متفرق مضامین

مظاہرِ کائنات اور عرفانِ الٰہی

مظاہرِ فطرت کے یہ مشاہدات محض نظارے نہیں رہتے بلکہ معرفت کے وسائط بن جاتے ہیں۔ کائنات کا ہر ذرّہ، ہر آہٹ اور ہر رنگ انسان کے باطن میں اُس احساس کو بیدار کرتا ہے جو اُسے اپنے خالق کی پہچان تک لے جاتا ہے

ہم مراکش Morocco کے قصبے مرزوگا (Merzouga) کی سیر کر کے واپس لوٹے ہیں مگر آنکھوں میں اب تک وہ سنہری ریت کے پہاڑ نما ٹیلے، صحرائے خاموش کی وسعتیں اور مٹی کے رنگ میں لپٹا ہوا ازلی حُسن بسا ہوا ہے۔

مرزوگا مراکش کے جنوب مشرق میں واقع ایک مشہور قصبہ ہے جو صحرا الکُبرىٰ کے کنارے ارگ الشّبی نامی عظیم ریت کے ٹیلوں کے دامن میں بسا ہوا ہے۔ یہ نہایت دل نشین مقام ہے جہاں صحرا اور آمازیغ (بربر) ثقافت ایک دلکش امتزاج کے ساتھ جلوہ گر ہیں۔ یہ قصبہ اپنی سنہری ریت کے وسیع ٹیلوں، طلوع و غروبِ آفتاب کے سحر انگیز مناظر، اونٹ کی سواری اور صحرا میں خیمہ گزینی کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہے۔

قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے بارہا انسان کو کائنات کی تخلیق میں غور و فکر کی دعوت دی ہے اور اپنی تمام تخلیق کو انسان کے لیے آیات یعنی نشانیاں قرار دیا ہے۔ جس طرح منزل پر پہنچنے کے لیے راستوں اور شاہراہوں پر سمت نما تختیاں یا نشانیاں لگائی جاتی ہیں بالکل اسی طرح خدا تعالیٰ نے پوری کائنات کو انسان کے لیے آیات بنا دیا ہے تاکہ وہ ان علامات کو پڑھ کر اپنے خالق تک پہنچ سکے۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ سَنُرِیۡہِمۡ اٰیٰتِنَا فِی الۡاٰفَاقِ وَفِیۡۤ اَنۡفُسِہِمۡ حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَہُمۡ اَنَّہُ الۡحَقُّ(حٰم السجدہ:۵۴) پس ہم ضرور انہیں آفاق میں بھی اور اُن کے نفوس کے اندر بھی اپنے نشانات دکھائیں گے یہاں تک کہ اُن پر خوب کھل جائے کہ وہ حق ہے۔

قرآنِ مجید کی یہ آیت اور ایسی متعدد آیات اس حقیقت کو واضح کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی ساری تخلیق اُس کے جمال و کمال کی مظہر ہے۔ آسمان سے زمین تک اور قطرۂ شبنم سے کہکشاؤں کی وسعتوں تک ہر شے اپنے وجود سے خالقِ حقیقی کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ آفاق کی وسعتوں میں بکھرے پہاڑ، فضائیں اور سمندر ایک ہی خالق کی گواہی دیتے ہیں۔ تخلیق کے ان مظاہر میں معمولی تدبر بھی قلبِ مشتاق کے لیے یقین کے دروازے کھول دیتا ہے۔

سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے اسی مشاہدے کو ایک اور زاویے سے یوں نکھارا ہے کہ

خوب رُویوں میں ملاحت ہے ترے اُس حُسن کی

ہر گل و گلشن میں ہے رنگ اس ترے گلزار کا

یعنی خوبصورت چہروں میں جو دلکشی ہے وہ اے خدا! تیرے ہی حسن کی جھلک ہے، ہر گل و گلستان تیرے ہی جمال کا رنگ لیے ہوئے ہے اور ذرّہ ذرّہ تیری ذاتِ باری کی طرف ہی اشارہ کر رہا ہے۔

ہم نے صحرا میں دو طرح سے سفر کیا۔ ہماری میزبان کمپنی نے (۴×۴) گاڑیوں کا انتظام کیا ہوا تھا جن کے ذریعے ہم نے خوب صَحرانَوَردی کی۔ ڈرائیور اپنے فن میں نہایت ماہر تھے اور صحرائی وسعتوں میں انہیں وہ غیر مُعبَّد اور بے نقش راستے خوب یاد تھے جو میرے لیے کافی حیران کن بات تھی۔ عموماً سنا ہے کہ صحرا میں رات کے وقت ستاروں کی مدد سے سمت کا تعین کیا جاتا ہے مگر دن کے وقت شاید وہ شہد کی مکھی کی طرح سورج سے مدد لیتے ہوں گے۔ واللہ اعلم۔

