امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ جماعتِ احمدیہ فرانس کے واقفینِ نَو خدام کے ایک وفد کی ملاقات
وفا یہی ہے کہ ہم نے عہد کیا ہے کہ ہم دین کو دنیا پر مقدّم رکھیں گے، تو وقف ِنَو سب سے زیادہ اپنے آپ کو اس عہد کا پابند کریں کہ ہم نے دوسروں سے زیادہ دین کو دنیا پر مقدّم رکھنا ہے ۔
تبھی ہم قربانی کر سکتے ہیں اور وفا کے ساتھ یہ کام کریں گے ، تو پھر اللہ تعالیٰ بھی اس سے راضی ہوگا اور ایک بندے کے اپنے اعلیٰ اخلاق کا بھی پتا لگتا ہے
مورخہ ۱۵؍ فروری ۲۰۲۶ء ، بروزاتوار، امام جماعت احمدیہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ جماعت احمدیہ فرانس کے واقفینِ نَو خدام کے ایک وفد کو بالمشافہ شرفِ ملاقات حاصل ہوا۔ یہ ملاقات اسلام آباد (ٹِلفورڈ) میں منعقد ہوئی۔ مذکورہ وفد نے خصوصی طور پر اس ملاقات میں شرکت کی غرض سے فرانس سے اسلام آباد (ٹِلفورڈ) کا سفر اختیار کیا۔

جب حضورِ انور مجلس میں رونق افروز ہوئے تو آپ نےتمام شاملینِ مجلس کو السلام علیکم کا تحفہ عنایت فرمایا۔
سب سے پہلے حضورِ انور نے دریافت فرمایا کہ آپ کہاں سے آئے ہیں، جس پر عرض کیا گیا کہ وفد کا تعلق فرانس سے ہے۔
بعدازاں تمام شاملینِ مجلس کو حضورِ انور کی خدمتِ اقدس میں فرداً فرداً اپنا تعارف پیش کرنے کا موقع بھی ملا۔
مزیدبرآں دورانِ ملاقات شاملینِ مجلس کو حضور انور کی خدمر میں متفرق سوالات پیش کرنے نیز ان کے جواب کی روشنی میں حضورانور کی زبانِ مبارک سے نہایت پُرمعارف، بصیرت افروز اور قیمتی نصائح پر مشتمل راہنمائی حاصل کرنے کی سعادت بھی نصیب ہوئی۔
ایک شریکِ مجلس نے دریافت کیا کہ واقفین بچوں کو وفا کیسے سکھائیں؟
اس پر حضورِ انور نے عہد کی حقیقی روح اور اس کی پابندی کی اہمیت کو واضح کرتے ہوئے بیان فرمایا کہ ان کو بتاؤ کہ تم وقفِ نَو ہو، تو اپنا وقفِ نَو کا عہد پورا کرو ، نہیں تو چھوڑ دو۔ اگر وقف کیا ہے تو وفا کے ساتھ کرو ۔نہیں تو دو عملی ہے ۔ پھر تو منافقت ہو گئی ۔وفا تو نہ ہوئی۔ وفا یہی ہے کہ ہم نے عہد کیا ہے کہ ہم دین کو دنیا پر مقدّم رکھیں گے، تو وقف ِنَو سب سے زیادہ اپنے آپ کو اس عہد کا پابند کریں کہ ہم نے دوسروں سے زیادہ دین کو دنیا پر مقدّم رکھنا ہے ۔ تبھی ہم قربانی کر سکتے ہیں اور وفا کے ساتھ یہ کام کریں گے ، تو پھر اللہ تعالیٰ بھی اس سے راضی ہوگا اور ایک بندے کے اپنے اعلیٰ اخلاق کا بھی پتا لگتا ہے۔
بعد ازاں حضورِانور نے وعدہ پُورا کرنے کی دنیاوی مثال دے کر بات کو مزید واضح فرمایا کہ ایک عام آدمی دنیا میں بھی دیکھ لو کہ اگر کوئی وعدہ کرتا ہے تو اس کو پُورا کرتا ہے۔ اگر وعدہ پورا نہ کرے تو لوگ اس کے خلاف ہوتے ہیں۔ عدالت میں مقدمہ چلا جائےتو عدالت کہتی ہے کہ تم نے وعدہ کیا تھا اور وعدہ اگر تحریر میں لکھا ہو تو اور بھی زیادہ پکّا ہو جاتا ہے۔
آخر میں حضورِانور نے وقفِ نَو کے عہد کی سنجیدگی اور اللہ تعالیٰ کے حضور جواب دہی کی جانب توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ ان کو یہ بتاؤ کہ یہاں تو انہوں نےbondبھی لکھ کے دیا ہوا ہے، پہلے والدین نے لکھا ، پھر بچوں نے پندرہ سال کی عمر میں bond لکھا اورپھر اکیس سال کی عمر میںbondلکھا ، تو پھر بھی وفا نہ کریں گے تو پھر عہد خلافی کریں گے۔ پھر کورٹ تو سزا دیتا ہے ، ہم سزاتو نہیں دیتے، لیکن اللہ تعالیٰ ضرور پوچھے گا۔
ایک خادم نے راہنمائی کی درخواست کی کہ بِگ بینگ (Big Bang) سے پہلے کیا تھا، کیا اس سے پہلے کوئی اَور دنیا موجود تھی اور اللہ تعالیٰ کب سے زندگی بنا رہا ہے اور کب تک بناتا رہے گا؟
اس پر حضورِانور نے انسانی علم کی محدودیت کو واضح کرتے ہوئے بیان فرمایا کہ ہمیں یہ ساری باتیں پتا ہوتیں تو ہم عالم الغیب نہ ہو جاتے۔
پھر حضورِانور نے قرآنِ کریم کی روشنی میں آغازِ کائنات کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کہتا ہے یہ سب ایک بند چیز تھی، جو قرآنِ شریف سورة الانبیاء میں اس نے لکھا ہے کہ یہ سب کچھ بند تھا ، پھر مَیں نے اس کو پھاڑا ، تووہ بِگ بینگ (Big Bang)ہو گیا اور یہ ساری کائنات بنی اور اس طرح کی اور بہت ساری کائناتیں ہیں۔
