مکتوب

مکتوب افریقہ(جنوری و فروری۲۰۲۶ء)

(شہود آصف۔ استاذ جامعہ احمدیہ گھانا)

بر اعظم افریقہ کےچند اہم واقعات و تازہ حالات کا خلاصہ

افریقہ، چین اور امریکہ کے درمیان معدنیاتی سیاست کا میدان جنگ

DR Congo اس وقت عالمی معدنیاتی سیاست کا مرکزی میدان بن چکا ہے،جہاں امریکہ اور چین کے درمیان اسٹریٹجک مقابلہ تیز ہو رہا ہے۔کانگو دنیا کی ۷۰؍فیصد سے زائد کوبالٹ اور بڑی مقدار میں تانبا پیدا کرتا ہے جو الیکٹرک گاڑیوں، بیٹری ٹیکنالوجی اور جدید صنعتی نظام کے لیے ناگزیر ہیں۔ گذشتہ ایک دہائی سے چین افریقہ میں بڑی کانوں اور ریفائننگ نیٹ ورک پر اپنی مضبوط گرفت برقرار رکھے ہوئے ہے۔ ۲۰۲۳ء میں کانگو کی ریاستی کمپنی Gécaminesکو معاہدوں کی ازسرِنو ترتیب کے بعد وسیع مارکیٹنگ اختیارات ملے۔موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے امریکہ نے خطے میں چین سے مقابلہ تیز کر دیا ہے۔ ۲۰۲۶ء کے دوران کانگو سے نکلنے والا تقریباً ایک لاکھ ٹن تانبا امریکی خریداروں کو فراہم کیے جانے کی تیاری ہے، جو عالمی معدنی تجارت کے روایتی رخ یعنی چین کی طرف بہاؤ کو جزوی طور پر تبدیل کر سکتا ہے۔

اسی دوران امریکی کمپنی KoBold Metals لیتھیم اور کاپر بیلٹ میں وسیع رقبے پر سرمایہ کاری کر رہی ہے تاہم وہ زمین کے ملکیتی تنازعات حل ہونے تک منصوبے شروع نہ کرنے کی پالیسی پر قائم ہے، جبکہ چینی کمپنیاں متنازع علاقوں میں بھی تیزی سے انفراسٹرکچر بنا کر مارکیٹ میں جلد داخل ہونے کا فائدہ حاصل کر رہی ہیں۔ اس سے قبل امریکہ نے سیاسی خطرات کے باعث براہِ راست کانیں چلانے کے بجائے آف ٹیک (offtake) اور تجارتی معاہدوں کی حکمت عملی اپنائی تھی، جس کے تحت مالی معاونت اور تجارتی شراکت کے بدلے کانوں کی پیداوار کا حصہ محفوظ کر کے معدنیات کو امریکی سپلائی چین میں شامل کیا جا رہا تھا۔ اب امریکہ اپنی حکمت عملی تبدیل کرنے کی طرف جا رہا ہے۔نیزمالی طاقت اور تجارتی معاہدوں کے ذریعے معدنی بہاؤ کو اپنی سمت موڑنے کی کوشش کر رہا ہے جبکہ چین صنعتی موجودگی اور تیز رفتار منصوبہ بندی کے ذریعے برتری برقرار رکھنا چاہتا ہے۔اس صورتحال میں افریقہ عالمی توانائی منتقلی، ٹیکنالوجی سپلائی چین اور مستقبل کی جغرافیائی طاقتوں کامیدان جنگ بنتا جا رہا ہے۔

افریقہ کے متعدد ممالک میں امن و امان کی ابتر صورتحال

افریقہ کے متعدد ممالک میں امن و امان کی صورتحال بدستور تشویشناک ہے۔ جنوری اور فروری میں نائیجیریا میں چھ دہشت گرد حملوں میں سینکڑوں شہری اورفوجی ہلاک ہوئے۔۲۹؍جنوری کو داعش نے ریاست بورنو میں مسلح ڈرونز کی مدد سے Sabon Gariمیں فوجی پوزیشنوں کو نشانہ بنایا، جس میں متعدد فوجی اور سویلین ٹاسک فورس کے۲۵؍ارکان جاں بحق ہوئے۔ ۳؍فروری کو ریاست کوارا کے وورو (Woro) اور نوکو (Nuku) دیہات پر حملوں میں کم از کم ۱۶۷ سے ۲۰۰؍شہری ہلاک ہوئے۔ عینی شاہدین کے مطابق حملہ آوروں نے گھروں کو آگ لگا دی اور لوگوں کو بیدردی سے قتل کیا۔حملہ کئی گھنٹوں تک جاری رہا اور خواتین، بچوں، اساتذہ اور مذہبی راہنماؤں سمیت بڑی تعداد میں عام شہری مارے گئے، جبکہ تقریباً ۳۸؍افراد کو اغوا بھی کر لیا گیا۔ ۱۴؍فروری کو نائیجر ریاست میں مسلح افراد کے حملوں میں ۳۲؍افراد ہلاک اور متعدد کو اغوا کر لیا گیا۔نائیجیریا کے صدر بولا ٹینوبو نے دہشت گردوں کے خلاف “آپریشن Savanna Shield” کا اعلان کیا ہے، جس کا مقصد سرحدی علاقوں میں شدت پسند نیٹ ورک ختم کرنا اور دیہات کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔

