متفرق مضامین

اصلاحِ نفس کے چند مجرب نسخے

انسان کی اصل خوبصورتی اس کے چہرے میں نہیں بلکہ اس کے دل اور کردار میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ دل وہ آئینہ ہے جو اگر پاک ہو جائے تو بندہ اپنے ربّ کی جھلک محسوس کرنے لگتا ہے مگر جب نفس کی خواہشات اس آئینے پر گرد جما دیتی ہیں تو انسان اپنی اصل پہچان کھو بیٹھتا ہے۔ اصلاحِ نفس دراصل اسی آئینے کو صاف کرنے کا نام ہے یہ وہ سفر ہے جو انسان کو خود سے اُس کے ربّ تک لے جاتا ہے یہ عمل آسان نہیں مگر یہی راستہ روح کے سکون دل کی پاکیزگی اور یہی اللہ کی قربت تک پہنچاتا ہے۔

ذیل میں اصلاح نفس کےلیے چند مجرب نسخے پیش خدمت ہیں ان طریقوں پر چلنے کے نتیجے میں ہمارے نفوس میں حیرت انگیز تبدیلی آسکتی ہے۔

۱۔ ہر روز سونے سے قبل یا کسی تنہائی کے اوقات میں سوچیں کہ آپ نے آج خدا تعالیٰ کو راضی کرنے کےلیے کیا کیا ؟یہ محض ایک سوچ نہیں یا خود سے صرف ایک سوال نہیں بلکہ اصلاحِ نفس کی پہلی سیڑھی ہو سکتی ہے جب انسان ہر دن اپنے اعمال کا جائزہ لینا شروع کر دے تو ہو سکتا ہے کہ اُسے توبہ کرنے کی توفیق ملے اللہ سے بخشش مانگنے کی توفیق ملے ۔

۲۔ اگر مندرجہ بالا طریق اختیار کریں گے تو ممکن ہے کہ آپ کو اپنا نفس بہت گندا اور ناپاک نظر آئے ایسی صورت میں مایوس نہیں ہونا بلکہ خدا تعالیٰ کے دَر پر جا کر عرض کریں؎

میں تیرا در چھوڑ کر جاؤں کہاں

۳۔ قرآن پاک کو ترجمہ سے پڑھنا اور اس بات پر غور کرنا کہ مجھ میں کون سی نیکیاں ہیں وہ احکامات جو قرآن میں بیان ہیں کیا میرا اُن پر عمل ہے اس سے بھی اصلاحِ نفس ہوتی ہے پھر عذاب اور بشارتوں پر غور کریں گے تو خوف اور امید کے نتیجے میں دل آگے بڑھے گا ۔

۴۔ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور پھر آپؐ کے صحابہ کرامؓ کی سیرت کا مطالعہ اصلاح نفس کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔

۵۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کا مطالعہ بھی اصلاحِ نفس کا بہترین ذریعہ ہے

۶۔ دس شرائطِ بیعت پر بھی غور کرنے سے نفس کی اصلاح ہو سکتی ہے ۔

۷۔ ملفوظات حضرت مسیح موعودؑ کا مطالعہ بھی اصلاحِ نفس کےلیے بہترین نسخہ ہے۔

۸۔ حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہِ العزیز کے خطبات اور پروگرام This Week With Huzoor اگر توجہ اور انہماک سے سنے جائیں تو انقلابی تبدیلیوں کا موجب بنتے ہیں ۔

۹۔ حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کو اپنے اصلاح نفس کےلیے دعا کا خط لکھنا بھی گناہوں کا عجب تریاق ہے اس کی بھی مستقل عادت ڈالیے۔

۱۰۔ تہجد کی عبادت بھی اصلاحِ نفس کےلیے بہت عمدہ ذریعہ ہے ۔

۱۱۔ صحبتِ صالحین کو اختیار فرمائیے اور اچھی اور نیک صحبتوں میں رہیں کہ صحبتوں کا بھی بہت اثر ہوتا ہے چاہے وہ نیک صحبت ہو یا بد صحبت ۔

۱۲۔ نیکیاں بدیوں کو کھا جاتی ہیں اس لیے اگر آپ کا نفس گندا ہے تو جو نیکیاں ممکن ہیں وہ بجا لائیں بدیاں چھوٹ جائیں گی ۔

۱۳۔ صدقات بھی گناہوں کو بھسم کرتے ہیں اس لیے اس طریق کو بھی اختیار فرمائیے۔

۱۴۔ موت کو ہمیشہ یاد رکھیں اس سے انسان میں اپنے اعمال کو لے کے ایک فکر پیدا ہوتی ہے اور انسان گناہوں سے پاک ہونے کی کوشش کرتا ہے ۔

