نماز جنازہ حاضر و غائب

نمازِ جنازہ حاضر و غائب

مکرم منیر احمد جاوید صاحب پرائیویٹ سیکرٹری حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز تحریر کرتے ہیں کہ حضورِ انور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ۱۱؍فروری ۲۰۲۶ء بروز بدھ بارہ بجے بعد دوپہر اسلام آباد (ٹلفورڈ) میں اپنے دفتر سے باہر تشریف لاکر مکرم تو قیر احمد ملک صاحب ابن مکرم ایوب احمد ملک صاحب ( آف ڈڈلی۔یوکے)کی نماز جنازہ حاضر اور چھ مرحومین کی نمازِ جنازہ غائب پڑھائی۔

نماز جنازہ حاضر

مکرم تو قیر احمد ملک صاحب ابن مکرم ایوب احمد ملک صاحب( آف ڈڈلی۔یوکے)

۸؍فروری ۲۰۲۶ء کو ۶۹ سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحوم کا تعلق دوالمیال ضلع چکوال سے تھا۔ آپ نے اپنی زندگی کا زیادہ عرصہ واہ کینٹ میں گزارا جہاں لمبا عرصہ بطور سیکرٹری مال خدمت کی توفیق پائی۔ آپ جماعت میں تفریحی ٹرپس آرگنائز کرتے اور اسی طرح جب کوئی وفات ہوتی تو تجہیز و تکفین، ٹرانسپورٹ اور کھانے کے انتظام کی ڈیوٹی بڑی ذمہ داری سے ادا کیا کرتے تھے۔ ۱۹۷۰ء میں جب آپ سعودی عرب میں مقیم تھے تواس دوران آپ کو حج بیت اللہ اور متعدد مرتبہ عمرہ کرنے کی سعادت نصیب ہوئی۔ مرحوم ۲۰۲۰ء میں پاکستان سے یوکے آئے اور یہاں مجلس انصار اللہ کے فعال ممبر کی حیثیت سے کام کیا۔ نمازوں کے پابند تھے اور ٹانگ میں سخت تکلیف کے باوجود ہمیشہ کھڑے ہو کر نمازیں ادا کیا کرتے تھے۔ مرحوم موصی تھے۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاہ دو بیٹے شامل ہیں۔ مسجد احمد یہ دوالمیال پر ۲۰۱۶ء میں شر پسندوں کے حملے میں مرحوم کے بڑے بھائی مکرم خالد جاوید ملک صاحب شہید ہوئے تھے۔

نماز جناز ہ غائب

۱۔مکرم چودھری کرامت اللہ صاحب نمبر دار ابن مکرم چودھری غلام احمد صاحب ( چک نمبر ۹۸ شمالی ضلع سرگودھا )

۲؍جنوری ۲۰۲۶ء کو ۸۴ سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔مرحوم صوم وصلوٰۃ کے پابند،خلافت سے بے انتہا محبت کرنے والے ایک مخلص اور باوفاانسان تھے۔ چندوں میں باقاعدہ اور مالی قربانی میں بڑھ چڑھ کے حصہ لیتے تھے۔آپ نے مقامی سطح پر مختلف جماعتی عہدوں پر خدمت کی توفیق پائی۔ مر حوم گھوڑ سواری اور نیزہ بازی میں مہارت رکھتے تھے۔ ۱۹۸۴ء کے فسادات میں بڑی دلیری اور بہادری کے ساتھ حالات کا مقابلہ کیا۔ مرحوم موصی تھے۔پسماندگان میں ۵ بیٹیاں شامل ہیں۔

۲۔مکرمہ بشریٰ بٹ صاحبہ اہلیہ مکرم صلاح الدین بٹ صاحب مرحوم (ملتان )

۱۹؍نومبر۲۰۲۵ء کو ۷۷ سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی حضرت مولوی خیر الدین بٹ صاحب رضی اللہ عنہ ( آف نارووال) کی بہو تھیں۔مرحومہ صوم صلوٰۃ کی پابند ، بڑی سادہ مزاج ، غریب پرور ،دینی غیرت رکھنے والی ایک نیک اور مخلص خاتون تھیں۔ آپ نے لمبا عرصہ لو کل سطح پر خدمت کی توفیق پائی۔ وفات سے قبل لوکل لجنہ میں سیکرٹری مال کے طور پر خدمت بجالارہی تھیں۔ سیرۃالنبی ﷺ کا جلسہ گھر میں کروانے کا بہت شوق تھا جس کی تیاری بڑے اہتمام سے کیا کرتی تھیں۔ مرحومہ موصیہ تھیں۔ پسماندگان میں چار بیٹے اور چار بیٹیاں شامل ہیں۔ آپ کی دو بیٹیوں نے نیشنل صدر لجنہ اماءاللہ فرانس کے طورپر خدمت کی توفیق پائی۔

۳۔مکرمہ منصورہ ضیاء صاحبہ اہلیہ مکرم کرنل ملک ضیاءالدین صاحب مرحوم (راولپنڈی )