مغربی افریقہ میں ساحلی ممالک اس وقت دنیا میں دہشت گردی کا سب سے بڑا گڑھ بن چکے ہیں، جہاں اوسطاً ۴۴؍ افراد روزانہ دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں۔ جنوری کے آخر میں داعش نے دارالحکومت نیامی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے اور قریبی ایئربیس پر ایک بڑا حملہ کیا۔فروری کے وسط میں برکینا فاسو میں دہشت گردوں نے شمالی علاقے Titao میں ٹماٹر کے تاجروں کے قافلے پر حملہ کیا جس میں گھاناسے تعلق رکھنے والے ۷ تاجروں سمیت متعدد افراد ہلاک ہوئے۔ جنوری میں اسی گروہ نے Djibasso کے قریب پُل اڑا دیا اور کئی فوجی چوکیوں پر قبضہ کر لیا تھا۔

مشرقی افریقہ میں جنوری کے آخری ہفتے میں صومالیہ کے علاقے Kudhaa میں الشباب اور سرکاری افواج کے درمیان شدید لڑائی ہوئی، جس میں ۸۰؍فوجی اور ۲۰۰؍سے زائد دہشتگردمارے گئے۔ وسطی افریقہ کے ملک کانگو میں ۱۳؍جنوری کو M23باغیوں نے جنوبی کیوو کے اہم شہر Uvira پر قبضہ کر لیا۔ کانگو میں جنگ بندی کے باوجود لڑائی جاری ہے۔

افریقی شہریوں کے لیے امریکہ کی امیگریشن پالیسی مزید سخت

امریکہ کی طرف سے افریقی شہریوں کے لیے امیگریشن پالیسی کو مزید سخت کیا جا رہاہے۔اس وقت تک دس افریقی ممالک کے شہریوں پر امریکہ میں داخلے پر مکمل یا تقریباً مکمل پابندی ہے۔ جن میں صومالیہ ، اریٹیریا، لیبیا، سوڈان،جنوبی سوڈان،برکینا فاسو، مالی، نائیجر ، جمہوریہ کانگو اور سیرا لیون شامل ہیں۔ جنوری ۲۰۲۶ء میں امریکہ نے مزید ۲۶؍ممالک کے لیے مستقل رہائش (Green Card) کے ویزوں کا عمل روک دیا ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان ممالک سے آنے والے افراد امریکی فلاحی نظام پر بوجھ بن سکتے ہیں۔ ان ممالک میں نائیجیریا، گھانا، ایتھوپیا،مصر، مراکش، تیونس، الجزائر، کیمرون، آئیوری کوسٹ، ، یوگنڈا، تنزانیہ، روانڈا، سینیگال ، ٹوگو اور جمہوریہ گنی وغیرہ شامل ہیں۔نیز ۱۳؍ممالک کے شہریوں کے لیے امریکی ویزا درخواست کے ساتھ پانچ ہزار سے پندرہ ہزار ڈالر تک قابلِ واپسی سیکیورٹی بانڈ لازمی قرار دے دیا ہے۔ان میں انگولا،بینن،برونڈی،کیپ وردے،جبوتی،گبون،گیمبیا،گنی بساؤ، ملاوی، موریطانیہ، نمیبیا، ساؤ ٹومے اورپرنسیپ،زیمبیا اور زمبابوے شامل ہیں۔ اگر درخواست مسترد ہو جائے یا مسافر ویزا قوانین کی پابندی کرے تو رقم واپس کر دی جاتی ہے۔

