، تہجد گزار، متوکل علی اللہ، خلافت کے سچے عاشق، ضرورت مندوں اور غریبوں کا خیال رکھنے والے، بڑے دلیر اور بہادر انسان تھے۔ مالی قربانی کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیتے تھے۔ تحریک جدید اور وقف جدید کا اپنا مکمل وعدہ سال کے شروع میں ہی ادا کردیتے تھے۔ آپ نے گلشن اقبال کراچی میں صدر حلقہ اورسیکرٹری وصایا کے علاوہ ضلعی سطح پر نائب سیکرٹری مال، محاسب اور سیکرٹری جائیداد کے طور پر خدمت کی توفیق پائی۔ سُرجانی ٹاؤن کراچی کی مسجد کی تعمیر اور گلشن مہران کی جماعتی زمین کی چار دیواری کا سارا کام بھی اپنی نگرانی میں کروایا۔اگست 2010ء میں اسی زمین کے کاموں کے دوران بعض شرپسندوں نے آپ کو اغوا بھی کیا اورپانچ ہفتے قید کا یہ تکلیف دہ وقت آپ نے اللہ تعالیٰ پر توکل کرتے ہوئےبڑی ہمت اور بہادری سے گزارا۔ مرحوم ۷/۱ حصہ کے موصی تھے۔پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ دو بیٹے اور دو بیٹیاں شامل ہیں۔ آپ کے ایک بیٹے مکرم محمد صالح داؤدصاحب (مربی سلسلہ) اس وقت گلشن اقبال شرقی (کراچی) میں خدمت کی توفیق پارہے ہیں۔ آپ مکرم مسعود احمد شمس صاحب کے بڑے بھائی تھے جنہوں نے غانا میں خدمت کی توفیق پائی۔

۵۔مکرم محمد اسماعیل صاحب ابن مکرم محمد بنیامین صاحب (ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ)

5؍جنوری 2026ء کو بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ کےخاندان میں احمدیت حضرت مسیح موعو علیہ السلام کے صحابی حضرت مولوی جمال الدین صاحب کی تبلیغ سے آئی تھی۔ مرحوم اپنی جماعت میں نائب صدر جماعت کی حیثیت سے خدمت کی توفیق پا رہے تھے۔ پیشے کے لحاظ سے سول انجینئر تھے۔نوکری پر بھی اپنا جماعتی وقار بحال رکھا اور بےخوف ہوکر تبلیغ کرتے رہے۔ آپ کواس وجہ سے شدید جماعتی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا اور پھر جبری ریٹائر بھی کر دیا گیا۔ مرحوم پنجوقتہ نمازوں کے پابند، باقاعدگی سے قرآن کریم کی تلاوت کرنے والے،بڑے ہمدرد، خوش اخلاق، ملنسار، صابر وشاکر،ایک مخلص اور باوفا انسان تھے۔ اپنا چندہ ہر ماہ باقاعدگی سےاور بروقت ادا کرتے۔جماعتی کتب کے مطالعہ کا بہت شوق تھا اور اپنی تنخواہ سے جماعتی کتابیں خریدتے تھے۔ حضورانور کا خطبہ جمعہ باقاعدگی سے اور بڑے شوق سے سنتے۔ وقار عمل اور فلاحی کاموں میں بھی حصہ لیتے رہے۔مرحوم موصی تھے۔پسماندگان میں اہلیہ کے علاہ تین بیٹے اور تین بیٹیاں شامل ہیں۔آپ مکرم آصف علی اسماعیل صاحب کے والد تھے۔

۶۔مکرم محمود احمد صاحب (کیمن گڑی آف تیمار پور ضلع یادگیر صوبہ کرناٹک)

25؍دسمبر 2025ء کو 88 سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔مرحوم پیدائشی احمدی تھے۔ جماعت کے ساتھ مخلصانہ اور مضبوط تعلق تھا۔ آپ نے صدر جماعت تیما پور کے طور پر خدمت کی توفیق پائی۔ آپ نمازوں کے پابند، سادہ طبیعت کے حامل ایک نیک اور مخلص انسان تھے۔جماعتی پروگراموں میں حسب استطاعت شرکت کرتے تھے۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ تین بیٹے اور سات بیٹیاں شامل ہیں۔

اللہ تعالیٰ تمام مرحومین سے مغفرت کا سلوک فرمائے اور انہیں اپنے پیاروں کے قرب میں جگہ دے۔ اللہ تعالیٰ ان کے لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے اور ان کی خوبیوں کو زندہ رکھنے کی توفیق دے۔آمین

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button