بعدازاں حضورِانور نے کائنات کے انجام اور دوبارہ تخلیق کے قرآنی تصوّر کی جانب توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ پھر اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ پھر مَیں لپیٹ لوں گا، جس طرح کتابیں لپیٹی جاتی ہیں اور صحیفے کاغذ لپیٹتے ہو، اس طرح لپیٹوں گا۔ پھر ایک اور دوبارہ بِگ بینگ ہوگا اور پھر دوبارہlife اللہ تعالیٰ بنائے گا۔
جواب کےآخر میں حضورِانور نے اس بات پر زور دیا کہ تو جتنا ہمیں پتا ہے، وہ اتنا ہی پتا ہے ، اس سے زیادہ اللہ تعالیٰ نے بتایا نہیں ۔ نیز اس مضمون کی مزید تفہیم حاصل کرنے کی غرض سے تحریک فرمائی کہ قرآنِ شریف میں سورۂ انبیاء کی تفسیر پڑھو۔
ایک شریکِ مجلس نے دریافت کیا کہ اگر کسی سفید پوش شخص کو کوئی صدقہ کی رقم دیں تو آیا اس کو بتانا ضروری ہے کہ یہ صدقہ ہے یا صرف انسان دل میں نیت کر دے تاکہ اس کی عزتِ نفس مجروح نہ ہو؟
اس پر حضورِانور نے نیت کی درستی اور مخاطب کی منشاء کو مدِّنظر رکھنے کی ہدایت دیتے ہوئے فرمایا کہ اگر تو وہ صدقہ کھانا پسند نہیں کرتا ، پھر تم یہ نیت کرو کہ مَیں اس کو تحفہ دے رہا ہوں اورصدقہ نہیں دے رہا۔ پھر اپنی نیت بدل لو اور اگر صدقے کی نیت سے دے رہے ہو ، تو پھر پتا ہونا چاہیے۔
اسی سلسلۂ کلام کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے حضورِانور نے وضاحت فرمائی کہ بعض افراد کے لیے صدقہ لینا شرعاً ممنوع ہے، اس لیے بتانا ضروری ہے، سیّد کہتے ہیں کہ ہمارے اُوپر صدقہ حرام ہے اورمنع ہے۔ تو سیّد کو تم صدقہ دے دو گےتو وہ کہے گا کہ مَیں سیّد زادہ ہوں اورتم مجھے صدقہ دیتے ہو؟ تو یہ غلط چیز ہے، اس لیےبتانا چاہیے اور اگر تم سمجھتے ہو کہ کوئی غریب ہے، کوئی سیّد ہے اور اس کی تم نے مدد کرنی ہے تو اس کی ویسے ہی تحفے کے طور پر مدد کر دو۔
مزید برآں حضورِانور نےمختلف طریقوں سے مدد کیے جانے کی بابت عمومی اصول بیان فرمایا کہ اپنے دل میں یہ کہو کہ مَیں اس غریب کی مدد کر رہا ہوں، آخر ویسے بھی تو بہن بھائیوں کی مدد کرتے ہیں ، ضروری تو نہیں صدقے میں سے دیتے ہیں۔
جواب کے آخر میں حضورِ انور نے صدقہ دیتے وقت وضاحت کو ضروری قرار دیتے ہوئےفرمایا کہ صدقہ اگر کسی کو دیا ہے، تو بتاؤ ، کیونکہ پتا نہیں ہوتا کہ کس نے صدقہ لینا ہے اور کس نے نہیں لینا۔ اور اگر تمہاری نیت ہے کہ مجھے پتا ہے کہ اس نے صدقہ نہیں لینا، تو پھر مَیں اس کو تحفے کے طور پر دیتا ہوں۔ پھر وہ صدقہ کے طور پر نہ دو بلکہ تحفہ کے طور پر دو۔
ایک سائل نے عرض کیا کہ روحانی سفر میں انسان کو اُتار چڑھاؤ کا سامنا رہتا ہے، نیز راہنمائی کی درخواست کی کہ اس تناظر میں آپ کے نزدیک وہ کون سی سب سے معتبر علامت ہے، جس سے یہ پہچانا جا سکے کہ کوئی شخص اللہ تعالیٰ کی نظر میں حقیقی روحانی ترقی کر رہا ہے؟
اس پر حضورِانور نے سب سے پہلے سائل سے اس کے ذاتی تجربے کے بارے میں دریافت فرمایا کہ تمہارا کبھی اُتار چڑھاؤ ہوا ہے؟
اثبات میں جواب سماعت فرمانے پر حضورِانور نے مزید دریافت کیا کہ اُتار چڑھاؤ کس طرح ہوتا ہے؟
اِس پر عرض کیا گیا کہ یہ ہوتا ہے کہ کبھی کبھار تہجد کی طرف بہت زیادہ توجہ ہوتی ہے، پھر کبھی کبھار تھوڑی سی کم اور پھر دوبارہ زیادہ ہوتی ہے۔
اس پر حضورِانور نے روحانی حالت میں اُتار چڑھاؤ کی کیفیت کو انسانی فطرت کا حصّہ قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ یہ انسانی فطرت ہے اوریہ ہوتا رہتا ہے۔
پھر حضورِانور نے روحانی ترقی کی اصل علامت کی نشاندہی کرتے ہوئے فرمایا کہ تو یہ باتیں انسان میں پیدا ہوتی رہتی ہیں، تو جب تہجد پڑھو اور اس میں دعائیں کر رہے ہو اور دل سے دعائیں نکل رہی ہوں۔جس طرح مَیں آجکل دعاؤں کے طریقے سکھا رہا ہوں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح دعا کیا کرتے تھے اور پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کس طرح دعا کرتے تھے، اَور لوگ بزرگ جو دعا کرتے ہیں، اگر دل سے دعائیں نکل رہی ہوں اور رقّت طاری ہو رہی ہو تو اس کا مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ کو یہ پسند ہے اور تمہاری قبولیت کا وقت ہے، تو اس میں دعائیں کرو۔
