ملفوظات حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اور فارسی ادب (قسط نمبر۲۰۸)
ہم سے دو شغل نہیں ہو سکتے
’’ایک شخص نے ایک جائیداد کے متعلق جو فروخت ہونے والی ہےکہا کہ آپ اس کو خرید لیں۔ ایسا نہ ہو کہ فلاں سکھ یا کوئی اور خرید لے۔ فرمایا:ہمیں ان باتوں سے کیا غرض۔ ہم جائیدادیں اور زمینیں خرید نے کے واسطے نہیں آئے۔ہم کو کیا سکھ خرید لے یا کوئی اور خرید لے۔ ہمیشہ اس شعر کو یاد رکھا جاوے؎
خواجہ دربند نقش ایوان است
خانہ از پائے بست ویران است
ہم سے دو شغل نہیں ہو سکتے۔ یہی خدمت جو خدا تعالیٰ نے ہمارے سپرد کی ہے۔ پورے طور پر ادا ہو جائے تو کافی ہے۔ اس کے سوا ہمیں اور کسی کام کے لیے نہ فرصت ہے نہ ضرورت۔‘‘ (ملفوظات جلد ہشتم صفحہ ۱۰۵-۱۰۶ مطبوعہ ۱۹۸۴ء)
تفصیل: اس حصہ ملفوظات میں آمدہ فارسی شعر شیخ سعدی کا ہے۔ شعر مع اعراب واردوترجمہ پیش خدمت ہے۔
خَوَاجِہْ دَرْبَنْد نَقْشِ اَیْوَانْ اَسْت
خَانِہْ اَزْپَائے بَسْت وِیْرَانْ اَسْت
ترجمہ: مالک مکان کے نقش و نگار کی فکر میں ہے حالانکہ مکان کی بنیادیں ویران ہوچکی ہیں۔
لغوی بحث: خَوَاجِہْ(مالک) دَرْبَنْد(مصروف) نَقْشِ اَیْوَانْ(محل کا نقش ونگار) اَسْت(ہے) خَانِہْ(گھر) اَزْ(سے) پَائے بَسْت(بنیاد) وِیْرَانْ(ویران)اَسْت(ہے)۔
مزید پڑھیں: ملفوظات حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اور فارسی ادب(قسط نمبر۲۰۷)