۳۱؍ دسمبر ۲۰۲۵ءکو ۸۰ سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحومہ صوم و صلوٰۃ کی پابند، تہجد گزار ، غریب پرور، سخی دل، مہمان نواز، ایک نیک اور باعمل خاتون تھیں۔روزانہ قرآن کریم کی تلاوت اور تفسیر کا مطالعہ بڑی باقاعدگی سے کرتیں اور بچوں کو بھی اس کی تلقین کیا کرتی تھیں۔ ایمان میں پختگی، خلافت سے بے پناہ محبت اور جماعت کی خدمت کا گہرا جذبہ آپ کے نمایاں اوصاف تھے۔ جب بچے تعلیم اور ملازمت کے سلسلہ میں گھر سے باہر گئے تو آپ اور آپ کے شوہر نے ایک کمرے میں رہائش کا فیصلہ کیا اور باقی گھر جماعت کو عطیہ کر دیا۔ رشتہ داروں اور ضرورت مندوں کا بے حد خیال رکھتیں اور خود تکلیف اٹھا کر بھی اُن کی مدد کے لیے ہمہ وقت تیار رہتی تھیں۔مرحومہ موصیہ تھیں۔پسماندگان میں ایک بیٹی اور دو بیٹے شامل ہیں۔ آپ مکرم شیخ منیر احمد صاحب شہید(امیر جماعت لاہور) کی نسبتی بہن تھیں۔

۴۔ مکرمہ عابدہ سعید صاحبہ اہلیہ مکرم شیخ سعید احمد صاحب (کینیڈا)

۲۷؍دسمبر ۲۰۲۵ء کو ۷۳ سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحومہ کے خاندان میں صرف آپ نے اور آپ کے ایک ماموں نے احمدیت قبول کی تھی۔ اپنی زندگی کے آخری سال میں شدید علالت کے باوجود بڑی ہمت اور اخلاص کے ساتھ جماعتی سرگرمیوں میں حصہ لیتی رہیں۔ مقامی جماعت کے بک کلب (Book Club) اور قرآن کریم کی کلاسز میں باقاعدگی سے شرکت کرتی تھیں۔ مضمون نویسی اور نمائشوں میں بھی حصہ لیتی رہیں۔ مرحومہ صوم و صلوٰۃ کی پابند،تہجد گزار اور خلافت سے گہراعقیدت کا تعلق رکھنے والی ایک نیک اور مخلص خاتون تھیں۔پسماندگان میں میاں کے علاوہ دو بیٹے اور تین بیٹیاں شامل ہیں۔

۵۔مکرمہ مریم بی بی صاحبہ اہلیہ مکرم خیر محمد صاحب ( ڈیرہ غازی خان )

۲۰؍نومبر۲۰۲۵ءکو ۷۳ سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔مرحومہ صوم و صلوٰة کی پابند ، رشتہ داروں سے صلہ رحمی کرنے والی ، غریب پرور، مالی قربانی کے جذبہ سے سرشار ایک مخلص اور باوفا خاتون تھیں۔ پسماندگان میں دو بیٹے اور چار بیٹیاں شامل ہیں۔آپ مکرمہ شازیہ رحمٰن صاحبہ اہلیہ مکرم اثمار احمد صاحب (مربی سلسلہ و استاد جامعہ احمدیہ سیرالیون) کی نانی تھیں۔

۶۔ مکرم رؤوف احمد صاحب ابن مکرم محفوظ احمد صاحب (Winnenden جرمنی )

یکم جنوری ۲۰۲۶ء کو ۳۴ سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ کے پڑدادا حضرت چودھری محمد نجابت علی خاں صاحب رضی اللہ عنہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی تھے۔ مرحوم تحریک وقف نو میں شامل تھے۔آپ پیدائشی طور پر دل کے عارضے میں مبتلا تھے لیکن بڑی بہادری سے اس بیماری کا مقابلہ کرتے رہے۔ جماعتی پروگراموں میں خود بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے اور اپنے بہن بھائیوں کو بھی علمی اور ورزشی مقابلہ جات کے لیے بھرپور تیاری کرواتے۔ بڑے خوش اخلاق، زندہ دل، ملنسار، مہمان نواز، انسانی ہمدردی کے جذبہ سے سرشار، ایک خاموش طبع، مخلص، باوفا اور فرمانبردار نوجوان تھے۔ خلافت سے بہت پیار کا تعلق تھا۔ آپ کا مالی قربانی کا معیار اچھا تھا اور چندہ جات باقاعدگی سے ادا کرتے تھے۔ لازمی چندوں کے علاوہ ہیومینٹی فرسٹ کو بھی اکثر پیسے بھیجتے رہتے تھے۔آپ نے مجلس خدام الاحمدیہ میں بطور منتظم تجنید خدمت کی توفیق پائی۔ مرحوم موصی تھے۔ پسماندگان میں والدین کے علاوہ دو بھائی اور دو بہنیں شامل ہیں۔

اللہ تعالیٰ تمام مرحومین سے مغفرت کا سلوک فرمائے اور انہیں اپنے پیاروں کے قرب میں جگہ دے۔ اللہ تعالیٰ ان کے لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے اور ان کی خوبیوں کو زندہ رکھنے کی توفیق دے۔آمین

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button