مزید برآں حضورِانور نے قبض کی کیفیت میں بھی استقامت اور دعا کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا کہ جب دل کی قبض ہو جاتی ہے تواس میں بھی کوشش کرو کہ تم نے تہجد ضرور پڑھنی ہے ، نمازیں ضرور پڑھنی ہیں اور اس میں اللہ تعالیٰ سے مانگو کہ میرا دل آجکل بند ہوا ہوا ہے، روحانیت کی طرف کھل نہیں رہا ، تو مجھے اللہ تعالیٰ توفیق دے۔ اللہ تعالیٰ سے مدد مانگو، بار بار اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ کی دعا پڑھو، تو نفلوں میں بار بار اس طرف توجہ کریں تو روحانیت کی طرف توجہ پیدا ہوتی ہے۔
جواب کےآخر میں حضورِانور نے خطبات کو غور سے سننے سے ایسے سوالات کے جواب خود بخود مل جانے کی بابت یاددہانی کروائی کہ تو یہ بتا تو رہا ہوں، جواب تو تمہیں آ جاتے ہیں ، خطبوں کو غور سے سنا کرو تو جواب مل جائیں گے۔
ایک خادم نے عرض کیا کہ کئی غیر احمدی یہ کہتے ہیں کہ اگر مسلمان نیک اعمال کریںتو صرف وہی جنّت میں جائیں گے اور ان کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ غیر مسلمان خواہ کتنے ہی اچھے انسان کیوں نہ ہوں، وہ جہنّم میں جائیں گے۔ نیز اس سلسلے میں راہنمائی کی درخواست کی کہ مگر ان عیسائیوں یا ملحدین کے بارے میں کیا کہا جائے جو نہایت مہربان ، دیانتدار اور دوسروں کی ہمیشہ مدد کرنے والے ہوتے ہیں، کیا وہ واقعی جہنّم میں جائیں گے؟
اس پر حضورِ انور نے اللہ تعالیٰ کے فیصلے انسان کی دسترس سے بالاتر ہونے کی بابت فرمایا کہ اچھا !اللہ تعالیٰ نے ان کو بتایا ہوگا، مجھے تو اس کانہیں پتا اور نہ اللہ تعالیٰ نے یہ قرآن میں لکھا اور نہ ہی یہ حدیث میں لکھا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے یہ لکھا ہے کہ جو اچھے اعمال کرے گا تو اس کو مَیں اَجر دوں گا۔
پھر حضورِ انور نے مخالفت اور ظلم کرنے والوں کو سزا ملنے اور نیک اعمال کے اجر کے بارے میں نہایت حکمت اور آسان فہم انداز میں سمجھایا کہ ہاں! جو نہیں مانتا، اس کی ایک سزا ہے اوراگر مخالفت کرتا ہے اور مخالفت میں بڑھ گیا ہوا ہے ، انبیاء کی مخالفت کر رہا ہے، ان کی جماعتوں کی مخالفت کر رہا ہے اور ظلم کر رہا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کو سزا دے گا ۔ لیکن اس میں اگر اس نے کوئی نیکی کی ہے، تو اس نیکی کا اَجر بھی دے دے گا۔ اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ تم نیکی کرتے ہو ، تو مَیں اس کو کئی گُنا بڑھا کے دیتا ہوں اور جو تم گناہ کرتے ہو ، تو اس کا صرف ایک حصّہ اس گناہ کے برابر تمہیں سزا ملتی ہے۔
مزید برآں حضورِانور نے مسلمانوں کے اعمال اور رویوں کے تناظر میں اللہ تعالیٰ کے عدل و رحمت کی وضاحت فرمائی کہ اس طرح مومن اگر نیکی کر رہا ہے، تو مومن کے گناہ بخشے جاتے ہیں اور وہ جنّت میں جائے گا۔ باقی کہاں کس کو جنّت میں ڈالنا ہے یا کس کو دوزخ میں ڈالنا ہے، یہ اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔ اللہ تعالیٰ بخشنے والا ہے ۔کسی کو کم سزا دے گا اور کسی کو زیادہ۔ مسلمانوں کو کیا گارنٹی ہے کہ جو مسلمان یہ قتل وغارت کر رہے ہیں، دہشتگردی کر رہے ہیں اور ظلم کر رہے ہیں ، یہ کیا جنّت میں چلے جائیں گے؟ کہتے تو یہی ہیں ہم جنّت میں جائیں گے، جنّت کی خاطر احمدیوں کا سر کاٹ دو، جنّت کی خاطر فلاں داعش بن گئی، بوکو حرام بن گیا، ISIS بن گیا ، یہ جنّت میں نہیں جانے والے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہی فرمایا ہے کہ جو ظلم کرے گا تو اس کو مَیں سزا دوں گا۔
اسی طرح حضورِ انور نے رحمتِ الٰہی کے انسان کے گناہوں پر غالب ہونے کی بابت روشنی ڈالی کہ باقی اللہ تعالیٰ بخشنے والا ہے ، اللہ کہتا ہے کہ میری رحمانیت تمہارے گناہوں پر حاوی ہے۔ اس لیے کسی شاعر نے کہا ہے
نہ روک راہ میں مولا شتاب جانے دے
کھلا تو ہے تری جنّت کا باب جانے دے
مرے گناہ تیری بخشش سے بڑھ نہیں سکتے
ترے نثار! حساب و کتاب جانے دے
ہو سکتا ہے کسی اَور شعر کا مصرعہ کہہ دیا ہو، بہرحال اسی نظم میں آتا ہے کہ میرے گناہ تیری بخشش سے بڑھ نہیں سکتے، مطلب یہی ہے کہ میرے گناہ کم ہیں اور اللہ تعالیٰ کی بخشش بہت زیادہ ہے۔
پھر حضورِانور نے اسی تناظر میں عملی مثالوں اور تاریخی واقعات کے ذریعے مشیّتِ الٰہی کی تصریح پیش فرمائی کہ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ شریف میں فرمایا ہے کہ میری رحمت بہت وسیع ہے، جب اللہ تعالیٰ کی رحمت وسیع ہے تو کس کو پتا ہے کہ کس نے کہاں جانا ہے؟ ایک آدمی نے سو (۱۰۰)قتل کیے، اس کو بھی اللہ تعالیٰ نے بخش دیا کہ اس کا صرف ارادہ تھا کہ کوئی نیک کام کروں ، تواس ارادے کو ہی اللہ تعالیٰ نے دیکھ لیا اور اس کو بخش دیا۔