ایک مقام پر ریت کے ٹیلوں کے دامن میں خیمے ایستادہ تھے جن میں آمازیغ (بربر) قوم کے چند خاندان بستے ہیں جن کی مادری زبان عربی کی بجائے أمازِغی ہے اور یہ قوم آمازیغ کہلاتی ہے جس کے معنی ہیں ’’آزاد لوگ‘‘۔ أمازِغی زبان اپنے مختلف لہجوں کے ساتھ مراکش، الجزائر، لیبیا اور تیونس وغیرہ میں بولی جاتی ہے۔

ہماری گاڑیاں ان کے خیموں کے پاس رکیں اور ہمیں ان سے ملاقات کا موقع مل گیا۔ صحرائی لوگوں کے چہرے دھوپ میں تپے ہوئے تھے مگر دل محبت کے چشموں سے لبریز تھے۔ انہوں نے ہمیں گرم چائے پیش کی جو ہم نے ایک بڑے خیمے میں بیٹھ کر پی۔ ان کی مہمان نوازی دیدنی تھی۔ ان کی سادہ مسکراہٹیں، نیلے لباسوں پر جمی ہوئی صحرائی گرد اور چائے کے کپ سے اُٹھتی بھاپ میں اپنائیت جھلک رہی تھی۔ وہ لوگ مادی وسائل کی کمی کے باوجود اپنے قول و فعل سے شکرگزاری کا اظہار کر رہے تھے شاید یہی قناعت ان کی زندگی کی حقیقی دولت ہے۔

صحرا میں دوسرا سفر ہم نے کوآڈ بائکس (Quads) کے ذریعے کیا۔ یہ بھی ایک انوکھا تجربہ تھا۔ ابتدا میں ٹیلوں اور ڈھلوانوں پر ان کی ڈرائیونگ کچھ خطرناک محسوس ہوئی مگر تھوڑی دیر بعد ہم انہیں بڑے آرام سے چلانے لگ گئے۔ اسی سفر میں ہم نے ریت پر سکیٹنگ بھی کی۔ سکیٹنگ کرتے ہوئے یوں محسوس ہوتا تھا کہ جیسے ریت کا ہر ذرہ زبانِ حال سے کہہ رہا ہو کہ فَاَیۡنَمَا تُوَلُّوۡا فَثَمَّ وَجۡہُ اللّٰہِ (البقرۃ:۱۱۶) پس جس طرف بھی تم منہ پھیرو وہیں خدا کا جلوہ پاؤ گے۔

مرزوگا کی ریت پر جب سورج ڈوبنے لگتا ہے تو گویا کائنات کا دل تھم سا جاتا ہے۔ غروبِ آفتاب کا نظارہ دیکھنے کے لیے ہم سرِ شام ایک بلند ٹیلے پر پہنچ گئے۔ یوں محسوس ہوتا تھا کہ سورج کی آخری کرنیں جمالِ الٰہی کی ایک دلرُبا جھلک ناظر کے باطن میں اتار رہی ہوں۔ وہ منظر بیان سے باہر ہے، وہاں کوئی درخت تھا نہ سایہ، بس آسمان اور ریت تھی اور ان دونوں کے ماوراء خالقِ ازل کی ذات کا احساس تھا۔

مرزوگا سے شہر فاس کی طرف آتے ہوئے ہمیں مراکش کے جنوب مشرقی واحاتی نظام (الواحات الجنوبية الشرقية المغربية) کو دیکھنے کا موقع ملا جو کئی بڑی وادیوں اور واحات پر مشتمل ایک وسیع خطہ ہے۔ یہ تقریباً ۷۱,۰۰۰؍مربع کلومیٹر سے زیادہ رقبے پر پھیلا ہوا ہے اور دنیا کے سب سے بڑے واحاتی نظاموں میں شمار کیا جاتا ہے۔

بعض قارئین کے لیے لفظ واحة نیا ہو سکتا ہے اس لیے میں اسے بیان کیے دیتا ہوں۔ لفظ واحة (جمع واحات) کا مادّہ (و۔ ح۔ ا/و۔ح۔ی) ہے۔ یہ عربی فصحیٰ کا ایک قدیم بدوی لفظ ہے جس کا مفہوم ریگستان میں ایسا سرسبز و شاداب مقام یا چشمہ دار آباد جگہ جہاں زندگی کا نشان ہو جسے ہم سبزہ زار یا نخلستان کہتے ہیں۔ ایسے علاقے میں پانی، کھجوروں کے درخت، سبزہ اور عمومًا آبادی بھی ہوتی ہے اگرچہ اس کے اردگرد خشک صحرائی زمین ہوتی ہے۔

اس سفر میں مجھے پہلی مرتبہ ریگستان دیکھنے کے ساتھ ساتھ نخلستان دیکھنے کا موقع بھی ملا۔

ریگستان میں انسانی زندگی کا قیام، حیوانات کی بقا اور نخلستانوں کا وجود دراصل زیرِ زمین آبی ذخائر(Aquifers) کی موجودگی سے وابستہ ہے۔ جہاں یہ ذخائر سطح کے قریب ہوں وہاں پانی دستیاب ہو جاتا ہے، نباتات اُگ آتے ہیں اور حیات کے آثار نمودار ہو جاتے ہیں۔ یہی حقیقت قرآنِ مجید کے اس ارشاد میں بیان ہوئی ہے: وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ (الانبیاء:۳۱) اور ہم نے پانی سے ہر زندہ چیز پیدا کی۔