امریکی انتظامیہ کا موقف ہے کہ یہ اقدام غیر قانونی امیگریشن اور ویزا کی مدت سےزائد قیام روکنے کے لیے کیا جارہا ہے۔نئے ویزا قوانین کے بعد براعظم افریقہ کے نصف سے زیادہ ممالک اب سفری پابندیوں، سخت ویزا شرائط یا اضافی مالی ضمانتوں کے دائرے میں آ چکے ہیں۔ اس پالیسی کے ساتھ ساتھ انٹرویو بھی سخت کیے جا رہے ہیں، سوشل میڈیا اور سفری تاریخ کی مزید تفصیلات مانگی جا رہی ہیں، جبکہ بعض ممالک کے لیے ویزاپراسیسنگ عارضی طور پر محدود بھی کی گئی ہے۔

گنی کناکری میں لوہے کے ذخائر سے پیداوار کا آغاز

گنی کناکری میں واقع Simandou میں لوہے کا سب سے بڑا under developed ذخیرہ موجود ہےجو اپنے اعلیٰ معیار (۶۵؍فیصد سے زائد خالص) کی وجہ سے عالمی اسٹیل انڈسٹری کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ چین کی حمایت یافتہ وننگ کنسورشیم سیمانڈو (Winning Consortium Simandou) اور مائننگ کمپنی Rio Tinto مل کر اس منصوبہ پر ۶۰۰؍کلومیٹر طویل ٹرانس گنی ریلوے اور ایک نئی گہرے پانی کی بندرگاہ کی تعمیر کر رہے ہیں جو اس وقت اپنے آخری مراحل میں ہےتاکہ ان دور افتادہ پہاڑوں سے خام مال عالمی منڈی تک پہنچایا جا سکے۔پیداوار کے آغاز کے بعد جنوری ۲۰۲۶ء میں یہاں سے لوہے کی پہلی بڑی تجارتی کھیپ (دولاکھ ٹن) چین پہنچی۔ فروری ۲۰۲۶ء سے بحری جہازوں کی روانگی کی رفتار بڑھ کر ہفتہ وار ایک جہاز تک پہنچ چکی ہے۔

یہ منصوبہ نہ صرف گنی کی معیشت میں انقلاب لانے کی صلاحیت رکھتا ہے بلکہ یہ چین کے لیے بھی نہایت اہم ہے کیونکہ اس کے ذریعے وہ آسٹریلیا اور برازیل سے لوہے کی درآمد پر اپنا انحصار کم کر سکے گا۔یہ منصوبہ عالمی سطح پر لوہے کی قیمتوں کو کم کرنے اور اسٹیل سازی میں کاربن کے اخراج کو گھٹانے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔

یوگنڈا میں عام انتخابات

۱۵؍جنوری کو یوگنڈا میں عام انتخابات ہوئے۔ جن میں ۸۱؍سالہ صدر یوویری موسیوینی (Yoweri Museveni) نے ساتویں مرتبہ کامیابی حاصل کر کے اپنے چالیس سالہ دورِ اقتدار کو مزید پانچ سال کے لیے طویل کر دیا ہے۔ یوگنڈا کے الیکشن کمیشن کے مطابق موسیوینی نے تقریباً ۷۲؍فیصد ووٹ حاصل کیے، جبکہ ان کے قریبی حریف اور مقبول گلوکار سے سیاست دان بننے والے بوبی وائن کو تقریباً ۲۵؍فیصد ووٹ ملے۔ انتخابات میں ووٹرز کا تناسب تقریباً۵۲؍فیصد رہا جو کہ ۱۹۹۶ء کے بعد سے اب تک کی کم ترین شرح ہے۔ اپوزیشن راہنما نے ان نتائج کو جعلی قرار دیتے ہوئے بڑے پیمانے پر دھاندلی اور بیلٹ باکس بھرنے کے الزامات لگائے ہیں، جبکہ انتخابی مہم اور پولنگ کے دوران ملک بھر میں انٹرنیٹ کی بندش، اپوزیشن کارکنوں کی گرفتاریاں اور پرتشدد واقعات بھی رپورٹ ہوئے۔ عالمی مبصرین اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی انتخابی شفافیت اور اپوزیشن کے خلاف کریک ڈاؤن پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ۲۰۲۶ء کے انتخابات کی ایک اہم خصوصیت خواتین نمائندگی میں اضافہ بھی ہے۔