اسی سلسلۂ کلام کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے حضورانور نے بیان فرمایا کہ اسی طرح ایک بزرگ کا واقعہ آتا ہے، کوئی آدمی اس کے پاس گیا اور بڑا گنہگار تھا، اس شخص نے کہا کہ تم تو گنہگار آدمی ہو اور تم نے فلاں فلاں گناہ کیا ہے۔تو اللہ تعالیٰ تمہیں نہیں بخشے گا ، دیکھو !میری طرح نیکیاں کرو، مَیں جنّت میں جانے والا ہوں۔ جب دونوں مرے ، تو اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہوئے، تو اللہ تعالیٰ نے اس کو بلایا اور اس سے پوچھا کہ تم فیصلہ کرنے والے کون ہوتے ہو کہ کون جنّت میں جائے گا یا کون دوزخ میں جائے گا؟ فیصلہ تو مَیں نے کرنا ہے۔ اس لیے تم نے یہ بیان کر کےتکبّر کیا ہے ۔تو اس لیے تمہیں مَیں نیکیاں کرنے کے باوجود جہنّم میں ڈالتا ہوں اور وہ جس کو تم نے کہا تھا کہ دوزخ میں جائے گا، اس کو مَیں جنّت میں ڈال رہا ہوں۔ تو یہ اللہ کے فیصلے ہیں۔
حضورِ انور نے غیر از جماعت کے دعووں کو غلط قرار دیتے ہوئے ذاتی اعمال کی اصلاح اور حقوق الله اور حقوق العباد کی ادائیگی پر زور دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اس لیے جو غیر احمدی کہتے ہیں وہ غلط ہے۔ ہمارا کام یہ ہے کہ اپنے عمل ٹھیک رکھیں۔ نیکیاں کریں، اللہ کا حق ادا کریں، نمازیں پڑھیں، عبادت کریں، بندوں کے حق ادا کریں ، اچھے اخلاق سے لوگوں سے پیش آئیں، غریبوں کا خیال رکھیں، چھوٹوں بڑوں کاخیال رکھیں اور ہر ایک سے عزت سے احترام سے پیش آئیں ۔ تو یہ حقوق اللہ اور حقوق العباد، ایک بندوں کے حق اور ایک اللہ کے حق یہ دو ادا کرو اَور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگو۔
حضورِ انور نے اپنے ایک حالیہ خطبے کی روشنی میں آنحضرتؐ کے اُسوہٴ مبارک کو بیان کرتے ہوئے، نام نہاد انسانی فیصلوں کی قلعی کھولتے ہوئے، ہمیشہ عاجزی اختیار کرنے، توبہ و اِستغفار سے کام لینے اور انجام بخیر کی دعا کی جانب توجہ مبذول کروائی کہ پچھلے دنوں مَیں نے خطبے میں ذکر کیا تھا اورواقعہ سنایا تھاکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت عائشہ رضی الله عنہانے اور بعض لوگوں نے پوچھا کہ آپؐ اتنی دعائیں مانگتے ہیں، تو آپؐ کو تو اللہ تعالیٰ نے بخشا ہوا ہے، آپ نے تو جنّت میں جانا ہی جانا ہے۔ آپؐ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ بے نیاز ہے، مَیں بھی اللہ کے فضل سے ہی جنّت میں جاؤں گا اور کسی اپنے عمل سے نہیں جاؤں گا۔ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جو مقام ایسا نہیں تو یہ غیر احمدی سرٹیفکیٹ دینے والے کون ہوتے ہیں کہ جنّت میں کون جائے گا اورکون نہیں جائے گا۔ یہ سب جھوٹے ہیں۔ نیز ہدایت فرمائی کہ اس لیےعاجزی اختیار کرو اور اللہ تعالیٰ سے توبہ و اِستغفار کرتے رہو۔ کوئی پتا نہیں۔ دل سے ہمیشہ یہ دعا مانگو کہ اللہ انجام بخیر کرے اور ہم سے راضی ہو جائے اور جب بھی لے کے جائے، تو اپنے پاس رکھے نہ کہ آگ میں ڈالے۔ اور اگر کوئی نیک کام کرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ نیک کام کوئی بھی کر رہا ہو ، تو مَیں اس کا اجر اس کو دیتا ہوں ۔
پھر حضورِ انور نے تاریخی حلف الفضول کا ذکر کرتے ہوئے نیکی کے اجر کی تفہیم بیان فرمائی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت سے پہلے ایک کمیٹی بنی ہوئی تھی جو غریبوں کی مدد کرنے کے لیے بنائی گئی تھی ۔اس کا نام حلف الفضول تھا اورآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ممبر تھے۔ نبوت کا دعوی کیا ، مدینہ چلے گئے ، توایک دفعہ غریبوں کی خدمت کا ذکر ہوا ، تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ لوگ جو کافر ہیں، وہ نیک کام کر رہے تھے، اگر وہ آج بھی مجھے اس کام کے لیے بلائیں کہ ان کی کمیٹی میں شامل ہو جاؤں، تو باوجود اس کے میرا نبوت کا مقام بہت اُونچا ہے، مَیں شامل ہو جاؤں گا۔ تو یہ نیکی کا اجر اللہ تعالیٰ دیتا ہے، وہ بہرحال ان کو دے گا اور جہاں غلطیاں ہیں، ان کی وہ سزا بھی دے گا۔