یہ آیت سائنسی طور پر اس امر کی تصدیق کرتی ہے کہ جسمانی زندگی کی بنیاد اور انحصار پانی پر ہے جبکہ روحانی زندگی کی بنیاد اور انحصار بھی آسمانی پانی یعنی الہامِ الٰہی پر ہے۔ مزید برآں یہ آیت تخلیق، ارتقاء اور بقا کے اُس الٰہی قانون کو ظاہر کرتی ہے جس کی طرف سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام اور خلفائے کرام نے نہایت بصیرت افروز روشنی ڈالی ہے۔

صحرا میں بظاہر ہر شے عارضی محسوس ہوتی ہے جیسے ریت، خیمے اور ہوا کے نقش مگر ان لمحاتی اور زوال پذیر مناظر میں ایک ابدی اور لازوال حسنِ کامِل جلوہ گر ہے جو دیکھنے والے کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔

حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہؓ نے اسی حقیقت کو ایک لطیف انداز میں یوں بیان کیا ہے کہ

مجھے دیکھ رفعتِ کوہ میں مجھے دیکھ پستیٔ کاہ میں

اونچے پہاڑوں کی بلندی ہو یا معمولی تنکے کی پستی، سب اسی خالقِ عظیم کی قدرت کا مظہر ہیں۔ ہر شے اپنے وجود کا سبب اسی ذاتِ واحد کو مان رہی ہے۔ وہ حسن جو مخلوق کے پردے میں خالق کو ظاہر کرتا ہے، وہی جمالِ الٰہی وہاں کی فضا میں، وہاں کے لوگوں کی سادگی میں اور غروبِ آفتاب کی سنہری لکیروں میں جھلکتا ہے۔ جیسے فرمایا کہ وَفِی الۡاَرۡضِ اٰیٰتٌ لِّلۡمُوۡقِنِیۡنَ۔(الذاریات:۲۱) اور زمین میں یقین کرنے والوں کے لئے کئی نشانات ہیں۔

مُوقِنِیْنَکے قلوب کو مشاہدے سے معرفت اور شوق سے یقین تک پہنچانے کے لیے خدا نے زمین میں آیات یعنی نشانیاں رکھ دی ہیں۔

وَالَّذِیۡنَ جَاہَدُوۡا فِیۡنَا لَنَہۡدِیَنَّہُمۡ سُبُلَنَا (العنکبوت:۷۰) اور جو لوگ ہم سے ملنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہم ان کو ضرور اپنے رستوں کی طرف آنے کی توفیق بخشیں گے

اس آیت کے مطابق جو شخص بھی مجاہدہ کرتا ہے وہ اس سے ملاقات کی راہوں کو پا لیتا ہے۔ یہ روحانی شراب ہر طالبِ حق کے لیے ہر لمحہ بانٹی جا رہی ہے جو بھی ہاتھ بڑھاتا ہے وہ پا لیتا ہے بقول شاعر

یہ بزمِ مے ہے یاں کوتاہ دستی میں ہے محرومی

جو بڑھ کر خود اٹھا لے ہاتھ میں مینا اسی کا ہے

یوں مظاہرِ فطرت کے یہ مشاہدات محض نظارے نہیں رہتے بلکہ معرفت کے وسائط بن جاتے ہیں۔ کائنات کا ہر ذرّہ، ہر آہٹ اور ہر رنگ انسان کے باطن میں اُس احساس کو بیدار کرتا ہے جو اُسے اپنے خالق کی پہچان تک لے جاتا ہے۔ یقین کی یہ منزل محض ظاہری آنکھ سے نہیں بلکہ نظرِ باطن یعنی دل کی آنکھ سے حاصل ہوتی ہے۔ جو دل غور و فکر اور شوق و محبت کے ساتھ اِس عالَم کو دیکھتا ہے اُس کے لیے زمین و آسمان کی ہر شے ایک آیت بن جاتی ہے اور کائنات کا ہر مظہر اُسے اپنے رب کا عرفان عطا کرتا ہے۔

جس طرح خدا تعالیٰ نے ریگستانوں، نخلستانوں اور تمام عالَم کو اپنی نشانیوں (آیات) کے طور پر پیش فرمایا ہے اسی طرح خلیفۂ وقت کو بھی اپنی ایک زندہ آیت قرار دیا ہے۔ یہ کیا ہی خوبصورت حقیقت ہے کہ حضرت خلیفۃ المسیح جمعہ کے دن ایم ٹی اے کے ذریعے ہماری روحانی فضاؤں میں جلوہ افروز ہو کر وہی جامِ معرفت بانٹتے ہیں جس کا ذکر اوپر ہو رہا ہے۔

(عبدالماجد وڑائچ۔ کینیڈا)

مزید پڑھیں: آنحضور ﷺ کا بعثت سے قبل کیا مذہب تھا؟

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button