بینن میں پارلیمانی انتخابات

۱۱؍جنوری کو بینن میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں صدر پیٹرس ٹیلن (Patrice Talon) کے حامی اتحاد نے کلین سویپ کرتے ہوئے تمام ۱۰۹؍نشستیں حاصل کر لی ہیں۔ الیکشن کمیشن (CENA) کے عبوری نتائج کے مطابق، پروگریسو یونین فار رینیوول نے ۶۰؍اور ریپبلکن بلاک نے ۴۹؍نشستیں جیتیں، جبکہ مرکزی اپوزیشن جماعت ’’دی ڈیموکریٹس‘‘ بیس فیصد ووٹوں کی لازمی حد عبور نہ کرنے کی وجہ سے پارلیمنٹ سے مکمل طور پر باہر ہو گئی ہے۔ یہ انتخابات دسمبر ۲۰۲۵ء میں ہونے والی ایک ناکام فوجی بغاوت کی کوشش کے ایک ماہ بعد منعقد ہوئے، جس کی وجہ سے ملک میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ اپوزیشن نے ان نتائج کو مسترد کرتے ہوئے انتخابی بےضابطگیوں اور سیاسی اثر و رسوخ کے الزامات لگائے ہیں۔ ووٹرز کا تناسب تقریباً ۳۶؍فیصد رہا۔ ان پارلیمانی انتخابات کے بعد اب ملک میں ۱۲؍اپریل ۲۰۲۶ء کو صدارتی انتخابات شیڈول ہیں۔

Equatorial Guineaکا دارالحکومت Malabo سے تبدیل

جنوری ۲۰۲۶ء میں Equatorial Guinea کے صدر نے ملک کا دارالحکومت Malaboشہرسے منتقل کر کے ملک (mainland) کے اندر قائم جدید شہر Ciudad de la Paz کو دارالحکومت بنا نے کا اعلان کیا ہے۔ اس فیصلے کا مقصد سمندری راستوں سے ہونے والے ممکنہ حملوں کے خطرات کم کرنا، Malaboمیں بڑھتی آبادی اور شہری دباؤ کو کم کرنا، اور نوآبادیاتی دور کے پرانے انتظامی ڈھانچے سے نکل کر جدید انفراسٹرکچر پر مبنی انتظامی ڈھانچہ قائم کرنا ہے۔ حکومت کے مطابق ایک سال کے اندر تمام وزارتیں، سرکاری ادارے اور انتظامی دفاتر نئے دارالحکومت منتقل کیے جائیں گے۔ نیا شہر استوائی جنگلات کے درمیان منصوبہ بندی کے تحت تعمیر کیا گیا ہے جس میں صدارتی محل، جدید سڑکیں، سرکاری کمپلیکس اور رہائشی عمارتیں شامل ہیں۔اس تبدیلی کا مقصد ملکی انتظامیہ کو مرکزی علاقے کے قریب لانا، علاقائی توازن پیدا کرنا اور مستقبل کی شہری ترقی کو نئی سمت دینا ہے۔ Malaboاس تبدیلی کے بعد بھی بدستور ملک کا اہم معاشی اور تجارتی مرکز رہے گا۔

اسرائیل کی طرف سے صومالی لینڈ کو تسلیم کر لیا گیا،افریقی ممالک کی طرف سے شدید رد عمل

۲۰۲۵ء کے اواخر میں اسرائیل نے صومالی لینڈ کو ایک آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کر لیا۔ یہ اعلان افریقہ اور مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں ایک بڑا موڑ ہے۔ اسرائیل صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے والا پہلا ملک بن گیا ہے، جس کے نتیجے میں دونوں ممالک نے مکمل سفارتی تعلقات قائم کرنے اور صومالی لینڈ کے ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ میں شامل ہونے پر اتفاق کیا ہے۔ اس اقدام نے علاقائی تناؤ میں شدید اضافہ کر دیا ہے۔ صومالیہ نے اسے اپنی علاقائی سالمیت پر حملہ قرار دیتے ہوئے سختی سے مسترد کیا ہے، جبکہ افریقی یونین، ترکیہ اور کئی عرب ممالک نے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کا حوالہ دیتے ہوئے اسرائیل سے اس فیصلے کی واپسی کا مطالبہ کیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، اسرائیل اس اقدام سے بحیرہ احمر (Red Sea) میں اپنی موجودگی مضبوط کرنا چاہتا ہے، خاص طور پر حوثی شدت پسندوں اور ایران کے اثر کو کمزور کرنے کا خواہش مند ہے۔صومالی لینڈ ،دراصل صومالیہ کا حصہ ہے جو ۱۹۹۱ء میں الگ ہو گیا تھا اور اسرائیل سے قبل کسی ملک نے اس کو تسلیم نہیں کیا۔

مزید پڑھیں: اَقِمِ الصَّلٰوۃَ لِدُلُوۡکِ الشَّمۡسِ اِلٰی غَسَقِ الَّیۡلِ کی روشنی میں فلسفۂ نماز

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button