[قارئین کی معلومات کے لیے حِلف الفضول کے پس منظر کی بابت عرض کیا جاتا ہے کہ قدیم زمانے میں عرب کے بعض شرفاء کو یہ خیال پیدا ہوا کہ ہم مل کر عہد کریں کہ مظلوموں کی مدد کریں گے اور ظلم کو روکیں گے اور حقدار کو اس کا حق دلائیں گے۔ اَلْفُضُوْل فضل کی جمع ہے، یہ معاہدہ کرنے والوں میں تین فضل نامی اشخاص تھے، لہٰذا یہ عہد حِلف الفضول کے نام سے مشہور ہو گیا۔ظہورِ اسلام سے قبل قریشِ مکّہ کے بعض لوگوں نے اِس عہد کی تجدید کی اِن میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم بھی شامل تھے۔]جواب کےآخر میں حضورِ انور نے اللہ تعالیٰ کے فیصلوں کی بے نیازی کے تناظر میں عاجزی اختیار کرنے اور اِستغفار کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے فرمایا کہ باقی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تو فرمایا کہ ایک وقت آئے گا کہ جہنّم خالی ہو جائے گی اور سارے ہی جنّت میں چلے جائیں گے۔ اب یہ جو تکبّر دکھانے والےso-calledبزرگ کی طرح ہیں کہ تم جہنّم میں جاؤ گے اور مَیں جنّت میں جاؤں گا ، یہ تو پتانہیں کہ اب یہ جنّت میں جاتے ہیں کہ نہیں جاتے، لیکن ہمیں اِستغفار کرنی چاہیے۔
حضورِانور کی خدمت ِاقدس میں پیش کیا جانے والا ایک سوال یہ تھا کہ کوئی شخص جماعتی خدمت کرنے کی توفیق پا رہا ہو اور وقتی طور پر اس کی دلجمعی میں کمی آ جائے تو وہ اس سے کیسے نبرد آزما ہو؟
اس پر حضورِانور نے وفا اور عہد کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ تم وقفِ نَو ہو، قرآن ِشریف میں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی مثال وَاِبۡرٰہِیۡمَ الَّذِیۡ وَفّٰۤی دی کہ ابراہیمؑ وہ تھا کہ جس نے وفا کی۔
پھر حضورِانور نے عہد کو یاد رکھنے سے دلجمعی برقرار رہنے کی بابت تلقین فرمائی کہ اگر وفا سے اپنا عہد دُہراؤ گے تو ہمیشہ ہمیشہ یاد رہے گا کہ میرا ایک عہد ہے اوراس عہد کو مَیں نے پُورا کرنا ہے اور جب عہد کو پُورا کرنے کی باتیں کرو گے تو motivation میں کمی کا سوال ہی نہیں ہے۔
بعدازاں حضورِ انور نے سستی اور دلجمعی میں کمی کے موضوع پر نہایت شفقت سے عملی راہنمائی عطا فرمائی کہ ہاں! کبھی سستی آتی ہے پھر انسان دوبارہ اِستغفار پڑھے، اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ پڑھے، دعا کرے اور دوبارہ نئے سرے سے کام شروع کر دے ۔ نیز جواب کے آخر میں ہدا یت فرمائی کہ اِستغفار پر زیادہ زور دیا کرو۔
ایک سِوِل انجینئرنگ کے طالب علم نے پیشہ ورانہ مہارتوں اور انگریزی زبان کو بہتر بنانے کے لیے تین ماہ کی تربیتی تقرری کے سلسلے میں راہنمائی کی درخواست کہ اسے کس ملک کا انتخاب کرنا چاہیے؟
اس پر حضورِ انور نے نصیحت فرمائی کہ انگریزی زبان کی بجائے پیشہ ورانہ تربیت کو ترجیح دی جائے، کیونکہ زبان کی مہارت کسی بھی جگہ حاصل کی جا سکتی ہیں۔ حضورِ انور نے فرمایا کہ ایسے ممالک پر غور کرنا چاہیے کہ جہاں تعمیر و ترقی کے بڑے منصوبے جاری ہوں، کیونکہ اس سے عملی تجربہ حاصل کرنے کے بہتر مواقع میسر آتے ہیں۔
ایک شریکِ مجلس نے حضورِ انور کی خدمتِ اقدس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ’’ اسلام اجنبی طور پر شروع ہوا تھا اور اجنبی ہو جائے گا ، جیسے شروع میں تھا۔ پس خوشخبری ہو ان اجنبیوں کے لیے‘‘ کی تشریح کی عاجزانہ درخواست پیش کی۔
اس پر حضورِ انور نے سب سے پہلے اسلام کی ابتدا اور اجنبی ہونے کے مفہوم کی وضاحت فرماتے ہوئے بیان کیا کہ ہاں! تو مذہب اجنبی تھا، عرب سے شروع ہوا تھا، اورعرب تو نہیں جانتے تھے کہ اسلام کیا چیز ہے اور نہ خدا کو جانتے تھے، وہ تو مشرک لوگ تھے۔ اس خدا کو تو نہیں جانتے تھے، وہاں اس زمانے میں بعض مواحد بھی تھے، لیکن اس خدا کو نہیں جانتے تھے کہ جو اسلام نے پیش کیا اورجن صفات کا مالک تھا۔
پھر اسی تناظر میں حضورِ انور نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام کے انسانوں کو جہالت کی تاریکیوں سے نکال کر علم، شعور اور باخدا زندگی کی روشنی میں لانے کے عظیم الشّان مشن کی جانب توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ اسی طرح مطلب یہ ہے کہ جس طرح پہلے نہیں جانتے تھے، جہالت تھی، جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لکھا ہے کہ جاہلوں کو انسان بنایا، انسانوں کو تعلیم یافتہ انسان بنایا اور تعلیم یافتہ انسانوں کو باخدا انسان بنایا، تو اللہ سے جوڑا۔ جاہل لوگ تھے، بالکل جانور تھے، بلکہ ایک جگہ لکھا ہے کہ جانوروں والی حالت تھی۔