۱۵۔ بعض اوقات یہ بھی دیکھنے میں آتا ہے کہ کوئی دعائیں دیتا ہے تو ساتھ میں یہ دعا بھی دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو لمبی زندگی دے لیکن لمبی زندگی کے ساتھ یہ دعا بھی دینی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو خدمتِ دین کی بھی بھرپور توفیق عطا فرمائے کیونکہ اصلاحِ نفس کا ایک طریق یہ بھی ہے کہ دین کی خدمت کریں اس سے آپ نیک ماحول میں رہیں گے۔ دین کی خدمت کا جتنا موقع ملے کرنی چاہیے اور دلی خوشی سے کرنی چاہیے کیوں کہ خدمتِ دین میں جتنا مصروف رہیں گے اُتنے ہی نفس کے فضول خیالات سے بچے رہیں گے اور پاک اور روحانی ماحول میں نفس کو پاک کرنے کا موقع ملے گا۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:‘‘زندگانی کی زیادہ خواہش اکثر گناہوں کی اور کمزوریوں کی جڑ ہے۔ہمارے دوستوں کو لازم ہے کہ مالکِ حقیقی کی رضا میں اوقاتِ عزیز بسر کرنے کی ہر وقت کوشش کریں ۔ حاصل یہی ہے ورنہ آج چل دینے والا اور مثلاً اَور پچاس سال بعد کُوچ کرنے میں کیا فرق ہے جو آج چاند و سورج ہے وہی اس دن ہوگا جو انسان نافع اور اس کے دین کا خادم ہوتا ہے اللہ تعالیٰ خود بخود اُس کی عمر اور صحت میں برکت ڈال دیتا ہے اور شرالنّاس کی کچھ پروا نہیں کرتا ۔ سوآپ سب کام ہر حال خدا میں ہو کر کریں خوداللہ تعالیٰ آپ کو محفوظ رکھے گا۔‘‘(ملفوظات جلد ۲ صفحہ۸۲، ایڈیشن ۲۰۲۲ء)

۱۶۔ خدا تعالیٰ کے دربار میں خوف اور امید بھرے دل سے روئیں اور گڑگڑائیں اور عبادتوں میں رونا اور گڑگڑانا پیشہ بنالیں۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:’’کامل طور پر پاک ہونے کےلیے صرف معرفت ہی کافی نہیں بلکہ اُس کے ساتھ پُردرد دعاؤں کا سلسلہ جاری رہنا بھی ضروری ہے کیونکہ خداتعالیٰ غنی بےنیاز ہے اُس کے فیوض کو اپنی طرف کھینچنے کےلیے ایسی دعاؤں کی سخت ضرورت ہے جو گریہ اور بُکا اور صدق و صفا اور دردِ دل سے پُر ہوں ۔…غرض پاک و صاف ہونے کےلیے صرف معرفت کافی نہیں بلکہ بچوں کی طرح دردناک گریہ و زاری بھی ضروری ہے۔ اور نومید مت ہو اور یہ خیال مت کرو کہ ہمارا نفس گناہوں سے بہت آلودہ ہے ہماری دعائیں کیا چیز ہیں اور کیا اثر رکھتی ہیں کیونکہ انسانی نفس جو دراصل محبتِ الٰہی کےلیے پیدا کیا گیا ہے وہ اگر چہ گناہ کی آگ سے سخت مشتعل ہو جائے پھر بھی اُس میں ایک ایسی قوتِ توبہ ہے کہ وہ اس آگ کو بجھاسکتی ہے جیسا کہ تم دیکھتے ہو کہ ایک پانی کو کیسا ہی گرم کیا جائے مگر تاہم جب آگ پر اس کو ڈالا جائے تو وہ آگ کو بجھا دے گا ۔ (براہین احمدیہ جلد۵، روحانی خزائن جلد۲۱ صفحہ۳۴،۳۳)

۱۷۔ اپنے اندر عاجزی پیدا کریں کہ عاجزی بھی اصلاحِ نفس کا ایک بہترین ذریعہ ہے کیونکہ نفس جو انسان کو خودپسندی ، غرور ، تکبر ، برتری کے فریب میں مبتلا کردیتا ہے، عاجزی نفس کی ان برائیوں کو ختم کرنے کا بہترین علاج ہے

۱۸۔ نفس کی اصلاح ایک دن میں نہیں ہو جاتی اس لیے صبرو استقلال سے مصروف رہیں اور اللہ تعالیٰ سے مدد بھی مانگتے رہیں کہ اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر کچھ ممکن نہیں ہو سکتا اور یاد رکھیں جو اپنے نفس کا محاسبہ کرتا ہے وہ رب کی رحمت کے قریب ہو جاتا ہے ۔

(م ۔ ط ۔ بلوچ)

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: وہ تین کو چار کرنے والا ہو گا

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button