نماز تراویح
ایک شخص نے سوال کیا کہ ماہِ رمضان میں نماز تراویح آٹھ رکعت باجماعت قبل خُفتن مسجد میں پڑھنی چاہیے یا کہ پچھلی رات کو اُٹھ کر اکیلے گھر میں پڑھنی چاہیے؟
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ
نماز تراویح کوئی جدا نماز نہیں۔دراصل نماز تہجد کی آٹھ رکعت کو اوّل وقت میں پڑھنے کا نام تراویح ہے اور یہ ہر دو صورتیں جائز ہیں جو سوال میں بیان کی گئی ہیں۔آنحضرت نے ہر دو طرح پڑھی ہے لیکن اکثر عمل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اس پر تھا کہ آپ پچھلی رات کو گھر میں اکیلے یہ نماز پڑھتے تھے۔
(ملفوظات جلد ۱۰ صفحہ ۱۵، ایڈیشن ۲۰۲۲ء)
اکمل صاحب آف گولیکی نے بذریعہ تحریر حضرتؑ سے دریافت کیا کہ رمضان شریف میں رات کو اٹھنے اور نماز پڑھنے کی تاکید ہے۔لیکن عموماً محنتی مزدور زمیندار لوگ جو ایسے اعمال کے بجالانے میں غفلت دکھاتے ہیں اگر اول شب میں ان کو گیارہ رکعت تراویح بجائے آخر شب کے پڑھا دیا جاوے تو کیا یہ جائز ہوگا؟
حضرتؑ نے جواب میں فرمایا۔
کچھ ہرج نہیں پڑھ لیں۔
(ملفوظات جلد ۸ صفحہ ۳۰۲، ایڈیشن ۲۰۲۲ء)
مزید پڑھیں: قرآن کریم کا حربہ ہاتھ میں لو تو تمہاری فتح ہے