بعدازاں حضورِ انور نے آخری زمانے میں اسلام کی پیشگوئی شدہ حالت اور لوگوں کی دینی غفلت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ اب اسی طرح اس وقت کوئی نہیں جانتا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انقلاب پیدا کیا۔ اب اسی طرح دنیا داری میں اتنے ڈوب جائیں گے اور غلط کاموں میں پڑ جائیں گے، اب آثار شروع تو ہو گئے، آخری زمانے میں جو ہونے تھے کہ جب مسیح موعود نے آنا تھا تو لوگ اسلام کو بھول جائیں گے۔ یہ بھی حدیث ہے کہ عمل کرنے والا کوئی نہیں ہوگا، بھول جائیں گے۔
مزید برآں حضورِ انور نے آخری زمانے کے پُرفتن دَور میں اسلام کو مضبوطی سے تھامے رکھنے والوں کو حقیقی معنوں میں خوش بخت اور محفوظ قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ مسیح موعود نے اس وقت آنا تھا اور انقلاب پیدا کرنا تھا اور آخر میں ایک وقت ایسا آئے گا، پھر جب ان لوگوں پر قیامت آئے گی، تو اس وقت بھی وہ لوگ ہوں گے کہ جو اسلام کو بھول کے جانوروں والی حرکتیں کر رہے ہوں گے۔ سو! یہی خوش بختی اس زمانے کے لوگوں کےلیے ہے کہ جو اسلام کو بھولے نہیں ہوں گے، بلکہ یاد رکھیں گے اور ان پر وہ سزا والی قیامت نہیں آئے گی۔
اس کے بعد حضور انور نے عصرِ حاضر اور اسلام کے اجنبی ہونے کی کیفیت کی بابت بیان فرمایا کہ باقی یہ زمانہ اب اسلام بھول گیا تھا، یہ زمانہ جو ہے، یہ بھی وہی زمانہ چل رہا ہے، اسلام کے بارے میں اب شاعر نے اسی لیے کہا ہے
رہا دین باقی نہ اسلام باقی
اک اسلام کا رہ گیا نام باقی
حضور انور نےاس اَمر کی وضاحت فرمائی کہ اسلام تو اجنبی بن گیا، لیکن اس میں جو عمل کرنے والے نیک لوگ ہیں، جو اللہ کے بھیجے ہوئے کومسیح موعود کو ماننے والے ہیں وہ خوش نصیب ہوں گے، باقی نہیں ہوں گے۔ اسلام کی تعلیم کا جو دنیا میں تصوّر ہے وہ تو یہی ہے کہ یہ شدّت پسند مذہب ہے اور یہی تعلیم مُلّاں اور علماء دیتے ہیں۔ اس میں مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کی جو تعلیم ہے، ایک اس کا مطلب یہ بھی بنتا ہے کہ اس کے مختلف پہلو نظر آتے ہیں، اس زمانے کے بھی اور آئندہ آخری زمانے کے بھی کہ کیا ہوں گے۔
ایک سائل نے عرض کیا کہ فرانس میں کچھ خدام صرف کھیلوں کے پروگراموں میں آتے ہیں،نیز اس سلسلے میں راہنمائی کی درخواست کی کہ ہم انہیں جماعت کے دیگر پروگراموں میں کس طرح لائیں اور جماعت کے ساتھ کیسے جوڑ سکتے ہیں؟
اس پرحضورِ انور نے مذکورہ خدام سے دوستانہ تعلقات قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے فرمایا کہ ان سے آہستہ آہستہ دوستی کرو ۔ نیز یاد دلایا کہ میری باتیں سن لیا کرو، کئی دفعہ بتا چکاہوں کہ ان سے دوستی کرو اورقریبی تعلقات پیدا کرو۔
پھر حضورِ انور نے کھیلوں کے پروگراموں کےذریعے ایسے خدام کو جماعت سے متعارف کروانے کی بابت عملی ہدایت عطا فرمائی کہ ان کو لاؤ، کھیلوں میں لاتے ہو، تو ان کو نماز پڑھاؤ اور نماز کی اہمیت اورجماعت کی اہمیت کا بتاؤ۔ تم لاتے ہی ان کو کھیلوں کے وقت میں ہو یا عام وقت میں صرف اجلاس پربلاتے ہو۔
بعد ازاں حضور انور نے مختلف پروگراموں اور میل جول کے ذریعے مذہبی آگاہی بڑھانے کی ترغیب دلاتے ہوئے فرمایا کہ کبھی کبھی ویسے بھی بلایا کرو، get together کیا کرو اورمیٹنگ کیا کرو۔ مذہب کی اہمیت بتایا کرو کہ آجکل کے زمانے میں مذہب کی کیا اہمیت ہے۔جواب کے آخر میں حضورِانور نے ایسے خدام کو اپنے ساتھ جوڑنے کے لیے تعلقات اور آگاہی دونوں کو ضروری قرار دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ اسلام کو اجنبی نہ بناؤ، بلکہ ان لوگوں میں شامل ہو جاؤ کہ جو اسلام کو جاننے والے ہیں۔
ایک خادم نے دریافت کیا کہ عید کے دن روزہ رکھنا کیوں منع ہے؟
اس پر حضورِانور نے روزے رکھنے کی غرض اور عبادت کی فلاسفی بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم روزہ کیوں رکھتے ہیں، اس لیے رکھتے ہیں کہ اللہ نے حکم دیا ہے، تو اللہ تعالیٰ کو خوش کرنے کے لیے رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو عبادت بنایا، روزے رکھنے کو بھی ایک عبادت بنایا، کلمۂ طیّبہ کے بعد نماز، روزہ، زکوٰة، حج ۔ اس کا مطلب ہے کہ روزہ عبادت ہے، سو! عبادت وہ چیز ہوتی ہے کہ جو اللہ تعالیٰ نے جس طرح حکم دیا ہے، اس کے مطابق کرنا، اوروہ ہم کرتے ہیں کہ صبح سے شام تک جائز چیزوں سے بھی پرہیز کرتے ہیں۔
پھر حضورِ انور نے عید کے دن روزہ نہ رکھنے کی حکمت اللہ تعالیٰ کی خوشنودی میں مضمر قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ عید کے دن اللہ تعالیٰ نے کہا ہے کہ تم نے تیس دن روزے رکھے، اب تمہیں مَیں رِیوارڈ دے رہا ہوں، تو آج تم خوشی کا دن مناؤ۔ آج تم نے روزہ نہیں رکھنا ، کیونکہ اب تمہارے جو تیس دن یا اُنتیس دن جو عبادت کے گزرے اور اس میں اللہ تعالیٰ کے قریب تم آئے اور عبادت کے معیار کو اُونچا کیا، تو اس میں شیطان بڑا پریشان تھا، تو آج تم خوشیاں مناؤ اور شیطان اس پریشانی میں آج روزہ رکھ رہا ہے ۔تو تم نے عید کے دن روزہ رکھنا ہے تو شیطان کے ساتھ مل جاؤ گے اور اللہ کی عبادت نہیں کرو گے۔ ہم نے تو وہ کرنا ہے کہ جو اللہ میاں نے ہمیں کہا۔ عبادت تو وہ ہے کہ جو اللہ کے حکم کے مطابق کی جائے۔
مزید برآں حضورِ انور نے عید کے دن خوشیوں اور غریبوں کے حقوق کی ادائیگی کی اہمیت پر روشنی ڈالی کہ اللہ تعالیٰ کہتا ہے تیس دن روزے رکھو اور عید والے دن روزہ کھولو اور خوشیاں مناؤ اور پھر ان دنوں میں غریبوں کا بھی خیال رکھو کہ وہ تمہارے ساتھی ہیں، تمہارے بھائی ہیں، ان کو تم نے کھانا پلانا ہے، ان کی خدمت کرنی ہے اور ان کو تحفہ دینا ہے تاکہ وہ بھی اچھی عید گزار سکیں۔ تو اللہ کے حکم کے مطابق ہم کام کرتے ہیں۔
بعدازاں حضورِ انور نےاحکامِ الٰہی کی بجا آوری میں سحری اور افطاری کی فضیلت اور ان کی عبادت میں حیثیت واضح فرمائی کہ پھر تم یہ بھی کہہ دو گے کہ ہم سحری کیوں کھاتے ہیں اور افطاری کیوں کرتے ہیں؟ سحری کھانا بھی ضروری ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سحری بھی کھایا کرو افطاری بھی کیا کرو۔ آٹھ پہرے روزے مجبوری سے رکھتے ہیں، لیکن عموماً تو یہی ہے کہ آدمی کو سحری کھا کے روزہ رکھنا چاہیے اور افطاری کر کے روزہ کھولنا چاہیے۔ یہ بھی اللہ کا حکم ہے۔ جو بھی اللہ کے حکم پر عمل کرو گے تووہ عبادت بن جائے گی۔
جواب کے آخر میں حضورِ انور نے سب کام اللہ کی خوشنودی کے لیے بجا لانے پر زور دیتے ہوئے تاکید فرمائی کہ اس لیےیہ ہمیشہ یاد رکھو کہ ہم نے جو کام کرنا ہے اللہ کو راضی کرنے کے لیے کرنا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ خوش ہو اور ہمیں انعام دے اورہم سے راضی ہو۔
ایک شریکِ مجلس نے حضورِ انور کے ایک ارشاد کی روشنی میں سوال کیا کہ حضور نے فرمایا تھا کہ جو واقفین جماعت میں خدمت نہیں کر رہے انہیں اپنے متعلقہ شعبہ جات میں مہارت حاصل کرنی چاہیے اور بہترین نمونہ دکھانا چاہیے، تو کچھ شعبہ جات ایسےبھی ہیں کہ جو کافی وقت طلب ہیں، جیسے کہ تحقیق اور طبّ، تو جو واقفین ان شعبوں میں کام کر رہے ہیں، ان کے لیےآپ کی کیا ہدایت ہے؟
اس پر حضور انور نے عبادت اور تلاوتِ قرآنِ کریم کی اہمیت پر زور دیتے ہوئےتلقین فرمائی کہ پہلی بات تو یہ ہے کہ نمازیں نہیں چھوڑنی، عبادت نہیں چھوڑنی، عبادت کرنی چاہیے۔ صبح اُٹھتے ہو تو کوشش کرو کہ قرآنِ شریف کی تلاوت کرو اور قرآن شریف کا ترجمہ پڑھو، تفسیر پڑھو تاکہ قرآنِ شریف کا مطلب سمجھ آئے۔
پھر حضورِ انور نے دیگر مصروف پیشوں والے واقفین کو بھی جماعتی خدمت جاری رکھنے کی اہمیت کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ اگر وہاں ان کو وقت نہیں مل رہا، تو وِیک اینڈ پر کوئی چھٹی کے دن ، دو ایک دن تو مل ہی جاتے ہیں، سائنٹسٹ کو بھی مل جاتے ہیں، نہیں تو اپنے حلقے میں ہی تبلیغ کر سکتا ہے، تو وہ بھی جماعتی خدمت ہے۔
مزید برآں حضور ِانور نے عملی مثال کے ذریعے قرآنی تعلیم اور تبلیغ کی اہمیت کو اُجاگر فرمایا کہ ڈاکٹر سلام صاحب سارا دن مصروف رہتے تھے اور ساتوں دن کام کرتے تھے، تب بھی انہوں نے ہر ایک کو بتایا ہوا تھا کہ مَیں نے قرآن پڑھا اور قرآن میں سے یہ تفسیریں نکالیں، مَیں احمدی ہوں، اور اس طرح یہ تشریح اور تفسیر ہے۔ تو انہوں نے اپنے ساتھیوں کو بھی قرآن کے نکات بیان کر دیے۔
جواب کےآخر میں حضورِ انور نے جماعتی خدمت کی وسعت کے حوالے سے اس اَمر پر زور دیا کہ جماعتی خدمت صرف یہی تو نہیں ہے کہ تم خدام الاحمدیہ کے جاکے کام کرو تو کرو۔ جماعتی خدمت یہ ہے کہ لوگوں کو تبلیغ کرو اور بتاؤ کہ اسلام کیا ہے، یہ بھی خدمت ہے۔
ایک خادم نے سوال کیا کہ ہم کس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبّت کو ہمیشہ کے لیے بڑھاتے رہیں کہ جو ہمارے دلوں میں ہے؟
اس پر حضور ِانور نے درود شریف پڑھنے اور اس پر غور کرنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے اسے محبّتِ الٰہی کے حصول کا ایک ذریعہ قرار دیا کہ درود شریف پڑھا کرو اوراس پر غور کیا کرو۔ اگر دل میں محبّت ہے، تو درود تو آپ ہی دل سے نکلے گا اور جب دل سے نکلے گا تو محبّت زیادہ بڑھے گی۔اور پھر جب محبّت بڑھے گی، تو آپؐ کی جو سیرت ہے، اس پر غور کرو گے اور آپؐ کی سُنّت کے مطابق چلنے کی کوشش کرو گے اور صرف اس کا ایک فائدہ نہیں بلکہ دو فائدے ہیں۔جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبّت میں درود پڑھو گے، آپؐ کی سیرت پر عمل کرو گے، تو اللہ تعالیٰ نے جس طرح فرمایا: فَاتَّبِعُوۡنِیۡ یُحۡبِبۡکُمُ اللّٰہُ کہ ان لوگوں کو بتا دو کہ میری اتّباع کریں اور میرے نقش ِقدم پر چلیں تو پھر اللہ کی محبّت بھی وہاں مل جائے گی۔صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبّت نہیں ملے گی بلکہ اللہ کی محبّت بھی مل جائے گی۔ نیز جواب کے آخر میں حضورِ انور نےمسکراتے ہوئے فرمایا کہ تو two in oneہو جائے گا اورتم لوگ آجکل یہی two in oneکی تلاش میں رہتے ہو۔
ایک خادم نے سوال کیا کہ زندگی کے کس مرحلے میں شادی کے بارے میں سوچنا چاہیے؟
اس پر حضورِ انور نے راہنمائی عطافرمائی کہ اسلام بلوغت کو پہنچنے کے بعد نکاح کی ترغیب دیتا ہے۔ اسلام میں شادی کے بنیادی مقصد پر روشنی ڈالتے ہوئے واضح فرمایا کہ اسلام میں شادی کا بنیادی مقصد انسان کو گناہ سے محفوظ رکھنا ہے۔ اسی سلسلے میں حضورِ انور نے نوجوانوں کو غضِّ بصر اختیار کرنے اور مرد و زن کے غیر ضروری اختلاط سے اجتناب برتنے کی نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر کسی کو یہ اندیشہ ہو کہ وہ شادی کے بغیر اپنی عفت قائم نہیں رکھ سکتا تو اسے چاہیے کہ اپنے والدین سے شادی کے انتظام کے لیے کہے۔ مزید برآں گناہ سے بچنے کے لیے حضورِ انور نے اِستغفار اور روزے رکھنے کی تلقین فرمائی، نیز یہ بھی ارشاد فرمایا کہ روزہ صحت کے لیے بھی مفید ہے۔
ایک شریکِ مجلس نے راہنمائی کی درخواست کی کہ ہم نَومبائعین کو جماعت کے ساتھ کس طرح منسلک کر سکتے ہیں؟
اس پرحضورِ انور نے نَو مبائعین کے ساتھ دوستانہ تعلقات اُستوار کرنے کی اہمیت کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے توجہ دلائی کہ ان کو قریب لاؤ، ان سے دوستانہ تعلق پیدا کرو اَور ان کی زبان میں ان سے باتیں کرو۔ تو ان کو پتا لگے کہ یہ ہمارا ہمدرد ہے ، صرف ہمارے اجلاس پر بلانے کے لیے یا چندہ لینے کے لیے ہمارے پاس نہیں آگیا، بلکہ ہمیں اس نےabsorbکیا ہے۔
بعدازاں حضورِ انور نے جماعتی ہم آہنگی اور مؤثر تعلقات کی ترویج کے لیے زبان اور رابطے کے عملی پہلو پر روشنی ڈالی کہ پاکستانی بیٹھ کے اُردو میں باتیں نہ کرنے لگ جائیں، جو ان کی زبان ہے، ان میں باتیں کریں۔ اگر پاکستانی ہے تو اس کی زبان میں بات کرو، اگر عرب ہے تو عربی تمہیں نہیں آتی تو فرنچ میں باتیں کرو اور فرنچ ہیں تو فرنچ میں باتیں کرو۔
آخر میں حضورِ انور نے نو مبائعین کے ساتھ فیملی جیسا ماحول بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے فرمایا کہ اس طرح ان کو یہ پتا لگے گا کہ ہماری ایک کمپنی ہے، ایک فیملی ہے اورجس طرح فیملی ممبر بیٹھ کے باتیں کرتا ہے، اس طرح نومبائعین کے ساتھ اپنے اپنے ہر ایک حلقے میں فیملی بناؤ، تو وہ قریب ہوجائیں گے۔
ملاقات کے اختتام پر تمام شاملینِ مجلس کو اپنے محبوب آقا کے ساتھ گروپ تصویر بنوانے اور آپ کے دستِ مبارک سے قلم بطور تبرک حاصل کرنے کی سعادت بھی نصیب ہوئی ۔
یہ روح پرور نشست حضورِ انور کے دعائیہ کلمات ’’السلام علیکم‘‘پر بخیر و خوبی اختتام پذیر ہوئی۔
٭…٭…٭




